Thu, Feb 25, 2021

’ الیکٹرانک میڈیا کی کلاکاری ‘‘
مرکز نظام الدین کے واقعہ سے اسکرین پرحقیقی چہرےوفکر نمایاں
از :مفتی سید آصف الدین ندوی قاسمی ایم اے

بانی انسٹی ٹیوٹ آف عربک حیدرآباد
asif_nadwi@yahoo.com 91-9849611686

کورونا وائرس کے پیدا ہوتے ہی اوربھی بہت سے وائرس بھی پیدا ہوگئےہیں بلکہ جن میںکسی بھی طرح کے خراب جراثیم تھےتو وہ پختہ بلکہ پختہ تر ہوگئے ہیں،اور اس کی پہچان پہلے کرنا شاید ذرا مشکل اور دقت نظر کا کام تھا اب تو ہر ایرے غیرے نتو خیرے کو بھی کورونا وائرس کے حوالے سے ہندو مسلم کا وائرس پھیلانے والوں کو جاننا اور پہچاننا آسان ہوگیا ہے۔ آپ کیا سمجھتے ہیں کہ لاک ڈائون کے دنوں میں مکار ذہنوں نے ،دجل و فریب سازوںنے بھی تالا ڈال رکھا ہے؟کیا کبھی کوئی اچھائی وخوبی کو میڈیا میں پیش کیا ہے ؟ بلاتے تو ہیں لیکن بولنے نہیں دیتے ،موضوع کچھ ہوتا ہے سناتے کچھ اور ہیں ،واقعہ کچھ ہوتا ہے بتاتے کچھ اور ہیں ۔پچھلے پانچ برس میں الیکٹرانک میڈیا پر نظر رکھنے والی نظر بتا تی ہے کہ نفرت کے بیوپاری ،شرارت کے پجاری پہلے سے کہیںزیادہ موقعہ کی تلاش میں ہیں ۔مرکز نظام الدین کا واقعہ ہم سب کے سامنےہے جو ہم سب کی بند آنکھیں کھولنے کے لئےکافی ہے۔
ہندوستانی الیکٹرانک میڈیا کو لاک ڈائون کے ان دنوں میں صرف کسی ایک دن فرصت سے دیکھ لیجئے پھر آپ کو اندازہ ہوجائے گا کہ ہندوستان کا یہ پانچواں ستون کیا کچھ گل کھلا رہا ہے،بات کا بتنگڑ بنانا ،اور رائی کو پہاڑ دکھانااس کا سب سے پسندیدہ اور محبو ب مشغلہ ہے،اور وہیں یہ بھی کھلی آنکھوں سے نظر آئے گا کہ لوگوں کی آنکھوں میں دھول جھونکنا اور زمینی حقائق وسچائیوں سے بے خبر رکھنا اس کی پہچان ہے۔خبروں کو نمک مرچ لگاکر لکھنا تو آپ نے سنا ہوگا لیکن الیکٹرانک میڈیا میں نمک مرچ لگانے کاکام زبان سے اور اٹراکٹ کرنے کا کام البتہ پاوڈر وکریم ، ٹائی وائی لگاکر کیا جاتا ہےاور یہی اس کی کشش ودلکشی کی اہم وجہ ہے کہ چھوٹی سی چھوٹی خبر ہر ایک کو بھانے لگتی ہے ،اور جھوٹی خبریں ہوا میں گردش کرتی ہوئی ، آنکھوں اور کانوں میں نفرت وتعصب پیدا کرتی چلی جاتی ہیں۔یہ بھی ایک المیہ سے کم نہیں ہے کہ کو ئی ان سے خبرو ں اور نیوز آئٹم کی صداقت وحقیقت کے بارے میں پوچھ نہیں سکتا اس لئے کہ الیکٹرانک میڈیا ون وے میڈیا ہے وہاں سے صرف آتا ہے وہاں تک کوئی ردعمل جاتا نہیں ہے ،اور زیادہ سے زیادہ یہ ہوتا ہے کہ شخصی وذاتی معاملات کی خبروں میں لوگ ایکشن لیتے ہیں ،ا ن پر کارروائی کرتےہیں، جیسا کہ سیاسی لیڈروں نے کئی ایک چیانلس کے خلاف کورٹ میں کیس کرکے ہتک عزت کے الزام لگائے ہیں۔اور کمیونٹیزوفیملیز کی جہاں تک بات ہے بہت ساری کمیونیٹز وفیملیزنے بھی ایسے قدم اٹھائے ہیںکہ الیکٹرانک وپرنٹ میڈیاکو غلط خبروں اور بے بنیاد افواہوں کی سزا بھگتنی پڑی ہے۔
