Thu, Feb 25, 2021

سال ِ نو کا جشن اغیار کا شیوہ
مفتی عبدالمنعم فاروقی

انسان اپنے خواہشات کی تکمیل اور ذہنی آسودگی کے لئے نئے نئے طریقے اور الگ الگ انداز اپناتا ہے اور اس کے ذریعہ اپنے انا کو جھوٹی تسکین پہنچانا چاہتا ہے ، اس کے لئے محفل رقص وسرور منعقد کرتا ہے،موسیقی کی دھن پر تھرکتا ہے، ناچتا کودتا ہے ،جام سے جام ٹکراکر موج مستی کرتا ہے ،نامحرموں سے میل ملاپ بڑھاتا ہے ، سیر وسیاحت کو نکل جاتا ہے ،اور کبھی سالگرہ کے نام تو کبھی شادی کی سالگرہ کے نام محفل سرور ومستی سجاتا ہے تو کبھی سال کے اختتام پر جشن سال نو مناکر گانے بجانے ،رقص ومستی کی محفلیں سجاتا ہے ،اس طرح وہ اخلاقی ساری حدوں کو پار کرکے آسود گی کا جھوٹا مظاہرہ کرتا ہے ،سال کے آخری دن رات بارہ بجے سے قبل شہروں کی تمام بڑی بڑی ہوٹلیں ، تفریح گاہیں اور عظیم شاہراہیں مرد وخواتین ،بوڑھے اور بچوں سے بھری ہوئی ہوتی ہیں ،ماحول پر خاموشی چھائی ہوتی ، لگتا ہے سبھوں کی سانسیں گم ہوگئی ہیں ،سب کی نظریں گھڑی کے کانٹے پر ہوتی ہے ، گھڑی کا بڑا کانٹا اپنے سے چھوٹے کانٹے سے بالکل قریب ہوتا ہے ،باریک کانٹا جیسے جیسے دبے قدموں سے آگے بڑھتا رہتا ہے ،ویسے ویسے اس پر نظریں جمانے والوں کی دھڑکنیں تیز ہونے لگتی ہیں اور جس وقت یہ تینوں (گھنٹہ ،منٹ اور سکنڈ کے کانٹے) آپس میں مل جاتے ہیں ، دیکھنے والوں میں جیسے ایک بھونچال آجاتا ہے ،شورشرابہ اور ایک ہنگامہ بپا ہوتا ہے،موسیقی کی آواز سے کان پھٹنے لگتے ہیں، پٹاخے آواز لگاتے ہوئے بلندی پر جاکر دم توڑ دیتے ہیں اور جھلملاتی روشنیوں کے درمیان لوگ ناچتے گاتے جاتے ہیں اور ایک دوسرے کو نئے سال کی مبارک بادی دیتے ہیں ،اس موقع پر پیسہ پانی کی طرح بہایا جاتا ہے،شرافت بالائے طاق رکھدی جاتی ہے ،اخلاقیات کے جنازے نکلتے دکھائی دیتے ہیں ،ہر طرف بد تمیزی کا سیلاب نظر آتا ہے جس میں ڈوبتے ہوئے مرد ،عورتیں ،بوڑھے اور بچے سب دکھائی دیتے ہیں ، ان کی حرکتوں کو دیکھ کر لگتا ہے کہ انہوں نے شیطان کو بھی مات دیدی ہے ،یہ ہے ’’ سال نو کاجشن‘‘ ، افسوس ان لوگوں پر نہیں ہے جن کے پاس ذہنی آسودگی اور وقتی خوشی پانے کے لئے اس کے علاوہ کوئی راستہ نہیں لیکن ماتم ان پر ہے جو اسلام کے نام لیوا ہیں، جن کے پاس زندگی گزارنے کا ایک ضابطہ موجود ہے اور دائمی خوشی ومسرت کے لئے ایک نسخہ ٔ کیمیا موجود ہے ، مسلمان تو ایک مہذب اورمرتب قوم و ملت ہے جس کے پاس زندگی کو بلندی پر پہنچانے کے سارے وصائل موجود ہیں، خدا ورسول خدا کے نغموں سے اس کے دل آباد ہیں ،اس کے پاس