Wed, Feb 24, 2021

*قومِ مسلم سے بابری مسجد کا الوداعی خطاب*
ڈاکٹر محمد ضیاءاللہ ندوی

تقریباً پانچ سو برسوں کی تاریخ کا میں آج تک اس سرزمین پر امین رہی ہوں۔ تمہارے عروج و زوال کے صفحات میری آنکھوں کے سامنے کئی بار الٹتے پلٹتے رہے ہیں۔ میں تمہیں بہت قریب سے جانتی ہوں۔ تمہارے دل کے نہاں خانوں میں کروٹیں لیتی ہوئی تمناؤں اور امنگوں کو بھی بہت آسانی سے محسوس کرتی آئی ہوں۔ آج جبکہ مجھے جمہوریۂ ہند کی سب سے اونچی عدالت نے اپنا مقام چھوڑنے کا حکم دے دیا ہے تو اب میرے پاس کوئی چارہ نہیں ہے اور تمہارے بس میں غم و غصہ کے سوا کچھ ہے بھی نہیں۔

سیکولر ملک کی عدالت میں ججوں کے سامنے وکلاء کے ذریعہ جے شری رام کے جو نعرے بلند ہورہے تھے ان کو تو تم نے بھی سنا ہوگا۔ یہی حقیقت ہے جس کو تمہیں سمجھنے کی ضرورت ہے۔ کسی بھی ناانصافی پر وقتی طور پر غصہ آنا فطری بات ہے لیکن اس کو اپنی عادت بنا لینا اور خود کو غم کے دلدل میں ڈال دینا بزدلی، حالات کے سامنے سپر اندازی اور کم ہمتی کی دلیل ہے۔ اگر تم واقعی یہ سمجھتے ہو کہ تمہارے ساتھ ظلم ہوا، انصاف کا گلا اعلانیہ طور پر دن کے اجالے میں، ڈنکے کی چوٹ پر گھونٹا گیا تو تمہیں یہ سوچنا چاہئے کہ تمہارے ساتھ ایسا کیوں ہوا؟ کیا یہ سب کچھ اچانک ہوگیا؟ یا تمہاری برسوں کی بے حسی کا نتیجہ ہے؟ کیا یہ سچ نہیں ہے کہ امراض کا حملہ صرف ان جسموں پر سب سے تیز اور سخت ہوتا ہے جو اندرونی طور پر کھوکھلے ہو چکے ہوتے ہیں؟

ایسے میں دوائیوں کی بے اثری کو کوسنا، یا ڈاکٹر کی نااہلی پر بحث کرنا کتنا بے سود ہوتا ہے یہ واضح ہے۔ تم اپنی روحانی، اخلاقی، فکری، علمی، سیاسی و سماجی یہاں تک کہ اقتصادی کمزوریوں کا خاتمہ جب تک نہیں کروگے تب تک تمہارا کوئی بھلا نہیں ہوگا، میرا یقین کرو کیونکہ میں نے قوموں کے عروج و زوال کو اپنی آنکھوں سے دیکھا ہے۔ اگر تم یہ سمجھتے ہو کہ اچانک سے کوئی معجزہ ہوجائے گا اور سب کچھ بدل جائے گا تو یہ تمہاری حماقت ہے۔ ایسا طویل انسانی تاریخ میں کبھی نہیں ہوا اور آئندہ بھی نہیں ہوگا۔

