Tue, Mar 2, 2021

ؒفقہیہ بے بدل مولانا برہان الدین سنبھلی
(وفات پر خصوصی تحریر )
رفیع الدین حنیف قاسمی
دار الدعوۃ والارشاد یوسف گوڑہ، حیدرآباد
استاذ دار العلوم دیودرگ

یہ دنیا دار فانی ہے ، کسی کو یہاں دائمی اورابدی طور پر رہنا نہیں ہے ، لیکن کچھ ہستیاں اپنے وجود سے اس دنیائے رنگ میں ایک ہلچل سی پیدا کرتی ہے ، ان کا وجود اس دنیائے رنگ وبو کے لئے ایک ضرورت ہوا کرتا ہے ، امت پر ان کااحسان گراں ہوتا ہے، جن کے احسان ِتمام اور کارہائے نمایاں کے سامنے ہماری شکر گذاری اور سپاس دہی کوئی حیثیت اور وقعت نہیں رکھتی ، اس وقت(بروز جمعہ، بتاریخ ۱۷ ؍جنوری ، ۲۰۲۰ء بعمر ۸۳ سال) ہمارے درمیان مختصر سی علالت کے بعد عالم کبیر ، محقق عظیم ، فقیہ بے بدل حضرت مولانا برہان الدین سنبھلیؒ رحلت فرماچکے ۔
جب امت مسلمہ ہندیہ پر جب طرح طرح کے مصائب ومتاعب اور ہر دن کے سورج کے طلوع کے ساتھ ایک نئے مسئلہ اور نئے مصیبت سے امت مسلمہ دوچار ہے ، ایسے میں بصیرت افروز ، دور بیں نگاہ اور امت کے حق میں درد وکسک رکھنے والے ، اللہ سے لو لگانے والے علماء کااس دنیا سے اٹھ جانا ہم امت ہندیہ کے لئے بڑا خسارہ اور نقصان کی بات ہے ۔
ہمارے دم سے قائم ہیں جہاں کی رونقیں
ہم نہ ہوں تو زمانہ یاد کرے گا
حالات زندگی
حضرت مولانا برہان الدین سنبھلی علیہ الرحمن کی پیدائش ۱۵؍فروری ۱۹۳۸ء کو آزادی سے قبل سنبھل میںہوئی، ۱۹۵۷ء کودار العلوم دیوبند سے امتیازی نمبرات سے فراغت حاصل کی ، مولانا حسین احمد مدنی رحمہ اللہ، علامہ ابراہیم بلیاوی رحمہ اللہ، قاری طیب صاحب رحمہ اللہ ، مولانا سید فخر الدینؒ جیسے اساطین علم سے تلمذ کا شرف حاصل رہا، فراغت کے بعددرس وتدریس سے وابستہ ہوئے ، تدریس کی ابتداء سراج العلوم سے کی، پھر مدرسہ عالیہ فتح پوری دہلی میں بھی کچھ سال پڑھایا، دیگر مشاغل میں دہلی میں درس قرآن کا سلسلہ شروع کیااور ۱۹۷۰ ء میں حضرت مولانا سید ابو الحسن علی حسنی ندوی کی دعوت پر دا ر العلوم ندوۃ العلماء تشریف لائے جہاں تفسیر وحدیث وفقہ اور حجۃ اللہ البالغہ کا درس ان کے سپرد کیا گیا، پھر بعد میں شیخ التفسیر کے منصب پر فائز ہوئے ، اسی طرح مولانا کو مجلس تحقیقات شرعیہ ندوۃ العلماء کے ناظم کے طور پر بھی مقرر کیا گیا، اسی طرح دار القضاء اترپردیش کے قاضی کونسل کی کے صدر کی حیثیت سے بھی خدمات انجام دی ۔
اسیطرح مولانا کی عظیم خدمات میں آل انڈیا اسلامک فقہ اکیڈمی کے نائب صدر اور طویل عرصہ تک آل انڈیامسلم پرسنل لاء بورڈ کے مجلس عملہ کے رکن ہونے کا شرف بھی حاصل رہا ہے ۔
عظیم محقق ومصنف
مولانا کو جس خصوصیت اور خوبی کے ساتھ احقر کو جانکاری ہوئی ایک محقق عظیم اور مسائل وآراء میں علماء عرب کے درمیان اپنی ایک رائے رکھنے والے ، جدیدطبی مسائل کتاب کی تالیف کے دوران بہت جگہ پر علماء عرب کی کتابوں میں حضرت مولانا تقی عثمانی صاحب رحمہ اللہ کے ساتھ جگہ جگہ مولانا کی رائے کو دیکھ احقر ششدر بھی رہ گیااور حیران بھی کہ ہندوستان میں بعض علماء محققین ایسے بھی ہیں جن کے آراء کو علماء عرب اتنی اہمیت دیتے ہیں، کئی مسائل میں علماء عرب نے علماء ہند کی طرف سے خصوصا مولانا برہان الدین سنبھلی کی آرائہ کو اپنی کتب فقہیہ میں جگہ دی ہے ، در اصل جب سے اجتماعی شکل فقہی مسائل پرغور وخوض کے سلسلے میں مختلف اکیڈمیاں قائم ہوئی ، فقہ اکیڈمی مکہ، جدہ، یورپی فقہی کونسل، فقہ اکیڈمی انڈیا، ان اکیڈمیوں نے ہر جگہ سے ان کی آراء طلب کی ، بیشتر مواقع سے عرب علماء دیگر علماء کے علاوہ خصوصا ہندوستان سے مولانا برہان الدین سنبھلی ؒ کی آراء کو بڑی وقعت اورقدر کی ساتھ اپنی کتابوں میں جگہ دیتے ہے ، جو علماء دیوبند کی خصوصی ترجمانی کرتی ہے ، جو اعتدال اور وسط کی ترجمان ہوتی ہیں، جس میں افراط وتفریط سے خالی ہو کر ضرور یات کو ضروریات کا درجہ دے کر دینی تصلب کے ساتھ آراء پیش کی جاتی ہے ۔اس کی جھلک مولانا کی آراء میں صاف طورپر نظر آتی ہے ۔
