Tue, Mar 2, 2021

محتاجوں کی اِہانت نہیں اِعانت کیجئے
مفتی عبدالمنعم فاروقی قاسمی

دنیا جانتی ہے کہ امیری اور غریبی انسان کے ساتھ اسی طرح جڑی ہوئی ہے جس طرح دن ورات ایک دوسرے سے جڑے ہوئے ہیں ،امیری اور غریبی انسانوں کے لئے دنیوی نظام کا ایک حصہ ہے ،اسی سے انسانی زندگی کا نظام قائم ہے ،اگر یہ نہ ہوتا تو امیر نہ تو امیر کہلاتا اور نہ غریب غریب کہلاتا،اگر پورے لوگ امیر ہوجاتے یا پورے لوگ غریب بنادئے جاتے تو انسانی زندگی کا نظام اور اس کے سارے کام کاج درھم برھم ہوکے رہ جاتے،کیونکہ انسان بناہی ہے ایک دوسرے کے لئے ،اسی لئے خالق نے ان کے درمیان اُنسیت رکھی ہے ، اسے ہر وقت ایک دوسرے کی ضرورت لگی رہتی ہے اور وہ ایک دوسرے کے مدد ونصرت کا محتاج رہتا ہے ،غریب کے بغیر امیر ادھورا ہے اور امیر کے بغیر غریب ،حقیقت یہ ہے کہ امیر کو غریب کی اور غریب کو امیر کی ویسی ہی ضرورت ہے جیسے سمندری راستہ طے کرنے والے مسافر کو کشتی اور پانی دونوں کی ضرورت ہوتی ہے،غریب نہ ہو تو امیر کا کام کون کرے اور امیر نہ ہوتو غریب سے کام کون لے ،یقینا نہ غربت بُری چیز ہے اور نہ دولت فخر کی بات ہے،اس لئے کہ دونوں ہی چیزیں کوشش کے باوجود انسان کے اختیار سے باہر ہیں،کوششیں انسان کرتا ہے اور اس کا اسے پابند بھی بنایا گیا ہے لیکن دینا اور نہ دینا اللہ ہی کے ہاتھ ہے ،جسے چاہتا ہے مال دار بناتا ہے اور جسے چاہتا ہے غربت سے دوچار کرتا ہے ، کسی کو برابر سرابر دیتا ہے ،کسی کو تنگ دستی دیتا ہے اور کسی کو بہت کچھ دیتا ہے ،ارشاد ہے: وَاللَّہُ یَرْزُقُ مَن یَشَاء ُ بِغَیْْرِ حِسَاب (النور:۳۸)’’ اور اللہ تعالیٰ جس کو چاہے بے شمار روزی دیتا ہے‘‘ ،یہی نہیں بلکہ اللہ تعالیٰ نے مال ودولت کے ذرائع بھی پیدا کئے ہیں اور اسے لوگوں کے درمیان تقسیم بھی کر دیا ہے اور اس کی حکمت بھی بیان کر دی ہے کہ اس کے ذریعہ ایک دوسرے سے کام لتے رہیں اور ایک دوسرے کی ضرورت پوری کرتے رہیں ، نظام زندگی اسی کا نام ہے ،ارشاد ہے : نَحْنُ قَسَمْنَا بَیْْنَہُم مَّعِیْشَتَہُمْ فِیْ الْحَیَاۃِ الدُّنْیَا وَرَفَعْنَا بَعْضَہُمْ فَوْقَ بَعْضٍ دَرَجَاتٍ لِیَتَّخِذَ بَعْضُہُم بَعْضاً سُخْرِیّاً (الزخرف۳۲)’’ (یقینا) دنیوی زندگی میں ان کی روزی کے ذرائع بھی ہم نے ہی ان کے درمیان تقسیم کر رکھے ہیں اور ہم نے ہی ان میں سے ایک کو دوسرے پر درجات میں فوقیت دی ہے تاکہ وہ ایک دوسرے سے کام لے سکیں ‘‘ ۔
