Fri, Feb 26, 2021

ٹخنوںسے نیچے ازارباندھنے کابڑھتاہوارجحان
مفتی محمدعبداللہ قاسمی
mob: 8688514639

اسلام ایک مکمل ضابطۂ حیات ہے،انسانی زندگی کے تمام شعبوں کے لئے یہ صحیفۂ ہدایت ہے،اس کی تعلیمات وہدایات ایک طرف توازن واعتدال کے شاہکارہیںتودوسری طرف ان میںانسانی مزاج اوراس کی فطری ساخت کوبھی ملحوظ رکھاگیاہے،اسلام وہ بہترین چشمہ ٔ حیات ہے جوانسانی زندگی کی مرجھائے ہوئے گوشوںکوسرسبزی وشادابی عطاکرتاہے،اورپوری انسانیت کوایک ایسے نظام زندگی سے آشناکرتاہے جوابدی اورسرمدی ہے،اورجس کواختیارکرنادونوںجہاںمیںفلاح وکامیابی کاذریعہ ہے،اسلام نے زندگی کے تمام مراحل میںمسلمانوںکی رہنمائی کی ہے،اورزندگی کے کسی بھی گوشے کواس نے تشنہ نہیںچھوڑاہے۔
لباس کے متعلق بھی اسلام میںکافی واضح اوردوٹوک ہدایات ہیں،جوایک طرف عقل وانصاف کے عین مطابق ہیںتودوسری طرف یہ انسانی فطرت سے بھی پوری طرح ہم آہنگ ہیں،بنیادی طورپرلباس کے حوالہ سے اسلام یہ ہدایت دیتاہے کہ مردوںکالباس اتنالمبانہ ہوکہ ٹخنوں تک لٹکے،اورٹخنے چھپ جائیں،بلکہ بہتریہ ہے کہ نصف پنڈلی تک مردوںکے کپڑے ہوں،اگراس پرعمل آوری مشکل ہوتوٹخنوںتک کپڑے رکھنے کی اجازت ہے،ٹخنہ چھپانے اوراس سے نیچے کپڑے رکھناحرام اورناجائزہے۔اس بارے میںچنداحادیث پیش کی جاتی ہیں،ایک حدیث پاک میںہے:عن ابی ہریرۃ عن النبی صلی اللہ علیہ وسلم قال:مااسفل من الکعبین من الازارفی النار(بخاری،حدیث نمبر:۵۷۸۷)حضرت ابوہریرہ ؓ فرماتے ہیں کہ آپﷺ نے ارشاد فرمایا:ازارکاجوحصہ ٹخنوں سے نیچے ہووہ جہنم میں داخل ہوگا۔ایک دوسری حدیث میںہے:۔عن حذیفۃ قال:اخذ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم بعضلۃ ساقی اوساقہ فقال:ہذاموضع الازارفان ابیت فاسفل فان ابیت فلاحق للازارفی الکعبین، (ترمذی،حدیث نمبر:۱۷۸۳)حضرت حذیفہ فرماتے ہیںکہ آپﷺنے میری پنڈلی کاپرگوشت حصہ پکڑا، اورآپﷺنے فرمایا:یہ ازارباندھنے کی جگہ(حد)ہے،اگرتمہیں یہ پسندنہیں ہے تواس سے تھوڑانیچے تک ازاررکھ سکتے ہو، اور اگر تمہیں یہ بھی پسندنہیں ہے تو(یہ بات تمہارے ذہن نشیں رہے کہ)ٹخنوں تک کے لئے ازارکاکوئی حق نہیں ہے۔ایک حدیث شریف میں ہے:عن الاشعث بن سلیم عن عمتہ عن عمہاقال:کنت امشی وعلی بردلی اجرہ قال فقال لی رجل:ارفع ثوبک فانہ انقی وابقی،قال فنظرت فاذاہورسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم،فقلت انماہی بردۃ ملحاء ،قال: امالک فی اسوۃ،قال فنظرت فاذاہوازارہ الی نصف ساقیہ(شرح السنۃ للبغوی،حدیث نمبر:۳۰۷۹)حضرت خالدبن عبیدۃ محاربی(جواشعث بن سلیم کی پھوپھی کے چچاہیں)فرماتے ہیںکہ میں چل رہاتھااس حال میں کہ میرے جسم پرایک چادرتھی جس کومیں گھسیٹ رہاتھا،تومجھ سے ایک شخص نے کہا:تم اپنے کپڑے اوپراٹھائو؛کیوں کہ یہ کپڑے کوپاک رکھنے اورزیادہ مدت تک باقی رکھنے میں معاون ہے،میں نے دیکھاتووہ آپﷺتھے،میں نے عرض کیا:یہ توایک دھاری دار چادر ہے، آپﷺنے فرمایا: کیا میرا اسوہ تمہارے لئے مشعل راہ نہیں ہے،میں نے دیکھا توآپﷺکا تہہ بندنصف پنڈلی تک تھا۔
