Fri, Feb 26, 2021
محاسبہ کا وقت
مفتی عبدالقادرخالد حسامی
استاذ ادارہ اشرف العلوم حیدرٰآباد
  abdulkhaderabdulkhader0@gmail.com
پوری دینامیں covid-19کا قہر عروج پر ہے ،پرنٹ میڈیا،الیکٹرانک میڈیاسے لیکرسوشل میڈیاتک ہر جگہ ،ہر لمحہ اسی کا چرچہ ہے،کوئی اس کی تازہ صورت حال سے واقف ہونے کے لئے بے چین ہے، کوئی اس کے وجوہات کامتلاشی ہے ،بعض لوگ اسے چین کی سازش کہ رہے ہیں ،بعض حیاتیاتی جنگ (بیالوجیکل وار )بتلارہے ہیں ،بعض اسے مظلومین کی آہ کہ رہے ہیں، ایمان کا تقاضہ ہےکہ مسلمان ان سب باتوں کو اسباب کا درجہ دیکر فاعل حقیقی کی طرف نظر کرے، جو اس دنیا کا مالک حقیقی ہے ،اس کے حکم کے بغیراس عالم میں کسی واقعہ کا ظہور نہیں ہوسکتا،آخرکیا وجہ ہےکہ اس نے ساری دنیا کو قیدخانہ بنادیا پوری دنیاکے انسان آزاد ہوکر بھی قیدی ہے، اسباب کے باوجود چاہ کر بھی کچھ نہیں کرسکتے۔ 
عمومی گناہوں کی سزاء
اللہ تعالی کا ارشاد ہے(وَاتَّقُوا فِتْنَةً لَا تُصِيبَنَّ الَّذِينَ ظَلَمُوا مِنْكُمْ خَاصَّةً وَاعْلَمُوا أَنَّ اللَّهَ شَدِيدُ الْعِقَاب،(انفال۲۵) اور ڈرو اس وبال سے جو تم میں سے صرف ان لوگوں پر نہیں پڑے گا جنہوں نے ظلم کیا ہوگااور جان رکھو کہ اللہ کا عذاب بڑا سخت ہے،(آسان ترجمہ قرآن،مولاناتقی عثمانی)حضرت عباس ؓفرماتے ہیں کہ اللہ تعالی مومنوں کو حکم دےرہا ہے کہ اپنے درمیان کسی گناہ کو جڑپکڑنےمت دواگر اللہ کی پکڑ آجائے تب تمام لوگ اس میں مبتلاءہوجاؤوگے(قرطبی ۷/۳۹۱،)جب کسی گناہ کی وجہ سے اللہ کا عذاب آتاہے تو اس کااثر تمام لوگوں پر پڑتاہےچاہےوہ اس گناہ کا ارتکاب کئے ہویا نہ کئے ہو،(تفسیر مظہری ۴/۴۷،مکتبۃ الرشدیۃ ،پاکستان)اے ایمان والوں ایسی آزمائش وبلاء سے ڈرو جس میں اللہ تم کو مبتلاءکریگا(طبری۱۳/۴۷۳،مؤسسۃ الرسالۃ)حضرت زینب بنت جحش ؓنےآپ ﷺسے پوچھاکہ کیا مسلمان نیک لوگوں کےہوتے ہوئے بھی ہلاک ہوجائیں گے،آپ ﷺنےفرمایا’’ہاں جب مسلمانوں میں گناہ عام ہوجائیں گے ‘‘(بخاری،رقم الحدیث:۳۳۴۶، دار طوق النجاۃ)یعنی جب مسلمانوں میں فسق وفجوراوربے حیائی کاعروج ہوجائیگامومن اور منافق کے درمیان فرق کرنا مشکل ہوگاایسے وقت نیک لوگوں کے ہوتے ہوئے بھی امت مسلمہ پر اللہ کا عذاب آئیگا،جیساکہ آگ جب تیز ہوجاتی ہے تو سوکھی اور کچی ہر چیز کو فناءکردیتی ہے(مرقات،رقم الحدیث:۵۳۴۲،دار الفکر، بيروت ، لبنان)۔
انفرادی گناہوں پر سزاء
