Sun, Feb 28, 2021

میرے روحانی والد حضرت مولانا محمد برہان الدین سنبھلی رحمتہ اللہ علی
مفتی سید آصف الدین ندوی قاسمی ایم اے
ناظم مدرستہ الخیر قادر باغ حیدرآباد
9849611686
پانچویں قسط

آخری ملاقات:
مسلم پرسنل بورڈ کا اجلاس ۹،۱۰،۱۱، فبروری ۲۰۱۸ کو حیدرآباد میں ہونے جارہا تھا،شہر بھر میں اس کے تزک واحتشام کے چرچے تھے ، حالات وواقعات نے ہندوستان بھر کے مسلمانوں کی توجہ کا مرکز اجلاس کے ناطے شہر فرخندہ بنیادکو بنادیا تھا۔اس کے معززاراکین کی آمدآمد تھی،مہمان شہر کی ہوٹلوں کی زینت تھے،حضرت مولانا برہان الدین صاحب سنبھلی مانصاحب ٹینک میں واقع پارک کانٹینٹل ہوٹل میں فروکش تھے،مولانا محترم کے خادم خاص مولانا مناظر صاحب سے رابطہ ہوا،اور ملاقات کے لئے حاضر ہوگیا، حضرت مولانا نے اپنےشاگردکو پہچانا ہی نہیں بلکہ حاضر ہونے پر خوشی ومسرت کا اظہار فرمایا،اس موقعہ پر اپنی نئی کتاب آسان سیرت النبی ﷺ کے نئے ایڈیشن اور دوسری کتابیں پیش کیں،ان پر تقریظ لکھنے کی گذارش کی،بہت دیر تک حاضر رہا،وہ جمعرات کا دن تھا،دوسرے دن جمعہ تھا تو عرض کیاکہ کل جمعہ کی نماز بندے کی مسجد باغ برق جنگ گڈی ملکاپور میں ادا فرمائیں جہاں پچھلے پندرہ برس سے آپ کے حوالوں سے گفتگوکرتا رہا ہوں تو آمادگی کا اظہارفرمایا۔حسب وعدہ ساڑھے بارہ بجے دن اپنی کار لے کر ہوٹل پہنچا،مولانا مناظر اور بندے نے مل کر وہیل چیر اور حضرت مولانا کو گرانڈ فلور لے آئے،اور کار کی ڈکی میں وہیل چیر رکھی ۔یہ لمحات یاد کرتاہوں تو خوشی کے نغمے گونجنے لگتے ہیں،دل کی دھڑکنیں تیزتر ہوجاتی ہیں،ناز وفخر کے موتی آنکھوں میں آبگینے بنے یکے بعد دیگرے ڈھلنے اورچمکنے لگتے ہیں،ایک ادنی طالب علم کے نصیبہ پر رشک ہونے لگتا ہے،حضرت مولانا گاڑی میں سوار کیا ہوئے کہ سواری کی قیمت جیسے حاصل ہوگئی،مکیں ہی سے تو مکاں کی قیمت ہوتی ہے،اوراب احتیاط وہوش پر محبت کے پہرے لگ گئے ،سفر کا ایک ایک مرحلہ یادگار بنے جارہا تھا ،گراونڈفلور پر موجود احباب وارکان اور شناساافراد نےجن نگاہوں سے دیکھا گویا وہ نگاہیں کہہ رہی تھیں کہ