ایک مومن بندہ کی امیدوںاورآرزوکی معراج یہ ہوتی ہے کہ اسے خاتمہ بالخیرنصیب ہوجائے،اوریوم آخرت میںاللہ کی رضا اورخوش نودی حاصل ہوجائے،اورمذکورہ بالااحادیث شریفہ اس بات کوواضح کرتی ہیںکہ ٹخنوںسے نیچے پاجامہ لٹکانااللہ کی ناراضگی کاسبب ہے،اوراللہ کی نظر ِرحمت سے محرومی کاذریعہ ہے،قیامت کی ہولناکیوںمیںجب کہ انسان رحمت خداوندی کامحتاج ہوگا،اوراللہ سے نظررحمت کاخواست گارہوگااس وقت ٹخنوںسے نیچے پاجامہ لٹکانے والااللہ کی عنایات وتوجہات سے محروم ہوگا،ظاہرہے کہ اس سے بڑی اورمحرومی کیاہوسکتی ہے؟اوراس سے بڑانقصان اورکیاہوسکتاہے؟دوسرے ہربندہ مومن اللہ کے رسولﷺسے عشق ومحبت کادعوی دارہے،واقعہ بھی یہی ہے کہ اللہ کے رسولﷺسے سچی محبت وعقیدت کے بغیرایک مسلمان کاایمان بھی کامل نہیںہوسکتا، کیا اللہ کے رسولﷺسے محبت اس بات کی متقاضی نہیںہے کہ ہم لباس میںاللہ کے رسولﷺکے طریقوںکواپنائیں،اوراللہ کے رسولﷺ کی ہدایات کے مطابق لباس زیب تن کریں۔
ٹخنوںسے نیچے ازارباندھناجس قدرسخت گناہ ہے،اوراللہ کے غضب وغصہ کاموجب ہے،آج ہمارے معاشرے میںاس سے اسی قدر غفلت اورلاپرواہی برتی جارہی ہے،اورٹخنوںسے نیچے پائجامہ پہننے کوفیشن اورروشن خیالی تصورکیاجارہاہے،مغربی تہذیب کی ظاہری چکاچونداوراس کی ملمع سازیوںنے ہمارے مسلم نوجوانوںکے اخلاق وکردارکوسطحی اورگھٹیابنانے میںاہم کردار ادا کیا ہے، اوران کے طرزمعاشرت اوررہن سہن کوغیراسلامی رنگ میںڈھال دیاہے،اورہماری نسل نوکواس کاپتہ تک نہیں،بقول علامہ اقبال
وائے ناکامی کہ متاع کارواںجاتارہا
کارواںکے دل سے احساس زیاںجاتارہا
ٹخنوںسے نیچے ازارپہننے کی وبااس قدرعام ہوچکی ہے کہ عوام توعوام ،بعض اہل علم حضرات بھی اس میںمبتلانظرآتے ہیں،اورجن احادیث میںٹخنوںسے نیچے ازارباندھنے کی ممانعت آئی ہے ان کی فاسدتاویلات کرتے ہیں،اورمن مانی تشریح کرتے ہیں،آج ٹخنوںسے نیچے ازارباندھنے پراس قدراصرارہے کہ نہ صرف لوگ اس میںمبتلاہیں؛بلکہ اگرکوئی اس سے منع کرے،اوراس پراحادیث میںجووعیدیںواردہوئی ہیںانہیںسنائے توبجائے اس کے کہ وہ نصیحت کوقبول کریں،اوراس گناہ بے لذت سے کنارہ کشی اختیارکریں،الٹااس گناہ بے لذت کوجائزٹھہرانے کی کوشش کرتے ہیں،اورایک آدھ حدیث کے ذریعہ اپنے عمل کوسندجوازفراہم کرتے ہیں،چنانچہ ان کایہ خیال ہے کہ ٹخنوںسے نیچے ازارباندھنااس صورت میںممنوع اورحرام ہے جب کہ دل میںتکبراوربڑائی ہو،دوسروںکے اوپرفوقیت کااحساس رکھتاہو،اگرآدمی کے دل میںعجب اورکبرنہیںہے توٹخنوںسے نیچے ازارباندھنے میںکوئی حرج نہیںہے،اورانہوںنے اپنے دعوی کوثابت کرنے کے لئے مندرجہ ذیل احادیث سے استدلال کیاہے:
