Tue, Mar 2, 2021

شب ِمغفرت میں محروم رہنے والے لوگ
مولانا محمد غیاث الدین حسامی
ghiyasuddinhusami92@gmail.com

شب برأت وہ مقدس رات ہے، جس کا اللہ تعالیٰ نے قرآن مجید میں ’’لیلۃ مبارکۃ‘‘ یعنی برکتوں والی رات کے نام سے ذکر کیا ہے اور یہ لیلۃ مبارکہ شعبان المعظم جیسے مہینہ میں واقع ہے، اس مبارک رات میں اللہ تعالیٰ کی خاص رحمتوں اور برکتوں کا نزول ہوتا ہے، بخشش و مغفرت اور رحمت کے دروازے کھول دیئے جاتے ہیں، انعام و اکرام کی بارش ہوتی ہے توبہ اور دعائیں قبول ہوتی ہیں، اس رات میں آئندہ سال کی اموات و پیدائش لکھی جاتی ہیں، اس رات میں بندوں کے رزقوں کی بھی تقسیم کر دی جاتی، اور اس رات میں بندوں کے اعمال و افعال آسمان پر لے جائے جاتے ہیں اور اس رات میں اللہ تعالیٰ بنی کلب کی بکریوں کے بالوں کے برابر بندوں کو دوزخ کی آگ سے نجات عطا فرماتے ہیں،چنانچہ ام المؤمنین حضرت سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ بلا شبہ اللہ تعالیٰ شعبان کی پندرہویں شب( شب ِ برات میں) آسمان دنیا کی طرف نزول فرماتے ہیں اور بنوکلب کی بکریوں کے بالوں کے برابر لوگوں کی مغفرت فرمادیتے ہیں(باب ما جاء في ليلۃ النصف من شعبان، حدیث نمبر۷۳۹) اسی طرح جب نصف شعبان کی رات ہوتی ہے تو اللہ تعالیٰ اپنی مخلوقات کی طرف متوجہ ہوتے ہیں ‘پس تمام مخلوق کو بخش دیتے ہیں اور کافروں کو ڈھیل دیتے ہیں اور بغض رکھنے والوں کو ان کے بغض کے ساتھ چھوڑ دیتے ہیں یہاں تک کہ وہ اس کو ترک کر دیں (صحیح الجامع الصغیر ، حدیث نمبر۷۷۱)حضرت عثمان بن ابی العاص رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ جب شعبان کی پندرھویں شب ہوتی ہے تو (اللہ تعالیٰ کی طرف سے ) ایک پکارنے والا پکارتا ہے کہ کیا کوئی مغفرت کا طالب ہے کہ میں اس کی مغفرت کر دوں، کیا کوئی مانگنے والا ہے کہ میں اس کو عطا کر دوں( الجامع الصغیروزیادتہ ، حدیث نمبر۱۶۶۶)
رحمت و مغفرت کی اس مبارک رات میں جہاں ہر طرف رحمتوںکا نزول ہوتا ہے اور مغفرت کے پروانہ تقسیم کئے جاتے ہیں وہیں پر بعض محروم القسمت لوگ بھی ہوں گے جو اس رات میں بھی رحمت الہی اور مغفرت باری سے محروم رہیں گے ، وہ کو ن لوگ ہوں گے اور ان کا گناہ کیا ہوگا اس کی کچھ تفصیل لکھی جارہی ہے تاکہ ہم بھی اپنا جائز ہ لے سکے اور ان بد بخت لوگوں میں شامل ہونے سے بچ سکے ۔
(۱)اللہ کے ساتھ شرک کرنے والا۔۔۔۔