Sun, Feb 28, 2021

*موجودہ حالات ہماری بد اعمالیوں کا نتیجہ*

*(مفتی) محمد میثاق ربانی قاسمی*

قدرت کی طرف سے آفتیں ہر دور میں آتی رہی ہیں،اس کی شکلیں دنیا کے ہر حصے میں مختلف ہوتی ہیں، گھروں کو برباد کرنے والے زلزلے کا آنا، سیلاب کی بلا خیزی، پہاڑ وں سے آگ برسنا ،غذائی اجناس کی کمی اور’’ کرونا ‘‘وائرس کی شکل میں وبا یہ سب قدرتی آفات کی الگ الگ شکلیں ہیں، لیکن ’’کرونا‘‘سے پیدا شدہ موجودہ صورت حال دنیائے انسانیت کے لیے اس حیثیت سے منفرد ہے کہ پہلی دفعہ پوری انسانی دنیا بہ یک وقت تعطل کی شکار ہوئی ہے، عالمی جنگوں سے بھی زیاد ہ تبائیوں کی پیش قیاسی کی جارہی ہے، خوف و ہراس ہر طرف چھایا ہوا ہے، ہر انسان دوسرے انسان سے گھبرا رہا ہے، جب کہ ماضی میں تباہیوں کے پیچھے صرف دشمنوں کا خوف کار فرما تھا،ٹکنالوجی کی حیرت انگیز ترقیوں کے باوجود قدرت کے ایک ہلکے اشارے نے بنی نوع انسان کو جھنجھوڑ کر رکھ دیا ہے۔
انسانوں پرآفتیں اس وقت آتی ہیں، جب اس کے تعلقات خالق کائنات سے بگڑ جاتے ہیں ،اللہ اور اس کے رسول کی نافرمانیاں بڑھ جاتی ہیں، سنتوں کو پس پشت ڈال کر شتربے مہار کی طرح زندگی گزاری جاتی ہے، دین کی روح کو ختم کرکے محض اس کے مراسم اور ڈھانچے پر نام ونمود کے لئے توجہات مرکوز کی جاتی ہیں ، یقینا مصیبتیں اللہ کی طرف سے تنبیہ اور وارننگ بھی ہے،کھرے اور کھوٹے کی تمیز اور صابر و شاکر کی پہچان کا ذریعہ بھی ہے ،سورہ توبہ میں اللہ تعالی کا ارشاد ہے ،
*اولا یرون انھم یفتنون فی کل عام مرۃ او مرتین ثم لا یتوبون ولا ھم یذکرون*
کیا یہ لوگ دیکھتے نہیں کہ ہر سال ایک یا دو مرتبہ آزمائش میں ڈالے جاتے ہیں ،مگر اس پر بھی نہ وہ توبہ کرتے ہیں اور نہ کوئی سبق لیتے ہیں ۔
اس وبا کے پیچھے اللہ کی کیا حکمت اور منشا ہے، ہمیں معلوم نہیں ؛لیکن اس میں اللہ کی طرف رجوع کرنے اور انفرادی اور اجتماعی زندگی درست کرنے کا سبق ضرور موجود ہے۔
نعمتوں سے محرومی کا سبب نافرمانی گناہ اور ظلم بھی ہیں، قرآنی آیات بتلاتی ہیں کہ اسی نافرمانی کی وجہ سے ابلیس کو راندہ بارگاہ ہوناپڑا، مستحق لعنت ہوا، تسبیح وتقدیس کی جگہ کفر و شرک کذب وافتراء اور وعید کا تحفہ اسے ملا، قرب کی جگہ بعد نصیب ہوا، قوم نوح نے جب خدائی احکامات کی دھجیاں اڑائیں تو تمام اہل زمین کو طوفان میں غرق کردیا گیا، قوم عاد کی سرکشی بڑھنے لگی تو تند و تیز ہوا ان پر مسلط کر دی گئی،زمین پرپٹخ پٹخ کے مارا گیا،قوم ثمود کا گناہ بڑھ گیا تو ان پر ایک چیخ آئی جس سے ان کے کلیجے پھٹ گئے اور ہلاک وبرباد ہوئے، قوم لوط نے جب انسانی فطرت کے خلاف اعمال کا ارتکاب کیا تو ان کی بستیاں آسمان تک لے جاکر الٹی گرادی گئیں اور اوپر سے پتھر برسائے گئے ، فرعون اور اس کی قوم جب طاقت و قوت کے نشے میں میں حد درجہ دھت ہوکر خدائی لہجے میں بات کرنے لگےتو ان سب کو بحرقلزم کے نذر کر دیا گیا، قارون کوبےجا غرور و تکبر کی وجہ سے زمین میں دھنسا دیا گیا، گناہوں کی وجہ سے بنی اسرائیل کو طرح طرح کی بلا و مصیبت میں گرفتار کیا گیا ،کبھی قتل ہوئے، کبھی قید و بند سے دوچار ہوئے، کبھی گھروں کو اجاڑ دیا گیا، کبھی ظالم بادشاہ ان پر مسلط ہوئے اور کبھی جلاوطن کئے گئے۔