مال ودولت للہ تعالیٰ کی نعمت اور اس کی امانت ہے ،اس کے حصول پر اترانا نہیں چاہے اور غربت ومفلسی اللہ تعالیٰ کی آزمائش ہے اس میں گھبرانا نہیں چاہے،مگر اکثر لوگوں کا یہ حال ہوتا ہے کہ دولت کے حاصل ہونے پر اترانے لگتے ہیں اور غربت کے آنے پر مایوس ہوجاتے ہیں،دونوں کا طرز عمل خلاف شرع اور اخلاقی اقدار کے خلاف ہے ،عوماً مال دار افراد مال ودولت کے حاصل ہوجانے بد مست ہوکر گرم مزاجی دکھاتے ہیں اور حد سے تجاوز کرتے ہوئے خود کو بہت کچھ سمجھ لیتے ہیں ،یہ مزاج وانداز نامناسب بلکہ سابقہ اقوام کے مال د ار وں کا شیوہ اور متکبرانہ طرز عمل ہے،مالدار وں کو سونچنا چاہے کہ جس خدا نے دوسروں کو غیر مالدار بنایا ہے اسی نے ہی انہیں مالدار ی عطا کی ہے ،یہ شکر کا موقع ہے فخر کا نہیں، اور یاد رکھنا چاہے کہ شکر انے نعمت سے نعمت اور ملتی ہے اور فخر سے آدمی فقیری اور تنزلی کی طرف چلاجاتا ہے ،شکرکا عملی طریقہ یہ ہے کہ مالدار آدمی مال ودولت کو خدا کی عطا ومہربانی تصور کرے اور اسے اپنی صلاحیت وہوش مندی نہ سمجھیں ،نیز مال ودولت کو خدا کی امانت سمجھیں اور اسے ان لوگوں اور جگہوں پر خرچ کرے جہاں خرچ کرنے کا حکم دیا گیا ہے ،یعنی ضرورت کے بقدر اپنی ذات ،اہل وعیال ،رشتے دار ،محلے دار اور ضرورت وحاجت مندوں پر خرچ کرے ،مالداروں کے لئے یہ بڑی سعادت اور خوش بختی کی بات ہے کہ اللہ تعالیٰ نے انہیں دینے والوں میں سے بنایا ہے نہ کہ لینے والوں میں سے ،رسول اللہ ؐ نے مال ودولت خرچ کرنے ،حاجت مندوں کی حاجت روائی کرنے اور ضرورت مندوں کے لئے دست تعاون بڑھانے والوں کی تعریف کرتے ہوئے ارشاد فرمایا : الید العلیاخیر من الید السفلیٰ ( بخاری) ’’اوپر والا ( دینے والا)ہاتھ نیچے ( لینے والے) ہاتھ سے بہتر ہے‘‘ ،اور ایک حدیث میں آپ ؐ نے ضرورت مندوں کی مدد ونصرت ، حاجت مندوں کی اعانت وخدمت اور ان کے ساتھ حسن سلوک کرنے والوں کو خوشخبری سناتے ہوئے ارشاد فرمایا کہ ارحموا من فی الارض یرحمکم من فی السماء ( ترمذی) ’’ تم زمین والوں پر رحم کرو یعنی ان کی اعانت ومدد کرو تو آسمان والا یعنی مالک دوجہاں تم پر رحم وکرم کرے گا‘‘۔
دنیا اس قدر مہذب اور شائستہ ہونے کے باوجود آج بھی بہت سے لوگ غریبوں ،محتاجوں ،مسکینوں،مفلسوں ،فقیروں اور مجبوروں کو نہ صرف حقیر وکمتر جانتے ہیں بلکہ ان سے دوری بنائے رکھتے ہیں جوکہ انتہائی شرمناک حرکت ہے، زمانہ جاہلیت میں بھی غریب ومفلس کو حقیر اور غربت کوگالی مانا جاتا تھا ،غریب ہونا ایک ایسا جرم تھا جس کی سزا اُسے ساری زندگی ملتی رہتی تھی،غریب اور اس کا خاندان معاشرے کے ہر صاحب حیثیت کا ادنیٰ غلام اور نوکر سمجھا جاتا تھا ،مگر اسلام کا سورج طلوع ہوا ،اس کی انسانیت بھری تعلیمات سے پورا جگ جگمگانے لگا اور نبی رحمت ؐ کی ہدایات آب رحمت بن کر برسنے لگی اور زمانہ دراز سے سسکتی اور پیاسی انسانیت کو حیات نو حاصل ہو ئی ،آپ ؐ نے انسانوں کو انسانیت کا درس دیا، امیری وغریبی کی ریکھا مٹائی اور غریب وفقیر ،محتاج ومجبور اور غلام ومظلوم کو گلے لگا کر ان سے اپنائیت کا اظہار کیا ،رسول اللہ ؐ نے غریبوں ،مسکینوں اور محتاجوں کے ساتھ حسن سلوک کی تعلیم دی ،مالی تعاون کی ترغیب دی اور ان کی خدمت واعانت کو حصول ثواب اور دخول جنت کا سبب قرار دیا اور ان سے بے رخی برتنے اور ان کی مدد واعانت نہ کرنے اور ان کی ضررریات کا خیال نہ کرنے پر سخت ترین وعید سناتے ہوئے انہیں جہنم کی سزا کا مستحق قرار دیا ، آپ ؐ غریبوں ومسکینوں سے محبت والفت کرتے تھے اور ان کے ساتھ اُٹھنے بیٹھنے کو پسند فرماتے تھے،ایک موقع پر آپ ؐ نے ارشاد فرمایا : فقراء سے محبت کرو اور ان کی مجلس اختیار کرو( حاکم) اور ایک موقع پر آپ ؐ نے صحابہ ؓ سے فرمایا : مجھے اپنے کمزور لوگوں میں تلاش کرو بے شک تمہیں اپنے کمزور لوگوں کی وجہ سے ہی رزق دیا جاتا ہے اور ان ہی کی وجہ سے تمہاری مدد کی جاتی ہے (ترمذی) ،گویا مالداروں کو غریبوں ہی کی وجہ سے مالداری ملتی ہے ،اب ان کی ذمہ داری ہے کہ وہ غریبوں کا بھر پور خیال کریں ،کہیں یاسا نہ ہوکہ غریبوں کو نظر انداز کرنے کی وجہ سے نعمت دولت ہاتھ سے چلی جائے ، غریبوں کو دنیا میں اکثر وبیشتر بے حیثیت بلکہ بے قیمت سمجھا جاتا ہے اگر وہ اپنے اس فقر وفاقہ اور غربت کی وجہ سے زبان پر حرف شکایت نہیں لاتے اور خدا کے اس فیصلے پر راضی رہتے ہیں تو رسول اللہ ؐ نے انہیں وہ عظیم خوشخبری دی ہے جسے سن کر مالدار رشک کریں گے ،آپ ؐ نے ارشاد فرمایا: میں نے جنت کا مشاہدہ کیا تو میں نے اس میں اکثریت فقراء کی دیکھی ہے (بخاری) ،جنت میں داخلے کے سلسلہ میں بھی غرباء امراء پر فوقیت رکھتے ہیں ،آپ ؐ نے ارشاد فرمایا: غریب مسلمان دولت مند سے آدھا دن پہلے جنت میں داخل ہوں گے اور یہ عرصہ پانچ سو سال پر مشتمل ہے( نسائی ) ۔
غریب ومسکین اور محتاج وفقیر کی اعانت ومدد کرنا اللہ تعالیٰ کو بہت پسند ہے ، متعدد آیات قرآنی میں اس کی تعلیم دی گئی اور ان لوگوں کو نیکوکار بتایا گیا ہے اور ان کے اوصاف بیان کئے گئے ہیں کہ جو اس کار خیر کو انجام دیتے ہیں ان کا مقصد بڑائی ،دکھاوا نہیں ہوتا بلکہ یہ محض رضاء الٰہی کے خاطر انجام دیتے رہتے ہیں ،ارشاد ہے : وَیُطْعِمُوْنَ الطَّعَامَ عَلٰی حُبِّہٖ مِسْکِیْنًا وَیَتِیْمًا وَأَسِیْرًا o إِنَّمَا نُطْعِمُکُمْ لِوَجْہِ اللّٰہِ لَا نُرِیْدُ مِنْکُمْ جَزَائً وَلَا شُکُوْرًا (الدھر:۸،۹) ’’اور وہ اللہ کی محبت کی خاطر مسکینوں ،یتیموں اور قیدیوں کو کھانا کھلاتے ہیں ،(اور ان سے کہتے ہیں کہ) ہم تو تمہیں صرف اللہ کی خوشنودی حاصل کرنے کے لئے کھلا رہے ہیں ،ہم تم سے کوئی بدلہ چاہتے ہیں اور نہ کوئی شکریہ‘‘،رسول اللہ ؐ نے باضابطہ اپنے صحابہ ؓ کو اس کی ترغیب فرمائی اور خود بھی غرباء ومساکین کا بے انتہا ء خیال فرماتے رہے ،آپ ؐ کا ارشاد ہے کہ: بھوکے کو کھلاؤ ،بیمار کی عیادت کرو اور قیدی کو رہائی دلاؤ ( ابوداؤد) ،ان اعمال خیر کرنے والوں کو جہاں دنیا میں خیر وبرکت حاصل ہوگی وہیں آخرت میں جنت میں داخلے کا پروانہ بھی دیا جائے گا ،رسول اللہؐ نے ایسے لوگوں کو جنت کی بشارت دی ہے ،چنانچہ حضرت ابوہریرہ ؓ فرماتے ہیں کہ ایک دن آپ ؐ نے صحابہ کرام ؓ کو مخاطب کرتے ہوئے فرمایا’’آج تم میں سے کون روزہ سے ہے؟ سیدنا ابوبکرؓ نے عرض کیا، میں ،آپ ؐ نے فرمایا آج تم میں کون جنازے کے ساتھ گیا تھا؟ سیدنا ابوبکرؓ نے عرض کیا، میں،پھر آپ ؐ نے فرمایا : آج تم میں سے کس نے مسکین کو کھانا کھلایا ؟ اس پر سیدنا ابوبکرؓ نے عرض کیا میں ، اور پھر آپ ؐ نے پوچھا کہ تم میں سے کس نے آج مریض کی عیادت کی ہے؟ ،اس پر بھی سیدنا ابوبکرؓ نے جواب دیا، میں نے،یہ سن کر آپ ؐ نے ارشاد فرمایا: جس شخص میں یہ تمام باتیں جمع ہوگئیں وہ جنت میں جائے گا( مسلم) ، مستحق ومحتاج کی اعانت کرتے رہنا چاہے ، مال ودولت رکھتے ہوئے نہ دینا بہت بڑی بے غیرتی اور انسانیت سوز حرکت ہے ،بلکہ اگر یہ محسوس ہو جائے کہ اپنے متعلقین میں بعض لوگ شدید ضرورت مند ہیں تو اخلاق ودیانت کا تقاضہ یہ ہے کہ اپنی ضروریات کو مختصر کرکے ان کا خیال کرنا چاہے ، فی الوقت جو موجود ہے چاہے وہ معمولی کیوں نہ ہو دینا چاہے ،حضرت صحابہ ؓ میں سے کسی نے آپ ؐ سے عرض کیا کہ : فقیر میرے دروازے پر آتا ہے اور اس وقت میرے پاس دینے کے لئے کچھ نہیں ہوتا ،مجھے اس وقت بڑی شرمندگی ہوتی ہے،آپ ؐ نے فرمایا : اس کو کچھ دیدو اگر چہ بکری کا جلا ہوا کھر ہی کیوں نہ ہو( ابوداؤد)، جب کوئی شخص کسی مجبور وبے کس اور ضرورت وحاجت مند کی حلال وطیب کسی چیز سے مدد کرتا ہے تو وہ دی ہوئی چیز پہلے اللہ تعالیٰ کے دست رحمت میں پہنچتی ہے اور اس کے بعد مستحق کے ہاتھ میں جاتی ہے ،گویا اللہ تعالیٰ اسے شرف قبولیت عطا کرتے ہیں اور دینے والے کے لئے اپنے خزانہ بے حساب سے پہاڑوں کے برابر اجر وثواب دیتے ہیں ، رسول اللہ ؐ کا ارشاد ہے کہ جو کوئی ایک کھجور کے برابر بھی حلال کمائی سے صدقہ کرے اور اللہ حلال کمائی سے ہی صدقہ قبول کرتے ہیں (تو حلال کمائی سے کیا گیا صدقہ) اللہ تعالیٰ اپنے دائیں ہاتھ میں لیتے ہیں ،پھر دینے والے کے لئے اسے بڑھاتے رہتے ہیں جس طرح کوئی تم میں سے اپنے بچھڑے کو پالتا ہے یہاں تک کہ وہ (صدقہ) پہاڑ کے برابر ہوجاتا ہے( بخاری) ،ضرورت مند اور حاجت مند کی مدد کرنا گویا اللہ تعالیٰ کی مدد کرنا ہے ،قیامت کے دن اللہ تعالیٰ مدد ونصرت نہ کرنے پر شکایتی انداز میں سوال کریں گے ،حدیث قدسی میں ہے کہ اللہ تعالیٰ قیامت کے دن فرمائیں گے : اے ابن آدم !