میں آج جبکہ سپریم کورٹ کے کٹہرے میں کھڑی ہوں اور میرے وجود کے خاتمہ کا قانونی طور پر اعلان کردیا گیا ہے۔ یہاں تک کہ مجھے اس کی اجازت بھی نہیں دی گئی ہے کہ آثارِقدیمہ کے طور پر ہی سہی لیکن اپنی جگہ کم سے کم درسِ عبرت بنی کھڑی رہوں تاکہ آئندہ نسل مجھ سے کبھی پوچھنے آسکے اور میں اسے بتا پاؤں کہ مجھ پر کیا بیتی ہے۔ ایسے مشکل اور جذباتی وقت میں تم سے کچھ باتیں میں کہنا چاہتی ہوں۔ دیکھو! تم مجھ پر آنسو بہانا چھوڑو۔ میں تم سے وہی بات کہوں گی جو فاطمہ نے اپنے بیٹے عبداللہ سے سقوطِ اشبیلیہ کے موقع پر کہا تھا۔ عبداللہ اپنے خاندان کے ساتھ نکالا جا رہا تھا تو الوداعی نظر ان پر شکوہ محلات پر ڈالتا جاتا تھا جن سے کبھی اس کے فرمان جاری ہوا کرتے تھے۔ دیکھتے دیکھتے جب بہت جذباتی ہوجاتا تھا تو آنکھیں آبدیدہ ہوجاتیں اور رونے لگتا۔ فاطمہ نے جب اپنے بیٹے کی یہ حرکت دیکھی تو اسے بڑا غصہ آیا۔

اس نے عبداللہ کو پھٹکار تے ہوئے کہا کہ جب بہادروں کی طرح اپنی حکومت اور شان و شوکت کا دفاع نہیں کر سکے تو اب بزدلوں کی طرح رونا بند کرو۔ میں بھی تم سے یہی کہوں گی کہ مجھ پر آنسو بہانا بند کرو۔ میرے حصہ میں جتنے سجدے آئے ہیں میں انہیں کو اپنے آنچل میں سمیٹ کر لے جاؤں گی اور اپنے رب کے حضور پیش کردوں گی۔ میری مقدر میں بس اتنی ہی سعادتِ ذکر و دعا لکھی تھی۔ اگر کچھ کرنا چاہو تو اپنے لئے کرو۔ کئی بار مجھے لگتا ہے کہ تمہارا یہ غصہ، ردعمل، جذبات کا سیلاب، مجھ سے محبت کا اظہار سب کھوکھلا اور دکھاوا ہے۔ میں اس ماں کی طرح ہوں جس کو اس کی اولاد زندگی میں بوجھ سمجھتی رہتی ہے اور موت کے بعد آنسوؤں سے سب کو دھوکا دیتی ہے مانو کہ جدائی کا غم اسے نڈھال کر رہا ہو۔ اس منافقت کا مشاہدہ میں صدیوں سے کرتی آئی ہوں لیکن نظر انداز کرتی رہی۔ البتہ آج میں بہت صاف لفظوں میں کہنا چاہتی ہوں کہ تم اپنی اس منافقت کی دنیا سے باہر آ جاؤ۔ اگر تم واقعی مجھ سے محبت کرتے ہو تو پھر بتاؤ کہ تمہاری مسجدوں کے دروازوں پر سنّی مسجد، شیعہ مسجد، مسجد اہلحدیث، مسجد اہلِ سنت و الجماعت، حنفی مسجد، شافعی مسجد اور نہ جانے کیا کیا نام کی تختیاں جو لٹک رہی ہیں ان کا کیا مطلب ہے؟ خود میرا مقدمہ لڑنے کے لئے سنّی اور شیعہ کا جھگڑا تم نے جاری رکھا، آج تم سب دکھ کا اظہار کر رہے ہو لیکن سچ بتاؤ کہ کیا میں سب کی مسجد تھی؟ اور بات صرف مسجد ہی تک کیوں محدود ہو؟ کیا تم نے پورے پورے محلہ کی عورتوں کے نکاح کو صرف اس لئے باطل نہیں قرار دیا کیونکہ اس نکاح کا پڑھانے والا تمہارے مسلک کا نہیں تھا؟ کیا آج بھی تمہاری ترجیح یہ نہیں ہوتی ہے کہ زندگی بھر کی کمائی شادی کے اندر ایک رات میں گنوا دو؟ بیٹی کی پیدائش پر کیا تم بھی غیروں کی طرح افسردہ نہیں ہوتے؟ تمہارے کتنے گھر ایسے ہیں جن میں تمہارے بچے اپنے ماں باپ سے مفید علم اور پاکیزہ عمل کا درس پاتے ہیں؟ کیا یہ حقیقت نہیں ہے کہ تم گاڑیاں خریدنے کے لئے دن رات محنت کرتے ہو اور پھر جب خرید لیتے ہو تو رات بھر محفل جما کر اس کی خوبیوں کے ترانے اپنے دوستوں کو سناتے ہو تاکہ دوسروں پر اپنی برتری کا احساس تم کر سکو؟ لیکن اپنے بچوں کے لئے معیاری اسکول، عمدہ کتابیں، باکردار اور اعلی صلاحیت کے اساتذہ نیز جدید وسائل کی فراہمی پر تمہاری توجہ کوئی خاص نہیں ہوتی؟ کوئی کمزور انسان اپنی محنت سے کامیاب ہوجائے اور تم سے بہتر طرزِ زندگی گزارنے لگ جائے تو حسد اور عداوت کا ایک طوفان تمہارے اندر کھڑا ہوجاتا ہے جو تمہیں ہر وقت جنونی بنائے رکھتا ہے؟تمہارے درمیان سماجی نابرابری کا عالم یہ ہے کہ ایک خاص قسم کے لوگ ہی اپنے ہم رتبہ سے شادی کریں گے جبکہ باقی صرف اس لئے ہیچ سمجھے جائیں گے کیونکہ ساری خوبیوں کے باوجود وہ تمہارے اسٹیس کے نہیں ہیں۔ تمہارے محلے میں کتابوں کی دکانیں ندارد جبکہ کھانے کے ہوٹلوں کے انبار لگے ہیں۔ بدنظمی کا عالم یہ ہے کہ سڑک پر چلنا دشوار، اگر کسی کو غلطی سے دھکا لگ گیا تو کربلا کا منظر تیار، سب ایک دوسرے کے درپۂ آزار، نہ کوئی رواداری اور نہ ہی باہم لطف و عنایت کا مزاج، تمہاری مسجدیں فرقہ پرستی اور عناد کا مرکز، تمہارے ادارے تنگ نظری کا علمبردار، تمہاری قیادت تنک مزاج اور بدکردار، تمہارے محلوں میں نہ یتیموں کا کوئی پرسانِ حال ہے نہ بیواؤں کا مددگار، زمین اور جائداد کے بٹوارہ میں اپنوں کا خون اور اس کی تذلیل، مسجد کی دیوار سیدھی کرنے کے لئے دو بالشت زمین نہیں دے سکتے لیکن بس چلے تو مسجد توڑ کر اپنے گھر کی دیوار اٹھا لیں۔ اس پر ہی بس نہیں۔ اذان ہوتی ہے لیکن تمہاری اکثریت مسجد کے بجائے اپنا وقت چائے خانوں اور سینما گھروں میں گزارتی ہے۔ نہ خود جاگتے ہو اور نہ بچوں کو فجر کی نماز کے لئے جگاتے ہو کیونکہ رات بھر بیہودہ باتوں یا گیمز میں تمہارا وقت جاتا ہے۔

