Thu, Feb 25, 2021

متعصّب حکومت اورمظلوم مظاہرین
مفتی صدیق احمد جوگواڑ نوساری گجرات
موبائل نمبر: 8000109710
shaikhhsiddique@gmail.com

موجودہ ہندوستان کی بدلتی صورتحال کا جائزہ لینے پر یہ بات کُھل کر سامنے آجاتی ہے کہ ملک روز بروز تنزلّی کی راہ پر گامزن ہے،سارے نظام درہم برہم ہوچکے ہیں،ظلم وتشدّد ایک عام سی بات ہوگئ،اور جمھوریت کاتو پورابیڑاغرق ہوچکاہے،معیشت سے لیکر اُخوّت تک سب کچھ برباد ہوگیا،بے روزگاری عام ہوگئ،آئے دن غلط افواہوں کابازار فروغ پارہا ہے،بِکاؤمیڈیانفرت بھری باتیں پھیلا رہی ہے،کچھ بکےہوئےصحافی حکومت کی مدح سرائ میں لگےہوئے ہیں،جبکہ حکومت کاکوئ بھی کام مدح سرائ کے لائق نہیں دکھائ دے رہاہے،ملک کاصحیح منظرنامہ پیش کرنےوالوں کی آوازوں کودبایا جارہا ہے،سچےاوربے باک صحافیوں کوپابندِ سلاسل کیا جارہاہے،غرض ملک بھر میں حکومت کی بد نیّتی اوربی جی پی آرایس ایس اوراسکے ذیلی تنظیموں کےسازشوں کا پردہ فاش کرنے والوں کونشانہ بنایا جارہاہے،کبھی توایسے لوگوں کوگرفتار ہی کرلیاجاتاہے،اورکبھی خفیہ طورپران پر حملے کرائے جاتے ہیں،کبھی اُنہیں لالچ دے کراپنازرخریدغلام بنالیاجاتاہے،اس ملک میں ایسے خوف وہراس کے درمیان ہم جی رہے ہیں،آئین کی خلاف ورزی کی جارہی ہے،جب اقتدارپرقابض لوگ ہی آئین کی حفاظت وپاسداری نہیں کریں گے تورعایاکیسےاسکی پاسداری کرےگی؟
ایسالگتا ہے کہ اس ملک کے لوگ آزادی کی لڑائ لڑنے اورقربانی دینے کے باوجود اب تک آزاد نہیں ہوئے،کیونکہ یہاں ڈکٹیٹر شپ چل رہا ہے،موجودہ حکومت اپنی من مانی کرتےہوئے منظّم منصوبے بناکر،آئین کی خلاف ورزی کر رہی ہے،معصوموں کوبلاوجہ گرفتارکیا جارہا ہےاوراصل مجرموں کو سزادینےکے بجائے انکی پشت پناہی کی جارہی ہے،سیاسی مفاد کے لیےخون کی ہولی کھیلی جارہی ہے،مذہبی معاملات میں دخل اندازی کی جارہی ہے،جب آئین کےخلاف بننے والے قانون پرآواز اٹھائ جاتی ہے،تواس کو دبانے کی کوشش کی جاتی ہے،اسی سلسلے کی ایک کڑی CAA قانون ہے جسکو لیکر پورا ملک سراپا احتجاج بناہوا ہے لیکن حکومت سیاست میں لگی ہوئ ہے،اپنے سیاسی مقصد کو حاصل کرنےکے لیے طرح طرح کے حربے اپنارہی ہے،رعایاکے ساتھ ناانصافی ہورہی ہے،حکومت کے اب تک کے غیرمنصفانہ رویے کوآپ جان چکے ہیں،پہلی دوسری قسط میں تفصیلات گزرچکی ہیں.
27 جنوری کو احتجاجی مظاہرے کےلیے رشوت دیے جانےکاالزام لگایاجاتا ہے،حالانکہ “احتجاج رعایامیں سے ہر ایک اپنے اپنے طورپر کر رہے ہیں،جسکے لیےکسی کونہ کوئ رقم دے گئ ہے نہ ہی کسی عہدے کی لالچ،”ایسے نفرت بھرے ماحول میں آج کے دن ہی “مرکزی وزیرروی شنکرپرساد نے ملک کےمظاہرین کوٹکڑےٹکڑےگینگ کاحامی بتایا”کتنی افسوسناک بات ہے.
اورادھربی جی پی کی ریلی میں انوراگ ٹھاکرے نے نعرہ لگایا”ملک کےغداروں کو گولی مارو…….”.
ان سب کے حوصلے کوکون بڑھا رہاہے،انہیں بڑھاواکیسے مل رہاہے؟ظاہر سی بات ہے جب کسی کے زہریلے بیان پر کوئ کارروائ نہیں ہوگی تو یہ سلسلہ تیزی بڑھتا ہی چلا جائےگا،اورایساہوبھی رہاہے.
آپ بی جی پی کی عادت جان چکے ہونگے،انکےپاس نفرت پھیلانے،آپس میں ایک دوسرے کولڑانے اورپاکستان،کشمیر کے علاوہ کوئ مدعی بچاہی نہیں،اسلیے اس طرح نفرت کازہر گھول دیتی ہےکہ کام کرنے والاکوئ اور ہواورمقصد انکا پوراہوجائے تاکہ “سانپ بھی مرجائےاورلاٹھی بھی نہ ٹوٹے”.
لوگوں کو اس طرح الجھا کراُدھر حکومت ایئرانڈیا کوفروخت کرنے کی تیاری میں لگ جاتی ہے،ملک کی بہت سی ملکیت پرائیوٹ ہاتھوں میں جاچکی ہے،اوراب جوکچھ تھوڑی باقی بچی ہے حکومت اسے بھی ختم کرنے کی کےلیےکوشاں ہے،جب سرکارٹیکس لیتی ہےاورملک کی ملکیت میں ہندوستان کاہر شہری برابر کاشریک ہے توآخر ہمیں پوچھنے کاحق نہیں ہےکہ آپ ملک کی ملکیت کو پرائیوٹ ہاتھوں میں کیوں دے رہےہو؟
28 جنوری سے شاہین باغ مظاہرین کوڈرانےکے لیے ہتھیارلے جانے کاسلسلہ شروع ہوا،ایک شخص پستول لیکر وہاں پہنچا،مظاہرین نے اسے وہاں سے بھگایااورپولیس کے حوالے کردیا.
اِدھردہلی کےچناؤکی تشہیر میں لگے بی جی پی کے نیتابھڑکاؤبیان دینے میں لگ گئے اور” پرویش ورما نے کہاکہ بی جی پی حکومت بننے کے بعدمیں اپنے حلقے میں ایک بھی مسجد نہیں رہنے دوں گا”دیکھیے کس طرح مذہب کے نام پر غنڈہ گردی ہورہی ہےاورسیاست کےلیے نفرت کازہر گھولاجارہاہے،اب تک تو انسانوں کونشانہ بنایا جارہا تھا،جب اس سے بات نہیں بن سکی تواب مذہبی مقامات کونشانہ بنایا جارہاہے،لیکن نہ ہی انکے بیانات پرروک لگایا جاتاہےاورنہ ہی انکےخلاف کوئ کارروائ ہوتی ہے.
یاد رکھیے! “ملک کومذہب کے نام پرکبھی بھی تقسیم نہیں کیا جاسکتا”.
29 جنوری کو ملک کی رعایا نے ہندوستان بند کیا جس میں بڑے بڑے علا…