Wed, Feb 24, 2021

ملک کوبچاناہوگا،سب کوآگےآناہوگا
دوسری قسط

از: مفتی صدیق احمد جوگواڑ نوساری گجرات انڈیا
موبائل نمبر: 8000109710
shaikhhsiddique@gmail.com

جیسا کہ آپ حضرات بخوبی واقف ہوچکے ہیں ملک کتنے سنگین حالات سے گزر رہا ہے،کالے قانون کے خلاف تقریباملک کے گوشے گوشےاورہر چھوٹے بڑے علاقے میں احتجاجی مظاہرے کافی دنوں سے جاری ہیں،ایک اندازے کےمطابق 160جگہیں تھیں، لیکن آئے دن بڑھتی گئیں ،اوراب تو اسکی تعداد اس سے بھی تجاوز کر چکی ہے،ہماری مائیں بہنیں سخت سردی کے باوجود نرم ونازک بستر چھوڑ کر احتجاجی مورچہ سنبھالے ہوئ ہیں،بچے بچیاں بھی اس میں شریک ہیں، اورہمارے بھائ بھی بلاتفریق مذہب وملّت مسلسل ہر طرح کی قربانی دے رہے ہیں،چونکہ ملک کاآئین خطرے میں ہے،ملک کی اقلّیت کامستقبل خطرے میں ہے،موجودہ حکومت ملک کو برباد کرناچاہتی ہے،ہندوتواذہنیت رکھنے والے لوگ اقتدار پر قابض ہیں،جوملک میں نفرت کازہر گھول کر لوگوں کو کبھی مذہب کے نام پر،کبھی پاکستان اور کشمیر کے نام پر لڑانا چاہتے ہیں،حالانکہ اقتدار پر قابض لوگوں کی ذمہ داری تھی کہ وہ ملک کی حفاظت کرتے ،لیکن آج معاملہ بر عکس نظر آرہاہے، طلبہ ملک کی حفاظت کے لیے سڑکوں پر آچکے ہیں،اور جان ومال کی پرواہ کیے بغیر صدائےاحتجاج بلند کیے ہوئے ہیں،ظالم پولیس کےڈنڈے کھاکر،اقتدار کے نشے میں چورحکومت اوراسکےحمایتی کے کڑوی کسیلی اورتوہین آمیز کلمات سن کر آئین کوبچانے میں لگے ہوئے ہیں،اورملک کی بقا کے لیےجیل کی صعوبتیں بھی برداشت کرنے سے پیچھے نہیں ہٹتے نظر آرہے ہیں،بلکہ ایک ساتھ ڈٹ کر کھڑےہوئے ہیں، اور اب تک ایک بڑی تعداد ملک کی خاطر اپنی جان نچھاور کرچکی ہے.
افسوسناک صورتحال تو یہ ہےکہ جن غنڈے نما پولیس نے ان پر گولی چلائ تھی انکے خلاف کوئ کارروائ نہیں ہورہی ہے،بلکہ الٹا مظاہرین پر ہی مظالم ڈھائے جارہے ہیں، اوران کے خلاف ہی ایف آئ آر درج کی جارہی ہے،جس پر یہ محاورہ صادق آرہا ہے”الٹا چُور کوتوال کوڈانٹے”.
21 جنوری کو لکھنؤ میں بھی ایسا ہی معاملہ پیش آیا،18مظاہرین پر ایف آئ آر درج کی گئ، اور اسی دن وارانسی میں CAA سے نجات کے لیے مذہب تبدیل کرنے کا متنازعہ پوسٹر لگایا گیا،لیکن اس معاملے پر کوئ کارروائ نہیں ہوئ.