میں بیمار تھا تو نے میری عیادت نہیں کی ،وہ کہے گا ،میں کیسے عیادت کرتا آپ کو ساری کائنات کے رب ہیں ،اللہ تعالیٰ فرمائیں گے تو نہیں جانتا کہ فلاں بندہ بیمار تھا ،اگر تو اس کی عیادت کرتا تو مجھے اس کے پاس پاتا،پھر فرمائیں گے اے ابن ادم! میں نے تجھ سے کھانا طلب کیا تھا ،تو نے مجھے نہیں کھلایا،وہ کہے گا : اے میرے رب! میں کیسے آپ کو کھانا کھلاتا حالانکہ آپ تو ساری کائنات کے پرور دگار ہیں ،اللہ تعالیٰ فرمائیں گے ،کیا تو نہیں جانتا کہ میرے فلاں بندہ نے تجھ سے کھانا طلب کیا تھا تو نے اس کو کھانا نہیں کھلایا ،اگر تو اسے کھانا کھلاتا تو اس کھانے کو میرے پاس پاتا،اے ابن آدم! میں نے تجھ سے پانی مانگا تھا تونے مجھے پانی نہیں پلایا ،وہ کہے گا : اے میرے رب ! میں کیسے آپ کو پانی پلاتا حالانکہ آپ تو ساری کائنات کے رب ہیں ،اللہ تعالیٰ فرمائیں گے میرے فلاں بندے نے تجھ سے پانی مانگاتھا لیکن تو نے نہیں دیا ،اگر تو اس کو پانی پلاتا تو اس پلائے ہوئے پانی کو میرے یہاں پاتا( مسلم) ۔
کورونا وائرس کی وجہ سے اس وقت پوری دنیا بحران کا شکار ہے ،دیگر ممالک کی طرح ہماراملک ہندوستان بھی اس جان لیوا ،ہلاکت خیز اور متعدی مرض سے بچنے کے لئے لاک ڈاؤن نافذ کیا ہے ، شہر ،قصبات اور دیہات سبھی گویا مقفل ہیں ،تجارت گاہوں کو مقفل کر دیا گیا ہے ، کاروبار برُی طرح متاثر ہیں جس کی وجہ سے معاشی بحران سا چھاگیا ہے ،اگر چہ کہ حکومت کا اقدام عوام کی فلاح وبہبود اور ان کے جان عزیز کی حفاظت ہی کے لئے کیا گیا ہے ،کیونکہ ماہرین کا مانناہے کہ اس خطر ناک اور ہلاکت خیز بیماری سے بچنے کا واحد راستہ سماجی دوری ہے ،لوگوں کے آپس میں میل جول سے یہ مرض اوروں میں منتقل ہو کر ان کی جان کو بھی ہلاکت کی وادی کی طرف ڈھکیل سکتا ہے ،یقینا اٹلی اور دیگر ممالک اس کی جیتی جاگتی مثالیں ہیں ،لاک ڈاؤن کی صورت میں تجارت و کاروبار بند رہنے کی وجہ سے لاکھوں لوگ جن کی آمدنی کا واحد ذریعہ پیشہ تجارت یا پھر روزانہ کی مزدوری کے ساتھ جڑا ہوا تھا اس وقت سب سے زیادہ پریشان ہیں ،گھروں میں اشیاء خورد نوش نہ ہونے کی وجہ سے چولہے ٹھنڈے پڑچکے ہیں،خرید نے کے لئے روپئے پیسے نہیں ہیں ،بھوک وپیاس نے انہیں نڈھال کر کے رکھدیا ہے ،وہ کورونا سے زیادہ فاقہ کشی سے ڈر نے لگے ہیں ، وہ زبان حال سے کہہ رہے ہیں کہ کورونا کے دستک دینے سے پہلے ہی فاقہ اور بھوک مری نے ان کے دروازوں پر دستک دینا شروع کردیا ہے ، یہ غریب ولاچار دوہری مصیبت میں مبتلا ہیں ،باہر نکلتے ہیں تو کورونا کا ڈر اور گھر میں بند رہتے ہیں تو بھوک کا ڈر ، بعض لوگ جو اپنے گھروں سے دور ہیں عجیب مصیبت میں مبتلا ہیں ،وہ لاک ڈاؤن کی وجہ سے اپنے مقام پر جا نہیں سکتے ہیں اور یہاں رکتے ہیں تو کھا نہیں سکتے ، ان کی حالت قابل رحم ہو چکی ہے ،ان لاکھوں گھرانوں کی مدد کے لئے علاقائی اور مرکزی حکومت نے امداد کا جو اعلان کیا ہے وہ ان کی مصیبت دور کرنے کے لئے ناکافی ہے ،یہ امداد اونٹ کے منہ میں