Thu, Feb 25, 2021

مدارس اسلامیہ کے تحریری مسابقے حقائق اور تجاویز
رفیع الدین حنیف قاسمی
رفیق تصنیف دار الدعوۃ والارشاد، یوسف گوڑہ ، حیدرآباد

 

یہ حقیقت ہے مدارس اسلامیہ ارد و زبان کی حفاظت میں بڑا کردار اداکررہے ہیں ، اردو زبان کے تحفظ میں شعراء ، ادباء وغیرہ کے کردار سے انکار نہیں کیا جاسکتا ،جو روز روشن کی طرح عیاں وبیان ہے؛ لیکن اس اس وقت اردو کے تحفظ اور بقاء کا بڑا دارو مدار ان مدارس اسلامیہ عربیہ کے رہینِ منت ہے، اس لئے کہ مدارس عربیہ میں اردو ذریعہ تعلیم رائج ہے ، ابتداء اردو زبان پر عبور اورقدرت کے بعد ہی عربی کتابیں بترجمہ پڑھائی جاتی ہیں، افہام وتفہیم بھی اردو زبان میں ہوتی ہے ۔
اس کے علاوہ اردو زبا ن میں طلباء کی صلاحیتوں کو پروان چڑھانے کے لئے مدارس میں یہ نظام رائج ہے کہ دیواری پرچے نکالے جاتے ہیں، سال کے آخری میں تمام مدارس اسلامیہ میں اردو تحریری مسابقے بھی طلباء کے درمیان منعقد کئے جاتے ہیں،طلباء کی ہمت افزائی کی جاتی ہے ، مسابقت کا جذبہ پیدا کیا جاتاہے بحیثیت ممتحن بعض مدارس اسلامیہ کے تحریر مقابلوں کے نمبرات دینے اور مضامین کے مواد، انداز تحریر، الفاظ وتعبیرات کے استعمال کے اعتبار سے جانچنے اور پرکھنے کا مواقع ملے، بعض مدارس کے بسا اوقات اور کچھ مدارس کے ہمہ وقت ہرسال اردو تحریری مسابقوں کے پرچے جانچنے کے مواقع ملتے رہے، لیکن یہی طلباء جن میں ہرسال بعض طلباء کی بڑی تعداد وہ ہوتی ہے جن کی تحریری صلاحیت، اندازکتابت نہایت ،شستہ اور شگفتہ ہوتاہے ، انداز بیان بھی خوب ہوتا ہے ،مضمون کی ترتیب وتدوین بھی لائق دید ہوتی ہے، مضمون کو عنوان در عنوان پیش کر کے مختلف شقوںمیں تقسیم کے بعد مواد کو مرتب کر نے کا انداز بھی بہت لائق تحسین ہوتا ہے، نہ صرف یہ آئندہ چل کراردو زبان ، اسلامی تاریخ ، دین اسلام اور ملت بیضاء کے تحفظ کے لئے اپنی قلمی صلاحیتوں کو استعمال کرسکتے ہیں،بلکہ ان کا تحریری میدان میں بڑا رول ہوسکتا ہے ، عصری تعلیمی اداروں میں بھی اردو زبان کے مستقل شعبے ہیں، وہاں پر بھی بڑے تحقیقی اورتاریخی کام انجام دیئے جاتے ہیں ، اردو کی خدمت مختلف زاویوںسے ہوتی ہے ، تاریخ اسلام کو بڑی خوبی سے پیش کرتے ہیں، لیکن علماء کی عظیم ذمہ داری کے نتیجہ میں تحریرکی بڑی اہمیت ہوتی ہے ، تحریر کا اثر پائیدار اور خوب تر ہوتا ہے ،اس تناظر میں جب کہ مدارس اسلامیہ میں تحریری مقابلے منعقد کئے جاتے ہیں اور طلباء کی صلاحیتوں کو پروان چڑھانے کا کام کیا جاتا ہے اوریہ کام بڑی خوبی کے ساتھ کیا جاتا ہے، طلباء باصلاحیت بھی ہوتے ہیں، ان کا انداز تحریر بھی خوب ہوتا ہے ، لیکن ضرورت ان کی صلاحیتوں کو مزید نکھارنے اور اس تحریری خوبی کو جلا بخشنے کی ہوتی ہے ۔، تحریری میدان میں دوام واستقلال کی ہوتی ہے ۔
یہاں پرمیں چند حقائق اور تجاویز کو پیش کرنا چاہتا ہوں ۔