حضرت ابن عمرؓفرماتے ہیںکہ اللہ کے رسولﷺنے ارشادفرمایا:جوشخص بربنائے تکبراپناکپڑازیادہ نیچے کرے گاقیامت کے دن اللہ تعالی اس کی طرف نظررحمت نہیںفرمائیںگے،حضرت ابوبکرؓنے عرض کیاکہ میراتہبنداگراس کاخیال نہ رکھوںتووہ نیچے لٹک جاتاہے،حضوراکرم ﷺنے فرمایا:تم ان لوگوںمیںسے نہیںہوجوغروراورتکبرکی وجہ سے ایساکرتے ہیں۔(بخاری،حدیث نمبر: ۸۴ ۷ ۵)مذکورہ بالاروایت سے استدلال کرتے ہوئے بعض حضرات کہتے ہیںکہ ٹخنوںسے نیچے پاجامہ لٹکانااس صورت میںممنوع اورحرام ہے جب کہ غروراورتکبرکاناپاک جذبہ بھی اس میںکارفرماہو،اگرغروراورتکبرنہیںہے تو ٹخنوںسے نیچے پاجامہ رکھنے میںکوئی حرج نہیںہے،یہ استدلال محل نظرہے؛کیوںکہ حضرت ابوبکرؓنے آپﷺکے سامنے اپناجوعذرپیش کیاتھااس کے الفاظ بچشم انصاف ملاحظہ فرمائیے:میرے تہہ بندکاایک حصہ ڈھیلاہوجاتاہے(اورٹخنہ تک پہونچ جاتاہے)ہاں اگرمیں تہہ بندکاخاص خیال رکھوں (تووہ ٹخنہ تک نہیں پہونچے گا)حضرت ابوبکرؓکے الفاظ صاف بتلارہے ہیں کہ ٹخنہ کے اوپرہی تہہ بندباندھتے تھے؛لیکن کھسک کرٹخنہ کے نیچے آجاتاتھا،یہ مطلب بالکل نہیں کہ حضرت ابوبکرصدیقؓابتداء ہی ٹخنہ کے نیچے تہہ بندباندھتے تھے۔(تفصیل کے لئے دیکھیے:سیراعلام النبلاء:۴/۳۲۰)دوسرے اسبال ازارسے متعلق جوروایتیں آئی ہیں ان میں دوالفاظ آپﷺنے استعمال کیے ہیں:۱۔اسبال ،۲۔جر۔اوران دونوں میں خاصافرق ہے،اسبال کے معنی آتے ہیں:تہہ بندلٹکانا اورجر کے معنی آتے ہیںتہہ بندکوکھینجنا،ظاہرہے کہ جراسبال سے ایک زائد چیزہے،اسبال صرف کپڑے لٹکانے پربولاجاتاہے،جب کہ جرکااطلاق اس صورت پرہوتاہے جب کہ کپڑے کولٹکانے میں ایسامبالغہ کیاجائے کہ اس کے کنارے زمین پرپڑنے لگیں،جب آپ اسبال اورجرکے درمیان فرق سمجھ چکے ہیں تویہ سمجھنے میں آپ کوذرادشواری نہیں ہوگی کہ جس روایت میں اللہ کی نظررحمت سے محروم رہنے کی وعیدہے اس کاتعلق اس شخص سے ہے جوتکبرکی وجہ سے اپنے ازارکوگھسیٹ کرچلتاہو،لیکن اسبال ازارکی حرمت کاحکم تکبراورخودپسندی کے ساتھ خاص نہیں ہے،کیوں کہ اسبال ازارکی ممانعت کی جوروایتیںہم نے ابتداء میںبیان کی ہیںان میں نہ صرف یہ کہ خیلاء کی قیدنہیںہے؛بلکہ اسبال ازارکی ممانعت کی علت کپڑے کی طہارت وپاکیزگی کوقراردیاگیاہے،اس لئے اسبال ازارکی حرمت کوتکبروغرورکے ساتھ خاص کرنااحادیث رسول سے ناواقفیت اورجہالت کی دلیل ہے۔