Fri, Feb 26, 2021

اغیار کے نقش قدم پر
تم سبھی کچھ ہو بتاؤ تو مسلمان بھی ہو
مفتی عبدالمنعم فاروقی قاسمی

اسلام کامل ومکمل دین ہے اور اس کی تعلیمات پوری انسانیت کے لئے راہ ہدایت ہے ،انسانوں کی کامیابی دین اسلام سے وابستہ ہوجانے میں ہے اور ان کی ناکامی اسلام سے دوری اختیار کرنے میں ہے،دنیا کے سب سے خوش قسمت اور خوش نصیب انسان وہ ہیں جن کے پاس اسلام کی دولت ہے اور سب سے محروم القسمت ہیں وہ لوگ ہیں جو دولت اسلام سے دور اور محروم ہیں،اسلامی تعلیمات اور اس کے احکامات کا وہی شخص مکلف اور پابند ہے جو اس سے وابستہ ہے اور وہ شخص جو داخل اسلام نہیں ہے اسلامی احکامات اور شرعی قوانین اس پر نافذ نہیں ہیں ،ہر مسلمان کے لیے احکام شرعیہ کا ماننا ضروری اور فرض ہے اور اس کا انکار کفر ہے،دینی فریضوں کی عدم ادائیگی اسے فاسق بنادیتی ہے اور ان کا انکار اسے کفر کی سر حد میں پہنچادیتی ہے ،نیز اسلامی شعار ،تعلیمات اسلام اور سنن نبوی ؐ کا استہزا ، مذاق اور توہین اسے بدبخت بناکر ذمرہ کفار میں کھڑا کر دیتا ہے،یہی وجہ ہے کہ مسلمانوں کو جہاں فرائض ،واجبات اور سنن ومستحبات پر عمل پیرا ہونے کی تعلیم وترغیب دی گئی ہے وہیں ان کی بے ادبی اور گستاخی سے بچنے کی تعلیم وتلقین بھی کی گئی ہے ، کبھی ایسا بھی ہوتا ہے کہ صرف ایک بول آدمی کو کافر سے مسلمان بنادیتا ہے وہیں دوسری طرف یہی ایک بول اسے سلام سے خارج بھی کر دیتا ہے،ویسے ہمیشہ ہی زبان کے درست استعمال کی تاکید کی گئی ہے اور احادیث شریفہ میں زبان کو قابو میں رکھنے اور ا س سے عمدہ کلمات کہنے کی تعلیم دی گئی ہے ، زبان کے متعلق رسول اللہ ؐ کا ارشاد ہے کہ : من کان یومن باللہ والیوم الاخر فلیقل خیرا او لیصمت (بخاری) ’’جو شخص اللہ اور آخرت کے دن پر ایمان رکھتا ہے چاہیے کہ وہ خیر کی بات زبان سے نکالے یا پھر چپ رہے ‘‘، اسی وجہ سے علماء امت نے عموماً ہر موقع پر اور خصوصاً دینی گفتگو کرتے وقت حد درجہ احتیاط سے زبان استعمال کرنے کی تاکید کی ہے،یقینا غیر مسلموں کا دین کے سلسلہ میں زبان درازی کرنا اور شعائر اسلام کی توہین کرنا اتنا خطر ناک نہیں ہے جتنا کہ ایک مسلمان کے لئے خطرناک اور مہلک ترین ہے ،کیونکہ مسلمان کی زبان درازی اور دین وشعار دین کے معاملہ میں معمولی لب کشائی بھی اس کے کئے پر پانی پھیر دینے کے لئے کافی ہے ،بعضے مسلمان بلا سمجھیں اور بغیر کسی غور فکر کے زبان سے ایسے جملے نکالدیتے ہیں جن سے اسلام اور شعائر اسلام کی توہین ہوتی ہے جس کی وجہ سے وہ اسلام کی نظر میں مجرم قرار پاتے ہیں ،بسااوقات ان بے تکی باتوں سے ایمان بھی رخصت ہوجاتا ہے ۔
ایک مسلمان کے متعلق ہر گز یہ تصور بھی نہیں کیا جاسکتا ہے کہ وہ عقل و ہوش میں رہتے ہوئے کبھی دین اسلام کے کسی حکم یا اس کے کسی شعار کی توہین کے الفاظ بھی اپنی زبان سے نکالنے کی ہمت کر سکتا ہے ، ایک ادنی مسلمان بھی ہر چیز برداشت کر سکتا ہے لیکن دین اسلام یا شعائر اسلام کی معمولی سی توہین ہر گز برداشت نہیں کر سکتا ، ایک مسلمان کی نظر میں دین اسلام سے قیمتی کوئی شئے نہیں ہے اور اس کے نزدیک دین اسلام اس کی جان سے بھی زیادہ عزیز اور قیمتی ہے اور یہ صرف زبانی جمع خرچ تک محدود نہیں ہے بلکہ تاریخ گواہ ہے