روزانہ بی جی پی آرایس ایس اور انکی ذیلی تنظیموں کےکارکنان اشتعال انگیز بیانات دے کر ملک میں نفرت کازہر گھول رہے ہیں،آئین کے محافظوں کے لیے کبھی “غدّار وطن “کبھی”دہشت گرد”اور نہ جانے کتنی بُرےبُرےالفاظ استعمال کر رہےہیں،انکے خلاف کارروائ تو درکنار،اب توحکومت کوانکی مذمّت کرنے میں بھی ہچکچاہٹ محسوس ہوتی ہے،ظاہر سی بات ہےجب مودی یوگی اور امت شاہ جیسے لوگ ہی خود نفرت انگیز بیانات دیں گے،اوران کے حمایتی نیتابےجاالزام تراشی کریں گے،ہندو مسلم کی سیاست کھیلیں گے،توکہاں سے دوسروں کو روکیں گے؟
حالانکہ ملک دنیا بھرمیں بدنام ہوچکا ہے،سرکار جھوٹے دعوے،نفرت کی سیاست،اورآئین کے خلاف قوانین بنانےمیں مسلسل لگی ہوئ ہے،آئے دن بی جی پی آرایس ایس اوراسکی ذیلی تنظیمیں اپنے زہریلے بیانات سے ملک کی رعایاکومشتعل کر رہی ہےاور رعایا کے جذ بات سے کھلواڑ کر رہی ہے،نسل نَو کودہشت گردی پر اُکسارہی ہے،انکےذہن ودماغ میں نفرت کابیج بو رہی ہے،اورہندوتواذہنیت کے حامل شدّت پسند لوگوں کے نظریات سے اختلاف رکھنے والوں کوغداروطن کاتمغمہ دے رہی ہے،جیساکہ آپ مفصل پڑھ چکے ہیں کہ کس طرح کی ناپاک سازشیں اورکھلم کھلاغنڈہ گردی کی جارہی ہے،اورکالے قانون کےنقصانات بھی جان چکے ہیں،معیشت کی تباہی، اورملک کی صورتحال سے بھی آپ واقف ہوچکے ہیں،اقوام متحدہ سمیت متعددایجنسیوں نے جی ڈی پی کے نمو کوکم کردیا ہے،جو کہ اب6 فیصد سے4.8 پر پہنچ چکی ہے.
ایسے سنگین ترین صورتحال میں بھی رعایانے امن وامان برقراررکھا،جبکہ ہندوتواشدّت پسند تنظیمون نےعلی الاعلان غنڈہ گردی کرکےحیوانیت کاثبوت پیش کردیا،اوررعایاکے جذبات سے کھلواڑ کرنے، انکوکسی بھی طرح اکسا کر پھنسانے کی کوشش کی،لیکن وہ اب تک کامیاب نہیں ہوسکے اور نہ ہی کبھی کامیابی انکے ہاتھ آئے گی ان شاءاللہ.
سیکولراورامن پسند ملک کی محافظ رعایا کوملک کی سب سے بڑی عدالت سپریم کورٹ پر اعتماداوربھروسہ تھا،اورکچھ امیدیں وابستہ تھی کہ وقتی طور پر تو اس کالے قانون پر روک لگاہی دیا جائے گا،کیونکہ سپریم کورٹ میں اس بل کے خلاف 144عرضی داخل تھی جس پر 22 جنوری کو سماعت ہونا طے تھا،چونکہ CAA قانون آئین کے خلاف ہے،اس لیے سب کی نظر عدالت پرٹکی ہوئ تھی، لیکن ابھی چند ہی مہینوں میں رعایا کو تیسری مرتبہ فیصلے سے مایوسی ہوئ،واضح ہوکہ اس سے پہلےبابری مسجد اور کشمیر کے معاملے پرخلاف توقّع فیصلہ آنے سےکہیں نہ کہیں مایوسی پہلے سی ہی تھی،لیکن یہ قانون بنیادی حقوق کو چیلینچ کرتا ہے،اسلیےلوگ پُرامید تھے،22 جنوری کو کورٹ نےاس معاملے پر کوئ فیصلہ لینےاوراس پرفوری رُوک لگانے سے بھی انکار کردیا،اورمرکزی حکومت سے 4ہفتے میں جواب مانگا.
