Thu, Feb 25, 2021

نظریاتی جنگ وقت کااہم فریضہ
مفتی صدیق احمد جوگواڑ نوساری گجرات
موبائل نمبر: 8000109710
shaikhhsiddique@gmail.com

 

جیسا کہ ہم جانتے ہیں کہ اللہ تعالی نے ہم کو دستور حیات قرآن مجید دیا ہے، جو کہ ہر لمحہ ہر آن اور ہر جگہ کی رہنمائی کے لیے کافی ہے ؛لیکن باطل سے یہ بات دیکھی نہیں گئی ،کیونکہ ان کا نظام تباہ ہوچکا تھا، اس لیے وہ چاہتے تھے کہ ان کا بھی نظام برباد ہوجائے؛ لہٰذاکفار و مشرکین نے اللہ کے بندوں کو راہ راست سے ہٹانے کے لیے ہر طرح کی کوششیں کی ،جن میں سب سے اہم کردار نظر یاتی جنگ کا رہا ہے، جسے ایک جال بنا کر استعمال کیا گیا اور غیر محسوس طریقے سے ،منظم منصوبے کے تحت سچے پکے مسلمانوں کے عقائد و نظریات پر حملہ کیا گیا۔
نظریاتی جنگ کا مطلب ہے کہ: انسان کے ذہن و دماغ اور عقائد پر غیر محسوس طریقے سے اس طرح حملہ کرنا کہ دل و دماغ حق کو باطل سمجھ بیٹھیں اور عقائد کی بنیادیں ہل جائے۔
در اصل یہ جنگ کفار نے اسلام کو ختم کرنے کے لیے اس وقت شروع کی تھی جب کہ انھیں یقین ہوچکا تھا کہ ہم آمنے سامنے ان سے مقابلہ کر کے انھیں ختم نہیں کر سکتے ہیں؛اور آج یہی نظریاتی جنگ مؤثر ترین ہتھیار بن گیا ہے، کیونکہ اصلی ہتھیار تو صرف جسم تک ہی اثر انداز ہوتے ہیں، لیکن یہ تو دل دماغ تک اپنا اثر چھوڑتے ہیں، جیسا کہ دنیا بھر میں دیکھا جارہا ہے کہ: ذرائع ابلاغ ،میڈیا ،سوشل میڈیا پر جھوٹ اتنابولا جارہا ہے کہ سچ تک پہنچنا ایک خواب سا بن کر رہ جاتاہے۔
نظریاتی جنگ کے مقاصد:عقائد و شرائع اسلام کا خاتمہ اور اس سے اعتماد کو ختم کرنا؛رسالت محمدیہ میں تشکیک پیدا کرنا ؛قرآن مجید میں تحریف ،معانی میں تبدیلی اور مسلمانوں کو اسکی تعلیمات سے دور رکھنا؛مغرب کو اسلام سے دور رکھنا؛مسلمانوں کو اپنے ماضی سے شرمسار کرنااور موجودہ حالات سے مایوس کرنااورمستقبل سے نا امید کرنا؛فیشن پرستی اور مغربی تہذیب کو فروغ دینا؛اسلامی تحریکوں اور قیادتوں کو بد نام کرنا؛ایشیاء پراورمسلم ممالک پر قبضہ کرنا؛القدس کی بازیابی ؛مسلمانوں سے گذشتہ صدیوں کی شکستوں کا انتقام لینا؛ان تمام مقاصد کی تکمیل کے لیے اس کااستعمال کیا جارہاہے۔
اس کے تین اہم ترین محاذ ہیں:
الاستشراق: وہ مغربی دانشور جو اسلام سے تعصب کی بناء پر اسلامی چیزوں میں مہارت حاصل کر کے اس میں باطل کی آمیزش کر تے ہیں۔
الاستعمار:کسی علاقے پر اپنے ایجینٹ(نمائندہ) کو مسلط کرکے اس طرح تسلط حاصل کرنا کہ مقامی وسائل کو لوٹا جا تا رہے۔
عالم گیریت:دنیا بھر کے تمام مذہبی امتیازات ختم کرکے یہودی اہداف اور امریکی نظریے کے مطابق جدید سرمایہ دارانہ نظام کے دائرے میں سب کو لانا۔
الردۃ:مسلمانوں کو مرتد بنانا،جبرا یا تبلیغ ،ذہن سازی اور امداد و اخلاق کے ذریعے،اور اس کے لیے ان وسائل کو استعمال کرتے ہیں: اسکول و کالج اور یونیور سیٹیاں ،پرنٹ میڈیا،الکٹرانک میڈیا، نظام تعلیم ،ذرائع ابلاغ ،میدان سیاست، معیشت وتجارت ،جدت پسند اسلامی مفکرین، فنو ن لطیفہ اور ادب، کھیل کود ،ثقافتی ہیرو ،جاہلی عصبیت کا فروغ ،مسلمانوں کو صالح قیادت سے متنفر کرنا اورآزادی نسواں ۔
زمانے کے اعتبار سے الگ الگ طریقے سے نظریاتی حملے ہوتے رہے ہیں ؛اور باطل اکثر ناکام رہا، البتہ عام طور سے ان چار چیزوں سے حملے کیے جاتے ہیں :ذرائع ابلاغ کااستعمال اشعار و تقاریر سے کرکے، مباحثے ،منافقت، جاسوسی۔
دو اہم فکری تحریک ہے جو کہ مسلمانوں کی اعتقادی نظریاتی اور عملی بیخ کنی کر رہی ہے ۔