۱۔ جس طرح خطابت کا اثر ، اس کا دائرہ کاراور اس کی خوبی مسلم ہے، اس کی اثر انگیزی اپنی جگہ قائم ودائم ہے، کتابت وتحریر کا اثر بھی دور رس اورپائیدار ہوتا ہے ، یہ حقیقت ہے کہ تحریر کی پائیدای ، استقلال ، اس کی اہمیت وافادیت کے پیش نگاہ ہونے کے باوجود اس جانب اس قدر توجہ نہیں کی جاتی، جس قدر ا س حوالہ سے توجہ ، دلجمعی اور اعتناء کی ضرورت ہے ، اگر ہزاروں سالوں پر مشتمل کتابیں جن کا مطالعہ آج ہم کرتے ہیں،ان علماء ، فضلاء، محققین، مصنفین کی خدمات تحریری شکل میں مرتب ومدون نہ ہوتیں تو دینی علوم وفنون، اصلاح وارشاد، تاریخ وسوانح کے حوالے سے ان کی کتابوں کی آج ہم کہاں ورق گردانی کرتے ہوتے ؟ اس لئے تحریروکتابت کی اہمیت بھی اپنی جگہ مسلم ہے ، تاکہ ہم فارغین کی ایک بڑ ی تعداد تحریر وتصنیف سے اپنے آپ کو منسلک کرسکے، اپنی خوبیو ںاور صلاحیتو ں کو دوام او رہمیشگی بخش سکے، اپنی تدریسی، دینی، اصلاحی خدمات کے ساتھ اس میدان کو بھی اپنی خدمات سے تہی دامن نہ رہنے دے، ہوسکتا ہے کہ ہم میں سے کچھ کل اور مستقبل کے بڑے مصنف اور قلم کار ہوسکتے ہیں، جن کی تحریریں صدیوں تک قابل استفادہ ، لائق اعتناء سمجھی جاسکتی ہوں ۔
۱۔ یہ حقیقت ہے کہ ہندوستان کے سطح پر اردو صحافتی دنیا میں مدارس اسلامیہ کے فارغین کا بڑا کردار رہا ہے ، اس وقت بھی مدارس اسلامیہ کے فارغین کا ایک بڑا طبقہ اردوصحافت کے ساتھ لگا ہوا ہے، اردو صحافتی خدمت میں ہمہ تن مصروف عمل ہے ، سب سے پہلی بات تو یہ کہ مدارس اسلامیہ سے بڑے تعداد میں ماہنامے شائع ہوتے ہیں، جو ان کی اردو صحافتی خدمات کو سراہتی اور بتاتی ہیں، جن میں ار العلوم دیوبند،ندوۃ العلماء، مظاہر العلوم، شاہی مراد آباد، جامعہ نظامیہ اور دیگر بڑے چھوٹے مدارس میں بڑے پیمانے پراردو مجلات، جرائد اور ماہناموں کی اشاعت کا سلسلہ جاری ہے ، جن میں ماہنامہ دار العلوم، ماہنامہ شاہی مرآدآباد، ارمغان پھلت، تعمیرحیات،آئینہ دار العلوم، سہ ماہی بحث ونظر ، محدث عصر، اشرف الجرائد، پیام رحمانیہ ، ضیاء علم، ماہنامہ الفرقان،، ہفت روز ہ جمعیۃ ، سہ روزہ دعوت ،معارف دار المصنفین، پیام عرفات،مظاہر العلوم، آئینہ مظاہر العلوم، زندگی،ماہنامہ ندائے صالحین وغیرہ بڑے چھوٹے دیگر رسائل وجرائد کی ایک بڑی تعداد ہے ، جو اردو صحافت اور اسلامی اخلاق وروایات کے تحفظ میں ہمہ تن مصروف عمل ہے۔
۲۔ دوسری بات یہ بھی ہے کہ اس وقت فارغین مدارس کا نوجوان طبقہ خصوصا مضمون نگاری، تحریر نویسی ، کتابت وصحافت میں پیش پیش نظر آتا ہے ، یہ بڑی خوش آئند بات ہے ، یہ ان کے روشن اور تابناک مستقل کی علامت ہے اور یہ مدارس اسلامیہ سے فارغین کی علمی ، دینی، تحقیقی جستجو اور جدوجہد کا آئینہ دار ہے ، اس کہ اہمیت ا س لئے بھی بڑھ جاتی ہے کہ جس طرح خطابت اپنے اندر ایک تاثیر لئے ہوتی ہے ، قوموں کی رخ اور دھاروں کے