Sun, Feb 28, 2021

ظلم کی انتہا ہوگئی
مفتی عبدالمنعم فاروقی

’’کفر کا نظام تو قائم رہ سکتا ہے مگر ظلم کا نظام قائم نہیں رہ سکتا‘‘ اسلام کے عظیم فرزند، خلیفہ چہارم سیدناعلی مرتضی ؓ کی طرف اس قول کی نسبت کی جاتی ہے ، دنیا کے جس خطہ میں جب بھی کسی وقت ظلم وجور کا بازار گرم ہوتا ہے تو اس وقت انسانیت کا درد رکھنے والے ،انصاف پسند اور امن پسند ہر شخص کی زبان سے یہ جملہ نکلتا ہے، یقینا تاریخ اس کی گواہی دیتی آرہی ہے کہ دنیامیں جب بھی اور جہاں کہیں بھی مظلوموں پر ظلم وستم کے پہاڑ توڑے گئے ،تشدد کے کوڑے برسائے گئے، کمزوروں کے ہاتھوں میں ہتھکڑیاں اور پیروں میں بیڑیاں ڈالی گئیں ،تاریک کوٹھڑیوں میں انہیں قید کیا گیا ، ان پرانسانیت سوز مظالم ڈھائے گئے اور ان کے خونِ ناحق سے درندگی کی پیاس بجھائی گئی تو رب کائنات جلال میں آئے اور ظالموں پر قہر الٰہی قیامت بن کر ٹوٹ پڑا ،جنہیں اپنی طاقت وشوکت ،دولت وحشمت اور تخت وتاج پر ناز تھا ،قہر الٰہی نے انہیں آن واحد میں صف ہستی سے مٹاکر رکھ دیا اور وہ رہتی دنیا تک کے لئے عبرت کا نشان بن گئے ،جب ظلم حد سے بڑھ جاتا ہے تو پھر مٹ جاتا ہے اور خدائے ذوالجلال جب مظلوموں کی طرف سے بدلے لیتے ہیں تو ظالم حکومتوں کا نشان مٹادیتے ہیں ؎
ظالم حکومتوں کا نشاں ہے نہ نام ہے

قدرت کا انتقام بھی کیا انتقام ہے
دنیا کی کتاب تاریخ میں دو کالم ہیں ،ایک ظالم حکمرانوں کے اور دوسرے عادل حکمرانوں کے ، دونوں کی طرز حکومت سے دنیا وقف ہے اور دونوں کا طرز عمل بھی یاد ہے ،مگر فرق اتنا ہے کہ ظالم حکمران انہیں یاد ہیں اور عادل حکمرانوں کو انہوں نے یاد رکھا ہے ، ظالموں سے عبرت حاصل کی ہے اور عادلوں سے نصیحت ،اسلام کی آمد سے قبل پور ے جزیرۃ العرب پر ظلم وجور کے برستے بادل تھے ،ہر طاقتور کمزور پر ،ہر مالدار غریب پر اور ہر عہدہ دار اپنے ماتحتوں پر ظلم ڈھاتا تھا بلکہ وہ ظلم وستم کو اپنا حق سمجھتے تھے ،انسان انسانیت سے نیچے گر چکے تھے ،آدمیت صرف ظاہری شکل صورت تک محدود ہوکر رہ گئی تھی ،عفریت اپنے عروج پر تھی ،شیطانیت رقص کر رہی تھی اور چہار سو بد امنی پھیلی ہوئی تھی ،اس نازک ترین دور میں اللہ کے آخری پیغمبر تشریف لائے ، وہ کیا آئے پژمردہ انسانیت کو نئی زندگی ملی ،ظلم وجبر کو شکست سے دوچار ہونا پڑا اور ہر طرف عدل وانصاف کے جھنڈے لہرائے ، نبی رحمت ؐ نے بلند آواز میں ، صاف طور پر یہ اعلان کر دیا اور خدا کا پیغام خداکے بندوں تک پہنچاتے ہوئے فرمایا کہ تم سب ایک ماں باپ کی اولاد ہو ،کسی عربی کو عجمی پر فوقیت نہیں ،کسی گورے کو کالے پر برتری نہیں ،بلکہ تم میں معزز وہ ہے کو خدا سے ڈرنے والا ہے ، پھر خلفائے راشدین کا دور خلافت آیا ،اسلامی حکومت و سلطنت کا رقبہ دور دور تک پھیلنے لگا اور لوگ اس کی بے مثال تعلیمات اور قانون امن سے امن وسکون پانے لگے ،خلیفہ ثانی سیدنا عمر فاروق ؐ نے اپنے دور خلافت میں امن وامان اور بہترین نظم وضبط کی ایک مثال قائم کردی ۔