مولانا کی مختلف موضوعات پر فقہی عربی تحریروں میں ایک تحریر جو نظر سے گذر چکی ہے ’’ التوأم المتلاصق نکاحہ وجنایتہ وإرثہ ‘‘اور ایک عربی کتاب جس میں جدید مسائل پر بحث کی گئی ہے جو مختلف مقالات کا مجموعہ ہے ، جس کا نام ’’قضایا فقہیہ معاصرہ ‘‘ ہے ، جس میں مولانا نے زمانے کے تغیر پذیر حالات میں پیش آمدہ مسائل حل پیش کیا ہے، جس کو مختلف عربی کانفرسوں میں مقالات کے طور پر پیش کیا ہے، یہی وہ تحریری ہیں، جن کا حوالہ عموما علماء عرب اپنے کتابوں میں دیتے نظر آتے ہیں
اصلاحی، علمی اور فقہی تحریریں ۔
ابھی یہ خبر صاعقہ بن کر گر پڑی کہ وہ محقق عظیم جن کی کتب سے ابتداء ہی سے جب سے کچھ قلم سے شد بد ہوئی،بعد فراغت جن کی کتابوں نے خصوصا ذہن ودماغ پر اثر ڈالا ان معدود چند افراد میں تحریر ی خوبیوں اور علم اور دلائل سے مرصع کتابیں حضرت مولانا برہان الدین سبنھلی ؒ کی دیکھنے کو ملیں ، زبان کی بندش اور تحریر کی چاشنی کے ساتھ مسائل فقہیہ کو پیش کرنا یہ سلیقہ بہت کم علماء میں ہوتا ہے کہ فقہ کے خشک مسائل کو پیش کرنے میں تذکیر یرکے پہلو کے ساتھ تحریر کی چاشنی بھی چھوٹنے نہ پائے ، مولانا کی تحریروں کی خصوصیت مولانا کی کتب کی تلاش وجستجو اور خصوصا عائلی مسائل میں ان کی کتابوں سے استفادہ کے لئے آمادہ کرتی ، یقینا کتابیں عائلی مثال میں نہایت اعلی درجہ کے دلائل سے مدلل ہوتیں ۔
مولاناکی دیگر مؤلفات اور تصانیف میں ’’اصلاح معاشرہ‘‘اور ’’ یونیفارم سول کوڈ مسلم پرسنل لا اور عورت کے حقوق ‘‘ ’’علم فقہ او رفکرِ صحیح کی شاہ کلید‘‘ اور ’’رویت ہلال‘‘ وغیرہ اس طرح دیگر کتابیں جو مختلف موضوعات پر ہیں ۔
دنیا تغییر پذیرہے ، ہر روز نت نئے ایجادات اور اختراعات مسائل کا انبوہ کثیر پیدا کردیا ہے ، ان مسائل میں امت مسلمہ کی رہنمائی علماء ربانیین کا کام ہے ، مولانا نئے مسائل اور جدید امور میں اپنی فقہی آراء کو دیگر فقہاء اور قرآن وحدیث کی روشنی میں پیش کرنے کی کی سعی کی ہے ، مولانا کی ایک کتاب ’’موجودہ زمانہ کے مسائل کا شرعی حل ‘‘ انہی مسائل کا احاطہ کرتی ہے ۔جو نئے مسائل کے حوالہ سے نہایت خوب تر کتاب ہے ۔
زندگی کے حسین لمحات
مولانا رحمہ اللہ کی ساری زندگی گرچہ فراغت دار العلوم سے ہوئی، لیکن ساری زندگی تدریسی خدمات دار العلوم ندوۃ العلماء میں انجام دی، تقوی وطہارت کے اعلی معیار پر فائز تھے ، آپ کو حضرت مولانا محمد طلحہ کاندھلوی ابن شیخ الحدیث مولانا زکریا کاندھلوی رحمۃ اللہ سے خلافت کا شرف بھی حاصل تھا، بتاتے ہیں کہ باجماعت نماز اور تکبیر اولی کے ساتھ نماز کا اہتمام ابتدائی طالب علمی کی زمانہ سے ہی تھے، جید حافظ قرآن تھے ، کئی ملکوں کے علمی اور فقہی اسفار کئے ، کئی ایک کانفرنسوں میں شرکت کاآپ کو اعزاز حاصل رہا ، علماء عرب میں بھی آپ کی پہنچان اور مقبولیت تھی۔
ساری زندگی علم ودین کی خدمت کرتا ہوا تھکا ہارا یہ مسافر راہی عالم بقاء ہوگیا۔

جان کر من جملہ خاصان میخانہ مجھے
مدتوں رویا کریں گے جام وپیمانہ مجھے