سجدوں کی حلاوت ،تلاوت قرآن کی مٹھاس ،یاد الٰہی کی لذت ،سنت نبوی ؐ کی خوشبو اور سکون واطمینان کے لئے مساجد موجود ہیں، جب وہ پنجوقتہ اذان کے ذریعہ اپنے اللہ کا نام پکار تا ہے تو اسے اس قدر سکون و چین اور خوشی ومسرت حاصل ہوتی ہے جو دنیا کی کسی اور شے میں نہیں، لیکن اس کے باوجود افسوس ہے اس قوم پر جس کے پاس حقیقی خوشی و لذت کا سامان ہونے کے باوجود وقتی وعارضی سامان خوشی کے پیچھے دوڑ رہی ہے ،افسوس ہے اس پر جس کے پاس وقت ایک نعمت اور بڑی دولت اور اس کے حساب کتاب کا عقیدہ رکھنے کے باوجود غفلت میں مبتلا ہے ،افسوس تو اس پر ہے جو گزر ے ہوئے اوقات پر جشن نہیں بلکہ محاسبہ کا تصور رکھتی ہے،وہ ایک ایک لمحہ کو صدی سے بھی بڑھ کر جانتی ہے اور اپنی کامیابی وناکامی کا زینہ اسی کو قرار دیتی ہے ،افسوس کہ وہ کیسے اس چکر میں پڑ گئی ہے ،حالانکہ وہ جانتی ہے کہ سال جاتے جاتے یہ پیغام دے رہا ہے کہ اے انسان ! تیری مقررہ زندگی کا ایک قیمتی سال گزرگیا ہے ،عقلمندی سے کام لے اور غور و فکر کر کہ تونے اسے کہاں خرچ کیا اور کیسے خرچ کیا ،اگر اس کی مرضی کے مطابق خرچ کیا جس نے تجھے یہ نعمت عطا کی تھی تو اس پر شکر بجالا اور آئندہ کو اس سے اچھا بنانے کی کوشش کر ،لیکن اگر تونے اس نعمت کی ناشکری کی اور اسے اپنی مرضی کے مطابق خرچ کیا تو اس پر رب سے معافی طلب کر اور آئندہ کو اس کی مرضی کے مطابق استعمال کرنے کا پختہ عہد کر ،مگر وہ بھی اس پر کان دھر نے کو تیار ہی نہیں ، بس وہ بھی ایسے جی رہا ہے جیسے اور جی رہے ہیں ، وہ بھی اپنے اوقات یوں ہی ضائع کر رہا ہے جیسے دوسرے بے دریغ ضائع کر رہے ہیں ، وہ تو اس نبی ؐ کی امت ہے اور اس نبی ؐ کا غلام ہے جس نے انسانیت کو جینا سکھایا ،ماہ وسال،ہفتہ ودن،گھنٹہ وساعت کی قدروقیمت بتائی اور سوال وجواب کے دن سے آگاہ کیا ،مگر یہ بھی اسے بھلا کرایسے جی رہا ہے جیسے اسے حساب دینا ہی نہیں ،ایسے خوشیاں منارہا ہے جیسے مرنا ہی نہیں اور نئے سال کی آمد پر ایسے شور مچارہا ہے جیسے اس کی زندگی میں اضافہ ہوگیا ہے ،حالانکہ سال نو قیمتی زندگی کے ایک سال گزرجانے کی اطلاع دے رہا ہے ، مگر اس کی نادانی دیکھو کہ مسجد کی طرف دوڑنے کے بجائے سڑکوں پر گاڑیاں دوڑا رہا ہے ، عبادت الٰہی سے دل کو گرمانے کے بجائے نائٹ کلب میں دھوم مچا رہا ہے اور اغیار کی دیکھا دیکھی کرتے ہوئے بے حیائی کا مجسم بناہوا ہے ،جسے دیکھ کر شرم وحیا ایک طرف کونے میں کھڑی آنسو بہا رہی ہے اور اس کے مسلمان ہونے پر مسلمانی بھی شرم سے پانی پانی ہو رہی ہے ۔
