Tue, Mar 2, 2021

جنگ آزادی اور مسلمان
عمر مصطفی کریم نگری

ہر سال پندرہ اگسٹ کی تاریخ خوشیوں کی سوغات لیکر تمام ہندوستانیوں کے دلوں پر فتح وکامیابی کی نوید مسرت سناتی ہے لیکن ساتھ ہی اس بھیانک خواب کی آغوش میں لیجاتی ہے جس سے قابض انگریزوں کے لرزہ خیز مظالم،ظلم و استبداد کے روح فرسا مناظر،سلطنت مغلیہ کی صورت میں اسلامی اقتدار کا مکمل خاتمہ،اپنے ہی وطن میں غلامی کی ذلت بھری زندگی اور ناجانے ماضی کے کتنے درد ناک اوراق سے ٹپکتے ہوئے خون کے آنسوں اور رستے ہوئے دل کے زخم بھی تازہ ہوجا تے ہیں ………مگر وہیں دوسری طرف بے مثال جرات و بہادری،غیرت و حمیت،ایثار و قربانی،استقلال و استقامت، جھد مسلسل اور وطن عزیز سےالفت و محبت رکھنے والی ایک زندہ دل اور روشن ضمیر مسلمان قوم کی ناقابل فراموش تاریخ عزیمت ہے……جس نے ظلم و جبر اور خیانت دغابازی کے ستونوں پر قائم دو سو سال سے زائد عرصہ پر محیط برطانوی سامراج کے ناقابل غروب سمجھے جانے والے سورج کو باالآخر غروب ہونے پر مجبور کردیا

اس دریا سے اٹھتی ہے وہ موج تندجولاں بھی
نہنگون کے نشیمن جس سے ہوتے ہیں تہ و بالا

مگر یہ آزادیءہند کے کہانی مسلمانوں کے خون جگر اور انکے انقلاب آفریں لہو سے لکھی گئ ہے کیونکہ جنگ آزادی کی پوری دو سو سالہ تاریخ اس بات پر گواہ ہےکہ مسلمان ہی وہ واحد قوم تھی جس نے شروع ہی سے اس ظالم انگریز حکومت کے خلاف علم جھاد بلند کیا اور شروع کے سو سال بلکہ اس سے زائد عرصہ تک مسلمان تن تنہا انگریزوں کا مقابلہ کرتے رہیں ……..اور وہ اسلام کے پروانے ہی تھے جس نے سب سے پھلے شمع آزادی کا چراغ روشن کیا … تمام ہندوستانیوں کے ضمیر کو جھنجھوڑا،انکو للکارا، احساس و شعور کے ناخن لیے،انکے خمیر کو باہوش کیا،انکے سوئے ہوئے دلوں پر دستک دی،انکے ذہن ودماغ کو پکارا،انکو اپنے پروردگار سے ڈرایا،آزادی وحریت کےقیمت بتائی،غلامی کی ذلت زندگی و رسوائی سے آگاہ کیا،انکے لڑکھڑاتے قدموں کو استقامت دی،انکی ٹوٹی ھمتوں کو مضبوط کیا،انکے عزم وحوصلہ کو پروان چڑھایا،حبی الوطنی کے نغموں سے سرشار کیا،وطن پر مر مٹنے کی قسمیں لیں،شھادت کے گیت گنگنائے،اپنے بہادر آباو اجداد کے قصے سنائے،گنگاو زمزم کے تقدس کا واسطہ دیا، ملک کی آزادی کیلئے اپنے خون کی مانگ رکھی،اپنے آنے والی نسلوں کی تباہی وبربادی کی تصویر کھینچی انکے دین و ایمان انکے مذہب و ملت کی ذمہ داری انکے کاندھوں پر ڈالی اور وہ تمام تدبیریں اختیار کیں،مضبوط تحریکوں کو وجود بخشا،تقدیر سے پنجہ آزمائی کی اور وہ سب کچھ کیا جو ایک غیرتمند اور زندہ دل مسلمان قوم کو کرنا تھا جس کے نتیجے میں آزادی کا سنہرا خواب شرمندہء تعبیر ہوا….

خزاں سے کب کی بنیاد گلستان گرچکی ہوتی
مگر یہ خیریت ہے زیر دیوار چمن ہم ہیں

مگر اس ملک میں مسلمانوں کی بد قسمتی کہئے یا سوچی سمجھی سازش کہ جب سے یہ ملک آزاد ہوا اسی وقت سے ہر میدان اور ہر شعبہ میں مسلمانوں کیساتھ جو ناروا سلوک اور جو اجنبی برتاوء کیا گیا جس کی بد نما تاریخ کو دیکھ کر جگر مرادبآدی کا وہ شعر یاد آتاہے جو اس تنگ نظر قوم کی عکاسی کرتا ہے…۔

کہتے ہیں ہندو و مسلم بھائی بھائی
پھرتے ہیں آستینوں میں خنجر لئے ہوئے

مختصرا یہ کہ اس وقت ملک میں مسلمانوں کے جو نا گفتہ بہ حالات ہے وہ کھلی کتاب کیطرح سب کے سامنے ہے… ہر آئے دن کوئی نہ کوئی غمگین واقعات رونما ہو رہے ہیں،منظم پلاننگ اور منصوبہ کے تحت سیاسی اور فوجی طاقت سے لیکر شوشل میڈیا اور پرنٹ میڈیا تک… سب کو اپنے قبضے میں لیکر فرقہ پرست طاقتیں مسلمانوں کے خلاف زہر اگل رہے ہیں نیز یہ باطل پرست قوتیں مسلمانوں کو انکے لازوال ماضی اور شاندار تاریخ سے کاٹ نے کےلئے ہر وہ حربہ استعمال کررہی ہے جس سےمسلمان کا اپنی تاریخ سے رشتہ کمزور پڑ جائے ۔۔۔۔
غرض اس سنگین حالات میں ہمارا کیا لائحہءعمل ہو اور ہماری کیا ذمہداری ہے۔۔۔۔۔۔۔۔۔
اس سلسلہ میں مفکر اسلام حضرت مولانا ابو الحسن علی ندوی رحمہ اللہ اپنے دردمندانہ قلم سے ایک بصیرت افروز اور لائق تقلید طریقہ و حل پیش کرتے ہوئے تحریر فرماتے ھیں “کہ مسلمانوں کیلئے اس ملک میں باعزت رہنے کا یہی راستہ ہیکہ وہ اپنی افادیت ثابت کریں اور اخلاقی قیادت کے اس خلا کو پر کریں جو عرصہء دراز سے اس ملک میں چلا آرہاہے،کسی ملک میں کوئی اقلیت یا فرقہ اپنی واضح افادیت و ضرورت اور بے لاگ و بے غرص قیادت و دعوت کے بغیر عزت و اطمنان کیساتھ نہیں رہ سکتا” (ہندوستانی مسلمان ص 215)
اگر ہم حضرت علی میاں ندوی کی اس سوز وگداز اور ملی حمیت وغیرت دینی کے جذبہ سے لکھی گئ اس نصحیت پر عمل کرتے ہوئے اپنی کوششیں جاری رکھیں تو انشاءاللہ امید کی کرنیں روشن ہوں گی۔