Sun, Feb 28, 2021

قرآن مجید کی بے احترامی اور اس کا مناسب جواب
مولانا خالد سیف اللہ رحمانی

ابھی چند دنوں پہلے ناروے میں ارنے تومیر (Arne Tumyr) نے قرآن مجید کو علی الاعلان جلانے کا اعلان کیا ، یہ شخص ملحد ہے اوراس کی عمر ستاسی (87) سال ہے ، اس نے اسلام کی مخالفت کے لئے ایک مستقل تنظیم ’’ سیان ‘‘ (Stop Islamisation in Norway) بنائی بحیثیت مجموعی یہ اسی اسلامو فوبیا کا حصہ ہے ، جو اس وقت مغربی ملکوں میں سرگرم ہے ، اس سلسلے میں اس کے پس منظر کو بھی سمجھنے کی ضرورت ہے اور اس بات کو بھی کہ ہماری طرف سے اس کا جواب کسی طرح ہونا چاہئے ؟
جہاں تک پس منظر کی بات ہے تو میں اس کو ایک مثال سے سمجھنا چاہوں گا ، اگر کسی جنگل میں یا کسی آبادی ہی میں مردہ شیر پڑا ہوا ہو اورلوگوں کو اطلاع ہوجائے تو نہ معلوم کتنی بھیڑ وہاں جمع ہوجائے، شاید مجمع کو کنٹرول میں رکھنے کے لئے پولیس بلانی پڑے، اس تماشہ کو دیکھنے والے ایک سے ایک تبصرے بھی کریں گے، اس کی ہیبت ناکی پر، رنگ و روپ اور خدو خال پر، کچھ من چلے نوجوان چھوکر اور ٹٹول کر بھی دیکھیںگے، ہوسکتا ہے کچھ بچے شیر پر سواری کرنے کا شوق پورا کرنے کے لئے اس کی پشت پر بیٹھ کر تصویریں کھینچانے کی کوشش کریں، اس کے بر خلاف اگر کہیں زندہ و سلامت شیر نظر آجائے اور خاص کر کسی آبادی میں گھس جائے تو سوچئے کہ کیا صورتِ حال ہوگی ؟ قریب سے دیکھنا اورچھونا تو کجا ؟لوگ دور سے نظارہ کرنے سے بھی گھبرائیںگے، اس کے مقابلہ کے لئے پولیس کو اور اس کو قید کرکے آبادی کو امن سے ہم کنار کرنے کی غرض سے زو (Zoo) کے کارکنوں کو دعوت دی جائے گی، شاید لاؤڈ اسپیکر سے اعلان بھی کرایا جائے کہ لوگ محتاط رہیں اور قریب نہ آئیں۔
یہ فرق اس لئے ہے کہ پہلا شیر مردہ ہے اور دوسرا زندہ، تمام جانداروں میں زندہ و مردہ کے درمیان یہی فرق ہوتا ہے، زندہ گائے ہوتو ہزاروں روپیہ میں فروخت ہوتی ہے، مردار ہو تو وہ مالک کے لئے بوجھ ہوجاتی ہے، وہ خود بھنگی کو پیسے دے کر اسے پھینکواتا ہے، یہاں تک کہ انسان جو اس کائنات کی سب سے قیمتی مخلوق ہے، اس کے ساتھ بھی یہی معاملہ ہے، اگر وہ مرگیا تو چاہے اپنے ماں باپ، بال بچوں کو کتنا ہی عزیز ہو مگر اس کا گھر میں رہنا گوارہ نہیں کیا جاتا، اسے دفن کردیا جاتا ہے اور جو لوگ جلانے پر یقین رکھتے ہیں، وہ اسے نذرِ آتش کردیتے ہیں۔