بدلنے میں اپنا کردار ادا کرتی ہے ، تحریر بھی پیغام رسانی ، ابلاغی وترسیلی آلہ ہے جس کے ذریعہ سے دینی ، علمی ، تحقیقی ، تالیفی کاموں کے ذریعہ نہ صرف تاریخ ، روایات واقدار اور صحافت کو پروان چڑھایا جاسکتا ہے ، نسلوں کی تہذیب وثقافت ، ان کے تشخص کا تحفظ کیا جاسکتا ہے ، بلکہ قوموں کے افکار وخیالات میں انقلاب بپا کرنے کا ایک موثر اور کامیاب ذریعہ بھی تحریر ہی ہے ، آج بھی بڑے بڑے مصنفین اور محققین کی کتابیں درسیات میں پڑھائی جاتی ہے ، اشعار واخبار اور علوم وفنون سے معمور کتابیں ہاتھوں در ہاتھوں ہزاروں صدیوں سے لگاتار محفوظ ومامون ہیں، گردشِ زمانہ کی وجہ سے وہ ناپید نہیں ہوئیں۔
چونکہ ماہناموں مجلات وجرائد کی طباعت اوراس کی نشر واشاعت ایک بڑی محنت اور صرفہ کی طالب ہوتی ہے ، اس لئے نوجوان فضلاء کی اس وقت بڑی تعداد نے موجودہ ضرورت کے موافق سوشل میڈیا کے فلیٹ فارم سے ویٹ سائٹس کو فروغ دیا ہے ، جن میں سرفہرست، بصیرت آن لائن، ملت ٹائمز، عصر حاضر، فکر وخبر ، الہلال میڈیا، قندیل اورراہ اسلام ڈاٹ کام جیسے بے شمار سائٹس ہندوستانی کی سطح پر دینی ، وعلمی ، وصحافتی اور فکری کام کی انجام دہی میں رات ودن مصروف عمل ہیں ۔
ان سائٹس کا نقدی فائدہ یہ ہوتا ہے کہ ان کے ذریعے کسی بھی بات کو بغیر کل کے انتظار کے بر وقت شائع کرنے ، کسی بھی مضمون یا خبر کو فی الفور نشر کرنے میں یہ بڑے معاون اور مدد گار ہوتے ہیں ۔
اس کے علاوہ اس وقت ملک کے بڑے اخبارات میں مضامین کی ایک بڑی تعدادمدارسین کے فارغ کی ہوتی ہے ، جن میں مذہبی ، سماجی ، سیاسی، تاریخی ، ثقافتی مضامین شامل ہوتے ہیں ، خصوصا منصف ، سیاست، اردو ٹائمز ممبیء ، ممبیء اردونیوز، دہلی اکسپریس، اخبار مشرق، صحافت، ادوھ نامہ، ہمارا سماج، سیاسی تقدیر ، نانڈیزٹائمس، تہلکہ ٹائمز ، خبریں،کشمیر نیوز، صحافی دکن وغیرہ اخبارات کی ایک بڑی تعداد ہے ، جس میں دینی ، اصلاحی، اجتماعی، تاریخی، ثقافتی وسیاسی مضامین لکھنے والے مدارس عربیہ کے فارغین ہوتے ہیں۔
۳۔ آج اس وقت جب کہ ہمار ے مسلم سماج کی ایک بڑی تعداد خصوصا نوجوان نسل اردو زبان سے نابلد ہے ، جب کہ بزرگوں کی بڑی تعداد بلکہ پرانا عوامی طبقہ کی اردو زبان کے حوالے ان کی یہ صورتحال ہے کہ علاقہ اقبال وغیرہ کے اشعار ان کے زبان زد ہوتے ہیں، وہ بڑی سلیس، ستھری اور پیاری زبان بولتے ہیںاور اردو کی مہذب ، شائشتہ وششتہ زبان بولنے کو فخر سمجھتے ہیں، لیکن نوجوان نسل الا ما شاء اللہ یہ صورتحال ہے کہ ان کی اکثریت اردو زبان سے بالکل ناواقف ، اپنی مادری زبان سے کوسوں دوراور اپنی دینی زبان سے بالکل تہی دامن ہے ، ایسے وقت میں اردو زبان کے تحفظ کے حوالے سے فارغین مدارس کی اردو کی تعلیم وتعلم کے حوالے سے مکاتب ، مساجد اور مدارس میں چھوٹے چھوٹے کلاسوں کے ذریعہ اردو کے فروغ میں اپنی حصہ داری بڑ ی خوب تر بات ہے ، جس کو بلا جھجک تسلیم کرنا چاہئے۔