اللہ فرماتا ہے(وَمَا أَصَابَكُمْ مِنْ مُصِيبَةٍ فَبِمَا كَسَبَتْ أَيْدِيكُمْ وَيَعْفُو عَنْ كَثِيرٍ (شوری ۳۰)اور تمہیں جو کوئی مصیبت پہنچتی ہے وہ تمہارے اپنے ہاتھوں کے کئے ہوئے کاموں کی وجہ سے پہنچتی ہے، اور بہت سے کاموں سے تو وہ درگزر ہی کرتا ہے،(آسان ترجمہ قرآن،مولاناتقی عثمانی)اس آیت کے مصداق مسلمان ہیں،یعنی دنیا میں مسلمانوں پرجو آفتیں آتی ہے ،وہ مسلمانوں کے اعمال کا نتیجہ ہے ،(قرطبی۱۶/۳۱)نبی کریم ﷺکافرمان ہے’’ابن آدم کسی بھی تکلیف یابیماری میں کسی نہ کسی گناہ کی وجہ سےمبتلاءہوتاہے، حالانکہ بہت سے گناہوں کو اللہ معاف کردیتا ہے،(شعب الایمان،رقم الحدیث:۹۳۵۸،مکتبۃ الرشد للنشر والتوزيع بالرياض)ابوسلیمان ؒدارانی کہتے ہیں کہ’’ لوگ اپنے اوپر ہونےوالی تکلیفوں پر واویلامچاتے ہیں حالانکہ ان پر یہ تکلیفیں ان کے گناہوں کے وجہ سے آئی ہیں‘‘(روح البیان۸/۳۲۲دار الفکر ،بيروت )ابن سیرین ؒکے بارے میں آتاہےکہ جب  ان پرقرض کا بوجھ بڑھ جاتا تووہ کہتے یہ میرے فلا ں گناہ کا نتیجہ ہے ، ،(قرطبی۱۶/۳۱) عکرمہ ؒ  فرماتےہیں کہ’’ انسان کو جو بھی تکلیف پہنچتی ہے یا تو وہ اس کےگناہ کے باعث ہوتی ہےیا درجات کی بلندی کیلئے‘‘(قرطبی۱۶/۳۱) اولاََللہ تعالی اپنے مومن بندوں کو گناہوں پر چھوٹ دیتا ہے ،جب بندے گناہوں پر اصرار کرتے ہیں تو اللہ تعالی ان کی پکڑکرتاہے،جبکہ کفار کےاعمال کی سزاءاللہ قیامت کے دن دے گا(فتح القدير۴/۶۱۷دار ابن کثير، دار الکلم الطيب ،دمشق)علامہ اسماعیل حنفیؒ لکھتے ہیں:دنیامیں بندوں پر جومصیبتیں آتی ہے چاہے وہ بیمار ی ، خوف یامال کی کمی ہو وہ ایسے گناہوں کی وجہ سے آتی ہے جن کی پکڑ اگر یہاں نہ کی جائے تب آخرت میں ہوسکتی تھی ،(روح البیان۸/۳۲۲دار الفکر ،بيروت )یہ مومنین کیلئے دنیامیں بعض گناہوں کی جلد ملنے والی سزاء ہے،جسکی آخرت میں پکڑ نہیں ہوگی(طبری/۵۳۹،مؤسسۃ الرسالۃ) 
اپنے اعمال کا جائزہ لیں
اوپر کی تفصیل کو سامنے رکھتے ہوئے ہمیں غور کرنے ضرورت ہے کہ ہم میں وہ کون کون سے انفرادی اوراجتماعی گناہ ہے جس کی  طرف اللہ ہمیں اس وباء کے ذریعہ توجہ دلارہا ہے ،ایسے کتنے لوگ ہوں گے کہ جن کےحقوق ہم نے تلف کئےہیں ، ہمارے ہاتھ نے کتنوں کی حق تلفی کی ہوگی ،ہماری زبان نے کتنے لوگوں کے دلوں کو تکلیف پہنچایا ہوگا، کتنوں کی عزتیں ہماری وجہ سے داغدار ہوئے ہوں گے، آج کے اس تیزرفتار مواصلاتی دور میں سماجی مواصلات کابے دریغ استعمال کرتے ہوئے