جو صورتِ حال مادی اعتبار سے زندگی اور موت کی ہوتی ہے، یہی نوعیت معنوی زندگی اور موت کی بھی ہوتی ہے، جن مذاہب کا دور ختم ہوگیا ہے، ان کی مثال ایک مردہ شئ کی ہے، جس میں تبدیلی اور انقلاب انگیزی کی کوئی صلاحیت نہیں ہوتی، یہی کیفیت ان مذہبی یا الہامی کتابوں کی ہوتی ہے، جو منسوخ ہوچکیں، اب ان کے اندر اس کی طاقت باقی نہیں ہے کہ وہ انسان کے دل و دماغ کو مخاطب بناسکیں اور اس کے فکر و شعور اور عمل و کردار میں کوئی تبدیلی لاسکیں، اسلام کی مثال پہلے کے مذاہب کے مقابلہ اور قرآن مجید کی مثال گذشتہ مذہبی کتابوں کی نسبت سے یہی ہے، یہی وجہ ہے کہ آج دنیا کے مختلف مذاہب کی ماننے والی قوموں نے مذہب کو کچھ رسموں تک محدود کردیا ہے، مذہبی تعلیمات سے اب ان کا کوئی تعلق باقی نہیں۔
مثال کے طور پر سود کھانا، شراب پینا، زنا کرنا اور ہم جنسی کا راستہ اختیار کرنا تمام مذاہب میں ممنوع ہے، عیسائی مذہب میں تو عفت وپاکدامنی کا تصور اتنا عمیق ہے کہ عیسائیت کی آئیڈیل خاتون حضرت مریم کو کسی مردنے چھواتک نہیں، حضرت مسیح اور ان کے عزیز حضرتِ یحییٰ علیہ السلام نے شادی بھی نہیں کی؛ لیکن مذکورہ تمام برائیاں آج عالم عیسائیت میں جس کثرت کے ساتھ پائی جاتی ہیں، شاید ہی کسی گروہ میں پائی جاتی ہوں اور نہ صرف عملاً وہ اس میں مبتلا ہیں؛ بلکہ انہوں نے قانون کے ذریعہ ان گناہوں کو سندِ جواز بھی دے دیا ہے، یہودی بعض اُمور میں پابند مذہب سمجھے جاتے ہیں؛ لیکن مغرب میں اکثر بڑے بڑے سودی بینک، شراب خانے اور بے حیائی پر مبنی کلب یہودیوں ہی کے ہیں، ہندو بھائیوں کا حال بھی اس سے مختلف نہیں، ہندو مذہب بھگوا جھنڈا، پیشانی پر قشقہ، ترشول، کچھ شور شرابہ پر مبنی تہوار اور زیادہ سے زیادہ مورتیوں کی پوجاتک محدود ہوکر رہ گیا ہے، عملی زندگی میں مذہبی کتابوں کی ہدایات اور دھارمک پیشواؤں کی تعلیمات کے لئے کوئی جگہ نہیں ہے، بدھسٹوں کا بھی یہی حال ہے؛ بلکہ بدھ دنیا کی اکثریت تو دہریت میں مبتلا ہے، یہ دنیا کے چند بڑے مذاہب کا حال ہے، چھوٹے مذاہب — یعنی جن کے ماننے والوں کی تعداد بہت تھوڑی ہے — کی کیفیت بھی اس سے بہت مختلف نہیں ہے۔
اگر اس سے کسی مذہب اور مذہبی کتاب کا استثناء ہے تو وہ ہے شریعتِ محمدی اور قرآنِ مجید، مسلمان باوجود بے شمار کمزوریوں اور کوتاہیوں کے آج بھی دنیا میں سب سے زیادہ مذہب سے مربوط ہیں، سود کے خلاف اگر کوئی قوم جد و جہد کررہی ہے تو وہ مسلمان ہیں، آج بھی اکثر مسلم ممالک میں قانونی طور پر زنا اور ہم جنسی ممنوع ہے، بہت سے مسلم ملکوں میں شراب پر پابندی ہے، مسلمانوں میں ان برائیوں کا تناسب بہت کم ہے اور جو لوگ غلبۂ نفس کی وجہ سے اس کے مرتکب ہوجاتے ہیں، ان کی اکثریت اس پر ندامت محسوس