ایک ایسے وقت میں جبکہ دنیا کی تمام قومیں ترقی کے لئے دن رات ایک کئے ہوئی ہیں تم بس ماضی کی عظمتوں کا ذکر حقّوں کے دھوؤں کے بیچ کرتے نہیں تھکتے۔ تمہیں کون سمجھائے کہ آج میری بھی ایسی حالت نہیں ہوئی ہوتی اگر تم نے علم کو دین اور دنیا کے خانوں میں تقسیم کرنے کا جرم نہ کیا ہوتا۔ اس تقسیم کا نتیجہ یہ ہوا ہے کہ تمہارا “دینی علوم” کا حامل طبقہ دنیا کے مسائل حل کرنا نہیں جانتا اور تمہارا “دنیاوی علوم” سے لیس اسٹوڈنٹ اسلام کی عظمت سے واقف نہیں ہے۔ اگر تمہارے بیچ آج ماہر عمرانیات ہوتا، عالمی سطح کا وکیل ہوتا، جدید اصولِ تاریخ سے باخبر مورخ ہوتا، سیاسیات کی پیچیدگیوں کو آسان زبان میں سمجھانے کا ہنر رکھنے والا سیاسی مدبرہوتا، مسلم اقلیت کے حقوق کی پامالی کے نتیجہ میں اقتصادی خسارے کو علمی انداز میں بیان کرنے والا ہوتا اور سائنسی علوم اور ٹکنالوجی کی دنیا میں اپنی امتیازی شان رکھتا اور ساتھ ہی اسلام غیرت سے بھی اس کا سینہ معمور ہوتا تو کیا آج میں سپریم کورٹ میں اپنے حق سے محروم کی جاتی؟ کیا تمہارے اوپر غم و اندوہ کے اتنے گہرے بادل چھائے ہوتے؟ ہرگز نہیں۔ تم دوسروں پر اپنا غصہ اتارنا بند کرو۔ اپنی کمزوریاں دور کرو، مسجدوں کی فرقہ واریت اور اداروں کی تنگ نظری پر تیشہ زنی کرو۔ منصوبہ بندی کے ساتھ اپنا ہدف اور مقصد طے کرو اور پھر انہیں حاصل کرنے کی سنجیدہ عملی سعی کرو۔ اپنے جھگڑے آپس میں حل کرو۔ تم اپنے ہی ملک کے سکھوں سے سبق حاصل کر سکتے ہو جنہوں نے ہر اعتبار سے خود کو منظم کیا ہے۔ اگر تم ایسا کر سکتے ہو تو میں سمجھوں گی کہ میری قربانی رائیگاں نہیں گئی۔ ورنہ میں خدا کے حضور یہ گواہی دوں گی کہ یہ امت بارہ ربیع الاول اور یوم عاشورہ کے نام پر عشق رسول اور حبّ آلِ رسول کا ناٹک کرنا تو سیکھ گئی ہے لیکن طویل مدتی منصوبہ بندی کے ذریعہ اپنی حالت بدلنے کا ہنر نہیں سیکھ پائی۔