شرک انسانی زندگی کا سب سے بڑا گناہ اور پروانۂ مغفرت سے محروم ہونے کا بڑا سبب ہے ، اسی لئے قرآن مجید میں اللہ تعالی نے صاف لفظوں میں یہ اعلان کردیا ہے کہ اللہ کے دربار میں اگر وہ چاہے تو ہر گنا ہ کی معافی مل سکتی ہے لیکن شرک کرنے والے کو کبھی معاف نہیں کیاجا ئے گا ( النساء ۱۱۶)اللہ تعالی کی ذات یا صفات میں کسی دوسرے کو شریک کرنا یا اس کے برابر کسی کو سمجھنا یا کسی کی ایسی تعظیم یا فرمانبرداری کرنا جیسی کہ اللہ تعالی کی کی جاتی ہے شرک کہلاتا ہے ، اور یہ بات اللہ کو کبھی بھی پسند نہیں کہ اس کا کوئی بندہ اس کی وحدانیت میں کسی کو شریک کرے ، توحید کی اہمیت کو بتلاتے ہوئے اور شرک کی مذمت کرتے ہوئے آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت معاذ بن جبل ؓ کو نصیحت کی اور فرمایا اے بیٹے ! اللہ کے ساتھ کسی کو شریک مت کرنا اگرچہ تم کو قتل کردیا جائے یا آگ میں جلادیا جائے ( طبرانی حدیث نمبر ۱۶۶۱۳)کیو نکہ شرک کرنے والے کی کبھی بھی مغفرت نہیں ہوتی جس کو قرآن مجید میں اللہ نے بیان کیا ہے ’’ إِنَّهُ مَنْ يُشْرِكْ بِاللَّهِ فَقَدْ حَرَّمَ اللَّهُ عَلَيْهِ الْجَنَّةَ وَمَأْوَاهُ النَّارُ وَمَا لِلظَّالِمِينَ مِنْ أَنْصَارٍ‘‘یقین مانو کہ جو شخص اللہ کے ساتھ کسی کو شریک کرتا ہے تو اللہ اس پر جنت کو حرام کردیااور اس کا ٹھکانہ جہنم ہے ، اور ظالمین کا کوئی مددگار نہیں ہے ( المائدہ ۷۲)
(۲) بغض و عداوت رکھنے والا۔۔۔۔دل میں دشمنی کو روکے رکھنا اور موقع پاتے ہی اس کااِظہار کرنا کینہ کہلاتاہے (لسان العرب،۱/۸۸۸)حجۃ الاسلا م امام محمد غزالی علیہ ؒ اپنی کتاب ’’اِحیاء العلوم‘‘میں بغض وکینہ کی تعریف ان الفاظ میں کی ہے :اَلْحِقْدُ:اَنْ یُّلْزِمَ قَلْبَہُ اِسْتِثْقَالَہُ وَالْبُغْضَۃَ لَہُ وَالنِّفَارَ عَنْہُ وَاَنْ یَّدُوْمَ ذٰلِکَ وَیَبْقٰییعنی: بغض و کینہ یہ ہے کہ انسان اپنے دل میں کسی کو بوجھ جانے، اُس سے دشمنی وبُغْض رکھے، نفرت کرے اور یہ کیفیت ہمیشہ ہمیشہ باقی رہے (احیاء العلوم، کتاب ذم الغضب والحقد والحسد، ۳/۲۲۳) کینہ اور حسد نفسیاتی بیماریاں ہیں جو انسان کو اندر ہی اندر سے کھوکھلا کر دیتی ہیں،یہ دونوں برائیاں انسان کو ’ذاتی اور انفرادی‘ طور پر اپنی لپیٹ میں لیتی ہیں جس سے وہ دوسروں کو شکار کرتا ہے، انسان دوسروں پر اﷲ کے ظاہری انعامات و اِکرامات دیکھ کر اپنے آپ میں ہی جلتا ہے، بعض اوقات یہ حالت اسے دائمی نفسیاتی مریض بنا دیتی ہے اور اس سے بڑھ کر یہی حسد بعض اوقات دشمنی اور عداوت میں بدل جاتا ہے جس کے لئے انسان کوئی بھی حد عبور کر جاتا ہے،حضرات صوفیاء نے کہا کہ بغض و کینہ دل کی بیماریوں میں سے ایک بیماری ہے جس سے انسان کی دنیا اور آخرت خراب ہوتی ہے، بہت سے لوگ اونٹ کی طرح کینہ پرور ہوتے ہیں، اونٹ کی فطرت ہے وہ کبھی بھولتا نہیں ہے، اسی طرح بہت سے لوگ ہوتے ہیں جو دل میں کسی بات کا میل رکھتے ہیں، وقت آنے پر سانپ کی طرح اپنا زہر اگل دیتے ہیں، ساتھ ہی گرگٹ کی طرح رنگ بدل لیتے ہیں، جب کہ رسول اللہ صلی اللہ نے فرمایا کہ تم دوسروں کے متعلق بدگمانی سے بچو، کیونکہ بدگمانی سب سے جھوٹی بات ہے، تم کسی کی کمزوری کی ٹوہ میں نہ رہا کرو اور جاسوسوں کی طرح رازدارانہ طریقے سے کسی کے عیب معلوم کرنے کی کوشش بھی نہ کیا کرو، اور نہ ایک دوسرے پر بڑھنے کی بے جا ہوس کرو، نہ آپس میں حسد کر، نہ بغض وکینہ رکھو اور نہ ایک دوسرے سے منہ پھیرو، بلکہ اے اللہ کے بندوں! اللہ کے حکم کے مطابق بھائی بھائی بن کر رہو( مؤطا امام مالک)دلوں میں کینہ اور بغض رکھنے والوں کی شبِ برات جیسی بابرکت رات میں بھی مغفرت نہیں ہوگی ۔
