Wed, Feb 24, 2021

نیا جال لایا پرانا شکاری

(تبلیغی جماعت فرقہ پرست باطل طاقتوں کے نشانہ پر! )
از :محمد ندیم الدین قاسمی

تبلیغی جماعت یہ کوئی فرقہ پرست تنظیم نہیں بلکہ ایک دینی تحریک ہے جو 1926ء میں قائم کی گئی، یہ اس مخلص شخص مولانا الیاس کاندھلوی ؒکی کوششوں کا نتیجہ ہے جس کا درد مند دل قوم و ملت کی دین سے بڑھتی ہوی دوری سےپریشان تھا،ایک ایسی تحریک ہے جس کو صرف اس لئے تشکیل دیا گیا کہ مسلم عوام کا اپنے مالک حقیقی سے رابطہ مضبوط ہوجائے ،یہ ایک ایسی تحریک ہے جس نے پوری امت محمدیہ کو امر بالمعروف ونھی عن المنکر کے فریضے کی انجام دہی کے ساتھ ساری دنیا کو امن و سلامتی اخوت وبھائی چارگی ،قناعت پسندی ، تواضع و انکساری کا ایسادرس دیاجس سے متعلق افراد سردی، گرمی بارش و دھوپ کی پرواہ کئے بغیر کاندھوں پر جھولا بیاگ لٹکائے قریہ قریہ بستی بستی جاکر کلمہ توحید کی صدا لگاتے ہیں ، اپنی بے لوث خدمت اور خلوصِ فکر کی وجہ سے نصف صدی سے کم عرصہ میں اسے پورے عالم میں قبولیت عامہ حاصل ہوگئی،یہی وہ تحریک جس سے کئی بھٹکے ہوؤں کو ہدایت ملی، شرابی ولی کامل بنے،چور وڈاکو دین کے سچے داعی بن گئےاور کتنے ہی بےنمازی نمازی بن گئے ،لیکن آج یہی ہماری تبلیغی جماعت باطل اورفرقہ پرست طاقتوں کے نشانہ پر ہے ،اسے کورونا وائرس کی آڑ میں بدنام کرنے اور اس کی چلت پھرت کو بند کرنے کی کوششیں کی جارہی ہیں، تو وہیں گودی میڈیا نے موقع پاکر اسلام و مسلمان کے خلاف زہر افشانی شروع کردی ہے کہ ہندوستان میں یہ وائرس اسی تبلیغی جماعت کی دین ہے،تاہم اب تک ایک بھی کیس حتمی طور پرمثبت سامنے نہیں آیا اگر آیا بھی ہو تو اس کا ذمہ دار مرکز نہیں ،اسی پر بحث و مباحثہ اور ڈبیٹس کا بازار گرم ہوگیا ،اسے ہندو ومسلم issueبنادیا گیا ہے جوانتہائی افسوسناک ، فرقہ وارانہ منافرت پر مبنی اور انسانی گراوٹ کی انتہاء ہے، حالانکہ واقعہ یہ ہے کہ جب پی ایم مودی جی نے مہلت دئے بغیر اچانک ۲۱ دن تک لاک ڈاون کا اعلان کردیا تو نقل وحمل کے ذرائع مسدود ہوگئے،جو جہاں تھا وہیں تھم گیا مزدور وہیں کے وہیں رہ گئے اسی میں تبلیغی جماعت کے لوگ بھی جو لاک ڈاون سے پہلے جواجتماع یا مشورے کے لئےآگئے تھے پھنس گئے لیکن تبلیغی جماعت کے ذمہ داروں نے امانت داری اور حکومت سے تعاون کا ثبوت دیتے ہوئے نظام الدین کی طرف سے دہلی حکومت اور ایڈمنسٹریشن کو خط بھی لکھا اور اپیل بھی کی کہ ان کے مرکز میں لاک ڈاؤن کی وجہ سے لوگ پھنس گئے ہیں انہیں منتقل کرنے کا کوئی نظم کریں، لیکن حکومت نے نہ توجہ دی نہ کوئی ایکشن لیا بلکہ نظر انداز ہی کردیا اور مرکز میں لوگوں کو پھنسے رہنے دیا، لیکن جب لاکھوں مزدور اور ان کےگھر والوں کا بھوک کی وجہ سےپیمانہء صبر لبریز ہوگیا اور بے تاب ہوکر رخت سفر باندھ کر دہلی کی سڑکوں پر انبوہ در انبوہ اتر گئے، تو مرکزی حکومت نے اپنی ناکامی چھپانے اس ہند و مسلم کا رنگ دے دیا اسے اب خوب ہوّا دیا جارہا ہے
ایسے مشکل وقت میں ضروری ہے کہ ہم اپنے آپسی اختلافات سے اوپر اٹھ کر اس جماعت تبلیغ کا ہر اعتبار سے ساتھ دیں،اور اتحاد کا ثبوت دیں
چونکہ یہ مسئلہ صرف ایک طبقہ کا نہیں بلکہ پوری ملت اسلامیہ کا ہے ،اس لئے کہ ہمارے سامنے حضرت علی ؓاور حضرت معاویہ ؓکی مثال موجود ہے،اپنی تحریروں اور یوٹیوب چینلز کے ذریعہ پوری دنیا کے سامنے حقیقتِ حال کو واشگاف کریں ۔جماعت کے ذمہ داران پریشان بھی نہ ہو پرامید رہیں مولانا الیاس صاحبؒ فرماتے تھے کہ جس محنت سے دین زندہ ہوتا ہے اللہ تعالی ہی اس کا ایسامحافظ ہے جیسا کہ قرآن کا محافظ ہے۔جیسے کسی شاعر نے کہا تھا۔

تندی بادِ مخالف سے نہ گھبرا اے عقاب

یہ تو چلتی ہے تجھے اونچا اْڑانے کے لئے۔