ہندوستان کا الیکٹرانک میڈیا پہلے تو کوئی اچھا کام ہندوستانی مسلمانوں کا پیش ہی نہیں کرتا ،کیا کبھی آپ نے کسی میڈیا ہاوز میں مسلم مسائل اور ان کے حل کے بارے میں دیکھا سنا ہے ؟ستم بالائے ستم یہ کہ میڈیا جب مسلم قوم کاکوئی مسئلہ اور شوشہ اٹھاتا ہے تو مسلمان کہتا ہےکہ وہ تو ایک جماعت وفرقہ کے خلاف ہے ،میرے خلاف کہا ں ہے ؟یعنی قوم وملت کا تصور اب مسلک وجماعت کا عینک لگاکردیکھا جاتا ہے،مکتب فکر وادارہ کے پیمانے سے ناپا جاتا ہے۔(گستاخی لیکن تلخ نوائی معاف )جیسے مرکز نظا م الدین کے سلسلہ میں دیکھنے میں آیا کہ اسےکورونا وائرس کے بجائے مسلم وغیر مسلم کورونا بنا دیا گیا ،تبلیغی جماعت کے کام سے اتفاق وعدم اتفاق اور اختلاف کا سوال نہیں ہے بلکہ مسلم وغیر مسلم کا لیبل پوری طرح چسپاں کردیا گیا ،ایک ہوا کھڑا کردیا گیا اور ہم صرف ٹی وی چیانلس پر دیکھتے ہی دیکھتے رہ گئے ۔اقبال بینا نے کہا تھا
فرد قائم ربط ملت سے ہے تنہا کچھ نہیں
موج ہے دریا میں بیرون دریا کچھ نہیں
ایک کام جو فی الفور کرنے کا ہے وہ یہ کہ الیکٹرانک میڈیا میں نفرت وتعصب کا جو پرچار ہورہا ہے اس کے خلاف ملی وقومی بنیادوںپرملکی سطح پر دفاع کرنا ہے اور مسلم لیڈران جو ووٹ لے کر قانون ساز اسمبلی وپارلیمنٹ میں ہیں ان کو چاہیے کہ قانونی چارہ جوئی شروع کریں ،یہ کام اگر شروع ہوتا ہے تو پھر توڑ مروڑ کر خبریں بنانے اور جھوٹی باتیں عام کرنے ،حقائق سے پردہ پوشی کرنے کا سلسلہ روکا جاستکا ہے، بے مہار گھوڑے کو لگام ضرور لگائی جاسکتی ہے۔
دوسرا کام مسلم میڈیا ہاوزس کا ہے کہ وہ پوری طرح سمجھد اری اور باریک بینی سے کام لیتے ہوئے اپنا موقف اوراپنی حقیقت وسچائی کو سامنے لائیں ، اسی طرح مسلمانوں کو چاہیے کہ وہ ان آڈیوز وویڈیوز کو بیاک گروانڈ میں رکھتے ہوئے صحیح اور حقیقی صورتحال پیش کرنے کا کام کریںاور مجھے یہ کہتے ہوئے کوئی تعجب نہیں ہوتا کہ ایسا کام ہمارے بہت سارے مسلمان یو ٹیوب پر کرچکے ہیں اور کرتے رہتے ہیں کہ مسلکی وجماعتی اختلافات کےآڈیوز وویڈیوزکے کلپ کو سامنے رکھ کرمسلکی اختلاف پر سیر حاصل وبے لاگ گفتگو کرتےہیںبلکہ صحیح الفاظ میں میڈیا پوسٹ مارٹم کرنے کے فنکار ہیں اب وقت آپہنچا ہے کہ وہ اپنی طاقت وتوانائی سے ان اسلام دشمن ومسلم مخالفین کے دجل وفریب کو سمجھائیں اور ان کے غلط پروپگنڈےکو واضح کریں۔
تیسری گذارش ان مسلمانوں سے ہے جو ہر مسئلہ کو جماعت ومسلک کے خانے میں رکھتے ہیںکہ خدارا ! اب تو یہ سب کچھ چھوڑدو،ہندوستان میں مسلمان بن کر جینا ہے تو ہر ایک مسلمان کو مسلمان سمجھو، دوسری کوئی اور تقسیم اللہ کے لئے نہ کرو،اختلاف کس سے کس کو نہیں ہوتا ، اختلاف رائے کامطلب اسلام سے خارج کرنا نہیں ہے ،اب مسلمانوں کو خانوں میں بانٹنا بند کرئیے ،آج ہم بٹوارے کا شکار ہوکر بٹ ہی نہیں گئے بلکہ پٹ رہے ہیں ،اور ہمارا دشمن بہت اچھے طریقے سے اس نتیجہ پر پہنچ چکا ہے کہ ملت کی شیرازہ بندی نہ ہونے پائے ، ان کو کاٹنے کے لئے تیر وتلوار کی نہیں بلکہ ان میں ایک دوسرے کے خلاف غلط فہمیاں پھیلانا اور آپسی دوریاں پیدا کرنا ہے۔