Fri, Feb 26, 2021

تبلیغی جماعت ایک اصلاحی تحریک ؍میڈیا کی زہر افشانی بھارت کی پیشانی پر ایک بدنما داغ
مفتی محمد میثاق ربانی قاسمی

جب سے میں نے ہوش سنبھالا اس وقت سے لے کر آج تک اس جماعت کی ساری سرگرمیاں میری نظر وں کے سامنے ہیں، میرا پورا خانوادہ اس تحریک سے جڑا ہوا ہے ،خود میرے والد ماجد (اللہ تعالی صحت وعافیت کے ساتھ ان کی عمر دراز کرے)سارے چچا ہر وقت تبلیغی جماعت میں سرگرم عمل رہتے ہیں ،گاہ بہ گاہ مجھے بھی اس کارخیر میں شرکت کاموقع ملتارہتا ہے ،اس مختصر سے تجربہ کے بعد میں اس نتیجہ پر پہنچا ہوں کہ تبلیغی جماعت پوری دنیا کی ایک واحد تنظیم ہے، جو اپنے قیام (۱۹۲۶؁ء)سے لے کر آج تک بے طلب بندوں میں بے غرض ہوکر انسانیت کا پیغام عام کررہی ہے ،بھٹکے ہوئے آہوں کو سوئے حرم لے جانے میں اپنی جان وقت اور پیسوں کی قربانیاں پیش کررہی ہے ۔
اس تحریک سے مربوط افراد کا رشتہ اسی زمین سے ہے ،ان کا سارا دائرہ عمل اسی دنیا پر محیط ہے ،وہ عام انسانوں ہی کی طرح اپنی ساری بشری ضرورتیں پوری کرتے ہیں لیکن خاص بات یہ ہےکہ ان کی ساری باتیں یا تو زمین سے نیچے کی ہوتی ہیں یا آسمان سے اوپر کی کسی طرح کی سیاست سے ان کا کوئی واسطہ نہیں ،یہ لوگ کبھی کسی کو نقصان نہیں پہنچاتے تشدد کی کوئی بات نہیں کرتے ہیں ،انسانیت سے محبت کرنا سکھاتے ہیں ،بھوکوں کو کھلانا ننگوں کو پہنانا ،بے گھروں کو چھت عطا کرنا ،مجبوروں او ربےبسوں کےساتھ غمگساری اور ہمدردی کا معاملہ کرنا،ان کی سرگرمی کا حصہ اور ان کی تحریک کا محور او رمرکز ہے۔
تبلیغی جماعت او راس کی اصلاحی تحریک میں جو لوگ بھی شامل ہوتے ہیں،ان کاسماج سے رابطہ حد درجہ مضبوط اور مستحکم ہوتا ہے،انہیں ہر گلیارے میں موجود مرد وعورت کی تعداد معلوم ہوتی ہے ،نمازی وبے نمازی ،دین سے قریب اور دور لوگوں سے واقفیت ہوتی ہے،روزگار وبے روزگار نوجوانوں کی خبر ہوتی ہے ،تعلیم یافتہ اور علم ہنر سے دور لوگوں کابھی مکمل پتہ ہوتا ہے ،سماج اور معاشرہ کے ساتھ تعلقات کی اس درجہ مضبوطی کے ہر رنگ میں محبت اور بھائی چارگی کا عنصر ان پر غالب رہتا ہے ،ان کو نفرت کسی سےنہیں ہوتی ،کدورت سے خود کو دور رکھتے ہیں ،بس ایک ہی فکر انہیں ستارہی ہوتی ہے کہ کیسے اللہ کے بندوں کا اللہ سے تعلق مضبوط رہے،جن کی اللہ سے بگڑی ہوئی ہے وہ اپنے رب سے صلح کرکے اپنی زندگی کو من چاہی نہیں، رب چاہی بنانے میں کیسے کامیاب ہوجائیں،شراب خانوں ،جوے کے اڈوں ،تاش کے مرکزوں او رلہو لعب کے میدانوں میں جاجاکر پیار ومحبت کے ساتھ بہترین ناموں سےپکار کر بھائی بھائی کہہ کر پیشانی کوچوم کندھو ں پر ہاتھ رکھ کے انتہائی لجاجت او رخلوص کے ساتھ ان گناہوں او رفضول کاموں سے بچنے کی تلقین کرتے ہیں،ان کی ہولناکیوں سے باخبر کرتے ہوئے ایک پرامن زندگی گذارنے اور صالح معاشرہ کی تشکیل پر زور دیتے ہیں ،کون ہے جواس دنیا میں محبت کا بھوکا او رپیار کاپیاسا نہیں ،کون ہے جسے صالح پرسکون زندگی کی تلاش نہیں، تبلیغی جماعت کے یہ بے غرض لوگ اسی محبت کا تحفہ دےکر لوٹ آتے ہیں ،مگر ہزاروں لوگوں کے دلوں میں انقلاب کی ایک چنگاری چھوڑ آتے ہیں ،پھر شرابی جواری او رلہو لعب میں مصروف لوگ ان گناہوںسے توبہ کرتے ہوئے ایک خو ش گوار ماحول میں رب کی مرضیات والی راہوں پر چلنے کا عزم کرلیتے ہیں ۔