کرتی ہے، سب سے اہم بات یہ ہے کہ مسلمانوں کی نئی نسل تیزی سے اسلامی اقدار کی طرف لوٹ رہی ہے اور مردوں سے بڑھ کر یہ جذبہ خواتین میں پایا جاتا ہے، نہ صرف مسلمان نوجوانوں میں مذہبی بیداری کا روز بہ روز اضافہ ہوتا جاتا ہے؛ بلکہ مسلمانوں کی طرف سے مطلوبہ حد تک دعوتی کوششوں کے بغیر بھی غیر مسلم بھائیوں میں اسلام قبول کرنے کا رجحان روز افزوں ہے، بہت سے مغربی فوجی افغانستان میں مسلمانوں سے لڑنے کے لئے آئے؛ لیکن خود اسلام نے ان کے دلوں کو فتح کرلیا، یہی صورتِ حال عراق اور فلسطین میں پیش آئی، عیسائی چرچ اپنی تبلیغی مہم پر جتنے وسائل خرچ کرتے ہیں، مسلمان اگر اس کا سوواں حصہ مادی وسائل کا استعمال کرتے تو شاید آدھی سے زیادہ دنیا مسلمان ہوچکی ہوتی، یہاں تک کہ عیسائی دنیا میں مذہبی ادارے اس بات پر ریسرچ کررہے ہیں کہ مسلمانوں کا نوجوان طبقہ کیوں مذہب کی طرف مائل ہے اور اس کے برخلاف ہزار کوششوں کے باوجود ہم اپنے نوجوانوںکو چرچوں کی طرف لانے سے کیوں قاصر ہیں ؟
یہ وہ پس منظر ہے، جس کی وجہ سے مشرق سے مغرب تک خدا بیزار اور انسانی زندگی میں مذہب کی حکمرانی کے مخالف لوگ اسلام کی عداوت پر کمر بستہ ہیں اور انہیں بجا طور پر اس بات کا اندازہ ہے کہ یہ قرآن کی انقلاب انگیز صلاحیت کا اثر ہے، نہ صرف اس دور میں یورپ کے ارباب سیاست اور اصحاب تحقیق قرآن کو مذہبی شدت پسندی کا سرچشمہ قرار دیتے ہیں؛ بلکہ ان کے دل میں چھپا ہوا یہ بغض پہلے بھی ان کی زبان پر آتا رہا ہے، آزادی سے پہلے برطانیہ کے ایک وزیر اعظم گیڈاسٹون نے عام مجمع میں قرآنِ مجید کو ہاتھ میں لے کر کہا تھا :
جب تک یہ کتاب دنیا میں باقی ہے، دنیا متمدن اور مہذب نہیں ہوسکتی ۔ (خطبۂ صدارت پچاس سالہ اجلاسِ عام ، آل انڈیا ایجوکیشنل کانفرنس علی گڑھ ، ص: ۱۵، از : مولانا حسین احمد مدنیؒ)
اسی زمانہ میں ایک اور انگریز قائد ہنری طامس کا بیان ہے :
مسلمان کسی ایسی گورنمنٹ کے جس کا مذہب دوسرا ہو، اچھی رعایا نہیں ہوسکتی؛ اس لئے کہ قرآنی احکام کی موجودگی میں یہ ممکن نہیں ۔ (حکومت ِخود اختیاری ، ص: ۵۵)
افسوس کہ مغربی دنیا اس بات کے سمجھنے سے قاصر رہی کہ قرآن ایک زندہ کتاب ہے، خود خالقِ کائنات نے قیامت تک ہدایت کو اس سے جوڑ دیا ہے، جب کہ دوسری مذہبی کتابوں کا عہد ختم ہوچکا ہے، جو فرق ایک زندہ اور مردہ انسان یا حیوان کے درمیان ہوتا ہے، وہی فرق ان کتابوں کے درمیان ہے، قرآنِ مجید کو جلاکر، اس کے اوراق کو پھاڑکر یا اس کی بے احترامی کرکے اسے کوئی نقصان نہیں پہنچایا جاسکتا، یہ سورج