خدارا ! اپنے علمی وفکری اختلافات کو حل کرنے کا یہ کوئی مناسب وقت نہیں ہے ا س کام کو کسی اور وقت کے لئے اٹھا کر رکھئے جب ملت غیروں کے نرغے سے بچ کر نکل آئےگی تو پھر مل بیٹھ کر افہام وتفہیم کا کام کریں گے ۔
چوتھی گذارش بلکہ درد دل کو لفظوںمیں لکھ رہا ہوں کہ میرے نوجوان دوستوںسوشیل میڈیا کے فریب کو جانیے،جو بھی میڈیاکے’ کلاکار‘ جو کچھ بھی پھیلارہے ہیں آپ اس کو شیئر وفارورڈ کرکے نادان مسلمان بچے ہونے کا ثبوت دے رہے ہو،وہ جو بولے سو فیصد سچ ہو کیا یہ ضروری ہے؟وہ جو بتائیں کیا وہی واقعہ وحقیقت ہو،کیا ایسا ہونا سچ ہے؟جو رپورٹس پیش کریں اس کی سچائی کی گیارنٹی کون دے گا؟ہر میڈیا ہاوز کا اپنا ایک ایجنڈہ ہوتا ہے اور وہ اسی پر کام کرتا ہے وہ ہر دن ایک بریکنگ چلائے گا تب ہی وہ زندہ وباقی رہ سکتا ہے،اگر اس کے پاس ہر صبح وشام نیوز آئٹم نہیں ہوگا تو پھر وہ بھی لاک ڈائون ہوجائے گا ۔ ہمارے نوجوان اس کی خبروں پر آنکھیں بند کرکے یقین کرلیتے ہیں ،اور ان کو جو دکھایا اور سنایا جاتا ہے اس کو دوسروں کو دکھانے ،بتانے اور سنانے میںلگ جاتے ہیں۔ملک بھر میںکتنے ایونٹس واقعات اور دل دوز کہانیاں ہیں جو آپ کو نیوز چیانلس کے بغیر معلوم ہیں اور وہ سچ ہیں لیکن کیا کبھی ان سچائیوں کوالیکٹرانک میڈیا میں آپ نے آتے ہوئے دیکھا ہے؟ابھی دیکھ لیجئے کہ کتنے لاکھوں لاکھ لوگ اپنے گھروں سے دور بے گھر ہیں،کتنے ہزاروں ہزار ہیں جو اپنے گھر کے راستے پر پیدل چل پڑے ہیں،کتنے ہیں جو اپنے گھر سے دور کسی اور جگہ پر کورنٹائن کی زندگی گذاررہے ہیں ،لاک ڈائون کے بعد بھوک مری سے مرنے والوں کی تعداد کتنی ہے ؟اور پھر کتنے واقعات وایونٹس ہیں جو اسکرین کے پردے پر جان بوجھ کر نہیں لائے گئے؟
پانچویں گذارش ان مسلمان بھائی بہنوں سے ہےجو سوشیل میڈیا بالخصوص فیس بک اور واٹس پر گروپ چلاتے ہیں یا وہ کسی گروپ میں ہیں تو آپ سے ہاتھ جوڑ کر اللہ کا واسطہ دے کر کہتا ہوں کہ بے بنیا د افواہوں ،غیر مصدقہ خبروں ،غیر ضروری چیزوں کو آپ بھی مت دیکھئے کہ اس سے دماغ خراب ہوتا ہےاور اورفکربھی منتشرہوتی ہے اور پھر اس کے ساتھ ساتھ آپ سے منت او رسماجت ہے کہ اس کو گروپوں میں پھیلانے کی نادان حرکت چھوڑ دیجئے ،اور ناسمجھی کی عادت بدل ڈالئےکہ ایک آڈیو وویڈیو کو ہم بار بار فارورڈ کرتے ہیں۔ کسی بھی آڈیو وویڈیواور فوٹو ومسیج کو آگے بڑھانے سے پہلے اس کی حقیقت سے واقف ہوجائیے ،آڈیو وویڈیو کوکراس چیک کرلیجئے ،اور آج کے زمانے میں تو بال کی کھال نہیں بلکہ زمین کی تہہ کو کھنگالنا منٹو ں سکنڈوں کاکام ہوگیا ہے۔ساری دنیا لاک ڈائون میں ہے تو آسانی سے معلومات بھی حاصل کی جاسکتی ہیں ۔ حقیقت یہ ہے کہ آج سوشیل میڈیا گروپس سے فائدہ کم بلکہ نقصان زیادہ ہورہا ہے کہ ایک چھوٹی خبر بڑی ،جھوٹی خبر سچی بن جاتی ہے ،جیساکہ کورونا وائرس کے بعد ہر دن مشاہدہ ہورہا ہے۔