ذخیرۂ احادیث میں ایک واقعہ ملتا ہےکہ مسجد نبوی میں آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اپنےصحابہ کےساتھ تشریف فرماتھے، اچانک دروازے کی طرف اشارہ کر کے فرمایا : ’’اس دروازے سے وہ شخص نمودار ہونے والا ہے جو اہل جنت میں سے ہے‘‘چند ہی لمحوں بعد ایک انصاری صحابی( بعض روایات میں ان کا نام حضرت سعدؓلکھا ہے) اسی دروازے سے مسجد میں داخل ہوئے، حضرت انسؓ فرماتے ہیںدوسرا دن ہوا تو آج بھی آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا کہ اس دروازے سے ایک شخص اندر داخل ہونے والا ہے جو اہل جنت میں سے ہے۔ دوسرے دن بھی وہی انصاری صحابی دروازے پرنمودار ہوئے، جب تیسرے دن بھی وہی انصاری صحابی آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی بشارت سے سرفراز ہوئے تو حضرت عبداللہ بن عمروؓ ان کے پیچھے ہو لئے،اور ان سے کہنے لگے کسی وجہ سے میں تین راتیں اپنے گھر نہیں جانا چاہتا، کیا آپ مجھے اپنے گھر قیام کی اجازت دیں گے؟ وہ انصاری صحابیؓ حضرت عبداللہ بن عمروؓ کو اپنے گھر لے گئے جہاں انہوں نے تین راتیں قیام فرمایا،حضرت عبداللہ بن عمروؓ اس جستجو میں تھے کہ دن بھر کے معمولات کےعلاوہ آخر وہ کون سا خاص عمل ہے جو بارگاہ رسالت صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم میںاتنا محبوب قرار پایا کہ تین دن تک جنت کی نوید صرف انہی کا نصیب بنتی رہی؛لیکن ان کی حیرت کی انتہا نہ رہی کہ کوئی بھی تو غیر معمولی عمل اس انصاری کانظر نہ آیا، ان کے شب و روز کے معمولات وہی تھے جو باقی تمام صحابہ کرام کےتھے،آخرکارعبد اللہ بن عمروؓ نے ان سے پوچھاکہ میرے بھائی! میںنہ تو اپنے گھر سے لڑ کر آیاہوں اور نہ ہی کسی اور وجہ سے آپ کے گھر ٹھہرنے پرمجبور ہوا، بات دراصل یہ ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم مسلسل تین دن تک آپ کے لئے جنت کی خوشخبری سناتے رہے،میرے دل میں تجسس پیدا ہوا کہ آخر وہ کون سا خاص عمل ہے جو حضور علیہ السلام کی زبان مبارک سے آپ کے لئے بشارت کا سبب بنا، میں تین دن دیکھتا رہا؛ لیکن مجھے توآپ کا کوئی خاص کام نظر نہیں آیا، میری درخواست ہے کہ اس راز سےخود ہی پردہ اٹھا دیجئے،انصاری صحابی نے مسکرا کر حضرت عبداللہ بن عمرو ؓکو دیکھا اور بڑی تواضع سے فرمایا : میرے دوست سب کچھ تمہارے سامنے تھا، میرا تو کوئی خاص عمل نہیں ہے،حضرت عبداللہ بن عمروؓ فرماتے