کے اوپر تھوکنے کے مترادف ہے، ایسے افعال کے ذریعہ اپنے سینہ میں لگی ہوئی حسد کی آگ کو وقتی غذا تو فراہم کی جاسکتی ہے؛ لیکن جو مذاہب مردہ ہوچکے ہیں اور جن کتابوں سے اب خدا نے انسانیت کا نفع متعلق نہیں رکھا ہے، ان میں زندگی کا خون دوڑا یا نہیں جاسکتا، مسلمانوں نے نہ کسی مذہبی کتاب کو جلانے کا اعلان کیا اور نہ اس کی بے احترامی کی کہ ایک تو ان کا دین انہیں دوسرے کے جذبات مجروح کرنے سے منع کرتا ہے، دوسرے جو چیز خود مرچکی ہو اس پر کوئی وار کرنا اپنی صلاحیت کو ضائع کرنا اور ایک عبث کام میں اپنی قوت کو خرچ کرنا ہے۔
یہ تو ایک پہلو ہے کہ اس وقت مغربی دنیا کی طرف سے قرآن مجید کی بے احترامی کی جو بات کہی جارہی ہے، اس کا پس منظر کیا ہے ؟ — دوسرا قابلِ توجہ پہلو یہ ہے کہ اس پر مسلمانوں کا رد عمل کیا ہونا چاہئے ؟ قرآنِ مجید نے ہمیں جو ہدایت دی ہے، وہ اس طرح ہے :
حکمت اور بہترین نصیحت کے ذریعہ اپنے رب کی طرف دعوت دو اور بہتر رویہ کے ساتھ ان کا مقابلہ کرو، بے شک آپ کے پروردگار راستہ سے بھٹک جانے والوں سے واقف ہیں، اور ان لوگوں سے بھی واقف ہیں، جو ہدایت پر ہیں ۔ (النحل: ۱۲۵)
مشہور مفسر علامہ فخر الدین رازیؒ نے اس آیت کی روشنی میں لکھا ہے کہ تین طرح کے مخاطب ہوتے ہیں: ایک دانش مند لوگ جو سچائی کے متلاشی ہوں، ان کے ساتھ حکمت یعنی مضبوط دلیلوں کے ذریعہ بات کی جائے تو ان شاء اللہ وہ حق کو قبول کرلیںگے، دوسرا درجہ عوام کا ہے، جن کا شمار اصحابِ علم و دانش میں نہیں ہے؛ لیکن ان میں حق کو قبول کرنے کی استعداد ہے، ان کے لئے خوش اسلوبی کے ساتھ کی جانے والی نصیحت کافی ہے، یعنی پہلے گروہ کو دماغ کی غذا کی ضرورت ہے اور دوسرے کو دل کی، تیسرے: وہ اصحاب علم ہیں جن کا علم ناقص ہے اور انہیں اپنی بات پر اصرار ہے، ان کے لئے بہتر رویہ اور مدلل طریقہ کے ساتھ بحث کرنا، ان کے دلائل کو رد کرنا اور ان کے اعتراضات کا جواب دینا ضروری ہے، اسی کو قرآن نے جدالِ احسن (بہتر طریقہ پر بحث و مناقشہ) سے تعبیر کیا ہے ۔ (دیکھئے : مفاتیح الغیب: ۹؍۶۶۲ – ۶۶۵)
قرآن مجید نے دوسرے موقع پر دفاع کا اصول بتایا کہ اگرچہ حملہ کرنے والے کا رویہ خراب ہو ؛ لیکن ہماری طرف سے دفاع بہتر رویہ کے ساتھ ہو: ’’ اِدْفَعْ بِالَّتِيْ هِىَ اَحْسَنُ السَّيِّئَةَ‘‘ (المومنون: ۹۶) بہتر طور پر دفاع میں یہ بات شامل ہے کہ ہمارا رد عمل شرافت، وقار ومتانت، اخلاقی بلندی اور استدلالی قوت کا مظہر ہو، یہاں تک کہ اگر وہ غیر شریفانہ رویہ اختیار کریں تب بھی ہمارے رویہ میں کوئی کڑواہٹ پیدا نہ ہو، جیساکہ اللہ تعالیٰ نے مسلمانوں کا طریقۂ کار واضح فرمایا کہ اگر نادان لوگ ان سے مخاطب ہوتے ہیں اور ناشائستہ طور و طریق اختیار کرتے ہیں تب بھی مسلمان سلامتی کی ہی بات کرتے ہیں: ’’ وَ اِذَا خَاطَبَهُمُ الْجٰهِلُوْنَ قَالُوْا سَلٰماً‘‘۔ (الفرقان: ۶۳)