دل دکھی ہے،قلم کانپ رہاہے،بے حسی پر دم گھٹ رہا ہے،کورونا وائرس کے متاثرین ومشتبہ افراداور ان کے خاندانوں کو سوچ کر ذہن وفکر مفلوج ہے،اور بے گھر افراد کی دکھ بھری داستانیں دیکھ کر ،جان کر روئیں تو آنسو بھی سوکھ جاتے ہیں ،غریبو ں وفاقہ کشوں کے مرجھائے ہوئے چہرے کیا ہمیں اب بھی نہیں جگائیں گے؟کب تک ہم اپنی بے فکر وبے حس زندگی کی مردہ لاش کو لے کر لاک ڈائون میں بھی گھومتے رہیں گے ؟ غیر ضروری وغیر اسلامی سیریلس ،بے حیائی وفحاشی کو عام کرنے والے ویڈیوز کے سلسلہ میں کب سیریس ہوں گے ؟ فلموںاور گانوںسے کب فرصت ملے گی ؟ٹک ٹاک کو کب تک ٹھیک ٹھاک کرتے رہیں گے؟کیا کبھی ہم نے اپنی قوم وملت کے لئےاپنے شخصی وذاتی مفادات کو چھوڑا ہے؟خیر چھوڑئیے ان سب باتو ں کو پھر کبھی فرصت میں بیٹھ کر سوچیں گے لیکن کورونا وائرس کے مشکل وقت میںالیکٹرانک میڈیا کے طوفا ن کا کیا کریں گے؟ سوشیل میڈیا وائرس کا حل کیا ہے؟روزانہ کی ذاتی ضرورتوں کے ساتھ ساتھ ملت وامت کی ضرورتیں کیا ہیں؟ چیانلس کے چیالنجس کا کیا کریں گے؟رہبران قوم وملت کے ساتھ ساتھ شخصی دینی ذمہ داریاں کیا ہیں؟لاک ڈائون میں کرنے نا کرنے کے کام کیا ہیں ؟ یہ وہ سوالات ہیں جن پر ٹھنڈے دماغ سے سوچنے ،ان پر غور وفکر کرنے ،ان کے سلسلہ میں منصوبہ بند کام کرنے کی نا صرف ضرورت ہے بلکہ لاک ڈائون اور کورونا وائرس کا حل بھی اسی میں ہے۔
تو اِدھر اُدھر کی نہ بات کر مجھے یہ بتا کہ قافلہ کیوں لٹا؟
مجھے رہزنوں سے گلہ بھی ہے اور تری رہبری کا سوال ہے
اس موقعہ پر ہم امیر جماعت اسلامی ہند محترم جناب سید سعادت اللہ حسینی صاحب ، استاذ محترم صدر جمعیت العلما حضرت مولانا سید ارشد مدنی صاحب ، سکریٹری آل انڈیا مسلم پرسنل لابورڈاستاذ محترم حضرت مولانا خالد سیف اللہ رحمانی صاحب ودیگرتمام مسلمان اکابروبزرگوںکے بروقت اقدام کو قدر کی نگاہ سے دیکھتے ہیںجن کے بیانات سامنے آئےجس سے مسلم امت کی بے چینی کسی قدر ختم ہوئی ۔اللہ کرے کہ مسلم ملت کی مشکل گھڑیوں میں ہمیں ایک ساتھ کھڑے ہونے اور سیسہ پلائی ہوئی دیوار بن جانے کی توفیق عطا فرمائے۔
ایک ہوجائیں تو بن سکتے ہیں خورشید مبین
ورنہ ان بکھرے ہوئے تاروں سے کیا بات بنے

http://www.facebook.com/mufti.s.nadwi

Institute of Arabic Hyderabad
Regular , Weekend and Online Courses
2nd Floor Telegraph Office,Beside Hotel City Diamond. Mehdipatnam,Hyderabad.500028. A.P. INDIA.