یہ ہے ہمارے مسلم معاشرہ کی ایک جھلک اور بہت سے مسلمانوں کے نیا سال منانے کا طرز ،جنہوں نے شرافت کی تما م حدوں کو پار کر تے ہوئے مسلم معاشرہ کا دیوالیہ نکالدیا ہے ، کس قدر افسوس ناک بات ہے کہ مسلمانوں کی ایک بہت بڑی تعداد جشن سال نو میں شریک ہورہی ہے ، مسلم محلوں میں سال نو کیک کے فروخت میں دن بدن اضافہ ہوتا جارہا ہے،مسلم آبادیاں جشن سال نو میں ڈوبی ہوئی نظر آرہی ہیں، مغرب کی دیکھا دیکھی یہ بھی ان کے نقش قدم پر چلنے لگے ہیں ،تہذیب اسلامی چھوڑ کر مغربی تہذیب کو گلے لگارہے ہیں، صاف ستھری پاکیزہ ،عطر جیسی طرز زندگی چھوڑ کر بد بودار ،گندگی میں ڈوبی ہوئی حیوانوں جیسی طرز زندگی کو گلے لگا رہے ہیں ، ان کے دل ودماغ پر مغربیت کا بھوت سوار ہے ،ان کی عقلوں پر تہذیب جدید حاوی ہوچکی ہے ، افسوس تو اس پر ہے کہ اسلام کے نام لیوا ہوکر اسلامی تعلیمات سے کنارہ کشی اختیار کرتے جارہے ہیں ، اسلامی احکامات سے دوری ،تعلیمات نبوی ؐ سے لاعلمی ،صحابہؓ کی طرز زندگی سے بے خبری ، تہذیب جدید سے قربت ، آزاد خیالی اور نفسانی خواہشات نے انہیں اس مقام پر پہنچا دیا ہے کہ آج دنیا میں ان کی جگ ہنسائی ہورہی ہے ،معلوم ہونا چاہیے کہ ایک مسلمان کی نظر میں اسلام ،تعلیمات اسلام اور اسوۂ نبویؐ سے بڑھ کر اور کوئی چیز نہیں،مسلمان مال ودولت،تخت وتاج ، کرسی واقتدار اور شہرت وبلندی سب چھوڑ سکتا ہے لیکن اللہ ورسول اللہؐ کافرمان چھوڑ نہیں سکتا، اجتماعی ،انفرادی اور گھر کے ہر ذمہ دار فرد کی ذمہ دار ی ہے کہ وہ اپنے ماتحتوں کو اسلامی تعلیمات ،نبی ٔ رحمت ؐ کی زندگی اور صحابہؓ کی سیرت سے واقف کرائیں ،انہیں مغرب کے افکار وخیالات اور اس کے نقصانات سے آگاہ کریں ، ان کے حرکات وسکنات پر کڑی نظر رکھیں اور غیر شرعی کاموں سے خود بھی بچیں اور انہیں بھی بچانے کی فکر کریں ،کتنی افسوس کی بات ہے کہ مسلم معاشرہ دن بدن گناہوں کے دلدل میں پھنستا جارہا ہے ،تہذیب جدید ان کے گھروں میں ڈیرہ ڈال چکی ہے ،یہ مغربی تہذیب کا لبادہ اوڑھ چکے ہیں ،مغربی تہذیب اور اس کے خیال و افکار کا قلادہ اپنے گلے میں ڈال کر بڑی بے شرمی سے گھوم رہے ہیں ،اسلامی اصول ااور اس کی مبارک تعلیمات سے میلوں دور ہوچکے ہیں ،جس کے نتیجے میں ہم اپنی شناخت تک کھو چکے ہیں جس کے ذمہ دار ہم خود ہیں ۔
