Tue, Mar 2, 2021

میرے روحانی والد حضرت مولانا محمد برہان الدین سنبھلی رحمۃ اللہ علیہ حیات وخدمات
مفتی سید آصف الدین ندوی قاسمی ایم اے
ناظم مدرستہ الخیر قادر باغ حیدرآباد

asif_nadwi@yahoo.com
9849611686

چھٹویں قسط

حضرت مولانا کا تاریخی سفر۔

ایک ادنی محب کا اپنے محبوب استاذ سے ربط وتعلق کا تذکرہ پچھلی پانچ قسطوں میں نظر نواز ہوا،آگے جو مرحلہ درپیش ہے اس میں محبت وچاہت کے جلو میں مورخ کی غواص نگاہ ، سیاح کے متجسس دل کی ضرورت ہے، ا س لئے کہ قریب ایک صدی تک کے احوال وکوائف پیش نظر ہیں،اور اس طویل ترین بلکہ کامیاب ویادگار ترین دور میں شخصیات وہستیوں کا بھی جلوہ ہے،مقاموں ،مکانوں کی تاریخ ہے،جس میں حضرت سے وابستہ حسین یادیں ہیں،ماضی کاتصوراتی سفر ہے ،صدی کے ایک کامیاب انسان ہی نہیں بلکہ کامران مسلمان اور بلکہ ایک فائز مومن ومحقق اور پیر طریقت کے نقش قدم ڈھوندنے کی جستجو ہے۔دنیا والے ہامان وقارون کے خزانوں کے متلاشی ہیں،ہمارے بیچ دولت مندوں کے ابھرتے سورج کے پجاری بھی بہت ہیں لیکن ایک مومن کے لئے صاحب ہدایت کے نقش قدم کی اتباع قرآن حکیم نے دی ہے۔وارثین انبیائ کے صورت میں قندیل رہبری اور شمع رہنمائی کرنے والی برگزیدہ شخصیتیں نظروں کے سامنے ،دلوں کے مکین،راستے کے خضر راہ ہوں۔

امر علی الدیار دیار استاذی
اقبل ذا الجدار وذا الجدارا
وما حب الدیار شغفن قلبی
ولکن حب من سکن الدیارا

مین اپنے استاذ وشیخ کے دیار سے گذررہا ہوں
کبھی اس در ودیوار سے چمٹ جاتا ہوں تو کبھی اس دیوار سے
اور میرے دل میںصرف اس دیار ومکان کی محبت جاگزیں نہیں ہے
بلکہ میں تو ان مکانوں کے مکینوں پر محبت فدا رکرتاہوں

حضرت مولانا نے سنبھل کے ایک علمی دینی اور قرآنی خاندان میں4 ذی الحجہ 1356 ؁ ہجری مطابق 5 فروری 1938 ؀ عیسوی کو شہر کے میاں سرائے محلہ میں آنکھیں کھولیں ،آپ حافظ قاری مولانا محمد حمید الدین فاضل دیوبند کے بڑے بیٹے تھے ،ایک بھائی سلطان الدین قمر اور ایک بہن تھی،سلسلہ نسب یہ ہے حضرت مولانا محمد برہان الدین بن حضرت مولانا محمد حمید الدین بن حکیم محمدسعید الدین بن ملا سراج الدین ۔الف با تا اور بسم اللہ بھی اپنے والد سے سیکھا،اور قابل والد نے اپنے ہونہار بیٹے کو قرآن ودین کی تعلیم دی۔بلکہ حضرت مولانا کا اعتراف تو یہ ہے کہ قرآن وقرات کے ساتھ تفقہ فی الدین بھی ان کے والد محترم نے انھیں تعلیم ہی کے ذریعہ نے نہیں بلکہ والد کی علمی وراثت کی طرح دی ،حضر ت مولانا’’ موجودہ زمانہ کے مسائل کا شرعی حل ‘‘کے پیش نظر میں خو د رقم طراز ہیں ’’مادر علمی کی فضائ، اساتذہ اور والد ماجد مولانا قاری محمد حمید الدین جنہیں حضر ت علامہ کشمیری تلمذ اور تفقہ کا خاص ملکہ حاصل تھا کے آغوش تربیت کے نتیجہ میں فقہ سے طبعی مناسبت اور دو ممتاز درسگاہوں میں حدیث وفقہ کی اعلی کتابوں کے درس وتدریس سے اشتغال،بیرونی علمی سفروں اور بڑے شہروں میں قیام اور اصل تقدیر خداوندی کی بناپر راقم کے غور وفکر اور مطالعہ کا زیادہ تر میدان موجودہ دور کے مسائل کا شرعی حل دریافت کرنا رہا‘‘ (صفحہ ۸)
اقبال دانا نے کیا دانائی کی ہے