میں آخری بات کہتی جاؤں۔ تمہاری بساط اس ملک میں الٹ دی گئی ہے۔ تمہاری آنکھوں کے سامنے طلاقِ ثلاثہ کے نام پر تمہارے گھروں کو توڑ دیا گیا، 370 کے ذریعہ تمہیں قید کر دیا گیا، این آر سی کے ذریعہ تمہیں آسام میں بے گھر بنا دیا گیا اور اب پورے ملک میں تمہارا یہی حشر ہونے والا ہے۔ اب رشوت دے کر اپنے کاغذات درست کرواتے رہو اور خوف میں جیتے رہو۔ اس سے یہ حقیقت نہیں بدلے گی کہ اب اس ملک میں تم دوسرے درجہ کے شہری بنا دیئے گئے ہو۔ اب بس یکساں سول کوڈ کا نفاذ باقی ہے جو عنقریب ہو جائے گا۔ ان سب کے باوجود تمہیں لگتا ہے کہ سب اچانک سے ٹھیک ہوجائے گا تو پھر تمہارا کچھ نہیں ہوسکتا۔ میں جارہی ہوں۔ تم دعائیں لینے دینے کے بہت عادی ہوچکے ہو اس لئے تمہاری تسکین کے لئے میں بھی تمہارے لئے دعا کرتی ہوں کہ تمہاری عقل کچھ کام کے لائق ہوجائے۔ اگر تمہارے اندر انقلابی تبدیلی پیدا ہوگئی تو میں پھر لوٹ آؤں گی کیونکہ زمین پر رہتے ہوئے میرا رشتہ آسمان سے ہر روز رہتا تھا۔ اب آسمان سے دیکھوں گی کہ تم واقعی بہتر بدلاؤ کی کوشش میں سنجیدہ ہوتے ہو یا نہیں۔ میں دوبارہ تمہاری عظمت کے مینار دیکھنے آنا چاہتی ہوں۔ کیا تم آج ہی سے بہتر مستقبل کی بنیاد ڈالنے میں مصروف ہو جاؤگے؟