اہل ایمان کے لئے اسلامی تہذیب وتمدن کو چھوڑ کر دوسروں کی تہذیب اپنانے کی بالکل اجازت نہیں ہے بلکہ رسول اللہ ؐ نے نہایت سختی کے ساتھ اغیار کی مشابہت سے منع فرمایا ہے ،آپ ؐ نے ارشاد فرمایا: ،من تشبہ بقوم فہو منہم (بخاری)’’ جو کوئی جس قوم کی مشابہت اختیار کرے گا وہ اسی میں سے ہوگا‘‘،اس حدیث شریف میں میں نہایت واضح الفاظ میں اور بڑے صاف لفظوں میں امت مسلمہ کو اغیار اور دیگر مذاہب کے پیرو کاروں کی نقل اور مشابہت اختیار کرنے سے منع کیا گیا ہے ،اور ان لوگوں کو آگاہ کیا گیا ہے جو غیروں کی مشابہت اختیار کرتے ہیں ،ان کی تہذیب کو لگے لگاتے ہیں اور اس پر فخر کرتے ہیں ،ان سے صاف صاف کہدیا گیا ہے کہ ان کا اہل ایمان کوئی رشتہ نہیں ہے اور یہ قیامت میں انہیں کے ساتھ اٹھائے جائیں گے ،اس حدیث کی تشریح میں ملاعلی قاری ؒ لکھتے ہیں کہ ’’ جو شخص کفار کی ،فساق کی ،فجار کی یا پھر نیک وصلحاء کی لباس وغیرہ میں یا کسی اور صورت میں مشابہت اختیار کرے وہ گناہ اور خیر میں ان کے ہی ساتھ ہوگا(مرقاۃ المفاتیح )علماء نے لکھا ہے کہ فطری امور جیسے کھانا ،پینا، صاف صفائی اور علوم وفنون جیسے صنعت وحرفت وغیرہ میں مشابہت منع نہیں ہے،عادات میں مشابہت جیسے کھانے پینے کی ہئیت وطریقہ کفار وفساق کا ہے تو اس میں تفصیل یہ ہے کہ اگر مسلمانوں کی پہلے ہی سے کوئی خاص وضع ہو اور پھر کفار وفجار نے بھی اسی وضع کو اختیار کر لیا ہو تو یہ مشابہت اتفاقیہ ہے ،یہ ممنوع نہیں ہے ،اس کے برعکس اگر مسلمانوں کی پہلے سے کوئی خاص وضع ہو اور وہ اس کو چھوڑ کر کفار وفساق کی وضع اختیار کرتے ہیں تو یہ ناجائز ہے،البتہ اگر اس طرح کی مشابہت اسلامی معاشرہ میں اس قدر رائج ہو جائے کہ مشابہت کا پہلو بالکل ذہن سے نکل جائے تو اب وہ طریقہ غیر شرعی ہونے سے نکل جائے جواز کی حدود میں داخل ہو جائے گا ،جیسے کرسی ٹیبل پر کھانا، مذہبی امور میں مشابہت جو کفار ودیگر مزاہب کا شعار ہے ،دینی رسوم ،یا قومی رواج ہو ان کی مشابہت کرنا بالکل حرام ہے بلکہ بعض صورتوں میں مشابہت کو فقہاء نے کفر تک کہا ہے ،جیسے بتوں کو سجدہ کرنا ،مجوسی ٹوپی پہننا وغیرہ ،درحقیقت ان کے مذہب کو اختیار کرنے اور اس پر رضا مندی کے مترادف ہے اس لئے اس صورت میں مشابہت سے بچنا بے حد ضروری ہے ۔
اسلام کوئی انسان کا بنایا ہوا دین نہیں کہ جسے جس طرح چاہے برتا جائے اور اپنے من کے مطابق ڈھالا جائے بلکہ یہ ایک ربانی دین ہے جو خاتم الانبیاء ،محسن انسانیت نبی رحمت ؐ کے ذریعہ بھیجا گیا ہے ،یہ ایک سچا ،پکا اور ایک عالمگیر مذہب ہے ،جو بلند وبالا اصولوں پر قائم ہے ، جس نے انسانیت کو ایسی بے نظیر تعلیمات عطا کی ہیں جس کی نظیر قیامت تک ملنا مشکل ہی نہیں بلکہ ناممکن ہے،اسلام اصولوں کا پابند اور حیا کا علمبردار ہے ،اسے بے اصولی ،بے حیائی اور حیوانیت ہرگز پسند نہیں ،وہ انسانوں