Fri, Feb 26, 2021

کئی نمایاں صفات کے حامل، روشن ضمیر، دینی ملی سیاسی سماجی رفاہی سرگرمیوں کا نایاب آفتاب غروب ہوگیا۔ مولانا سید ولی اللہ قاسمی علیہ الرحمۃ کے سانحہ ارتحال پر مولانا شیخ احمد مظاہری، حافظ شرف الدین حلیمی کا تعزیتی تقریب سے خطاب۔

(_) حافظ ہاشمی حلیمی استاذ مدرسہ منیر الہدیٰ کاماریڈی کی اطلاع کے بموجب مولانا سیدولی اللہ قاسمی علیہ الرحمۃ کے سانحہ ارتحال کی خبر سنی گئی انا للہ وانا الیہ راجعون پڑھ کر ادارہ کے جملہ معلمین و معلمات و ذمہ داران نے دعائیہ نشست منعقد کی، جملہ لواحقین و محبین کو خصوصا حضرت علیہ الرحمۃ کی زوجہ مکرمہ کو تعزیت مسنونہ پیش کی گئی۔ اور حافظ شرف الدین حلیمی نے کہا کہ نظام آباد کے اطراف و اکناف ہی نہیں بلکہ پورے صوبہ میں کئی مدارس کا سنگ بنیاد رکھ کر نظماء مدارس کی بیش بہا ہمت افزائی کرتے اور قیمتی تجربات کی روشنی میں رہبری رہنمائی اور مشوروں سے نوازتے تھے۔ مولانا شیخ احمد صاحب مظاہری ناظم مدرسہ منیر الہدیٰ کاماریڈی نے کہا کہ مولانا سید ولی اللہ قاسمی علیہ الرحمۃ ایک طرف امامت تو دوسری طرف تدریسی خدمات میں ہمہ تن مصروف رہتے تھے۔ ہر ایک کا حاشیۂ خیال یہ تھا کہ میں مولانا کا عزیز ہوں، آپ کئی نمایاں صفات کے حامل تھے، آپ نے دینی ملی سیاسی سماجی رفاہی سرگرمیوں میں نایاب کردار ادا کیا، ہمارے ضلع کاماریڈی سے بے لوث چاہت اور تعلقات تھے، ہمارے ہر دلعزیز استاذ مکرم حضرت حافظ جی فہیم الدین منیری صاحب کی دعوت پر ہر چھوٹے بڑے مدعو پروگرام میں شرکت فرماتے، ایسی ہی ایک شرکت عاجز کے ادارے ( مدرسہ منیر الہدیٰ کاماریڈی) کے افتتاحی پروگرام میں قدم رنجا فرمائی کے بعد دعاؤں سے نوازا۔اور ایک راز کی بات یہ ہیکہ گاہے بگاہے حضرت علیہ الرحمۃ اس عاجز کو بذریعہ فون احوالِ مدرسہ دریافت کرتے تھے، آپ نےجمعیۃ علماء کا حق ادا کردیا، ہم تمام معلمین و معلمات مولانا آصف صاحب، مولانا سمیع الله قاسمی صاحب، خصوصاً روحانی قریبی اولاد میں اقرب معتمد خاص محترم مولانا عبدالقیوم شاکر قاسمی دامت برکاتہم جو مولانا کے عادات و اطوار کو بھانپ کر امور کو بحسن خوبی انجام دیتے اور مولانا کے ہر چیز کو منظم مرتب کرتے؛ تعزیت پیش کرتے ہیں اور خدا سے دعا کرتے ہیں کہ اللہ اپنے کرم سے عالیشان استقبال فرمائے اور پسماندگان و محبین کو اس صبر پر اجر عظیم عطا فرمائے اور آپ علیہ الرحمۃ کا حقیقی وارث بنائے؛ آمین بجاہ خاتم النبیﷺ۔