Thu, Feb 25, 2021

ین پی آر بھی خطرناک

مفتی محمودزبیر قاسمی، جنرل سکریٹری جے یو ایچ تلنگانہ وآندھرا

mufti_zubair@yahoo.com

یکم اپریل ۲۰۲۰؁ء سے مرکزی حکومت نے سنسیس کے ساتھ NPR کا بھی فیصلہ صادر کیا ہے، مردم شماری کے ساتھ NPR کو لانا درحقیقت عوام کوشبہات میں مبتلا کررہا ہے، بی جے پی حکومت بار بار اس بات کا پروپیگنڈہ کررہی ہے کہ ین پی آر ۲۰۱۰؁ء میں کانگریس کی زیرقیادت حکومت میں بھی ہوچکا ہے؛ لیکن یہاں یہ بات ذہن میں رہے کہ NPR واچپائی جی کے دورِحکومت ۲۰۰۳؁ء میں لائے ہوئے بل کی وجہ سے کرنا ضروری ہوگیا تھا؛ چونکہ قانون کا حصہ بن چکا تھا؛ اسی لیے کانگریس نے ایسے تیسے NPR کا عمل مکمل کیا؛ لیکن یہ چیز پیپر پر ہی موجود تھی، بی جے پی نے ۲۰۱۴؁ء میں جب اقتدار حاصل کیا تو اس ڈاٹا کو ڈیجیٹلائز کیا گیا، ۲۰۱۵؁ء میں ڈیجیٹلائزیشن کا یہ عمل مکمل ہوا ہے۔
سینسیس اور مردم شماری کا جو عمل ہے وہ حکومت کے ۱۹۴۸؁ء ایکٹ کے تحت کیا جاتا ہے مردم شماری کا یہ عمل دنیا کے مختلف ممالک میں کیا جاتا ہے، اقوامِ متحدہ کی جانب سے مردم شماری کے عمل کا بنیادی قانونی تکنیکی ڈھانچہ مختلف ممالک کو فراہم کیا گیا ہے، مردم شماری کے اس عمل سے کسی کو اختلاف نہیں، جہاں تک NPR کا تعلق ہے اس کا مردم شماری سے کوئی لینا دینا نہیں؛ بلکہ NPR کا یہ عمل حکومت ہند کے شہریت قانون ۱۹۵۵؁ء ایکٹ کے تحت کیا جانے والا ایک عمل ہے، جب اس قانون کے تحت ہزارہا کروڑ کے مصارف سے NPR کا عمل کیا جارہا ہے تو یقیناً اس کا تعلق اور اس میں جمع کیا جانے والا مواد اور ڈاٹا شہریت سے متعلقہ امور کے لیے ہی استعمال کیا جائے گیا؛ چنانچہ مرکزی کابینہ نے اس کے لیے جب بجٹ کو مختص کیا؛ تو وہ سینسیس سے ہٹ کر مستقل NPR کے لیے بجٹ منظور کیا گیا ہے، اس لیے کہ ین پی آر مردم شماری سے مختلف؛ مستقل عمل ہے۔
فرقہ پرستوں کی دوراندیشی اور بی جے پی کی اپنے پالیسیوں اور نظریات پر مستقل مزاجی کا یہ ایک جیتا جاگتا ثبوت ہے کہ ۲۰۰۲؁ء اور ۲۰۰۳؁ء میں جب وہ اقتدار پر تھے تو واچپائی جیسے قائد جنہیں بی جے پی میں ایک اچھے اور معتدل انسان کے طور پر مانا جاتا ہے انہی کی زیرقیادت اس کالے قانون کے لیے راہ فراہم کی جاتی ہے اور کانگریس میں اتنا دم خم نہیں کہ وہ ۲۰۱۰؁ء کی مردم شماری سے قبل NPR کے قانون کو پارلیمنٹ ہی کے ذریعہ ناکارہ بنائے، دس گیارہ سال بعد بی جے پی کو جب اقتدار نصیب ہوتا ہے تو پہلے کیئے جانے والے کاموں میں ایک اہم کام بی جے پی حکومت کا یہ بھی ہوتا ہے کہ وہ ۲۰۱۰؁ء کے NPR میں جو ڈاٹا حاصل ہوتا ہے اسے ڈیجیٹلائز کرتا ہے، اس اہمیت کے ساتھ NPR کے عمل کے پیچھے پڑے رہنا اس بات کے اندیشوں کو تقویت دیتا ہے کہ دال میں کچھ کالا ضرور ہے۔