سیدنا عمر فاروقؐ نے اپنے دور خلافت میں امن وامان ،نظم وضبط اور رعایا کی حفاظت و سہولت کی خاطر کئی محکمے قائم کئے اور اس پر قابل ترین لوگوں کو مقرر فرمایا ،محکمہ پولیس ،محکمہ نظم ونسق اور ملکی سرحدوں کی حفاظت کے لئے جوانوں کے دستے متعین فرمائے ،آپ ؓ بنفس نفیس حالات کا جائزہ لینے کے لئے بازار وں کا دورہ کیا کرتے تھے اور خرید وفروخت کا مشاہدہ کرتے تھے ، رعایاکے احوال سے واقفیت کی خاطر رات شہر کی گلیوں کا چکر لگایا کرتے تھے ،انصاف کا ترازو ہمیشہ اور ہر ایک کے لئے تیار رکھتے تھے ،مظلوم چاہے غریب ہو اور ظالم چاہے صاحب ثروت کیوں نہ ہو انصاف کرنے میں عدل سے کام لیتے تھے اور جب تک انصاف نہیں کرتے تھے آپ ؓ کو چین نہیں آتا تھا،آپ ؓ کی رعایا میں مسلمانوں کے علاوہ دیگر مذاہب کے ماننے والے بھی ہوتے تھے مگر آپ ؓ نے ان کے ساتھ بھی حسن وسلوک ،برابری اور انصاف کا معاملہ کیا ،کبھی بھی انہیں اپنے غیر مذہبی ہونے کا احساس تک نہ ہونے دیا ،یہی وجہ تھی پورے مملکت اسلامی میں امن وسکون قائم تھا ، عدل وانصاف کا بول بالا تھا ،محبت وپیار کا ماحول تھا ،امن وشانتی کا بسیرا تھا، رات لوگ بے فکر ہوکر سویا کرتے تھے اور دن کو بغیر کسی خوف وحراس کے اپنے اپنے کاموں میں مشغول رہتے تھے ،سیدنا عمر فاروق ؓ کی حکومت اور آپ ؓ کا دور خلافت پورے دنیا کے حکمرانوں کے لئے رول ماڈل ہے ،آپ ؓ نے اپنے عمل وکردار سے دنیا کے حکمرانوں کو پیغام دیا کہ حکومت ظلم وجور سے نہیں عدل وانصاف سے چلتی ہے اور عادل حکمران، لوگوں کے دلوں پر حکومت کرتا ہے برخلاف ظالم حکمران کے جو لوگوں کے جسموں پر حکمومت کرتا ہے اور جسموں پر حکومت کرنے والے کو ظالم اور دلوں پر حکومت کرنے والے کو عادل کہتے ہیں ۔
یہ ایک سچی حقیقت ہے کہ انصاف قوموں کی زندگی کو توانا رکھتا ہے ،جس قوم میں انصاف نہیں پایا جاتا وہ قوم اپنی طاقت کھو دیتی ہے اور دوسروں کی نظر میں نہیں بلکہ خود اپنے آپ میں بے وزن اور بے وقعت ہو کر رہ جاتی ہے ،یہ ایک تاریخی حقیقت ہے کہ جب دوسری جنگ عظیم میں برطانوی وزیر اعظم ونسٹن چرچل کو اس کے سپہ سالار نے بتایا کہ ہم شکست کھانے والے ہیں اور جاپانی فوجیں لندن کا محاصرہ کر چکی ہیں تو اس نے صرف ایک سوال کیا ۔۔۔’’ کیا ہماری عدالتیں ابھی تک انصا ف کر رہی ہیں ۔۔۔؟‘‘ جواب ملا ۔۔۔۔۔جی ہاں!