زیرہ کے مماثل ہے ،حالات کی نزاکت اور غذائی بحران کی اس نازک گھڑی میںملک کی مذہبی ورفاہی تنظیمیں اور انسانیت کا درد رکھنے والے متمول حضرات میدان عمل میں کود پڑے ہیں ،ان کا یہ عمل قابل قدر اور قابل ستائش ہے ،کیا شہر کیا دیہات اور کیا قصبات ہر جگہ یہ فرشتہ صفت حضرات بلا لحاظ مذہب وملت ضرورت مندوں میں غذائی اجناس تقسیم کر رہے ہیں ،ضروری اشیاء خورد نوش کے کٹس تقسیم کر رہے ہیں ، تینوں وقت بھوکے لوگوں تک پہنچ کر کھانا پانی فراہم کر ر ہے ہیں ،جنہیں دیکھ کر قلبی مسرت ہو رہی ہے اور دل گواہی دے رہا ہے ابھی انسانیت باقی ہے ،مصیبت کی اس گھڑی میں نہیں بلکہ ہر وقت اپنے ارد گرد کے ماحول میں ایسے لوگوں کے متعلق معلومات حاصل کرکے ان کی ضروریات کی تکمیل کرنا ہر ایک کی اخلاقی ذمہ داری اور فرض انسانی ہے،اسلام اپنے ماننے والوں کو اسی کا حکم دیتا ہے اور ان مجبور ولاچار اور مفلوک الحال سے محبت وخیر خواہی کی تعلیم دیتا ہے اور خلوص دل سے ان کی خدمت ونصرت کو رضاء الٰہی اور دخول جنت کا ذریعہ بتاتا ہے ۔
تاہم ضرورت مندوں اور حاجت مندوں کی امداد کے سلسلہ میں اسلام کی اس ہدایت کو پیش نظر رکھنا ضروری ہے جس پر قبولیت اور اجر وثواب کا دارومدار ہے ، بہت سے لوگ اس سلسلہ میں بے احتیاطی اور تساہل کا شکار ہیں ، قرآن حکیم نے بڑی وضاحت کے ساتھ اہل ثروت اور مالداروں سے فرمایا کہ وہ کسی بھی محتاج ومجبور اور غریب و فقیر کے ساتھ ڈانٹ ڈپٹ ، سختی ،تکبر اور ترش لہجہ کے ساتھ بات نہ کرے ،ارشاد ہے : وَأَمَّا السَّائِلَ فَلَا تَنْہَر( الضحیٰ:۱۰) ’’اور سائل کو جھڑکنا نہیں‘‘، اللہ تعالیٰ نے اصحاب ثروت کے مالوں میں غرباء ومساکین اور ضرورت مندوں وحاجت مند وں کا حصہ رکھا ہے ،جو کچھ انہیں دیا جاتا ہے وہ ان کا حق ہے ،اس لئے تاکید کی گئی ہے کہ دیتے وقت ان پر احسان نہ جتائیں بلکہ ایسا محسوس ہو کہ وہ اپنا حق لے رہے ہیں،قرآن حکیم میں واضح پیام دیا گیا ہے کہ مالداروں کے مال ودولت میں سوال کرنے والے ضرورت مند اور عزت نفس کی خاطر سوال نہ کرنے والے دنوں کا متعینہ حصہ ہے جو ہر صاحب حیثیت کو دینا ہوگا ،ارشاد ہے : وَالَّذِیْنَ فِیْ أَمْوَالِہِمْ حَقٌّ مَّعْلُومٌ oلِّلسَّائِلِ وَالْمَحْرُوم(المعارج:۲۴،۲۵)’’اور جن کے مال ودولت میں ایک متعین حق ہے ،سوالی اور بے سوالی کا‘‘ ،جب یہ بات ثابت ہوگئی کہ مالداروں کے مال میں ضرورت مندوں اور محتاجوں کا بھی حق ہے تو پھر انہیں دیتے ہوئے احسان کیسے جتایا جاسکتا ہے اور کس طرح ان کی تحقیر وتذلیل جائز ہے ،چنانچہ مال ودولت کی تقسیم کرتے وقت اور غرباء ومساکین کو کچھ دیتے وقت بہت سے اصحاب دولت سے جانے اور انجانے میں اس طرح کی بڑی بڑی غلطیاں ہو تی رہتی ہیں ،ان کے انداز ومزاج سے احسان کی بو ٹپکتی ہے ، دیتے