Thu, Feb 25, 2021
وفا کے لہو سے سجا ہے حسنِ وطن کا شوروغوغا
 محمد مجیب الرحمن تمیم
 ہندوستان، بھارت، انڈیا بقعہ ارضی کا ایسا خطہ جہاں حلقہ بگوشانِ اسلام فاتحانہ آئے ہیں اور شاہانہ زندگی بسر کی ہے، شاہان غلام نے پچاسی برس، خلجیوں نے تینتیس برس، تغلقوں نے ترانوے برس، لودھیوں نے چہتر برس، سوریوں نے پندرہ برس اور مغلوں کی شکل میں سواتین سو برس فرماں روائی کی ہے۔
لیکن سولہویں صدی کے اواخر میں اس عظیم الشان سلطنت مغلیہ کا چراغ اچانک ٹمٹمانے لگا اور سفید فاموں کا تجارتی قافلہ خاردار شکنجہ میں تبدیل ہوگیا، ایسٹ انڈیا کمپنی ایٹم بم کی شکل اختیار کرچکی اور ہندوستانیوں کا خون ان کے پسینے سے ارزاں ہونے لگا، خاندان مغلیہ کے مسلم حکمرانوں نے جس وطن کو آپسی یگانگی، باہمی رواداری، ہندومسلم بھائی چارگی کے نفیس جذبات سے سینچا تھا وہی ملک غلامی کا طوق سلاسل پہننے پر مجبور ہوگیا، مسلمانوں کی اس عظیم حشمت وسطوت کے تارپود بکھیردیے گئے، ستم ظریفی وجاں کنی کا وہ دور جہاں سے مسلمانوں کی دینی وملی زندگی کے اضمحلال کا آغاز ہوگیا،
اب کوئی انصاف کی عینک لگاکر اس چشم کشا تاریخ کو پڑھے اور پھر یہ کہے کہ اس برطانوی استعمار پر مسلمانوں کو دوسروں کی بنسبت غم کچھ کم تھا اور فکر مآل میں وہ غیروں سے کم بے چین تھے تو یہ تاریخ کا خون اور چشم کشا حقائق سے سرمو انحراف ہوگا کیونکہ ایسے جاں بلب ماحول میں انگریزوں کے خلاف کفن بردوش ہوکر صدائے جہاد بلند کرنے والے، تلواروں کے سایوں میں، بندوقوں کے نشانوں میں، توپوں کے دہانوں میں اور بموں کی جھنکاروں میں سربکف یہ آواز لگانے والے کہ ہندوستان ہماراہے، کوئی اور نہیں بلکہ مسلمانان ہند اور حلقہ بگوشان اسلام تھے؂
مٹی کی محبت میں ہم آشفتہ سروں نے
وہ قرض چکائے ہیں جو واجب بھی نہیں تھے
   آزادی کی دو سوسال پر محیط داستان الم جس میں انگریزوں نے ضرب وقتل اور کشت وخون کا وہ انسانیت سوز کھیل کھیلا جس کے محض تصور سے جسم کا رواں رواں کانپ اٹھتاہے، یہ وہ لرزہ خیز اور کرب انگیز سماں تھا جس میں مسلمانوں نے زندگی کی جگہ موت، عیش وسلامتی کی جگہ اضطراب وبے چینی، تغمہ نشاب کی جگہ فغاں ماتم، آبِ حیات کی جگہ زہر ہلاہل اور بستیوں کی جگہ قبریں بننا گوارا کیا، مردوں کو زندہ کیا، زندوں کو جگایا، جاگے ہوؤں کو کھڑاکیا، بےہوشوں کو سنبھالا، سنبھلے ہوؤں کو خبردار کیا، مردہ جذبات کو حیات بخشی اور بلا آخر ۱۵؍ اگست تاریخ ہند کا وہ حسین دن قرارپایا جس کا ماہتابِ نیم شب باشندگان ہند کیلئے برطانوی سامراج سے آزادی کی نوید مسرت لے کر جلوہ گر ہوا؂
جب پڑا وقت گلستاں پہ تو خوں ہم نے دیا
جب بہار آئی تو کہتے ہیں تیرا کام نہیں
     واہ کہیں یا آہ بھریں ان کی عظیم قربانیوں پر۔!