۴۔لیکن مدارس اسلامیہ کی ایک کمی یہ بھی ہے کہ ضرور ان کے یہاں دینی ماہنامے موجود ہیں، دیواری پرچوں کی شکل میں اردو زبان میں مہارت، رسوخ کے حوالے سے جدوجہد کی جاتی ہے ، لیکن اردو ادب کے حوالے سے حقیقی تعلیم، خارجی مطالعہ کی اہمیت پرزور، اردو زبان وادب کی راہ شناسی، رہنمائی، اردو ادیبوں کی کتابوں رہبری ، ادباء کا تعارف ، زبان کے معیار ، نشیب وفراز کے حوالے سے زیادہ شعور بہم نہیں پہنچایا جاتاہے، جس کو جستجو اور تلاش ہوتی ہے ، جس کو اردو زبان میں مہارت کا جذبہ اور ما فی الضمیر کی ادائیگی ، تحریر میں شائستگی اور خوبی پیدا کرنا ہوتا ہے ، وہ اپنی محنت وجستجو سے مطالعہ کر کے اپنے اردو زبان کتابت وتحریر کو فروغ دینے میں لگ جاتاہے، اس سے بالکل انکار نہیں ابتدائی اردو کی محنت برابر ہوتی ہے ، لیکن اردو زبان کی انتہاء اور آخری منزل تک طلباء کی رسائی کے لئے دار العلوم دیوبند میں شیخ الہند اکیڈمی ، معہد العالی الاسلامی کی طرح تحقیق وتخریج کے کاموں کی سخت ضرورت ہے، ورنہ علماء کا ایک طبقہ جو اردو زبان وبیان وکتابت پر کلی قدرت رکھتا ہے ، ان کے ذوق کو مہمیز نہیں کیاجاسکتا، ان کی رہنمائی اور رہبری نہیں کی جاسکتی ، ان کی تحریری صلاحیتیں ان کے اندر ہی دفن ہو کر رہ جاتی ہیں ۔
اس لئے طلباء مدارس اور اولیاء مدارس سے یہ گذارش ہے کہ طلبا ء اردوذوق نگارش کو دائمی اور ابدی طور پر باقی رکھنے پرزور دیا جائے ۔
۵۔یہ ایک حقیقت ہے کہ زمانے کے گذرنے کے ساتھ زبان وبیان میں تھوڑی سی تبدیلی اور تغییر ضرور آتا ہے ، ہر زمانے کی اپنی ضروریات ہوتی ہیں، اس کے پیش نظر گذشتہ تحریروں کو نئے انداز میں پیش کرنے کی ضرورت ہوتی ہے ، طلباء مدارس ، فضلائے مدارس کی ایک کمی یہ ہوتی ہے کہ یہ دینی واصلاحی اور سیاسی مضامین پر تو خوب لکھتے ہیں، لیکن سوانح اور تاریخ پر ان کی نگاہ کم ہوتی ہے ، حالانکہ سوانح اور سیر پائیدار، پائندہ اور زندہ ہوتے ہیں، سوانح نگاری کی شکل میں قوموں کی تاریخ ، ان کے اثاثے اور ان عروج وزوال کی کہانیوں کو محفوظ کیا جاتاہے ۔
اس لئے سوانح نگاری، تاریخ نگاری پر زیادہ زور دیاجائے ، صرف انہیں اسلامی مضامین کو بار بار ہر سال کے آنے پر اسی کو لکھتے رہنا وقتیہ ضرورت تو ہوسکتی ہے ، لیکن اس کا نفع دیر پا اور پائیدار اور مستقل نہیں ہوتا، کالج اور یونیورسٹیوں میں عموما، کتابوں کے تعارف، مصنفین کے احوال، ان کے کارناموں ، قوموںاور ملکوں کی تاریخ ، سوانح حیات جیسے موضوعات پر کام کئے جاتے ہیں، دارالمصنفین کی کتابوں کی مقبولیت کی وجہ یہ ہے کہ یہ عربی مصادر کے ساتھ قوموں ،ملکوں ، نسل انسانیت کی عروج وزواج کی تاریخ کو بتاتی ہیں، سوانح وسیر اور تاریخ نگاری کی شکل میں بھی دین کی تبلیغ وترویج، اصلاح وارشاد کا کام بڑی خوبی سے انجام دیاجاسکتا ہے ۔