ہیں کہ ان کا جواب سن کر جب میں وہاں سے واپس آنےلگا تو انہوں نے فرمایا : عمل تو وہی کچھ تھا جو آپ نے ملاحظہ فرمالیا، ہاںاپنے دل کی ایک بات تمہیں ضروربتادیتا ہوں فرمایا :انّی لَا اَجِدُ فِی نَفْسِی لِاَحَدٍ من المسلمين غِشًّا وَلَا اَحْسَدُ احدًاعلٰی خير اعطاه اللّٰهُ اِيّاهُ‘‘’’میرے دل میں کسی مسلمان کے لئے کینہ نہیں ہے اور نہ میں اللہ کی طرف سے اسےملنے والی کسی خیر پر حسد کرتا ہوں‘‘حضرت عبداللہ بن عمروؓ خوشی سے پکار اٹھے، یہی تو راز ہے جس کی وجہ سے بارگاہ رسالتؐ میں آپ مقبول ہوئے (مجموع الزوائد حدیث نمبر ۱۳۰۴۸)
(۳)ناحق قتل کرنے والا۔۔۔شب ِ برات میں اللہ کی مغفرت سے محروم رہنے والوں میں ایک قاتل بھی ہے ، شریعت میں قتل کو گناہ کبیرہ میں شمار کیا گیا ہے ، اور شرک کے بعدسب سے بڑا گناہ قرار دیا گیا ہے ، اور ناحق کسی کو قتل کرنے پر بڑی سخت وعیدیں سنائی گئی ہے ، چنانچہ قرآن مجید میں ارشاد باری ہے ، جو شخص کسی مسلمان کو جان بوجھ کر قتل کرے گا تو اس کی سزا جہنم ہے ، وہ اس میں ہمیشہ ہمیشہ رہے گا اور اس پر اللہ غضب نازل کرے گا اور لعنت بھیجے گا اور اللہ اس کے لئے درناک عذاب تیار کررکھا ہے ( النساء ۹۲)اسی طرح آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کسی مسلمان کو گالی دینا فسق ہے اور اسے قتل کرنا کفر ہے ( بخاری ، حدیث نمبر ۴۷)اسی طرح آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا سات ہلاک کرنے والی چیزوں سے بچو ، ان میں سے ایک کس کو ناحق قتل کرنا بھی ہے (بخاری حدیث نمبر۲۵۷۳)ایسے لوگو ںکی شب برات جیسی عظیم رات میں بھی مغفرت نہیں ہوگی۔
(۴)قطع رحمی کرنے والا۔۔۔قرآن مجید میں اللہ رب العزت نے رشتوںکو جوڑنے کا حکم دیا ہے اور قطع رحمی کرنے والوں کو تنبیہ کی ہے ، چنانچہ اللہ نے فرمایا ’’ وہ لوگ جو اللہ تعالٰی کے مضبوط عہد کو توڑ دیتے ہیں اور اللہ تعالیٰ نے جن چیزوں کے جوڑنے کا حکم دیا ہے، انہیں کاٹتے ہیں اور زمین میں فساد پھیلاتے ہیں، یہی لوگ نقصان اٹھانے والے ہیں(البقرۃ ۲۷)حضوراکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اس قوم پر رحمت نازل نہیں ہوتی جس میں رشتے قطع کرنے والے ہوں(الحدیث ) اسی طرح نبی کریم صلی الله علیہ وسلم نے فرمایا : الله کے نزدیک سب سے بُرا عمل الله کے ساتھ کسی کو شریک ٹہراناہے،اس کے بعد قطع رحمی کرنا هہے( صحیح الجامع الصغیر۱۶۶)اسی طرح نبی کریم صلی الله علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ” قطع رحمی کرنے والا جنت میں داخل نہ هوگا ( بخاری شریف)آج کل دیکھا جارہاہے کہ لوگ ذرا ذرا سی بات پر اپنے رشتہ داروں سے ناراض ہو کر تعلقات ختم کر دیتے ہیں، انہیں پتہ ہونا چاہئے کہ شب برات جیسی رحمت والی رات میں ان کی مغفرت نہیں ہوگی۔
