Tue, Mar 2, 2021

وہ اپنے پرآئے کا غم کھانے والا
مصیبت میں غیروں کے کام آنے والا
مولانا محمد فصیح الدین ندوی

مسدس حالی کی مشہور نعت کا یہ شعر اس وقت ساری دنیا اور خاص طور پر ہمارے ملک کے جو حالات کوڈ 19 کی وجہ سے ہوچکے ہیں جس کی وجہ سے ہمارے ملک کا وہ طبقہ جو سطح غربت سے نیچے زندگی گذارتا ہے اور وہ طبقہ جو روزانہ محنت کر کے اپنی بھوک کی آگ کو بجھاتا ہے اور اپنے اہل و عیال کے لیے روزی روٹی کا انتظام کرتا ہے، وہ کس درجہ پریشانی میں آچکا ہے وہ اور اس کے بچے کام نہ ہونے کی وجہ سے موت و زیست کی کشمکش میں ہیں، ایسے وقت میں یہ شعر ہمیں اس بات پر مجبور کرتا ہے کہ ہم اپنا جائزہ لیں کہ کیا ہم ایسے نبیؐ کے امتی ہیں جو مصیبتوں میں دوسروں کے کام آتا تھا، جس کا یہ حال تھا کہ وہ اپنی بھوک مٹانے سے پہلے دوسرے ضرورت مندوں کو کھلاتا تھا، جس کی شان اللہ نے یوں بیان فرمائی کہ: لقد جاءکم رسول من انفسکم عزیز علیہ ما عنتم حریص علیکم بالمؤمنین رؤوف رحیم۔ (التوبۃ:۱۲۸) “بے شک تمہارے پاس تمہیں میں سے ایک ایسے رسول آئے جن پر تمہارا مشقت میں پڑنا گراں تھا، تمہاری بھلائی کی نہایت چاہنے والے، مؤمنین پر حد درجہ مشفق اور مہربان ہیں، ہمارے نبیﷺ کی یہ شان ہے تو ہم بھی اس نبیؐ برحق کے امتی ہیں تو ہمارے اندر بھی ایسے جذبات ہونا چاہیے، دوسروں کی تکلیف کو دیکھ کر ہم بھی تڑپ جائیں اور اس کو دور کرنے کی فکر کریں۔
اس وقت طویل لاک ڈاؤن کی وجہ سے جو سب سے بڑا مسئلہ پیدا ہوگیا ہے وہ یہ کہ لاکھوں لوگ جو ملک کے مختلف بڑے شہروں میں کام کرتے تھے ان کے کھانے رہنے کے نظم کا مسئلہ ہے، حکومتیں جو کرسکتی ہیں، ہم سمجھتے ہیں کر رہی ہیں، لیکن صورت حال نے جو شکل اختیار کرلی ہے ایسا لگتا ہے کہ یہ مسئلہ مرکزی و ریاستی حکومتوں کے قابو سے بھی باہر ہورہا ہے، ان حالات میں بحیثیت مسلمان ہماری ذمہ داری بنتی ہے کہ ہم تمام احتیاطی تدابیر اختیار کرتے ہوئے ان لاکھوں پریشان حال لوگوں کے لئے اپنی اپنی حیثیت کے مطابق جو کرسکتے ہوں کریں، ان بھوکوں کو سب سے پہلے مرحلہ میں کھانا کھلائیں، اس لئے کہ جب کھانا ملے گا تو انسان زندہ رہ سکتا ہے ورنہ وہ موت کے منہ میں چلا جائے گا۔
یہ افسوس ناک خبر آپ کے نظروں سے گذری ہوگی کہ ہمایوں نگر، حیدرآباد میں ایک بند دکان کی سیڑھیوں پر بیٹھ کر ایک شخص نے کھانا نہ ملنے کی وجہ سے دم توڑ دیا، یہ ایک موت کی اطلاع ہمیں مل گئی، نہ جانے کتنے لوگ اس طرح مر رہے ہیں، ان کی خبریں ہم تک نہیں پہونچتیں، اس لئے ضروت مندوں کے لئے کھانے پینے کا انتظام کریں، اس لئے بھی کہ یہ بہت فضیلت والا عمل ہے
عبداللہ بن عمرو ابن العاصؓ سے مروی ہے کہ ایک صحابیؓ نے امام الانبیاء حضرت محمد مصطفیﷺ سے دریافت کیا کہ اسلام میں بہترین عمل کونسا ہے؟ رسول اللہﷺ نے فرمایا: کہ تم لوگوں کو کھانا کھلاؤ، اور تم ہر ایک کو سلام کرو! چاہے تم اسے جانتے ہو یا نہ جانتے ہو۔
اس حدیث سے پتہ چلتا ہے کہ اسلام کے بہترین اعمال میں سے لوگوں کو کھانا کھلانا ہے، اور ہر ایک جانے انجانے کو سلام کرنا ہے، اس سے بھی آپس میں محبتیں بڑھتی ہیں جس کے نتیجہ میں لوگ ایک دوسرے کے ساتھ خیر خواہی و ہمدردی کا معاملہ کرنے لگتے ہیں اور یہ دعاء بھی ایک دوسرے کے لیے سلامتی کی اس کی برکت سے اللہ تعالی امن و سلامتی سے رکھتے ہیں۔
اسی طرح اللہ تعالی نے سورۂ دھر میں جنتیوں کے جو اوصاف بیان کئے ہیں اس میں ارشاد ہے: و یطعمون الطعام علی حبہ مسکینا و یتیما و اسیرا۔ (الدھر:۸) “اور اللہ کی محبت میں وہ مسکین اور یتیم اور قیدی کو کھانا کھلاتے ہیں”۔ یہ آیت ان لوگوں کو جو فرائض و واجبات ادا کرتے ہوئے اللہ کی رضاء کے لیے یہ کام کرتے ہیں انہیں جنت کی بشارت دیتی ہے، اس لئے اپنی حیثیت کے مطابق یہ کام کریں، ہم ان سبھی لوگوں، تنظیموں، حکومت کے لوگوں کا شکریہ ادا کرتے ہیں جو ان مشکل حالات میں مجبور انسانوں کو کھلا، پلا رہے ہیں اور زندگی کو آگے بڑھنے میں تعاون کر رہے ہیں،
اللہ تعالی ہمیں بھی عمل کی توفیق عطا فرمائے۔۔۔آمین
۔=========================۔
انتخاب: حافظ امان حماد
(متعلم: دار العلوم عثمانیہ حیدرآباد)