،تو چرچل نے کہا: ’’پھر ہمیں کوئی شکست نہیں دے سکتا ‘‘ ،پھر تاریخ گواہ ہے کہ جاپانی فوج کو آخر کار پسپا ہونا پڑا ،اسی طرح ایک عظیم چینی فلسفی ’’ کنفیوشس‘‘ سے کسی نے پوچھا کہ ’’ اگر ایک قوم کے پاس تین چیزیں ہوں ،’’انصاف، معیشت اور دفاع‘‘ اور بوجہ مجبوری کسی چیز کو ترک کرنا مقصود ہو تو کس چیز کو ترک کیا جائے ؟ ،کنفیوشس نے جواب دیا : دفاع کو ترک کردو ،سوال کرنے والے پھر پوچھا ،اگر باقی ماندہ دو چیزوں میں انصاف اور معیشت میں سے کسی ایک کو ترک کرنا لازمی ہو تو کیا کیا جائے ؟ ،کنفیوشس نے جواب دیا: معیشت کو چھوڑ دو ،اس پر سوال کرنے والے نے حیرت سے کہا ۔۔۔۔معیشت اور دفاع کو ترک کیا جائے تو قوم بھوکی مرجائے گی اور دشمن حملہ کر دیں گے ؟ تب کنفیوشس نے کہا : نہیں ! ایسا نہیں ہوگا بلکہ ایسا ہوگا کہ انصاف کی وجہ سے اس قوم کو اپنی حکومت پر اعتماد ہوگا اور لوگ معیشت اور دفاع کا حل اس طرح کریں گے کہ پیٹ پر پتھر باند کر دشمن کا راستہ روک لیں گے ۔
عدل وانصاف ملک وملت کی ترقی اور قوموں کے عروج کا ذریعہ ہے ، جو لوگ اپنوں کے ساتھ عدل وانصا ف نہیں کرتے وہ دوسروں کے لئے کبھی بھی نمونہ اور مثال بن نہیں سکتے ،حکمرانوں کے لئے ضروری ہے کہ وہ اپنی رعایا کو اعتماد میں لیں اور اس کے مطالبات کو پورا کریں ،رعایا کے درمیان مذہب ومشر ب ، خاندان و نسب اور امیری غریبی کی تفریق کرنا بد ترین قسم کا جرم اور انسانی پستی کی علامت ہے ، مگر افسوس کہ وطن عزیز کے مسند اقتدار پر فائز موجودہ حکومت اور اس کے حکمران اسی اخلاقی پستی کا شکار ہوچکے ہیں ،وہ مذہب کا نعرہ لگا کر ہی کرسی اقتدار پر فائز ہوئے ہیں اور اپنے مفادات کے حصول کے لئے اسی کا سہارا لے کر عوام الناس میں نفرت کا بیج بونے اور تشدد کی آگ بھڑکانے میں مصروف ہیں ،یہ اقتدار کے نشے میں چور ہوکر عدل وانصاف کی دھجیاں اُڑانے میں مصروف ہیں ،یہ دستور ہند میں تبدیلی کے ذریعہ رعا یا پر ظلم وستم ڈھانا چاہتے ہیں اور انہیں اپنے ہی گھروں سے بے گھر کرنا چاہتے ہیں ،دستور ہند نے ہر شہری کو جو حقوق دئے ہیں وہ اس سیاہ قانون (CAA,NRC,NPR) کے ذریعہ انہیں محروم کرنا چاہتے ہیں ،جو لوگ دستور کے تحفظ کے لئے صدائے احتجاج بلند کر رہے ہیں انہیں ظلم وستم کا نشانہ بنایا جارہا ہے اور ان پر ملک سے غداری کا الزام لگایا جارہا ہے ،یہ کیسی عجیب بات ہے آزادی کے بعد ستر سال قبل بنائے گئے دستور میں صریح تبدیلی کرکے بھی یہ وفادار اور محب وطن ٹہرے اور دستور بچانے کے لئے جد جہد کرنے والے ملک دشمن ٹہرے ،شاید آزادی کے بعد ان ستر سالوں میں یہ پہلا موقع ہے کہ عوام جن میں مرد عورتیں ،بچے بوڑھے ،ہندو ،مسلم ،سکھ ،عیسائی اور دیگر مذاہب کے ماننے والے ہیں سراپا احتجاج بنے ہوئے ہیں اور اس احتجاج کو تقریبا ً ڈھائی مہینے کا عرصہ گزر چکا ہے اور