اب اس کے بعد سے بی جی پی آرایس ایس کے نیتاؤں کے زہریلے بیانات کاسلسلہ مسلسل شروع ہوا،کبھی احتجاجی مظاہرین کےخلاف،کبھی خاص مسلمانوں کے خلاف،ان پر الزام عائد کرکےبدنام کرنے کی کوشش میں مصروف ہوگئے،ایسا لگتا تھا کہ شایدان شر پسند عناصر کویکے بعد دیگرےزہریلے بیانات دینے کی ٹریننگ دی گئ ہو،لیکن پتہ نہیں حقیقت کیاہے؟
22 جنوری کوہی بی جی پی لیڈر رینو کاچاریہ نے کہا “مسلمان مسجدوں میں رکھتے ہیں ہتھیار دکھاؤں گاان کی جگہ”جب کہ بی جی پی اورآرایس ایس کے لوگوں سے ہی کئ بار ہتھیار برآمد ہوچکے ہیں،یہ کوئ نئ بات نہیں ہے،بلکہ بی جی پی آرایس ایس کی شروع ہی سی عادت رہی ہے کہ وہ ہندو مسلم کی سیاست کھیلتے ہیں،اورایسے زہریلے بیانات گاہے بگاہے دیتے ہی رہتے ہیں،چونکہ انکے خلاف نہ ہی ایف آئ آر درج ہوتی ہے،اور نہ ہی کوئ کارروائ،اوراگر کوئ انکےجواب میں تھوڑاجذباتی ہوکر کچھ بول دیتا ہےتو فورًا ان کوگرفتار کرلیاجاتاہے.
اس درمیان حکومت نے یہ پروپیگینڈہ پھیلاناشروع کیا کہ ملک کےناواقف لوگ اس بل کی مخالفت کر رہے ہیں،حالانکہ ملک کے سارے پڑھے لکھےاورسیکولر لوگ ہی اسکے مخالف ہیں،وکلاء بھی سڑکوں پر آگئے،اب تو یہ پرپیگینڈہ کامیاب نہ ہوسکا،توبی جی پی نےیونیورسیٹیوں کو دہشت گردی کااڈہ قراردیا،پھر بھی بات نہ بنی توامت شاہ نے چیلینچ کیا کہCAA شہریت دینے کاقانون ہے لینے کانہیں اس پر بحث کے لیے میں تیار ہوں،لیکن جیسے ہی مایاوتی نے اس چیلینچ کو قبول کیا تو اس کاچرچہ ہی ختم ہوگیا،یاد رہے “ملک مودی یوگی اورامت شاہ کی مرضی سےنہیں چلے گا بلکہ ملک آئین سے چلے گا”.
اس معاملے کوابھی ایک ہی دودن گزرے تھےکہ24 جنوری کو کپل مشرانے شاہین باغ کو”منی پاکستان کہا”حالانکہ شاہین باغ والےملک کےآئین کے محافظ ہیں،بلاتفریق مذہب وملت ڈٹےہوئے ہیں،جیسا کہ آپ کو تجربہ ہوچکا ہوگا کہ بی جی پی کےپاس کوئ مدعی نہیں ہے،اسلیےہر بات پر،ہندومسلم،اورپاکستان کانام لیتے ہیں،اورہرمعاملے کوہندومسلم کارنگ دے کر ہمارے سیکولر غیرمسلم بھائیوں کوبدظن کرتے ہیں،اورآپس میں دراڑ پیداکرنے کی کوشش کرتے ہیں،لیکن اس شخص کے خلاف بھی کوئ کارروائ نہیں ہوئ.