خود علماء دیوبند میں مولانا اسیر ادروی ، مولانا اطہر مبارکپوری ، مولانا عبد الماجد دریا بادی، علامہ سید سلمان ندوی ، مولانا رضوان قاسمی، مولانا تقی عثمانی ،مولانا نور عالم خلیل امینی، مولانا خالد سیف اللہ رحمانی وغیرہ کی کتابوں کو بنظر تحسین اس لئے دیکھا جاتا ہے ، ان کی ساری کتابیں اصلاح وارشاد ، دینی تبلیغ ، پیغام وحق صداقت کی نشر واشاعت کے لئے سوانح نگاری، سیرت نگاری، ملکوں اور قوں کے حالات اور تاریخ پر زیادہ توجہ دیتے ہیں ۔، تحریر کا کمال یہ ہے کہ جب اس کی چاشنی اور لذت ہر خشک وتر ہر مضمون کے لکھنے کے وقت میں اس کی وہی تازگی باقی وبرقرار رہے ، جو بہت سارے موجودہ علماء کی تحریروں میں بھی نظر آتی ہے ، کہ ہر وقت جب بھی فقہ، حدیث، تفسیر، علوم تاریخ جس پر بھی خامہ فرسائی کرتے ہیں، زبان کی چاشنی اور لذت ان کے قلم سے جدا نہیں ہوتی ہے ، جو قاری کو اکتاہٹ سے بچا کر اس کو ہمہ تن تحریر میں مشغول کئے رہتی ہے، یہ وہ تحریری لیاقت ہوتی ہے جو دلو ں کو موہ لیتی ہے ، قاری کی توجہ کومبذول کرنے میں کامیاب ہوتی ہے، بسااوقات مواد کے نہ ہوتے ہوئے بھی بعض تحریروں میں الفاظ کی بندش ، پیشکش کا طریقہ،بات کو کہنے کاسلیقہ اس طرح ہوتا ہے ، صرف الفاظ کی خوبی میں الجھ کر انسان کر انسان مواد کے نہ ہونے کے باوجود اس تحریر کے پڑھنے پر مجبور ہوجاتا ہے ، اس کی کہ تھوڑی سی بات کو بڑی انداز میں پیشکش کی صلاحیت اس کاتب میں موجود ہوتی ہے ۔
اس کا مقصد یہ نہیں قرآن، حدیث، تفسیر، فقہ ، ادب پر کچھ نہ لکھا جائے ، ضرور لکھاجائے ، لیکن اس کے ساتھ ساتھ قرآن کی تدوین وتاریخ، حدیث کی تدوین وتاریخ ،مفسرین ومحدثین کی سوانح نگاری، تفسیری کتابوں کا تعارف، ان کا مجموعی تجزیہ ، فقہی کتابوں کا تعارف، ان کے مشتملات پر بحث اور موجودہ ضروریات کے تقاضے ،بزرگان دین ، اسلاف امت کی سوانح نگاریاں ، ان کے ملفوظات وارشادات، زرین أقوال کی ترتیب ، ادب زبان کی تاریخ اور بدلتے حالات میںزبان وادب کے مزید تقاضے اس قسم کی تحریروں میں جدت ہوتی ہے ، اس لئے تحریر نگاری، تصنیف وتالیف پر ہی نہیں بلکہ ان جیسے ہر موضوع کے اہم اور تاریخی وسوانحی گوشوں کو بیان کرنے کی بھی ضرورت ہے ، جس کے ذریعہ سے کام میں جدت اور خوبی آسکتی ہے ۔
اکثر تحریری مسابقوں میں جو حیدآباد کی سطح پر مدارس اسلامیہ میں منعقد ہوئے یہ بڑی خوش آئند بات تھی کہ حالات او ر عصری تقاضوں کی روشنی میں مسابقاتی عنوانات طلباء کو فراہم کئے گئے ، جس پر طلباء نے خوب لکھا، لیکن مزید ان کی ہمتوں کو مہمیز دینے اور صلاحیتوں کو پروان چڑھانے، تحریر کی اہمیت اور اس کی پائیداری کو بیان کرنے ، لکھنے پڑھنے کے مواقع فراہم کرنے اوراس طرح کے اعلی تحقیقی وتصنیفی اداروں کی قیام کی ہے ، جس سے بڑے پیمانے پر تحقیق ، تخریج اور تصنیف کے کارہائے نمایاں انجام دیئے جاسکیں ۔