بڑی خوش آئند بات یہ ہے کہ جمہوری قاعدہ قانون کے دائرہ میں رہ کر پُر امن احتجاج کر رہے ہیں اور ممبئی ہائی کورٹ نے اس کی تائید بھی کی ہے اور اسے عوام کا حق بتایا ہے پھر بھی مرکزی حکومت اپنی اکڑ پر قائم ہے اور پُر امن احتجاج کرنے والوں کو طاقت کے ذریعہ روکنا چاہتی ہے ،بڑی خوشی کی بات ہے کہ بہت سی ریاستی حکومتوں نے بھی اس کالے قانون کے خلاف اپنی ناراضگی ظاہر کی ہے اور اسے اپنے علاقے میں نافذ نہ کرنے کا اعلان کیا ہے ۔
ملک کے حکمرانوں کو عوام ہی نے اپنے وؤٹ کے ذریعہ حکمرانی عطا کی ہے ،یہ کس قدر دکھ کی بات ہے کہ جنہوں نے انہیں کرسی پر بٹھا ہے یہ حکمران اس ناجائز کالے قانون کے ذریعہ انہیں ہی گھروں سے بھگانا چاہتے ہیں ،جب کوئی اس کالے قانون کی مخالفت کی بات کرتا ہے اور دستور بچانے کے لئے باہر نکلتا ہے تو اس پر اپنے کارندوں کو یعنی آر یس یس اور سنگھیوں کو چھوڑ دیتے ہیں اور وہ ان کی پشت پناہی میں نہتے ،کمز وروں پر جانوروں سے بھی زیادہ ظلم وستم کرتے ہیں ،حکمرانوں کی ہٹ دھرمی دیکھئے اپنی ہی عوام وعایا سے بات تک کرنے تیار نہیں ہیں ،الٹا بڑی بے حیائی سے کہہ رہے ہیں کہ ہم اپنے موقف سے ایک اینچ پیچھے ہٹنے تیار نہیں ،کس قدر شرم کی بات ہے کہ جو چیز عوام نہیں چاہتی ہے اسے جبراً ان پر نافذ کرنا چاہتے ہیں ،شاید ان کے ظلم وستم اور ہٹ دھرمی کو دیکھ کر ظلم بھی اندر ہی اندر پشیمان ہو رہا ہوگا ، حکمران تو عوامی مفادات کا تحفظ کرتے ہیں مگر یہ ہیں ان سے تحفظ چھیننے کی کوشش میں لگے ہوئے ہیں ،حکمران مذہب سے بالا تر ہوکر عوامی فلاح وبہبود کے لئے کام کرتے ہیں اور یہ ہیں کہ مذہب کے نام پر عوام کے درمیان نفرت کی دیوار کھڑی کرنے میں مصروف ہیں ،حکومت سے ہم عوام مطالبہ کرتے ہیں کہ وہ ہٹ دھرمی چھوڑیں ، ملک کی گنگا جمنی تہذیب کو ملیا میٹ نہ کریں ،مذہب کی بنیاد پر تفریق پیدا نہ کریں ،دستور کے ساتھ کھلواڑ نہ کریں ،عوامی رائے کا احترام کریں ،ان کی مصیبوں کو سمجھیں ،وہ کام کریں جس میں سب کا فائدہ ہو اور ملک کو ترقی کی را ہ پر گامزن کریں ،لوگوں کی عزت وعظمت کی حفاظت کریں اور ان کی جان ومال کا تحفظ کریں،کسی کے جان مال اور عزت وآبرو سے کھیلنا کسی بھی مذہب میں جائز نہیں ہے اور نہ کسی مذہب نے اس کی تعلیم دی ہے ،حکومت وکرسی سب عارضی ہے ،نہ کوئی اس پر مستقل رہا ہے اور نہ ہی رہے گا ،ظلم تو ظلم ہے جب حد سے بڑھ جاتا ہے تو وہ ظالم کو کیفر کردار تک پہنچادیتا ہے ،جس طرح ریل چلنے کے لئے پٹریاں ضروری ہیں اسی طرح ملک کی سلامتی کے لئے عدل وانصاف ضروری ہے ؎ ٓٓتے کو یاد طرح کے حکمروں نے نام

ظلم کی انتہا ہوگئی ،ستم گر رہنما ہوگئے
صدائیں گونجتی رہ گئی اور ہم بے زباں ہوگئے