ادھر احتجاجی مظاہرے میں شریک ہونے والوں کو کبھی پولیس تشدد کرکےپُرامن مظاہرے کوخراب کرنے کی کوشش کر رہی تھی،اورکبھی آرایس ایس کے غنڈے خفیہ طورپر احتجاجی مظاہرے میں پرامن جاری مظاہرےکوپُرتشددبنانےاورپھر مظاہرین کو ظلم وتشدد کانشانہ بنانے کےلیے موقع کی تلاش میں رہتے تھے،اوربہت سی جگہوں پر اس طرح کرکے مظاہرے کو بدنام کرنے کی ناکام کوششیں کی گئیں،لیکن مظاہرین کی تعداد آئے دن بڑھتی جارہی تھی،ہر طبقے کے لوگ اس میں شامل ہورہے تھے،اب تک یہ طریقہ بھی اختیار کیا جاچکاتھاکہ جہاں مظاہرہ ہوتا دفعہ 144لگا کر وہاں کے لوگوں کوگرفتار کرلیا جاتا،اس درمیان جتنے بھی تشدد ہوئے پولیس نے ناحق مظاہرین پر تشددکیا،اترپردیش میں توعوامی ملکیت کوبھی نقصان پہنچایا،گھروں میں گھنس کر لوگوں کو گرفتار کیاگیا،لوگوں کوہراساں کیاگیا،بعض جگہوں پر دُکان میں گھنس گئے اور کیمرے توڑکر دکان کو نقصان پہنچایا،اس پر توکوئ کارروائ نہیں ہوئ،بلکہ ستم بالائے ستم یہ ہے کہ یوگی حکومت نے اعلان کیا کہ جونقصانات ہوئے ہیں لوگوں سے اسکاجرمانہ وصول کیاجائے گا،اورپولیس کوپوری چھوٹ دیدی جسکا انھوں نے ناجائز فائدہ اٹھایا،ابھی اس ظلم وتشددکوکچھ ہی دن گزرے تھے کہ حکومت کےحامی 154لوگوں نے صدر جمھوریہ سے اپیل کی کہ تشدد کرنے والوں پر کارروائ ہو،کتنی افسوسناک بات ہے کہ” اُلٹاظالم مظلوم کےخلاف کارروائ کا مطالبہ کررہا ہے”،اور محض حکومت کی حمایت میں آئین کو بالائے طاق رکھ کر” آئین کے محافظ کوتشدد کرنے والاقرار دے رہاہے،یہ کہاں کا انصاف ہے؟”
چنانچہ 25جنوری کو راجستھان میں بھی CAA کے خلاف قرارداد کومنظوری ملی ،واضح ہو کہ اس سے پہلے کیرلا،پنجاب ،بنگال میں بھی اسکےخلاف قرارداد کومنظوری مل چکی تھی.
اب جبکہ تمام خفیہ سازشیں ناکام ہوگئیں، تو 25 جنوری کوایک صحافی شرجیل امام کو انکے کسی بیان کی وجہ سے گرفتار کرلیا،اور اُنھیں گرفتار کرکےمظاہرے کاماسٹرمائنڈقراردیا،اوریہ گرفتاری سمبت پاتراکے اسکےخلاف ویڈیو جاری کرنے کے بعدہوئ تھی،دیکھا آپ نے ایک طرف بی جی پی کے لوگ اشتعال انگیز بیان دے رہے ہیں ان پر شکنجہ نہیں کسا جارہا ہے،اوردوسری طرف بیان کے دوران تھوڑاساجذباتی ہونےپرفورًاگرفتارکرلیاجاتاہے.
اسکے بعدمظاہرہ کانیااندازشروع ہوابہار میں لوگوں نے اس سیاہ قانون کے خلاف انسانی زنجیر بناکر مظاہرہ کیا،اور یہ سلسلہ مختلف جگہوں پر چلتارہا،جواَب تک جاری ہے،اورآئندہ بھی اس کالے قانون کی واپسی تک جاری رہے گا.
اُدھرکشمیر میں 370 کے خاتمہ کے بعد سے کشمیری عوام میں عدم اعتمادپیداہواہے جوآئے دن بڑھتا جارہا ہے،وہاں کی معیشت تباہ ہوچکی ہے،اب حکومت پوری ملک میں کشمیر جیسی صورتحال پیداکرنا چاہتی ہے،حکومت لوگوں کو انکے معاملات میں اُلجھاکر اپنامنظّم منصوبہ پوراکرنا چاہتی ہے،اوراِن دنوں کشمیر کے حالات پر زائرہ وسیم نے ٹویٹ کیا ہے جس سے وہاں کے حالات کااندازہ لگایاجاسکتاہے”کشمیر لگاتارپریشان ہورہاہے،اورامیدوجھلاہٹ کے درمیان جھول رہاہے،بڑھتی تفریق والی اس جگہ پرامن وامان کاجھوٹا پڑوپیگینڈہ کیاجارہاہے،کشمیری لگاتارایک ایسی دنیامیں رہنے اورپریشان ہونے پر مجبور ہیں جہاں آزادی پر پابندیاں لگانابہت آسان ہوکر رہ گیا ہے”.