(۵)تکبر کرنے والا۔۔۔۔ تکبر یعنی اپنے کو بڑا اور اچھا سمجھنا اور دوسروں کو حقیر جاننا ، یہ صفت صرف اللہ تبارک و تعالی کے شایانِ شان ہے، حضرت عبداللہ بن مسعودؓسے روایت ہے،نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا:’’ تکبر حق کی مخالفت کرنے اور لوگوں کو حقیر جاننے کا نام ہے (مسلم، باب تحریم الکبر وبیانہ،حدیث: ۱۴۷)حضرت عبداللہ بن مسعود ؓسے روایت ہے،حضور اقدس صلی اللہ علیہ وسلم ارشاد فرمایا: ’’تکبر سے بچتے رہو کیونکہ اسی تکبر نے شیطان کو اس بات پر ابھارا تھا کہ وہ حضرت آد م ؑ کو سجدہ نہ کرے(ابن عساکر، حرف القاف، ذکر من اسمہ قابیل، ۴۹/۴۰) حضرت سلمہ بن اکوع ؓسے روایت ہے،حضور اقدس صلی اللہ علیہ والہ وسلم نے ارشاد فرمایا ’’آدمی دوسرے لوگوں کے مقابلے میں اپنی ذات کو بلند سمجھتا رہتا ہے یہاں تک کہ اسے تکبر کرنے والوں میں لکھ دیاجاتا ہے،پھر اسے وہی عذاب پہنچے گا جو تکبر کرنے والوں کو پہنچا۔(ترمذی، باب ما جاء فی الکبر، حدیث: ۲۰۰۷)ان تمام احادیث سے معلوم ہوا کہ تکبر اللہ تعالی کو پسند نہیں ہے اور اس سے بچنے کا حکم دیا ہے ، اور ایسے لوگوں کی اس رات میں بھی مغفرت نہیں ہوگی ۔
(۶)شراب پینے والا۔۔۔۔شراب نوشی ایک قابل نفرت عمل ہے جس کو شریعت مطہرہ نے انسانوں کے لئے سم ِ قاتل کہا ہے ، اور اس کی حرمت کو بیان کرتے ہوئے صاف طور پر یہ اعلان کیا ہے کہ شراب نوشی شیطانی کام ہے ، اور اس کی مذمت میںآپ صلی اللہ علیہ وسلم نے کئے احادیث بیان کی ہیں،چنانچہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایاجو کوئی شراب پیے، تواس کو کوڑے مارواور اگر وہ چوتھی بار اس کا ارتکاب کرے تو اسے قتل کرو“حضرت جابر رضی اللہ عنہ آگے فرماتے ہیں کہ ایک شخص کو بعد میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے لایا گیا جس نے چوتھی بار شراب پی لی تھی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کو مارا، مگر قتل نہیں کیا(ترمذی)شراب کے علاوہ ان تمام چیز وں کو بھی آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے حرام قرار دیا ہے جس سے عقل ِ انسانی میں خلل واقع ہوتا ہے ، چنانچہ حضرت ام سلمہ ؓروایت کرتی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہر نشہ آور اور مفتر(اعضاء کو بے حس کرنے والا)چیز سے منع فرمایا۔(ابو داؤد)شراب پی کر شیطانی حرکات کرنے والوں کو اس مبارک رات میں بھی پروانۂ مغفرت نہیں ملے گا ۔