قرآن مقدس میں موجود جابجا ان کےقصے بتلاتے ہیں کہ ان لوگوں نے اپنے اپنے گناہوں اور نعمتوں کی ناقدریوں کی بدولت دنیا میں کیا خرابیاں بکھتے ہیں ۔ *و ماکان اللہ لیظلمہم ولکن کانوا انفسہم یظلمون*
اللہ نے ان پر ظلم نہیں کیا لیکن وہ خود اپنی ذات پر ظلم کررہے ہیں۔
خالق کائنات کی کسی سے ذاتی دشمنی نہیں ہوتی کہ جب چاہے جسے چاہے ایک دم عذاب نازل فرما کر ہلاک و برباد کر دے؛ بلکہ سنت اللہ یہ ہے کہ اصلاح حال تک مہلت دی جاتی ہے، جب سرکشی وبدعملی ایک خاص حد تک پہنچ جاتی ہے اور لوگ آمادہ ٔاصلاح حال نہیں ہوتے تو فنا کے گھاٹ اتارنے اور مصیبتوں میں گرفتار کرنے کا فیصلہ نازل ہوتا ہے۔
ہم میں سے کون ہے جس نے ظلم نہیں کیا ہے، ہر شخص کسی نہ کسی نوعیت سے زیادتی کا مرتکب ہوا ہے، بچا ہوا وہی ہے، جسے اب تک موقع نہیں ملا ہے ،طاقتور نے کمزوروں کو ستایا، ذمہ داروں نے ماتحتوں کو بلی کا بکرا بنایا، مالداروں نے غریبوں کی عزت نفس سے کھلواڑ کیا، حکمرانوں نے رعایا کو تختۂ مشق بنایا، ٹرسٹیوں اور متولیوں نے مساجد کے نظام کو مخدوش و پامال کیا اور اپنی جھوٹی شان کے لیے وارثین انبیاء اور دینی مزاج و مذاق کا استہزاء کرتے ہوئے ان کا استحصال کیا، ذرائع ابلاغ اور پیشۂ صحافت سے جڑے لوگوں نے ایمانداری، حق بیانی اور غیر جانب داری کے بجائے محض اپنے آقا کو خوش کرنے کے لیے مظلوموں کی آواز کو دبانے کا وہ گناہ کیاہے،جسے دھلتےدھلتے برسوں لگیں گے، اساتذہ اور طلبہ نے اپنے اپنے حقوق بھلادئے ،فرائض منصبی کو ادا کرنے میں کوتاہ ثابت ہوئے،اسکولوں اورتعلیم گاہوں کے ذمہ داروں نے محض دنیا طلبی کے لئے تعلیم وتربیت کے معزز پیشے کوتجارت کا مرکزبنادیاہے، جس شعبۂ حیات کی طرف نظر دوڑائیے وہ شروروفتن کی آماجگاہ بنا ہوا ہے ،ہماری حالت ایسی ہے کہ دلوں میں نفرتیں اور عداوتیں بھری ہوئی ہیں، حسد کا سکہ ہمارے قلوب میں اتنا چل گیاہے کہ کسی خیر کے لئےجگہ ہی نہیں چھوڑا، احکام خداوندی کی علانیہ بغاوت ہو رہی ہے ،نفس پرستی، تن پرستی، جاہ پرستی ،زر پرستی اور شہوت پرستی اتنی عام ھوگئی ہےکہ خدا کی پرستش کے بجائے بت پرستی میں مصروف ہونے کا گمان ہوتا ہے،جوانوں میں نگاہیں پاک نہ رہیں ،بوڑھوں کے دل پاکیزہ نہ رہے ،بچوں میں ادب نہ رہا، گلی گلی ہوس کی دھوم دھام ہے، جس نوجوان کو دیکھئے گلی سڑکوں سے گزرتی ہوئی ہر عورت کوللچاتی ہوئی نظروں سے دیکھتا ہے،حسن میں حیا نہیں