ملک بھر میں ہر طرف مظاہرے کاسلسلہ جاری ہے،ملک سے لیکر بیرون ممالک میں بھی مظاہرے ہورہے ہیں،یورپی پارلمینٹ میں CAAختم کرنے کی اپیل بھی داخل ہوئ ہے،لیکن حکومت کے سرپرجوں بھی نہیں رینگ رہی ہے،حکومت جوں کاتوں اپنے موقف پر اٹل ہے.
26جنوری کو پورے ملک میں بڑے جوش وخروش سے یوم جمھوریہ منایا گیا،اورشاہین باغ میں انوکھے اندازمیں یوم جمھوریہ کی تقریب کاانعقادہوا،آئین کی تمہید پڑھی گئ،اور کالےقانون CAA کی مخالفت میں اُترے300 فلمی اداکار،انڈین کلچرل فورم کے بینچ سے دستخط کرکے مخالفت کی،اورلوگوں نے بھی احتجاجی مظاہرہ بڑے جوش وخروش اورجذبہ وہمت کے ساتھ جاری رکھا.
آسام میں اسی دن چار بم دھماکے ہوئے،جسکی کسی نے ذمہ داری نہیں لی،بم دھماکے اورکھلم کھلاتشدد کےاتنے زیادہ واقعات اِس سے پہلے نہیں دیکھے گئے،یہ سب اُس زہرکانتیجہ جو میڈیااورسیاسی لوگوں کے ذریعے رعایاکے دل ودماغ میں گھولاجاتارہاہے،یہ بات تو عام ہے کہ”جھوٹ اتنابولو کہ ایک دن سچ مشکوک ہوجائے اورلوگ جھوٹ کوسچ سمجھنے لگے”.
یہاں بھی میڈیاکے ذریعے سیاست کےلیے جھوٹ اتنابولاگیا،نفرت اتنی پھیلائ گئ کہ لوگ آپس میں ہی دست وگریباں ہوگئے،اب حکومت سے سوال کون کرے گا؟بس جومن میں آئے گاحکومت کرتے رہے گی.
مودی نے من کی بات میں کہا کہ “تشدد کسی بھی معاملے کاحل نہیں “.
اب سوال یہ ہے کہ مظاہرہ کرنےوالے تشدد کرنے والے کب سے ہوگئے؟ اصل تشدد کرنے والے لوگ توآپ ہی کی پارٹی کے لوگ ہیں، اُنھیں سمجھائیے،جسکی مثال آپ خوددیکھ سکتے ہیں،آج کے دن ہی امت شاہ دہلی میں ایک چناؤی ریلی میں خطاب کر رہے تھے کہ “آپ ووٹ کے بٹن اتنی تیزی سے دباؤ کہ اسکے کرنٹ شاہین باغ میں لگے”.
آپ سوچ سکتے ہیں بی جی پی کے لوگ کتنی گِری ہوئ سیاست کر رہی ہیں،ایسالگتا ہے کہ درپردہ شاہین باغ کے لوگوں کے خلاف عوام کو بھڑکارہے ہیں،اس ریلی میں ہی ایک شخص نے CAAکی مخالفت کانعرہ لگایااوربل واپس لینے کامطالبہ کیا،لوگوں نے اُسے لوہے کی کرسی سےمارناشروع کردیا،پھر اسے سیکوریٹی کےحوالے کیاگیا،آپ خود سوچ سکتے ہیں کہ تشددکرنے والےکون لوگ ہیں؟اورکن لوگوں کے بیان کی وجہ سےتشدد کر رہےہیں؟
یاد رہے ملک کی سرکار کاکام “لوگوں کو پریشان کرنا نہیں بلکہ جمھوریت کو مضبوط کرناہے”.
اگر جمھوریت مضبوط نہ ہوئ تونقصان تمام سیکولر لوگوں کا ہوگا،پوراملک برباد ہوجائےگا،اسلیےملک کوبچاناہوگا،سب کوآگےآناہوگا.
راحت اندوری صاحب نےکیاہی خوب کہاہے؛

لگے گی آگ تو آئیں گے گھر کئی زد میں
یہاں پہ صرف ہمارا مکان تھوڑی ہے
سبھی کا خون ہے شامل یہاں کی مٹی میں
کسی کے باپ کا ہندوستان تھوڑی ہے​