باپ کا علم نہ بیٹے کو اگر ازبر ہو
پھر بسر قابل میراث پدر کیونکر ہو۔

سنبھل ہی کے ایک فاضل مولانامحمد نجیب قاسمی نے لکھا ہے۔ آپؒ کا پورا خاندان کم از کم چار پانچ پشتوں سے علم دین سے وابستہ رہا ہے، مرد تو مرد عورتیں بھی دینی تعلیم و تدریس میں مشغول رہی ہیں بالخصوص آپؒ کی والدہ اور دادی محترمہ‘‘( اس خاندانی قرآنی سعادت کو حضر ت مولانا کے سعادت مند وفاضل جانشین حضر ت مولانا محمد نعمان الدین ندوی نے “نعم اللہ علی نعمان ” نامی عربی رسالہ میں تفصیل سے لکھا ہے کہ مولانا محترم کی والدہ حافظہ وقاریہ تھیں اور ہمشیرہ بھی قاریہ تھیں اور بھائی صاحب بھی حافظ قرآن تھے)حضرت مولاناخود جیدحافظ قرآن بھی تھے ۔بلکہ حافظ وقاری باپ کے بیٹے اور حافظ بیٹے کے باپ اور حافظ پوتوں کے حافظ قرآن دادا تھے۔آپؒ کے والد دارالعلوم دیوبند کے فاضل اور حضرت علامہ انور شاہ کشمیریؒ کے شاگرد تھے، حفظ قرآن ، قرأت اور عربی و فارسی کی ابتدائی تعلیم اپنے والد سے حاصل کرنے کے بعد سنبھل کے مشہور تعلیمی اداروں (مدرسہ سراج العلوم، مدرسہ الشرع کٹرہ موسیٰ خان اور مدرسہ دارالعلوم المحمدیہ) سے قرآن و حدیث کی مزید تعلیم حاصل کی ۔حضرت شیخ الاسلام مولانا حسین احمد مدنی رحمتہ اللہ علیہ کے درس بخاری کے سال آخر کے شاگردوں میں اورفخر المحدثین حضرت سید فخر الدین علیہ الرحمہ کے سال اول کے تلامذہ میں ہیں ،صحیح بخاری اول کے ابتدائی ابواب اول الذکر اور صحیح بخاری ثانی کی تکمیل آخر الذکر سے حاصل کی،صحیح مسلم اور جامع ترمذی حضرت مولاناعلامہ ابراہیم بلیاوی سے اور حجۃ اللہ البالغہ ، مشکوۃ المصابیح حضرت حکیم الاسلام قاری محمد طیب صاحب سے،سنن ابو دا ود حضرت مولانا فخر الحسن صاحب سے ،سنن نسائی حضرت مولانا بشیر احمد خان صاحب سے مشکوۃ المصابیح حضرت مولانا جلیل احمد کیرانوی سے ،اور موطا امام مالک حضرت شیخ ظہور احمد عثمانی سے،شرح معانی الا ثار طحاوی حضرت حضرت سید حسن رحمۃ اللہ علیہ سے، شمائل ترمذی حضرت مولانا شیخ عبد الاحد صاحب سے ،اور ہدایہ کے جزئین آخیرین حضرت مولانا معراج الحق صاحب سے پڑھے تھے، آپ کے معاصرین میں حضرت الاستاذ حضرت مولانا قمر الزمان صاحب الہ آبادی استاذ دارالعلوم دیوبند بھی ہیں ۔ازہر ہند دارالعلوم دیوبند سے امتیازی نمبرات سے کامیابی حاصل کی۔
