Thu, Feb 25, 2021

*شب برأت… شب گزاری یا شب آہ وزاری*

از قلم : مفتی عبدالرزاق بنگلوری

رب ذوالجلال نے اپنے الطاف بے پایاں اور فضل بے کراں سے سال کے مختلف مہینوں، اس کے مختلف دنوں، اور راتوں میں ایسی برکات وخصوصیات رکھ دی ہیں کہ ان میں معمولی کوشش اور تھوڑی سی بھی محنت سے دینی و دنیاوی فوائد حاصل ہو جاتے ہیں جن کا دوسرے اوقات میں طویل مشقت اور بڑی محنت سے بھی حاصل ہونا دشوار ہے، مگر آج کل لوگ دینی باتوں سے ناواقفیت کی بنا پر ایسے قیمتی مواقع کھو بیٹھتے ہیں، بعض لوگ تو اس رات میں نئے کپڑے پہننے اور پروگراموں میں شرکت کرنے کو عبادت سمجھ بیٹھے ہیں، جس کے تئیں یہ مبارک گھڑی بغیر عبادت کے صرف نئے کپڑے پہننے اور پروگراموں میں شرکت کرنے کے چکر میں ضائع ہو جاتی ہے، اور جو لوگ اس رات میں لوگوں کو جوڑ کر وعظ و نصیحت کے حربے اختیار کر کے ضیاع وقت کرتے ہیں، وہ درحقیقت پیشہ ور واعظ ہوتے ہیں، ان کو دین سے کوئی سروکار نہیں، صرف لوگوں میں بیان کر کے امت سے پیسہ بٹورنا مقصود ہوتا ہے، بجائے اس کے انفرادی اعمال اور اللہ سے اپنی مغفرت کی جستجو کے لئے آہ وزاری کرنا کثرت ثواب کا باعث ہوتاہے، اور اس رات کی فضیلت احادیث مبارکہ میں بکثرت آئی ہے، ایسی مبارک راتیں اللہ کی جانب سے امت مسلمہ کے لئے انعام اور احسان ہوتی ہیں-

*شب برأت میں بدعات و خرافات*
ہمارے ملک کے اکثر علاقوں میں لوگوں کے اندر یہ رواج ہے کہ شعبان کی پندرھویں شب میں کثرت سے چراغاں کرتے ہیں اکثر لوگوں میں اجتماعی و انفرادی طور پر آتش بازی کا مذموم طریقہ بھی رائج ہے، یہ جاہلانہ رسوم اور خلاف شرع امور عقل و تہذیب دونوں کے خلاف ہے، اسلام میں ان خرافات کی قطعاً گنجائش نہیں، درحقیقت مسلمانوں نے یہ رسم و رواج ہندوؤں کے تہوار دیوالی سے لیے ہوئے ہیں، یاد رکھیں کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا کہ “مَنْ تَشَبّهَ بِقَوْمٍ فَھُوَ مِنْهُمْ” (سنن ابی داؤد ٥٥٩/٢) جو آدمی جس قوم کی مشابہت اختیار کرے گا وہ انہیں میں سے ہوگا، یہاں رک کر غور کریں کہ یہ بات بھی بعید نہیں کہ کل قیامت کے دن ان لوگوں کا حشر بھی انہیں کے ساتھ ہوگا جن کا وہ طور طریقہ اختیار کر رہے ہیں، اللہم احفظنا منه-
اور جو طبقہ امت میں دین دار سمجھا جاتا ہے ان کے اندر ایک طریقہ یہ بھی رائج ہے کہ اس رات کو دینی اجتماع کے نام پر لوگوں کو اکھٹا ہونے کی دعوت دی جاتی ہے، اور پھر اس میں وہ ساری قباحتیں پیش آتی ہیں جو اس قسم کے اجتماعات میں لوگوں کی غفلت اور دین سے بے پرواہی کی بنا پر ظہور پذیر ہوتی ہیں، اس خاص تاریخ میں اس قسم کے اجتماعات کا ثبوت نہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم سے ہے اور نہ ہی صحابہ رضی اللہ تعالی عنہم سے اور نہ تابعین، تبع تابعین اور سلف صالحین سے ہے، بلکہ اس رات میں انفرادی طور پر ذکر، تلاوت قرآن پاک، نوافل کا اہتمام، اور دعاؤں کی کثرت وغیرہ عبادتوں میں مشغول رہنا ہی مستحب اور مندوب ہے