NPR,NRC,CAA یہ تینوں ایک ہی ماں کی اولاد اور ایک ہی قانون کے حصے ہیں، جسے شہریت قانون ۱۹۵۵؁ء ایکٹ سے تعبیر کیا جاتا ہے، تینوں کا مرکز اور تینوں کا مجموعہ وہ یہی شہریت قانون ہےجو اس بات سے بحث کرتا ہے کہ اس ملک میں شہریت کس کو حاصل ہے، کسے شہریت دی جاسکتی ہے، شہریت دینے کے طریقے کیا ہیں اور شہریت کن بنیادوں پر منسوخ کی جاسکتی ہے، اسی لیے اس دھوکے میں ہرگز نہ رہیں کہ NPR یہ مردم شماری کا ایک حصہ ہے؛ بلکہ یہ خالص شہریت قانون کے تحت بنایا ہوا ایک عمل ہے جو سروے کے ذریعہ مکمل کیا جائے گا؛ یہی وجہ ہے کہ قانون کے ماہرین جہاں ین آر سی اور سی اے اے کی مخالفت کررہے ہیں وہیں وہ NPR کو بھی اس کی بنیاد اور اساس قرار دے رہے ہیں؛ گویا ملک کی شہریت سے متعلق جو بھی فیصلے آگے لیئے جائیں گے اس کی اینٹ اور بنیاد کا پتھر یہی ین پی آر ہوگا۔
آسام میں ین آر سی کا جوعمل سالہاسال کی کاوشوں کے بعد مکمل ہوا ہے، جس میں صرف جمعیت علماء ہند نے تقریباً پچاس سال محنت کی ہے، کورٹ اور عدالتوں کے چکر کاٹے گئے، لاکھوں اور کروڑوں روپے اس پر ملک کی عوام کے بھی خرچ ہوئے، شفافیت کے لیے حضرت مولانا سید ارشد مدنی دامت برکاتہم نے سپریم کورٹ کو اس بات پر آمادہ کیا کہ اس کی زیرنگرانی ین آر سی کا عمل کیا جائے، ۷۵/لاکھ سے ۴۸/لاکھ پر تعداد پہنچی، پھر کامیابی ملتے ہوئے یہ عدد گھٹا اور اس وقت ین آر سی کی فائنل لسٹ کے بعد ۱۹/لاکھ لوگ متاثر قرار پائے ہیں اور ان کو ہندوستان کی شہریت سے خارج کردیا گیا ہے، ان ۱۹/لاکھ لوگوں میں ۵/ لاکھ کے قریب مسلمان ہیں، جب کہ بقیہ ۱۴/لاکھ SC,ST,OBC ہندو اور دیگر مذاہب کے ماننے والے ہیں، فرقہ پرستوں کو یہ بات ہضم نہیں ہورہی ہے کہ صرف ۵/لاکھ مسلمانوں کی شہریت کیسے منسوخ ہوسکتی ہے؟ انہیں تو ۵۰/لاکھ ہونا چاہیے، ایسی خبریں بھی آرہی ہیں کہ وہ دوبارہ ین آر سی کا عمل آسام میں بھی کروانا چاہتے ہیں، اس سے پتہ چلتا ہے کہ مذہب کی بنیاد پر ایک مخصوص طبقہ کو نشانہ بنانا اور فرقہ پرستوں کے دلوں کو تسکین پہنچانا، اس کے علاوہ کوئی اور نیک مقصد اس ین آر سی اور ین پی آر کے پیچھے نہیں ہے۔