(۱)سیکولرازم:دین کو زندگیوں اور حکومت سے الگ کرنا ،چونکہ سیکولرازم کے داعی لوگوں کے ذہنوں میں یہ بات بٹھاتے ہیں کہ نعوذباللہ من ذلکاسلام زندگی کے سارے تقاضوں کو پورا نہیں کر سکتا، حالانکہ معاملہ بالکل بھی ایس نہیں ہے.
(۲)مارڈن ازم: اس کا مطلب ہے مغربیت زدگی، چونکہ مغرب خود عیاش، مادہ پرست ،نفس کی غلامی والی زندگی گزاررہا ہے اور دنیا کو بھی اپنی تقلید کروانا چاہتاہے اسے جدت پسندی کہتے ہیں۔
ہم ان کا مقابلہ کیسے کریں؟
علماء اور دانشوروں کو چاہیے کہ تعلیمی اداروں کے نصاب میں ’’الغزو الفکری‘‘ یعنی نظریاتی جنگ کو بھی شامل کیا جائے؛ نصرانیت کے جوابی لٹریچر اور رجال کار تیار کیے جائیں؛ دینی مدارس میں جانکار علماء سے تربیتی کورس کرایا جائے، تقابل ادیان کے مضامین پڑھائے جائیں، غیر مسلموں کو اسلام کی دعوت دی جائے۔
نیزاس کے دفاع کے لیے ہمیںاپنے خالق سے تعلق کو مضبوط بھی کرنے کے ساتھ ساتھ مخلوق کی خیرخواہی کرنی ہوگی اور اچھے اخلاق سے پیش آنا ہوگا، اور اپنی علمی وعملی تربیت کرنی ہوگی،نیزدعوت اسلام کو عام کرکے ،وقت آنے پر علَم جھاد کوبلند رکھنا ہوگا؛
ہمیں اپنے اندر سے ان تین کمزوریوں کو دور کرنا ہوگا :(۱)غربت(۲) جہالت(۳) امراض خواہ جسمانی ہو یا روحانی۔
الغزوالفکری کے بانی نے اپنے وصیت نامے میں مسلمانوں کے خلاف کامیابی کے لیے چار باتوں کی سفارش کی تھی ۔
(۱)مسلم حکام میں پھوٹ ڈالنا(۲)کسی بھی پختہ عقیدے والے گروہ کوپنپنے نہ دینا(۳)مسلم معاشرے کو فحاشی بد اخلاقی اور مالی بد عنوانی کے ذریعے کمزور کرنا(۴)وسیع ترین یورپی حکومت قائم کرنا؛لہٰذا ہمیں اس سلسلے میں حد درجہ محتاط رہنے کی ضرورت ہے۔
اس کے لیے علماء کرام کو ڈٹ کر مقابلہ کرنا ہوگا ،اور داخلی مسائل کو پس پشت ڈال کر باطل کے خلاف اتحاد کرنا ہوگا ؛کیونکہ منتشر بکری کو بھیڑ کھاجاتی ہے؛ لیکن افسوس کہ آج ہم داخلی مسائل میں اتنے پھنس چکے ہیں کہ ہم دوسروں سے لڑنے کی طاقت نہیں رکھتے ۔
خلاصئہ کلام یہ ہے کہ اس وقت جو نظریاتی جنگ میڈیا سوشل میڈیا کے ذریعے جاری ہے ،جس میں اسلام اور مسلمانوں کا غلط نقشہ پیش کیا جارہا ہے، مسلمانوں کے تئیں دنیا بھر میں نفرت کا زہر گھولا جارہا ہے، ان سے ڈٹ کر محبت و اتحاد اور اخلاق کی طاقت سے مقابلہ کرنا ہوگا،اور ان کی ناپاک سازشوں، عیاریوں ،مکاریوں کا پردہ چاک کر کے دنیا کے سامنے لانا ہوگا ،اور ان کو حق بات ماننے پر مجبور کرنا ہوگا ؛نیز ان کے تمام منصوبوں اور طریقئہ کار کو سمجھ کر میدان عمل میں آنا ہوگا ؛کیونکہ آپ ہی لوگ اسلام کے بارڈ رکے فورس ہیں، اور امت کی حفاظت کی ذمہ داری آپ کی ہی ہے، اس لیے اپنے اندر احساس ذمہ داری پیدا کیجیے اور آگے بڑھتے جائیے اللہ مدد کرے گا،کامیابی آپ کے قدم چومے گی۔
ہمیں مغرب کی ذہنی غلامی چھوڑنی ہوگی، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی زندگی کو نمونہ بنانا ہوگا۔لیکن آج بہت افسوس ہوتا ہے یہ دیکھ کر کہ ہمارے اندر سے احساس نکل چکا ہے، فکر ختم ہوچکی ہے، ہمیں بس اپنی اور اپنے پیٹ کی فکر ہے، مسلمانوں پر خواہ کتنے ہی مظالم ہوں کوئی پرواہ نہیں ،ہم یہ سوچتے ہیں کہ ہم پرظلم تھوڑی ہورہا ہے؛ حالاںکہ امتِ محمدیہ کو ایک جسم کے مانند قرار دیاگیا ہے۔
خوب سمجھ لیجیے! اگر ہم اسی طرح سوچتے رہیں اور خاموش تماشائی بن کر کھڑے رہیں تو ایک دن ایسا آئے گا کہ یہ چنگاری ہمارے گھروں کو بھی جلاکر خاکستر کردے گی اور اس وقت نہ کوئی آنسو پوچھنے والا ہوگااور نہ ہی کوئی آنسو بہانے والا، پھر سوائے حسرت و ندامت کے کچھ باقی نہیں رہے گا۔