*شب برأت کی فضیلت*
اس رات کی فضیلت عظمت و برتری کے سلسلے میں دس صحابہ کرام رضوان اللہ تعالی علیہم اجمعین سے روایات منقول ہیں، مگر بعض لوگوں کا کہنا ہے کہ یہ روایات ضعیف ہیں، لہذا اس رات کی فضیلت بے بنیاد اور بے اصل ہے،
اس کا جواب یہ ہے کہ ان لوگوں کا اس طرح کہنا سراسر غلط ہے، کیوں کہ یہ بات تو صحیح ہے کہ یہ احادیث ضعیف ہیں، مگر ان روایات کی تائید صحیح ترین احادیث سے ہوتی ہے، جس کی وجہ سے علماء اس بات پر متفق ہیں کہ احادیث مبارکہ سے اس رات کی فضیلت و برتری ثابت ہے-
الغرض ماہ شعبان اور اس کی پندرھویں شب کے فضائل مختصرا ترتیب کے ساتھ احادیث مبارکہ کی روشنی میں درج ذیل ہیں
1) حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا کہ رجب اور رمضان کے درمیان میں ایک ایسا مہینہ ہے( یعنی شعبان) جس سے بالعموم لوگ غفلت برتتے ہیں، حالانکہ یہ ایسا مہینہ ہے جس میں رب العالمین کی بارگاہ میں بندوں کے اعمال پیش کیے جاتے ہیں، اور مجھے یہ بات پسند ہے کہ بارگاہ الہی میں میرے اعمال بحالت روزہ پیش ہوں، (الترغیب و الترہیب ١١٦/٢
2) حضور صلی اللہ علیہ وسلم رمضان المبارک کے علاوہ سب سے زیادہ روزہ رکھنے کا اہتمام ماہ شعبان میں کرتے تھے ،(مشکات شریف صفحہ 178)
3) سال بھر میں مرنے والوں کا دفتر بھی اسی ماہ میں مرتب کیا جاتا ہے، (الترغیب والترھیب جلد 2 صفحہ 117)
4) حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا کہ شعبان کی پندرھویں رات کو اللہ تعالی اپنے تمام بندوں کی جانب خصوصی رحمت و مغفرت کے ساتھ تجلی فرماتے ہیں اور تمام لوگوں کی مغفرت فرما دیتے ہیں، سوائے مشرک اور کینہ پرور کے، (مجمع الزوائد جلد 8 صفحہ 67)
اس روایت سے معلوم ہوتا ہے کہ اللہ تعالی کی تجلی کا نزول اور خصوصی رحمتوں کاظہور ہر رات کے آخری تیسرے حصے میں ہوتا ہے، لیکن پندرہویں شعبان کی شب میں یہ نزول سر شام مغرب کے وقت ہی سے شروع ہو جاتا ہے، اور اس رحمت اور بخشش کا سلسلہ طلوع صبح تک جاری رہتا ہے، اسی وجہ سے شعبان کی پندرھویں شب خصوصیت کے ساتھ جامع خیرات و برکات اور حامل فضیلت و عظمت ہو گئی ہے، 5)حضرت علی کرم اللہ وجہہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا کہ شعبان کی پندرھویں شب میں نوافل پڑھو، اور اس کے دن میں روزہ رکھو، اس لئے کہ اللہ تعالی سورج غروب ہوتے ہی ساری دنیا پر اپنی رحمت و مغفرت کے ساتھ نزول فرماتے ہیں اور کہتے ہیں کہ کوئی ہے مجھ سے طالب رحمت کے میں اس کی بخشش کروں، ہے کوئی روزی مانگنے والا کہ اسے خوب روزی عطا کروں، ہے کوئی مصیبت کا مارا عافیت خواہ کہ اسے عافیت دوں اسی طرح کا کرم آفریں اعلان. طلوع صبح تک ہوتا رہتا ہے-

*حرف آخر*
پندرہویں شعبان کی رات اور اس کا دن باری تعالی سے مناجات اور طلب حاجات کا وقت ہے، اس دن اللہ تعالی کی رحمت عامہ خصوصیت کے ساتھ بندوں کی جانب متوجہ ہوتی ہے، اس لیے اس بابرکت اور پررونق وقت کو غنیمت سمجھنا چاہیے، کیونکہ رب ذوالجلال کی رحمتِ بے کراں اس وقت بندوں کی جانب متوجہ ہے تو ہماری زندگی اور سراپا احتیاج کا یہی تقاضہ ہے کہ اس کی عبادت و اطاعت کے ذریعے اپنے دامن مراد کو خوب خوب بھر لیں، ہم اللہ تعالی سے دعا گو ہیں کہ اے اللہ ہم سب کو ایسی مبارک گھڑیاں ہماری زندگیوں میں بار بار عطا فرما، اور اس سے بھرپور استفادہ کی توفیق عطا فرما،. (آمین)