یہ بات بہت اچھی ہوئی کہ بعض پاگل پادریوں کے جواب میں مسلمانوں نے بائبل کو جلانے اوربے احترامی کرنے کی بات نہیں کہی اورنہ کوئی ایسی حرکت کی؛ البتہ جا بہ جا احتجاج ضرور ہوا، اسے فطری رد عمل ہی کہا جاسکتا ہے؛ لیکن کیا یہ احتجاج کافی ہے ؟ نہیں؛ بلکہ یہ بھی ضروری ہے کہ حکمت کے ساتھ دنیائے انسانیت کو قرآن مجید کی طرف بلایا جائے، درد مندانہ نصیحت (موعظت حسنہ) کے ذریعہ دلوں کے دروازوں پر دستک دی جائے اور دماغ کو مطمئن کرنے والی دلیلوں کے ذریعہ ان کا رد کیا جائے اور ان کی غلط فہمیاں دور کی جائیں، دعوتِ دین اور دفاعِ دین کے ان مراحل کو پورا کرنے کا آسان طریقہ یہ ہے کہ جن بندوں نے قرآن مجید کو نہ دیکھا ہے، نہ سنا ہے اور نہ پڑھا ہے، ان تک قرآن مجید کو پہنچایا جائے، اس بات کو سبھی مانتے ہیں کہ دنیا کا کم سے کم ہر پانچواں شخص مسلمان ہے؛ لیکن با خبر لوگوں کا خیال ہے کہ مسلمانوں کا عددی تناسب اس سے زیادہ ہے، حسن ِ اتفاق ہے کہ غیر مسلموں کے مقابلہ مسلمانوں کی آبادی کا یہی تناسب ہندوستان میں ہے، بیان کیا جاتا ہے کہ اس ملک میں کم سے کم بیس فیصد (20%) مسلم آبادی ہے، اگرچہ کہ حکومت چودہ فی صد ہی مانتی ہے، اس طرح اگر ہندوستان کا ہر مسلمان شخص چار غیر مسلم بھائیوں تک اور عالمی سطح پر بھی ہر مسلمان شخص کم سے کم چار غیر مسلم بھائیوں تک ان کی زبان میں قرآنِ مجید پہنچادے تو پوری دنیائے انسانیت تک آسانی سے اللہ کا پیغام پہنچ سکتا ہے ۔
اللہ نے اپنی کتاب میں ایسی کشش رکھی ہے کہ یہ کتاب اپنے آپ بے احترامی کرنے والوں سے اپنا احترام کرالے گی اور معاندین کے دلوں کو فتح کرکے چھوڑے گی، جب قرآنِ مجید رسول اللہ ﷺ پر نازل ہورہا تھا تو اس وقت آج کے معاندین سے بھی بڑھ کر اعداء دین اوردشمنانِ قرآن موجود تھے؛ لیکن قرآنِ مجید کی کشش تھی کہ وہ چھپ چھپ کر قرآنِ مجید سنتے تھے اور بہت سے وہ تھے جن کو قرآن نے اپنی جاذبیت کی شمشیر سے غلام بے دام بنالیا تھا؛ اس لئے قرآنِ مجید کی بے احترامی کی جو باتیں کہی جارہی ہیں، ان کا حقیقی اور مؤثر جواب یہ ہے کہ زیادہ سے زیادہ لوگوں تک اللہ کی کتاب پہنچائی جائے اور پھر اللہ پر بھروسہ کیا جائے کہ ہدایت اسی کے ہاتھ میں ہے !

٭٭٭