یہاں اس بات کی وضاحت بھی ضروری سمجھتا ہوں کہ CAA لاکر آسام NRC میں شہریت سے متاثر ہونے والے غیرمسلموں کو جو تسلی کا سامان کیا جارہا ہے وہ بھی درحقیقت دھوکہ دہی پر مبنی ہے، اس لیے کہ ان ۱۴/لاکھ غیرمسلموں میں سے صرف ۴/لاکھ کے لگ بھگ ایسے لوگ ہیں جنہوں نے یہ اعترافی درخواست دی ہے کہ وہ درحقیقت بنگلہ دیشی ہیں، انہیں ہوسکتا ہے کہ سی اے اے سے فائدہ ہوجائے؛ لیکن بقیہ دس لاکھ سے زائد غیرمسلم سی اے اے کے قانونی فائدے سے باہر ہونگے؛ ایسی مثالیں بھی ہیں کہ جو لوگ اپنے نام ین آر سی کی لسٹ میں نہ آنے کی وجہ سے پریشان ہوئے ہیں ان غیرمسلم بھائیوں نے جب عدالت کا دروازہ کھٹ کھٹایا تو انہیں وہاں سے بھی راحت نہ مل پائی؛ بلکہ انہیں دس سال تک جوں کا توں رکھا گیا ہے، اب ان کے لیے ایک ہی راستہ بچتا ہے کہ وہ سپریم کورٹ کا دروازہ کھٹ کھٹائیں جو بڑی رقم کے بغیر ممکن نہیں ہے۔
اس وقت میں ضرورت اس بات کی ہے کہ پوری قوت کے ساتھ اپنی مصروفیات کو بالائے طاق رکھ کر، اپنی ملازمتوں اور تجارتوں سے چھٹی لے کر بڑے پیمانے پر پُرامن احتجاج کیا جائے اور ہرہونے والے احتجاج کو کامیاب کیا جائے، اس لیے کہ ین آر سی سے اگر نام خارج ہوجاتا ہے تو پھر نہ آپ کی جائدادیں باقی رہتی ہیں، نہ آپ کا پاسپورٹ باقی رہتا ہے، نہ آپ کے بچے سرکاری اسکولوں میں پڑھ سکتے ہیں، نہ آپ کو سرکاری نوکری حاصل ہوسکتی ہے، نہ ہی آپ حکومت کے کسی بھی علاج معالجے اور تعلیمی اسکیم سے فائدہ اٹھاسکتے ہیں، آپ کا سب کچھ ختم ہوجائے گا اور اس بات کا موقع بھی نہیں رہے گا کہ آپ اپنے پاسپورٹ کو لیکر کسی اور ملک کا سفر کرلیں، قانونی ماہرین سے ملاقات اور مشاورت کے بعد یہ بندہ عرض کرتا ہے کہ قانون میں ایسے کسی بھی دستاویز کا ذکر موجود نہیں ہے جس کا آپ کے پاس ہونا آپ کی شہریت کو ثابت کرتا ہے؛ لہٰذا ووٹر آئی ڈی کارڈ، آدھاد کارڈ، راشن کارڈ، ڈرائیونگ لائسنس، سرکاری نوکری کا آئی ڈی، حتی کہ پاسپورٹ بھی آپ کی شہریت کے ثبوت کے لیے حتمی دستاویز نہیں بن سکتے، اسی لیے اس آدھے، مبہم اور ہلاکت خیز قانون کے خلاف اُٹھ کھڑے ہونا اور اپنے سیاسی نمائندوں یم یل ایز، یم پیز، یم یل سیز اور وزراء کو اس بات پر آمادہ کرنا کہ وہ آپ کے حق کے دفاع کے لیے اور اس کالے قانون پر روک لگانے کے لیے سدِسکندری بنیں ضروری ہے، یکم اپریل سے NPR کے عمل کا نفاذ ہوگا، اس سے پہلے پہلے اس سلسلے میں جدوجہد ملک کے ہرشہری کی ذمہ داری ہے۔
بشکریہ: ماہنامہ پیام رحمانیہ حیدرآباد (مارچ 2020)