رہی ،عورتیں پردے کے دامن کو تار تار کرتے ہوئے بے حیائی کے د ل سو ز مناظر پیش کر، نظارہ حسن کی دعوت دیتی ہیں ،انسان حصول اقتدار کے لئے ضمیر کا سودا کرنے سے بھی گریز نہیں کرتاہے، انصاف پا مال ہو رہا ہے، لوگوں کے دلوں کو دُکھایا جارہا ہے، جب ہماری ظاہری و باطنی حالات اس موڑ پر پہنچ چکے ہیں تو رکاوٹوں، بندشوں اور قدرتی آفات کا آنا ہمارے اعمال ہی کا نتیجہ معلوم ہوتا ہے۔
آج دنیا میں ہم پر جو بھی مصیبتیں آئی ہیں ،خدائی فرمان کے مطابق وہ ہماری شامت اعمال ،ناعاقبت اندیشی اور خدا ناشناسی ہی کے نتیجے میں آئی ہیں۔ *ومااصابکم من مصیبۃ فبماکسبت ایدیکم ویعفوعن کثیر* (سورہ شوریٰ)
تم پر جو بھی مصیبتیں آئی ہیں وہ تمہارے اعمال ہی کا نتیجہ ہیں اور اللہ بہت سے گناہ کو معاف کردیتا ہے۔
ایک وقت تھاجب ہم پر باجماعت کثیر تعداد میں مساجد میں جاکر نماز ادا کرنے کے سلسلے میں کوئی پابندی نہیں تھی، صحت و تندرستی کی نعمت سے بھی مالا مال تھے ،مسجدوں سے کامیابی و کامرانی کی صدائیں گونجتی تھیں، رمضان کی مقدس راتوں میں تراویح کے لئے مسجدیں ہی نہیں حسب سہولت کارخانوں، شادی خانوں اور اسکول وکالج کے احاطوں میں بھی اجتماعیت کے ساتھ باقاعدہ انتظام ہوتا اور حفاظ کی روح پر آوازیں ہماری سماعتوں میں رس گھولتی تھیں، پھر بھی ہم میں سےاکثر غفلت میں، خریداری اور بازاروں کی رونق میں پھنس کر بلا تراویح راتیں گزار کر سو جاتے تھے،آج جب حالات ناسازگار ہوگئے، ہوا کا رخ مخالف ہو گیا ،زندگی قید و بند میں محصور ہوگئی تو ہم چاہ کر بھی مساجد کی مقدس فضا میں راحت و سکون کی سانس نہیں لے پا رہے ہیں، امام کی اقتدا میں جمعہ کی نماز، ایمان افروز خطاب اور نصیحت آمیز جملے سننے سے ہم ترس گئے ہیں، ماہ مبارک کی نورانی راتوں میں تراویح کے بقدر ترویحہ میں مختصر قرآنی تفسیر کی مجلسیں جب یاد آتی ہیں تو آنکھیں امنڈ آتی ہیں،جذ بات مچل جاتے ہیں، لیکن خود کو اتنا بے بس اور مجبور محسوس کر رہےہیں ، جس کا شاید ہماری عمر کے لوگوں کو اتفاق نہیں ہواہوگا، یقینا یہ ہماری ان ملی ہوئی نعمتوں کی ناقدری کا نتیجہ ہے کہ آج ہم محروم ہیں۔
اسلام مسلمانوں کو خدا کے سہارے جینے کی تعلیم دیتا ہے، مشکل اوقات میں بھی نا امید بنا کر بے سہارا نہیں چھوڑتا، *لا تائیسوا من روح اللہ انہ لا ییا ئس من روح اللہ الا القوم الکافرون*
اللہ کی رحمت سے مایوس مت ہو،اس لئے کہ اللہ کی رحمت سے کافرہی ناامید ہوتے ہیں
اس لیے ہمارے لیے اب بھی توبہ کا دروازہ کھلا ہوا ہے،مظلوموں سےمعافی تلافی کرکے اپنے گناہوں سے معافی مانگ کر اللہ کی طرف رجوع کریں اور آفتوں سے سبق لیتے ہوئے ایک نئی زندگی کی شروعات کریں، جس میں رب کی رضا کے حصول کے لئے ہمیشہ کوشاں رہنے کا عزم ہو۔خدا توفیق عطا فرمائے۔آمین

7013068520
misaque2016@gmail.com