وقت صاف تکبر جھلکتا ہے اور بساوقات غریبوں کو اپنے گھروں پر لمبے وقفے تک کھڑا کرکے گویا ان کے حال کا مذاق اڑایا جاتا ہے ،وہ بیچارے مارے شرمندگی کے اپنا منہ چھپاتے رہتے ہیں ،ان کی آنکھیں ،ان کا ماتھا اور ان کے جسم کا ہر رواں بتاتا ہے کہ وہ کس قدر شرمندہ ہیں ، واٹس اپ ،فیس بک اور سوشل میڈیا پر ایسی سینکڑوں تصویریں اپ لوڈ ہیں جن میں غریبوں کی غریبی کا کھلم کھلا مذاق اڑتا ہوا نظر آتا ہے اور ان غریبوں کے ہاتھوں میں سامان کا کٹ تھما کر مالدار فخریہ انداز میں مسکرا تا ہوا نظر آتا ہے اور بیچارے غریب کی پیشانی سے شرمندگی سے بہنے والے پسینہ کی بوند یں واضح طور پر دکھائی دیتی ہیں ، آج کل غریبوں اور محتاجوں کو دیتے وقت تصاویر لینا اور ویڈیو بناکر اپنے فیس بک اور واٹس اپ پر اپلوڈ کرنا محبوب مشغلہ بنتا جارہا ہے ،جیسے ہی کوئی غریب نظر آتا ہے اسے قریب بلا کر ہاتھ میں رقم تھمائی جاتی ہے اور جھٹ سے فون نکال کر سلفی لی جاتی ہے ، وہ بیچارہ غریب مالدار کے اس عمل سے مجسم غم بن کر رہ جاتا ہے ،ایسی ہی کسی غریب نے سلفی لیتے ہوئے دیکھ کر امیر سے کہا کہ جناب! میری تو مجبوری ہے کھانا لینے کی مگر آپ کی کیا مجبوری ہے سلفی لینے کی ، ایسے ہی ایک مالدار آدمی ایک یتیم وبے سہارا کے گھر پہنچ کر انہیں نقد رقم کے علاوہ دیگر سامان ضرورت دینے کے بعد گھر میں موجود تین معصوم چھوٹے چھوٹے بچیوں کے ساتھ سلفی لینے کی کوشش کی تو ان میں سے ایک بچی نے ہاتھ جوڑ کر روتے ہوئے کہا : انکل ! ہم لوگ شریف اور عزت دار خاندان سے تعلق رکھتے ہیں ، اچانک ہمارے والد کے انتقال اور دیگر افراد خاندان کی بے رخی نے ہم کو آپ سے یہ چیزیں لینے پر مجبور کیا ہے، ہماری والدہ نے ہم کو بھوک پیاس برداشت کرنے کی تربیت دی ہے مگر عزت کی خاطر کسی سے دست سوال کرنے سے منع کیا ہے ، مگر پتہ نہیں آپ کو کیسے علم ہوا ، خود آپ کے آنے پر امی نے خدا کا شکر ادا کرتے ہوئے کہا کہ یہ خدا کی طرف سے غیبی انتظام ہے اسے ٹھکرانا نہیں چاہے ،لیکن ان کے انسو ں مسلسل بہہ رہے ہیں ،خدا کے لئے سلفی لے کر ہماری عزت کو ٹھیس نہ پہنچائیں ،اگر آپ کے لئے سلفی لینا ضروری ہے توسامان لے جائیے اور کسی اور جگہ جاکر لیں مگر خدا کے لئے ہمیں رسوا نہ کریں ، یاد رکھیں عزت نفس بہت بڑی چیز ہے ،عزت والے جان دیتے ہیں لیکن عزت نفس کا سودا نہیں کرتے، پچھلے زمانہ میں لوگ چہرہ چھپاکر دیتے تھے اور لینے ولا اسے ڈھونڈتے رہ جاتا تھا ، بلاشبہ غریبوں کی اہانت موجب لعنت اور زوال نعمت کا سبب بن سکتی ہے ،اس لئے اس طرح کی حرکتوں سے بچنا ضروری ہے ،بعض رفاہی ادارہ والوں کی اپنی مجبوریاں ہوتی ہیں مگر انہیں بھی چاہے کہ لینے والوں کے چہروں کو ظاہر نہ کیا جائے بلکہ ان کی عزت نفس کا بھر پور خیال رکھا جائے اور