آج مسلمانوں کی یہ بےمثال قربانیاں تاریخ کی کتابوں سے لے کر عجائب گھروں تک، سرکاری دستاویز سے لے کر اسکولی نصاب تک ہر گوشہ سے گوشہ گمنامی میں ڈھکیل دی گئی ہیں، مسلم نوجوانوں کے خون ریز معرکوں کی کہانیاں، علماء وزعماء کے تحریکوں کی نشانیاں تاریخ کے پنوں سے مٹائی جاچکی ہے، آزادی کے بعد بھارت کے ان سچے سپوتوں کی جہد مسلسل اور سعی پیہم کو قصہ پارینہ بنادیاگیاہے۔
 بہادر شاہ ظفر جو پہلی جنگ آزادی کے پیشواتھے، جنہوں نے دنیا کی سب سے بڑی سلطنت سے لوہالیا تھا، جنرل بخت خاں آخری مغل تاجدار جن کی فوجی قیادت نے انگریزوں کے دانت کھٹے کردیے تھے، نواب سراج الدولہ جنہوں نے سب سے پہلے فرنگیوں کے خلاف علم بغاوت بلند کیا، شیر میسور ٹیپو سلطان جنہوں نے ہزاروں ظالموں کو تہہ تیغ کیا، لکھنؤ کی بیگم حضرت محل جو اخیر تک اودھ کو غیر ملکی قابضوں سے بچانے کی کوشش میں لگی رہی، کانپور کی کم سن طوائف عزیزن جس نے کانپور میں انگریزوں کے خلاف بغاوت کے شعلوں کو ہوادینے کا کام کیاتھا، مولوی باقر جنہیں صحافیانہ حق گوئی کی پاداش میں پھانسی پر چڑھایاگیا، تاریخ نے ان سورماؤوں کو فراموش کردیا ہے، شاہ عبد العزیز علیہ الرحمہ کے اس فتوے کا تذکرہ کہیں نہیں ملتا جس نے ایک برق بے اماں بن کر انگریزوں کے پرخچے اڑادیے تھے، 
یہ کوئی نہیں جانتا کہ ۱۸۵۷ء میں شاملی کی دھرتی ہزاروں حفاظ وعلماء کے خون سے لالہ زار ہوئی، اسی سال دولاکھ مسلمانوں اور اکیاون ہزار علماء کی شہادت، حضرت نانوتوی کا قیام دارالعلوم، شیخ الہند کی تحریک ریشمی رومال، عبید اللہ سندھی کی جمیعۃ الانصار، شیخ الاسلام کی جمیعۃ العلماء اورہندوستان چھوڑوتحریک، ابوالکلام آزاد، محمد علی جوہر، فضل حق خیرآبادی، عبد الباری فرنگی محلی، عبد الماجد بدایونی، شوکت علی اور ہزاروں لاکھوں مسلم علماء اور زعماء جو جوش آزادی میں سرمست، جذبہ شہادت سے سرشار سربکف سینہ سپر ہوکر انگریزوں کے خلاف نبرد آزما اور صف آراء رہے، جنہوں نے اس ملک پر ہونے والی ہر باد سموم سے رسا کشی اور پنجہ آزمائی کر کے اس ملک کی حریت کو بحال کیا، آج تاریخ ان کے تذکرے سے خاموش ہےتو کیوں کر؟
اسیر مالٹا محمود حسن دیوبندی کی قربانیاں مالٹا کی کال کوٹھریوں ہی میں کیوں رہ گئی۔؟
آزادی کی خاطر کنپٹی پر گولی کھانے والے قاسم نانوتوی کا تذکرہ شاملی ہی میں دفن کیوں ہوگیا۔؟
عطاء اللہ شاہ بخاری کا جذبہ شہادت میاں نوالی اور سکھر کے جیلوں میں ہی کیوں قید ہے۔؟
کیا حضرت مدنی کا اپنی زندگی جیلوں کی نذر کرنا کوئی معنی نہیں رکھتا۔؟
کیا معرکۂ بالاکوٹ میں شاہ اسماعیل شہید اور حافظ ضامن شہید کی وفات کچھ نہیں؟
جزائر انڈومان اور کالا پانی کی کرب انگیز سزائیں اور وحشت ناک کشت وخون کی کوئی اہمیت نہیں؟
علماء دیوبند ہی نے نہیں بلکہ دیگر سنی اور شیعہ علماء نے بھی ناقابل فراموش خدمات انجام دی تھیں، ان سب سپوتوں کو دانستہ طور پر فراموش کیا جاچکاہے، حد تو یہ ہے کہ اسکول کے نصاب میں جو کتابیں پڑھائی جاتی ہیں اس کے ذریعہ نئی نسل کے ذہنوں پر یہ مہمیز لگائی جاتی ہے کہ ملک کو طوق غلامی سے نکالنے میں غیر مسلموں کا کردار بہت زیادہ اور مسلمانوں کا بہت کم ہے، اس کے برخلاف غیر مسلموں کی ایک لمبی فہرست شمارکی جاتی ہے، تف ہے ان مسلم اساتذہ پر جو مسلم طلباء کو غیروں کا من گھڑت تاریخی نصاب فخر سے پڑھاتے ہیں اورخود بھی حقیقی تاریخ سے نابلد ہوتے ہیں، اس جارحانہ پالیسی اور بدبختانہ کارستانی پر خون کے آنسو نہ روئیں تو پھر کیا کیا جائے،
“کاش گاندھی جی کے اس جملہ کو تو یادرکھاجاتا کہ اگر شیخ الہند اور شیخ الاسلام نہ ہوتے تو ہندوستان
کبھی آزاد نہ ہوتا ‘‘ ان سب کی خدمات بس ایک قصہ پارینہ بن چکی ہے ان کا ذکر تاریخ کے صفحات میں کہیں نہیں ملے گا، یہ تاریخ کا خون ہے اور ہندو مسلم اتحاد پر کلنک ہے، 
خدارا! ہند کے ان سورماؤوں سے احسان فراموشی نہ کی جائے، بلکہ یادرکھاجائے کہ آزادی کیلئے علماء اور مسلمانوں نے جتنا خون بہایاہے غیروں نے اتنا پسینہ بھی نہیں بہایاہے؂
ہم آتش سوزاں میں بھی حق بات کریں گے 
کندن کی طرح دہر میں تابندہ رہیں گے
ہمیں تاریخ بتاتی ہے ہر دور ستم میں
ہم زندہ تھے، ہم زندہ ہیں، ہم زندہ رہیں گے