کوانسانیت سکھاتا ہے ،حیوانیت اور درندگی سے دور رکھتا ہے اور ایسے تمام کاموں سے روکتا ہے جن سے اس کا مالک وآقا ناراض ہوتا ہے ،دراصل نئے سال کا جشن اسلامی تصور نہیںبلکہ یہ جدید ذہنیت ،بے ہودہ رسومات ، پراگندہ خیالات اور آخرت سے غافل اور دین بیزار لوگوں کی دین ہے ، اسلامی تعلیمات اور اس کے بنیادی عقائد میں یہ بات شامل ہے کہ انسان کی دنیوی زندگی فانی اور اُخروی زندگی باقی اور لا محدود ہے ،دنیا اور دنیا کی ہر شے خدا کی امانت ہے ، انسان کو روز قیامت زندگی اور اس کے شب وروز کا حساب دینا ہے کہ کہاں شب بسری کی اور کیسے کی ، زندگی خدا کی مرضیات پر چلنے اور اسکی منہیات سے رکنے کانام ہے،زندگی خالص خدا کی عبادت واطاعت کے لئے ہے اور زندگی کا ہر وہ کام جو خدا کی مرضی کے موافق ہو وہ عبادت میں داخل ہے، خدا کے دربار میں انسان سے زندگی کے قیمتی لمحات کے سلسلہ میں سخت باز پرس ہو گی ، ارشاد نبویؐ ہے کہ :قیامت کے دن اللہ تعالیٰ کی عدالت سے آدمی اس وقت تک ہٹ نہیں سکتا جب تک اس سے پانچ باتوں کے متعلق حساب نہیں لے لیا جاتا (چنانچہ) اس سے پوچھا جائے گا کہ عمر کن کاموں میں گزاری؟ دین کا علم حاصل کیا تو اس پر کہاں تک عمل کیا؟ مال کن ذرائع سے کمایا؟ کمایا ہوا مال کہاں خرچ کیا؟ جسم کو ( صحت وتندرستی ) کس کام میں لگایا (ترمذی: ۲۴۱۶) ۔اس حدیث کے ذریعہ انسانیت کے سب سے بڑے محسن ومربی ،نبی رحمت ؐ نے وقت کی قدر وقیمت اور زندگی کی اہمیت کو بڑے ہی دلنشین انداز میں سمجھایا ہے،زندگی خدا کی عظیم نعمت ہے جو ہر فرد بشر کو عطا ہوئی ہے ، بادشاہ ہو یا فقیر ،امیر ہو یا غریب ،آقا ہو یا غلام ،ہر ایک کے لئے رات اور دن برابر ہوتا ہے ، دن اور رات کی خصوصیت یہ ہے کہ جب یہ گذر جاتے ہیں تو پھر لوٹ کر نہیں آتے ،ہر ایک دن اور ہر ایک رات ہم سے رخصت ہو تے جارہے ہیں ،جس قدر دن گذر تے جاتے ہیں انسان اتنا ہی موت کے قریب ہوتا جاتا ہے ،آدمی جب زندگی اور وقت کو کام میں لاتا ہے تو وہی کامیابی پاتا ہے اور جو وقت کی ناقدری کرتا ہے تو وقت بھی اس کا ساتھ چھوڑ کر اس طرح دبے پاؤں چلاجاتا ہے کہ اُسے احساس تک نہیں ہوتا۔
عقلمند اور سمجھدار آدمی وہ ہے جو دائمی اور ابدی جائے قیام کی فکر کرتا ہے اور مقام عارضی پر اوقات لاقیمت صرف نہیں کرتا ،نبی ٔ رحمت نے اس شخص کو عقلمند قرار دیا ہے جو دنیا میں رہتا ہے لیکن آخرت کی فکر کرتا ہے اور اس کی تیاری میں ہر وقت مشغول رہتا ہے،مسلمان کی شایان شان نہیں کہ وہ لایعنی ،بے کار اور فضول کاموں میں اپنا وقت ضائع کرے بلکہ وہ تو ایک ایک