وہ خانواوہ قاسمی کے ایک قابل سپوت تھے تو مدرسہ عالیہ فتحپوری دہلی کے۱۲ سال تک کامیاب مدرس ومفسر اور وہیں خاندان ندوہ کے پورے نصف صدی تک رفیق ودمساز تھے، گلشن قاسمی کے خوشہ چیں رہے تو باغ ندوہ کے مالی بھی ،مفکر اسلام حضرت مولانا سید ابو الحسن علی ندوی رحمہ اللہ کے معتمد ومنظور نظر تھے ،طلبہ کے چہیتے استاذ بھی ،استاتذہ ندوہ کے رفیق وغمگسار بھی ،صاحب نظر تھے تو اہل قلم بھی،فقیہ امت تو مفسر قرآن بھی،حجۃ اللہ البالغہ جیسی معرکہ الآرا کتاب کے برصغیر کے بے مثال ویکتائے روزگار مدرس تو صحیح بخاری وکتب حدیث کے محدت جلیل بھی،اصطلاحی الفاظ میں شیخ الحدیث والتفسیر والفقہ ۔درس نظامی کی ابتدائی کتب سے لے کرامہات کتب کاتدریس کا کامیاب تجربہ تھا تو نصاب ندوہ کے مویدبھی، حضرت مولانا رحمۃ اللہ علیہ ۶ دہائیوں سے زیادہ عرصہ پر پھیلے تدریسی خدمات کے حامل تھے تو سیمنار وکانفریس کے محاضر بھی،علمی شگفتی کے ساتھ عملی جد وجہد کا زریں عہد بھی۔ہند میں ملت کے نگہباں مسلم پرسنل لا بورڈ کے تاسیسی رکن تو فقہ اکیڈمی کے نائب صدر بھی،دارالقضائ لکھنو کے قاضی تو مجلس تحقیقات اسلامی کے ناظم بھی۔ حضرت مولانا محمد طلحہ کاندھلوی ابن شیخ الحدیث مولانا زکریا کاندھلوی رحمۃ اللہ علیہ سے خلافت بھی حاصل تھی ۔ حضرت مولانا مجاہد اسلام قاسمی رحمۃ اللہ علیہ سابق صدر مسلم پرسنل لاء بورڈ اور حضرت مولانا مفتی تقی عثمانی مدظلہ کے معتمد علیہ -۔ الجزائر ،برطانیہ،جنوبی افریقہ،ملیشیا،وغیرہ ملکوں کے انہوں نے علمی اور دینی سفر بھی کیے جن میں امریکا کا ایک طویل سفر قابل ذکر ہے ۔حرمین شریفین کے عاشق وزائر بھی۔دینی تعلیمی کونسل اترپردیش ،دارالعلوم تاج الماجد بھوپال،اورجامعہ قاسمیہ شاہی مرادآباد کے رکن بھی تھے۔اور ابتدائی زمانہ میں طویل مدت تک ادارۃ المباحث الفقیہہ سےبھی وابستہ رہے۔اور دنیا والوں کے لئے یہ بھی ایک تمغہ اعزاز اور وجہ افتخار انہیں ملا تھا کہ عربی خدمات میں صدر جمہوریہ ہند کا ایوارڈ بھی نوازا گیا۔ یہاں جو ہم نے کہا کہ یہ چیز حضرت کے لئے تو کوئی وجہ افتخار نہیں تھی ، لیجئے ایک ندوی فاضل مولانا محسن خان کلکتوی کاچشم دید واقعہ بھی پڑھ لیجئے۔’’٢٠٠٧ء کی بات ہے جب حضرت کو ان کی علمی خدمات کی بنا پر صدر جمہوریہ اوارڈ سے نوازا گیا حضرت کی دہلی سے تشریف آوری کے بعد ملاقات کو گیا تو دیکھا کہ انعامی سند خوبصورت فریم میں لٹک رہا لیکن جس رسی سے باندھ کر لٹکایا گیا تھا وہ نہایت معمولی رسی تھی جو فریم سے میچ نہیں کر رہی تھی میں نے حضرت سے عرض کیا : مولانا ! شیخ عبد القادر جیلانی رحمہ ﷲ کا ایک واقعہ سنا تھا آج آپ کے پاس دیکھ رہا ہوں.حضرت نے فرمایا : کون سا واقعہ ؟ میں نے کہا : سنا تھا ایک روز حضرت شیخ بازار گئے تھے کوئی کپڑا پسند آیا لیکن نہایت قیمتی تھا اس لیے نہیں خریدا , واپس آنے کے بعد کسی مرید نے خرید کر ہدیہ کر دیا لیکن وہ چھوٹا ہو گیا تو بورے کے ٹکڑے کا پیوند لگا کر پہن لیا. آپ نے بھی صدر جمہوریہ کے ایورڈ کو ایک معمولی رسی سے باندھ کر لٹکا رکھا ہے ۔حضرت نے مسکراتے ہوئے جواب دیا : تو کیا سونے کی رسی سے باندھ کر لٹکایا جائے ۔ ہمارے حضرت کی یہ سادگی پر کون نا قربان ہو جائے۔‘‘
وہیں تین بیــٹیوں اور تین بیٹوں کے شفیق ومہرباںوعزیز ترین والد بھی ،اوراپنی اہلیہ کے بہترین شوہر بھی،اور سلطان الدین قمر کے بڑے بھائی بھی۔اللہ نے اولاد واحفاد کی گلکاریاں بھی دیکھنے کا موقعہ دیا تو اپنی نسل کے کھلتے پھولوں کو بھی دادا ،نانا کی محبتیں بانٹنے کا موقعہ دیا۔اپنے جیتے جی اپنی چھوٹے بیٹے کی وفات کا صدمہ پر صبر کا امتحان دیاتو اہلیہ کے داغ مفارقت سے بھی دوچار ہوئے بلکہ سنت محمدی کے مطابق اولاد کی تدفین بھی اپنے ہاتھوں سے کرنے کے صبر آزما مرحلہ سے گذرے۔اور ہا ں اس مرد مجاہد وپیکر استقلال کے اس مرض کا تو ذکر ہی نہیں آیاکہ جو ان پر طاری پر نہ ہوسکا ،ان کے ناتواں قدموں میں زنجیر نہ بن سکا،زبان وبیان کو قید نہ کرسکا،اور ان کے اس عزم جواںکو کسی شاگرد نے نقل کیا ہے کہ جب کبھی حضر ت الاستاذ سے ان کی علالت وبیماری کے بابت دریافت کیا جاتو فرماتے کہ اس میں نہ اضافہ ہے اور نہ افاقہ۔
ع رنج سے خوگر ہوا انساں تو مٹ جاتا ہے غم
اکابر امت کی یہ گواہیاں نئی نسل تک پہنچانا ہے کہ حضر ت مولانا سید محمد رابع حسنی ندوی دامت برکاتہم نے لکھا ہے کہ ’’وہ خود ایک عرصہ سے فالج کے حملہ کی وجہ سے سخت امراض میں گھر گئے تھے،مگر اس مدت کو انہوں نے بڑے صبر وتسلیم کے ساتھ گذارا،ان کا قیام آخر تک ندوہ کے ہی احاطہ میں رہا،جمعہ کی نماز معذوری کے باوجودندوہ کی جامع مسجد میں اداکرنے کا معمول رکھا جب کہ صحت کی حالت میں وہ اذان ہوتے ہی پنچ وقتہ نمازوں میں مسجد پہنچ جاتے ،ندوہ کی مسجد میں وہ ایک مدت تک جمعہ کے خطبہ سے قبل سہل اور جامع تقریر بھی کرتے رہےاور کچھ مدت جمعہ اور عیدین کی نمازوں کی امامت بھی کی۔‘‘ (تعمیر حیات : ۲۵ جنوری ۲۰۲۰)