ہم کتنوں پر الزامات کی بوچھار کرتے ہیں اس کا ہمیں بھی اندازہ نہیں ہوتا،ہم میں ایسے کئی لوگ ہیں جوکمزوروں پر ظلم کرتے ہیں،لوگوں کے قرض لیکر واپس نہیں کرتے،امانتوں میں خیانت کرتے ہیں،حسد کی بنیاد پر لوگوں کے خلاف سازشیں کرتے ہیں،بےحیائی ،مال کاغضب کرنا،جھوٹ ،گالی گلوج ،بدکلامی اورسنی سنائی باتوں کوبغیر تحقیق کے آگے بڑھانا،یہ ہمارے معاشرہ کے ایسے اجتماعی گناہ ہے کہ جس کی طرف ہماراخیال بھی نہیں جاتا،یہ حالات ہمیں محاسبہ کی دعوت دیرہےہیں کہ ابھی اللہ کی پکڑسخت نہیں ہوئی ،اس سے قبل ہمیں چاہئے کہ اپنے گناہوں سے توبہ کرے،اللہ تعالی کا ارشادہے( فَلَوْلَا إِذْ جَاءَهُمْ بَأْسُنَا تَضَرَّعُوا وَلَكِنْ قَسَتْ قُلُوبُهُمْ وَزَيَّنَ لَهُمُ الشَّيْطَانُ مَا كَانُوا يَعْمَلُونَ (انعام۴۳)پھر ایسا کیوں نہ ہوا کہ جب ان کے پاس ہماری طرف سے سختی آئی تھی، اس وقت وہ عاجزی کا رویہ اختیار کرتے ؟ بلکہ ان کے دل تو اور سخت ہوگئے اور جو کچھ وہ کر رہے تھے، شیطان نے انہیں یہ سمجھایا کہ وہی بڑے شاندار کام ہیں،(آسان ترجمہ قرآن)اگر اللہ کی ہلکی پکڑ آنے کےبعدبھی بندے اس کی طرف رجوع نہ ہو تواللہ ان کے دلوں کو سخت کردیگا(وَلكِنْ قَسَتْ قُلُوبُهُمْ) ،جس کےبعد رجوع الی اللہ کی بھی توفیق نہیں ہوگی، پھراللہ کی سخت پکڑآئےگی جس کے بعد کوئی چارہ کار نہ ہوگا(قرطبی۴۲۵/۶،دار الکتب المصريۃ، القاهرة)غلطی ہر آدمی کرتا ہے مگر عقلمند انسان تنبیہ کے بعد اپنی غلطی سے توبہ کرےگااللہ سے معافی ماںگے گا،آپ صلی الله علیہ وسلم نے مومن کی شان یوں بیان فرمائی ہے:مومن اپنے گناہوں کو اس طرح دیکھتا ہے، جیسے وہ ایک پہاڑ کے نیچے بیٹھا ہواہے اور خوف زدہ ہےکہ پہاڑ اس کے اوپر نہ گر پڑے اور فاجر اپنے گناہوں کو اس طرح دیکھتا ہے، جیسےکوئی مکھی اس کی ناک پر بیٹھی ہےاور وہ اس کی طرف اپنے ہاتھ سے اشارہ کرے اور اسے اڑا دے،(بخاری،رقم الحدیث:۶۳۰۸،دار طوق النجاة) حاصل یہ کہ مومن گناہ سے بہت ڈرتا ہے اور اسے اس بات کا خوف رہتا ہے کہ کہیں میں اس گناہ کی پاداش میں پکڑا نہ جاؤں، اس لیے اس کی نظر میں چھوٹے سے چھوٹے گناہ بھی بڑے اہمیت رکھتے ہیں، لیکن فاجر اپنے گناہوں کی کوئی پروا ہ نہیں کرتا، اس کی نظر میں بڑے سے بڑے گناہ کی بھی کوئی اہمیت نہیں ہوتی،اس آفت کو دوسروں کی طرف منسوب کرنے کے بجائے ہمیں چائیے کہ اپنے اعمال کاجائزہ لیں اور اللہ سے اپنے خطاؤوں کی معافی مانگے۔