کہ دین اسلام کے لئے فرزندوں نے سر دھڑ کی بازی لگاکر دنیا کو بتادیا کہ وہ اپنے دین سے کس قدر محبت رکھتے ہیں اور اس کی خاطر اپنی جان تک دینے کے لئے تیار ہیں ، چنانچہ حق وباطل کا پہلا معرکہ جنگ بدر جہاں ایک طرف اسلامی لشکر میں باپ سیدنا ابوبکر صدیق ؓ تھے تو دوسری طرف کفار کے لشکر میں ان کے لڑکے عبدالرحمن تھے جو اس وقت مسلمان نہیں تھے ،یہ مشرکین کی صف سے نمودار ہوئے اور للکار نے لگے ،یہ آواز سن کر سیدنا ابوبکر ؓ شیر کی طرح اٹھے ،آپ ؐ نے انہیں روکا اور فرمایا آپ نہ جائیں ،بلکہ اپنی ذات سے ہمیں فائدہ دیں ،جب عبدالرحمن ؓمسلمان ہوئے تو ایک دن اپنے والد ماجد سے کہنے لگے آپ بدر کے دن کئی مرتبہ میری تلوار کے نیچے آئے تھے لیکن میں نے والد سمجھ کر آپ کو چھوڑ دیا ، بیٹے کی بات سن کر سیدنا ابوبکرؓ نے فرمایا تم اس موقع پر میری تلوار کے نیچے نہیں آئے ،اگر آجاتے تو قسم بخدا ! میں تمہیں زندہ نہیں چھوڑتا کیونکہ جنگ بدر حق وباطل کے درمیان معرکہ تھا اور تم باطل کے نمائندے تھے( سیرت سیدنا ابوبکر ؓ :۴۴)۔
دین سے دوری ،اسلامی تعلیمات سے ناواقفیت ،تہذیب جدید سے متاثر اور بُری صحبت کے اثر سے متاثر ہوکر بہت سے مسلمان مرد وعورت خود اپنے دین کی فضیلت اور اس کے احکام وشعائر کی عظمت سے بے پرواہ نظر آتے ہیں ،ماں باپ کی لاپرواہی ،تربیت سے غفلت ،دینی تعلیم سے دوری اور مغربی تہذیب وکلچر کی لعنت نے انہیں اپنا غلام بنالیا ہے ، شرعی احکام ومسائل، تاریخ اسلام اور سیرت نبویؐ تو درکنار انہیں فرائض تک کا علم نہیں ہے ،حلال وحرام سے بالکل ناواقف ہیں اور سنن ومستحبات سے نابلد ہیں ،ان کی ظاہری شکل وصورت اغیار سے مشابہ نظر آتی ہے ، انہیں دیکھ کر پتا چلتا ہے کہ غیروں کی تہذیب کی زنجیر میں وہ جکڑ چکے ہیں ،ان کی عقل سمجھنے سے قاصر ہوچکی ہے ، ان کی بے ہوشی پر افسوس ہوتا ہے ، اگر کوئی انہیں سمجھاتا ہے تو اسے دقیانوسی سے تعبیر کرتے ہوئے اس کا مذاق اڑاتے ہیں ، ان میں سے بعض تو دین بے زاری کا عملی نمونہ پیش کرتے ہیں اور بعض تہذیب جدید کے نشے میں چور ہوکر اور مغربیت سے مرعوب ہوکر اپنے قول وفعل سے دین اور شعائر دین کی توہین تک کر دیتے ہیں ، ابھی چند روز قبل مہاراشٹرا سے دین بے زاری اور سنت نبوی ؐ کی توہین کا دل ہلادینے والا واقعہ اخبارات میں پڑھنے کو ملا ،اسے پڑھ کر یقینا ہر صاحب ایمان کا دل پس کر رہ گیا ہوگا ،جدید تعلیم یافتہ اور مغربی تہذیب سے متاثر ایک دوشیزہ کا نکاح دیندار اور متشرع لڑکے ساتھ ہوا تھا،اس نئی نویلی دلہن نے اپنے شوہر سے خلع حاصل کی اور اس کی وجہ نوجوان کی ڈاڑھی بنی ،اس دوشیزہ کے باربار اصرار کے باوجود شوہر نے جب دینی لباس چھوڑنے اور ڈاڑھی ترشوانے سے انکار کر دیا تو بیوی نے بھی ساتھ زندگی گزار نے انکار کرتے ہوئے خلع کا مطالبہ کر دیا ،اس کا کہنا تھا کہ ڈاڑھی والے اسے پسند نہیں ہیں اور اس کے بتادینے کے باوجود والدین نے اس کی شادی ایک ڈاڑھی والے نوجوان سے کردی ہے ، اسے اس متشرع نوجوان کے ساتھ زندگی گزارنا ہر گز پسند نہیں ہے ،یہ مسلم معاشرہ میں ایک دو واقعے نہیں بلکہ دسیوں اس طرح کے واقعات ہیں جنہیں پڑھ کر اور سن کر دلی صدمہ پہنچتا ہے ،آنکھیں اشکبار ہوجاتی ہیں اور ان کی دین بیزاری