لمحہ کو خدا کی امانت سمجھتا ہے اور اس سے جتنا ہو سکے خوب مستفید ہوتا ہے ، وقت کی قدر دانی اور لایعنی چیزوں سے پرہیز مسلمانوں کی خوبی اور اس کے کمال سے تعبیر کرتے ہوئے نبی ﷺ نے ارشاد فرمایا کہ’’ آدمی کے اسلام کی خوبی اور اس کے کمال میں یہ بھی داخل ہے کہ وہ فضول اور غیر مفید کاموں اور باتوں سے بچا رہے‘‘ (ترمذی:۲۳۱۶)،اسلام کی اس قدر خوبصورت اور حسین تعلیمات کے باوجود بیشتر مسلمان اس سے دور ہیں اور اسے اپنی انفرادی واجتماعی،معاشرتی اور عائلی زندگی کا حصہ نہ بناتے ہوئے غیر ضروری مشاغل میں اپنے اوقات صرف کر رہے ہیں ،جس کا نتیجہ یہ ہے کہ قدم قدم پر انہیں دوسروں کی مدد کی ضرورت پڑ رہی ہے اور وہ ان کے محتاج بن کر رہ گئے ہیں ،کاش اگر مسلمان خدا ورسول خدا کے بتلائے ہوئے طریقہ پر ہوتے اور خدا کی نعمت اورقت کی قدردانی کرتے تو وہ اس سے فائدہ اُٹھا تے اور دوسرے ان سے فائدہ حاصل کرتے ،مگر یہ دنیا ، سامانِ دنیا اور لذ ت دنیا میں اس قدر کھو گئے ہیں کہ انہیں نہ وقت کا لحاظ ہے اور نہ ہی اسلامی احکامات اور نبی ﷺ کی مبارک تعلیمات یاد ہیں ، وہ مغرب کی نقالی میں سارا وقت صرف کر رہے ہیں اور دیکھا دیکھی کرنے میںلگے ہیں ،اور اس قدر ان کے عملی گرویدہ ہوچکے ہیں جس کا ایک سچے مسلمان کے لئے تصور کرنا محال ہے ، دین کے بہت سے اعمال ان کے نزدیک ایک رسم بن کر رہ گئے ہیں ، بے حیائی ،بے پردگی میں وہ کسی سے کم نہیں ہیں ، شاد ی بیاہ عبادت نہیں بلکہ نفس پرستی اور عیش پر ستی کا ذریعہ بن چکے ہیں ، سالگرہ کے نام پر تقریبات اور سال نو کے موقع پر محفل رقص وسرور میں شرکت کا رجہان ان میں دن بدن بڑھتا جارہا ہے اور لباس وپوشاک میں غیروں کی نقالی نے ان کی اپنی شناخت مٹادی ہے ،اگر مسلمان خواب غفلت سے بیدار نہیں ہوں گے اور اپنے طرز عمل کو نہیں بدلیں گے اور غیروں کے طریقے کو چھوڑ کر اسلامی طرز عمل اختیار نہیں کریں گے تو وہ خدا کی نظر سے گر جائیں گے جس کا نتیجہ یہ ہوگا کہ وہ دنیا میں تنکے کی مانند ہوکر رہ جائیں گے اور دیگر قومیں انہیں اُڑا کر رکھ دیں گی ،یاد رہے کہ دوسرے اقوام کی کامیابی اور ترقی کسی اور چیز میں ممکن ہو لیکن اہل ایمان کی ترقی وکامیابی اور دونوں جہاں کی سرخروئی خدا ورسول خدا ؐ کے فرمان کے مطابق زندگی گزار نے میں ہی ہے ، ہم دنیا میں عیش وعشرت کے لئے نہیں بلکہ خدا کی عبادت واطاعت کے لئے آئے ہیں اور اسی میں ہماری کامیابی مضمر ہے ؎
عیش کر غافل نہ تو آرام کر ٭ مال حاصل کر نہ پیدا نام کر
یاد حق دنیا میں صبح شام کر ٭جس لئے آیا ہے تو وہ کام کر