تبلیغی جماعت کی ان خوبیوں کا اتنا ہمہ گیر اثر مرتب ہوا کہ رفتہ رفتہ اس کادائرہ کار عالمی ہوگیا ،دنیا کے بیشتر ممالک میں اس کے مراکز قائم ہوئے،ہر ملک کے افراد اس مشن سے جڑتے گئے ،اپنی اپنی اصلاح کی غرض سے اندرون اور بیرون ممالک کا رخ کرنے لگے ،تقریبا سو سالوں سے دنیا اس جماعت کی سرگرمیوں سے واقف ہے ،ہمارےوطن عزیز ہندوستان کی سوسالہ حکومتیں اس سے واقف ہیں ،اور اس میں کام کرنے والےلوگ خفیہ ایجنسیوں کی نظر میں بھی اتنے بے ضرر ثابت ہوئے کہ اسرائیل جیسی دجالی ریاست میں بھی بہ آسانی اس کا مرکز آج تک قائم ہے۔
انتہائی افسوس کا مقام ہے کہ اس انسانیت نواز تحریک کے عالمی مرکز نظام الدین میں واقع بنگلہ والی مسجد میں موجود لوگوں کو ہمارے ملک کے سیاست دان بدنام کرنے میں کوئی کسر نہیں چھوڑ رہے ہیں ،جب کہ مرکز کے ذمہ داروں کی برائے نام بھی غلطی نہیں تھی، مرکز میں قیام پذیر افراد مجرموں کی طرح چھپے ہوئےنہیں ؛بلکہ حکومت کےغیر منظم لاک ڈاؤن کےسبب پھنسے ہوئے تھے، جیسا کہ وشنودیوی کی مندر میں درشن کرنے والے برادران وطن پھنسے ہوئےتھے ،جنہیں نکالنے کی ذمہ داری حکومت ہی کی تھی ۔
ذمہ داران مرکزکی پیہم درخواستوں او راپیلوں کے باوجود دہلی پولیس اور نیم سنگھی وزیر اعلی کجریوال کی جانب سےمجرمانہ رویہ ہمارے ملک کی پیشانی پر ایک بد نماداغ ہے، جسے دھلنے میںبرسوں لگیں گے ،جماعت کے ان سادہ لوح لوگوں کے ساتھ منافقانہ طرز عمل ایک منصوبہ بند پلاننگ کا حصہ ہے ،جسے گودی میڈیا کی زہر افشانی نے عروج عطا کیا ،حکومت کی ناکامیوں پر پردہ ڈالنے اور عوام کے ذہن کو آنند وہار اسٹیشن کے قریب جم غفیر ،مزدوروں اور بے بسوں پر لاک ڈاؤن کےبرے اثرات سے بہکانے کا الیکٹرانک میڈیاکے بھیڑیوں نے ایک ڈرامہ رچا ، بھاچپائی لوگوں سمیت سنگھی ذہن کے حامل دہلی کے وزیر اعلٰی اروند کیجریوال نے ایک ہر دلعزیز شخصیت تبلیغی جماعت کے امیر او رلاکھوں لوگوں کے دلوں پر حکومت کرنے والے مولانا سعد صاحب پر ایف آئی آر درج کرنے کا مطالبہ کیا کیجریوال جی آپ کا منافقانہ رویہ اس وقت بھی سامنے آگیا تھا، جب دہلی جلائی جارہی تھی ،ضمیر فروش بکاؤ میڈیا کے چند لوگ دہلی کے انسانیت کش اس حملے کو طاہر حسین کی آڑ میں ہلکا بنا کر پیش کرہے تھے ،کپل مشرااو رسنگھی ٹولے زہر اگلتے رہے ،اس وقت آپ کی سرد مہری دنیا دیکھ رہی تھی ۔
یہ سب سوالات ہیں اگر انسانیت نواز اس جماعت کو وائرس کا ملز م ٹھہرایا گیا تو اس میں ایسے لوگ بھی ہیں اگر وہ اپنےرب کے سامنے ان سوالات کے لئے ہاتھ اٹھالئے تو ان کا ہاتھ خالی نہیں لوٹے گا ،مظلوموں کی بدعاسے بچنا عین عقلمند ی کی نشانی ہے ۔
یہ عجیب تماشہ ہے کہ اس ’’کرونا‘‘ وبا کو بدقسمتی سے ہمارے ملک کے زہریلے میڈیا نے حسب عادت ہندومسلمان بنادیا ،تاریخ اسے بھی یاد رکھے گی ۔
موجودہ حالات میں بلاکسی تنقید وتبصرہ کے مرکز نظام الدین کے ذمہ داروں کے ساتھ ہمیں کھڑارہنے کی ضر ورت ہے ،ہوسکتا ہے ہمیں مولانا سعد صاحب سے بعض مسائل او رکچھ طریقہ ٔ کا رمیں اختلاف ہو ،یہ ہمارے گھر کا معاملہ ہے ،ہم خود سلجھالیں گے ،لیکن قصر ملت پر کسی سنگھی مداخلت اور نقب زنی کو برداشت نہیں کریںگے ،ان شاء اللہ ’’کرونا وائرس‘‘بھی ختم ہوگا اور پوری انسانیت مل کر نفرت آمیز وائرس کا بھی خاتمہ کرے گی ۔
جو بھی یہ سنتاہے حیران ہواجاتا ہے
اب’’کرونا ‘‘بھی مسلمان ہواجاتا ہے
ؕ(منوررانا)