اگر کوئی کوئی پھر بھی باز نہیں آتا تو اسے مکافات عمل کے لئے تیار ہونا چاہے کیونکہ ایک ہی حالت پر قائم رہنا انسان کے بس میں نہیں بلکہ خالق کے دست قدرت میں ہے اور وہ اپنے بندوں کی توہین برداشت نہیں کر تا ،چنانچہ ایک سبق آموز واقعہ امام جوزی ؒ نے لکھا ہے کہ ’’ اصفہان کا ایک بہت بڑا رئیس اپنی بیگم کے ساتھ دستر خوان پر بیٹھا ہوا تھا،دستر خوان اللہ کی عطا کردہ نعمتوں سے بھرا ہوا تھا،اتنے میں ایک فقیر نے صدا لگائی کہ اللہ کے نام پر کچھ کھانے کے لئے دے دو،اس شخص نے اپنی بیوی سے کہا سارا دستر خوان اس فقیر کی جھولی میں ڈالدو ،عورت نے حکم کی تعمیل کی اور جس وقت اس نے اس فقیر کا چہرہ دیکھا تو دھاڑیں مار کر رونے لگی،اس کے شوہر نے اس سے پوچھا ،آپ کو کیا ہوا؟ اس نے بتایا کہ جو شخص فقیر بن کر ہمارے گھر پر دستک دے رہا تھا وہ چند سال پہلے اس شہر کا سب سے بڑا مالدار اور ہماری اس کوٹھی کا مالک اور میرا سابقہ شوہر تھا،چند سال پہلے کی بات ہے کہ ہم دونوں دستر خوان پر ایسے ہی بیٹھ کر کھانا کھارہے تھے جیسا ابھی کھارہے تھے ،اتنے میں ایک فقیر نے صدا لگائی کہ میں دودن سے بھوکا ہوں اللہ کے نام پر کھانا دے دو یہ شخص دستر خوان سے اٹھا اور اس فقیر کی اس قدر پٹائی کی کہ اسے لولہان کر دیا،نہ جانے اس فقیر نے کہا بدعا دی کہ اس کے حالات دیگر گوں ہوتی گئی ،کاروبار ٹھپ ہو گیا اور وہ شخص فقیر وقلاش ہو گیا،اس نے مجھے بھی طلاق دے دی اس کے چند سال گزرنے کے بعد میں آپ کی زوجیت میں آئی ،شوہر بیوی کی یہ باتیں سن کر کہنے لگا ،کیا میں آپ کو اس سے زیادہ تعجب خیز بات بتاؤں ؟ اس نے کہا ضرور بتائیں ،شوہر کہنے لگا جس فقیر کی آپ کے سابقہ شوہر نے پٹائی کی تھی وہ کوئی دوسرا نہیں بلکہ میں ہی تھا،گر دش زمانہ کا ایک عجیب نظارہ یہ تھا کہ اللہ نے اس بد قسمت مالدار کی ہر چیز مال ،بنگلہ حتی کہ بیوی چھین کر اس شخص کو دے دی جو فقیر بن کر اس کے گھر پر آیا تھا اور چند سال بعد پھر اللہ اس شخص کو فقیر بناکر اسی کے در پر لے آیا‘‘، اس لئے محتاجوں کو دیتے وقت کوئی ایسا عمل نہ ہو کہ جس سے انہیں ٹھیس پہنچے،آپ کا اخلاص جاتا رہے اور نیکیوں کے بجائے وہ عمل وبال جان بن جائے ،مالداروں کے سامنے ہمیشہ ذات الٰہی کی رحمت وعنایت ہونا چاہے اور اس بات کا استحضار کہ اللہ نے دینے والا بنایا ہے نہ کہ لینے والا،نیز ان مبارک ہستیوں کا طرز عمل بھی نمونہ عمل ہے جن کے انفاق پر جنت کی خوشخبری دی گئی ہے اور ان مہذب لوگوں پر نظر ہونی چاہے جو دور حاضر میں بھی رات کی تاریکی میں یا لوگوں کی نگاہوں سے چھپ کر بہت کچھ کار خیر کر جاتے ہیں جس کا علم انہیں اور ان کے علیم وخبیر ذات کے علاوہ کسی کو نہیں ہوتا ،اللہ تعالیٰ ریا سے بچائے اور اخلاص عمل پیدا فرمائے آمین۔
٭٭٭٭