حضرت مولانا کا یہ سفر تو تاریخی ہی ہے ناکہ اللہ نے عمر طویل عطا فرئی اور ہجری کیلنڈر کے حساب سےتو ۸۱ سال سے کچھ زیادہ ہی سال بنتے ہیں،جن خدمات جلیلہ کی انجام دہی کے اللہ نے انہیں عالم گیتی میں وجود بخشا تھا،وہ ان مٹ ہی نہیں بلکہ ہماری تاریخ ،ہندوستانی مسلمانوں کی تاریخ، ہندوستانی مدارس وجامعات کی تاریخ کا نقوش تاباں ہیں،اور پھر اداروں کی دنیا میں وہ سرنامہ ہیں جسے آنے والی نسلوں کے لئے سرمئےبصیرت بنانا ان کے فیض کشوں کا فرض ہے۔ ہمارے مرحوم اکابراور باحیات بڑوںسے ان کے رشتے قائم ہیں۔ حضرت سے وابستہ تاریخ ماضی کی ہماری درخشان دور کا ایک تابندہ باب ہے جسے پڑھ کر مستقبل کا مورخ عمارت تعمیر کرے گا۔جن جن شاہراہوں سے گذرکر یہ مسافر چلا ہے اسے دیکھیں تو عرب وعجم اور امریکا کے فاصلے ملتے اور جڑتے نظر آئیں گے ۔یہاں مرشد امت نمونہ سلف ہم سب کے مقتدا حضرت مولانا سید محمد رابع حسنی ندوی دامت برکاتہم العالیہ کا وہ اقتباس ضرور شامل پڑھتے چلئے کہ ’’ انما یخشی اللہ من عبادہ العلمائ کی صحیح تصویر تھے۔اور انتقال پر وجوہ یومئذ ضاحکۃ مستبشرہ کا کھلا اثر ظاہر ہورہاتھا۔‘‘ (تعمیر حیات : ۲۵ جنوری ۲۰۲۰)
فقیہ امت حضرت مولانا محمد برھان الدین صاحب سنبھلی نور اللہ مرقدہ کی کتابوں کی فہرست(۱) قضایا فقہیہ معاصرہ (عربی) (۲) یونیفارم سول کوڈ اور عورت کے حقوق (۳) معاشرتی مسائل(٤) رؤیت ہلال کا مسئلہ(۵) چند اہم دینی مباحث(٦) جدید طبی مسائل(۷) موجودہ زمانے کے مسائل کا شرعی حل (۸) جھیز (۹) اصلاح معاشرہ (۱۰) موجودہ دور میں کار نبوت انجام دینے والے (۱۱) مسلمانوں کی پریشانی کے حقیقی اسباب وعلاج۔۔ (۱۲) بینک انشورنس اور سرکاری قرضے(۱۳) دو آب دار موتی (۱٤) چند اہم کتب تفسیر اور قرآن کریم کے ترجمے (۱۵) خواتین کے لئے اسلام کے تحفے (۱٦) متاع علم وفکر(۱۷) قرآن وحدیث اور فقہ اسلامی سے متعلق کچھ اہم مباحث (۱۸) درس قرآن کریم ( ۱۳۹۰ھ میں دارالعلوم ندوۃ العلمائ کے درجہ عالیہ اولی کے طلبہ کو دیا گیامطابق نصاب درس جس کو حضرت مولانا سید سلمان حسینی ندوی نے جمع فرمایا ہے) آخر میں مہتمم دارالعلوم ندوۃ العلمائ حضرت مولاناڈاکٹر سعید الرحمن اعظمی ندوی دامت برکاتہم العالیہ کا تعزیتی بیان اس قسط کا مسک الختام بناتے ہیں’’ مولانا محمد برہان الدین سنبھلی علم وعمل کے جامع تھے،انہوں نے مشغول ، قابل رشک زندگی گذاری. ان کی تدریسی زندگی ایک مشن اور تحریک تھی ‘‘۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔جاری

(نوٹ: مضمون نگار حضر ت علیہ الرحمہ پر ایک کتاب لکھنے جارہا ہے تو قارئین سے گذارش ہے کہ حضرت کے مکتوبات وواقعات عنایت فرمائیں۔راقم کا ای میل asif_nadwi@yahoo.comاور رابطہ واٹس آپ نمبر 9849611686 ہے۔)