پر ماتم کرنے کو جی چاہتا ہے ، مسلمانوں میں بعض گھرانے وہ ہیں جو محض ڈاڑھی کی بناپر رشتے سے انکار کر دیتے ہیں ،وہ کہتے ہیں کہ لڑکا تعلیم یافتہ ،مالدار اور عمدہ خاندان سے ہے بس ایک چیز رکاوٹ بنی ہوئی ہے وہ ہے اس کی ڈاڑھی ،حالانکہ ڈاڑھی رسول اللہ ؐ کی سنتوں میں سے عظیم ترین سنت ہے ، یہ مسلمانوں کا قومی شعار ہے اور مرد کی فطری پہنچان ہے ، ڈاڑھی رکھنا انسانی فطرت میں داخل ہے ، حضرت عائشہؓ فرماتی ہیں کہ رسول اللہ ؐ نے ارشاد فرمایا : دس چیزیں فطرت میں سے ہیں ایک مونچھ خوب کتروانا ،دوسری ڈاڑھی چھوڑنا، تیسری مسواک کرنا،چوتھی،پانی سے ناک صاف کرنا، پانچویں ناخن کاٹنا، چھٹے انگلیوں کے جوڑوں کو دھونا، ساتویں بغل کے بال صاف کرنا،آٹھویں، زیر ناف کے بال مونڈنا، نویں پانی سے استنجا کرنا اور دسویں کلی کرنا( مسلم) ،ایک حدیث میں آپ ؐ نے مونچیں کاٹنے اور ڈاڑھی بڑھانے کا حکم دیا ہے ،حضرت ابوہریرہ ؓ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ ؐ نے فرمایا: مونچیں کاٹو اور ڈاڑھیاں بڑھاؤ ،مجوسیوں کی مخالفت کرو( مسند البزار) ،نیز فقہائے امت اور علماء کرام نے قرآن وحدیث کی روشنی میں ڈاڑھی رکھنے کو واجب قرار دیا ہے ،(تفصیل کے لئے محدث کبیر حضرت مولانا مفتی سعید احمد صاحب پالنپوری مدظلہ شیخ الحدیث دارالعلوم دیوبند کی کتاب ،ڈاڑھی اور انبیاء کی سنت کا مطالعہ کریں) اور اس کے تراشنے کو فعل قبیح اور جرم عظیم بلکہ کبیرہ گناہ قرار دیا ہے،بعض اہل علم نے ڈاڑھی کاٹنے کے متعلق فرمایا کہ یہ (۱) سنت کی مخالفت(۲)علانیہ گناہ(۳)خلقت میں تبدیلی(۴) کافروں سے مشابہت(۵)خواتین سے مشابہت(۶) گناہ کا تسلسل اور(۷) اسلامی شعار کی خلاف ورزی ہے ،ڈاڑھی نہ رکھنا گناہ ہے لیکن ڈاڑھی کی توہین کرنا ایسا عمل ہے جس سے ایمان رخصت ہوجاتا ہے اور آدمی مرتد ہوجاتا ہے ،ڈاڑھی کے متعلق بعض اہل علم فرماتے ہیں کہ یہ ایسی عظیم واحد سنت ہے جو آدمی کے ساتھ اس کے قبر میں بھی جاتی ہے۔
حقیقت یہ ہے کہ اس طرح کے دل ہلادینے والے واقعات اور دین بے زار اعمال مسلم معاشرہ میں جنم لے رہے ہیں اس کی اصل وجہ دینی تعلیم سے دوری ،علماء اور صلحاء کی صحبت سے محرومی اور مغربیت کی غلامی ہے ،جب تک ہم اپنے گھروں میں دینی تعلیم عام نہیں کریں گے ، گھر کے ماحول کو اسلامی تہذیب سے آراستہ نہیں کریں گے اور تہذیب جدید کے خول سے باہر نہیں نکلیں گے معاشرہ کو اس طرح کی برائیوں سے پاک نہیں کر سکتے ،اگر ہم نے سنجیدگی سے نہیں سوچا ، ہوش کے ناخن نہیں لیا اور خود کو اسلام ، احکام اسلام اور رسول اللہ ؐ کی سنتوں سے آراستہ نہیں کیا تو پھر غیروں سے شکوہ مت کیجئے اپنے آپ سے شکایت کیجئے ،علامہ اقبال ؒ نے قوم مسلم کے حال کی عکاسی کرتے ہوئے جو کچھ کہا تھا آج ہم اسی کی تصویر بنے بیٹھے ہیں ،انہوں نے مسلم معاشرہ کے حالات کا بغور جائزہ لینے کے بعد کہا تھا ؎

کس کی آنکھوں میں سمایا ہے شعارِ اغیار

ہوگئیں کس کی نگاہ طرزِ سلف سے بیزار
کون ہے تارکِ آئینِ رسولِ مختار

مصلحت وقت کی ہے کس کے عمل کا معیار
قلب میں سوز نہیں روح میں احساس نہیں

کچھ بھی پیغامِ محمد کا تمہیں پاس نہیں
یوں تو سید بھی ہو مرزا بھی ہو افغان بھی ہو

تم سبھی کچھ ہو بتاؤ تو مسلمان بھی ہو
٭٭٭