(۷)والدین کا نافرمان۔۔۔۔شب ِبرات میں مغفرت سے محروم رہنے والوں میں ایک شخص والدین کی نافرمانی کرنےوالا بھی ہے ، والدین اللہ تعالی کی طرف سے رحمت اور نعمت ہے ، قرآن و حدیث میں والدین کی فرمابرداری کا حکم دیا گیا ہے ، اور جو ان کے لئے اذیت کا سبب بنا اور ان کی ناقدری کی ا سکے لئے سخت وعیدیں بیان کی گئی ہے ، چنانچہ اللہ تعالی نے فرمایا ’’قرآن کریم میں ارشاد ہے”اور تمہارے رب کا قطعی حکم ہے کہ صرف اسی کی عبادت کر و اور ماںباپ کے ساتھ اچھا برتاویعنی ان کی خدمت کرو(بنی اسرائیل۲۴) اور حدیث میں رسول اللہ ﷺ کا فرمان ہے”اللہ کی رضامندی والد کی رضا مندی میں ہے اور اللہ کی ناراضگی والد کی ناراضگی میں ہے (جامع ترمذی) اگر کوئی شخص ماں باپ کو تنگ کرتا اورستاتا ہے تو اس کی سزا اسے دنیا میںہی مل جاتی ہے،حضرت ابوبکر ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا ماں باپ کے ستانے کے علاوہ تمام گناہ ایسے ہیں اللہ تعالیٰ جس کو چاہتے ہیں معاف کر دیتے ہیں اور ماں باپ کو ستانے کا گناہ ایساہے کہ اس کے کرنے والے کو اللہ تعالیٰ موت سے پہلے دنیا میں ہی سزا دیتے ہیں( مقام والدین قرآن و سنت کی روشنی میں)
(۸) غیبت کرنے والا۔۔۔۔ غیبت آج کے معاشرہ کی سب سے زیادہ کی جانے والی برائی ہے ، یہ برائی اتنی عام ہے کہ اس کے برا ہونے کا تصور بھی انسانی ذہن سے ختم ہوتا جارہا ہے،غیبت کہتے ہیں آدمی کا کسی بھائی کے پیٹھـ پیچھے تذکرہ ایسے الفاظ میں کرنا جن کو وہ ناپسند کرتا ہو،چنانچہ حضرت أبو ہریرہ ؓسے روایت ہے کہ رسول الله صلی الله علیہ وسلم نے فرمایا:کیا تم جانتے ہو غیبت کیا ہے؟ صحابہ نے عرض کیا: اللہ اور اس کے رسول بہتر جانتے ہیں، آپ نے فرمایا: تمہارا اپنے بھائی کا تذکرہ کرنا ایسی بات سے جو اسے ناپسند ہے، ایک صحابی نے عرض کیا: اگر میرے بھائی میں وہ بات ہو جو میں کہوں تب بھی یہ غیبت ہے؟ آپ نے فرمایا: اگر اس میں وہ بات ہے جو تم کہہ رہے ہو تو یقینا تم نے اس کی غیبت کی، اور اگر اس میں وہ بات نہیں ہے جو تم کہہ رہے ہو تو یقینا تم نے اس پر بہتان لگایا(مسلم شریف)غیبت ہرحال میں حرام ہے، خواہ کسی بھی سبب سے ہو، چاہے غصہ کے ازالہ کے لئے، یا ساتھیوں کا دل جیتنے کے لئے، یا گفتگو میں ان کی مدد کے لئے ہو، یا کلام میں تصنع پیدا کرنے کے لئے ہو، یا حسد کی وجہ سے ہو، یا کھیل کود اور ہنسی مذاق کے طور پر ہو، یا وقت گزاری کے لئے ہو، چنانچہ دوسرے کے عیوب کا ذکر اس طرح کیا جائے کہ دوسرے لوگ ہنسیں، یہ سب غیبت ہے، اور ایسے لوگوں کی اس رحمت والی رات میں بھی مغفرت نہیں ہوگی ۔
اس کے علاوہ اور بھی چند لوگ ہیں جن کی مغفرت اس مبارک رات میں بھی نہیں ہوتی ہے ، جیسے جادو گر ، کاہن ، وغیرہ ، ہمیں چاہئے کہ اس عظیم رات کو غنیمت جان کر ان تمام برائیوں سے اپنے آپ کو دور کرتے ہوئے اس آیت قرانی کے مصداق بنے جس میں حکم دیا گیا ہے کہ ’’وَسَارِعُوا إِلَى مَغْفِرَةٍ مِنْ رَبِّكُمْ وَجَنَّةٍ عَرْضُهَا السَّمَاوَاتُ وَالْأَرْضُ أُعِدَّتْ لِلْمُتَّقِينَ‘‘ دوڑواللہ تبارک و تعالی کی مغفرت کی طرف اور اس جنت کی طرف جس کی چوڑائی آسمان و زمین کے برابر ہے جو پرہیزگاروں کے لئے تیار کی گئی ہے ( سورۂ آل عمران ۱۳۳)