یہ مرتبہ بلند ملا جس کو مل گیا
ہر مدعی کے واسطے دار ورسن کہاں

ہوٹل سے نکل کر کار روڈ پر دوڈرہی تھی ،حضر ت مولانا سے عرض ونیاز شروع ہوا،شہر کے علاقوں سے متعلق بتلاتا جاتا تھا،راستے میں بندہ کا قائم کردہ انسٹیٹوٹ آف عربک اسٹڈیز بھی پڑتا ہے تو اس کی پندرہ سالہ خدمات سے واقف کروایا ،تفصیل دریافت کرنے پراس کے نصاب ونظام کے بارے میں معلومات فراہم کیں،اور پھر ہوتے ہوتے استاذ محترم کو لئے مسجد پہنچ گیا،وہیل چیر اتاری گئی اور حضرت کو مناظر بھائی لئے چل رہے تھے ،کہا کہ آ ج مجھے لےکر چلنے کا موقعہ دیجئے ،مسجد کے بیرونی دروازے سے اندر پہنچے تو مصلیوں کی ایک بڑی تعداد اپنے امام وخطیب کو ایک بزرگ کو احترام سے لاتے ہوئے دیکھ کر زبان حال سے ہی سمجھ چکی تھی کہ ہو نا ہو یہ کوئی بزرگ ہی ہوں گے،حضرت مولانا کی نورانی شخصیت بھی تو متاثر کن تھی ۔ ٨٠ سال سے متجاوز عمر، پیرانہ سالی کے باوجود وہیل چیئر پر جمعہ کے لئے پورے اہتمام کے ساتھ حاضری یہ خود اپنے میں عزیمت واستقامت اور استقلال سے کچھ کم نہیں ۔ پھر کیا تھا ،ایک مجمع آگے اور پیچھے لپک لپک کر کام کررہا تھا ،کسی نے جوتے اٹھائے ، کسی نے وہیل چیر موڑا ،اور اس کو تھاما اور اس خادم نے حضرت کو سہارا دیا ،مسجد میں جو مصلی موجود تھے وہ ایک ایک کرکے حضر ت سے مصافحہ کرنے لگے ،کچھ کاتعارف کروایا ،اور حضر ت مولانا مسجد کی پہلی صف میں امام کے دائیں جانب تشریف فرما ہوئے ۔اورجب خطبہ ونصیحت کی گذارش کی تو فرمایا کہ آج آپ ہی بیان کرئیے،جبل علم کی موجودگی میں ایک ذرہ کی جسارت ، جسم کا روئیں روئیں کانپ اٹھا،آموختہ سنانے اور اپنی اغلاط کو درست کرنے کا ایک نایاب موقعہ تھا ، موضوع کیا تھا یاد تو نہیں لیکن ایک ایک لمحہ اور ایک ایک لفظ تول تول کر بولنے کا وقت لایاتھا،آدھا گھنٹہ کا بیان ہوا،حضرت سے سننے کا شرف ملا تھا لیکن کبھی آپ کی موجودگی میں تقریر کرنے کا یہ پہلا اور یادگار موقعہ تھا اور اختتام میں اعلان کیا کہ آج ہمارے درمیان امام مسجد کے استاد، شیخ التفسیر استاذ الاساتذہ حضر ت مولانا برہان الدین سنبھلی صاحب تشریف فرما ہیں،اور جمعہ کے عربی خطبے کا معمول یہ ہے کہ اردو ہی کو عربی میں پیش کرنے کا مزاج ہے تو عربی میں بھی آپ کا تعارف ہوا ،مصلیوں میں ایسی بھی تعداد ہے جو اس عربی بیان کو سمجھتی ہے، حضرت کی موجودگی میں حضرت مولانا کی صحت کے لئے دعا کی۔ نمازاور سنتوں کے بعد سارے مصلیوں نے حضرت سے ملاقات کی ،اور دعائیں لیں، کافی دیرتک حضرت مولانا کے ساتھ ہم مسجد ہی میں رہے ،پھر کئی ساتھی حضرت کے رخصت ہونے تک موجود رہے،واپسی میں مولانا محترم نے بیان اور خطبہ جمعہ کے بابت فرمایا کہ منبر پر آپ نے ہمارا نام لے لیا ،ہم نے کہا حضرت آپ ہی کا سکھایا ہوا سبق ہم نے سنایا ہے۔کیا یہ متاثر کن گھڑی نہیں ہے کہ استاذ محترم کی مسجد باغ برق جنگ گڈی ملکاپور میں نماز جمعہ کی ادائیگی اور شاگردکے خطبہ وامامت ودعامیں موجودگی کیفیت پیداکردیتی تھی، ایک رہبر شریعت نے اسرار شریعت سکھائے تھے تو آج اس کے عملی مظاہرے کی بھی صورت مولی تعالی نے بنادی تھی،دل تو باربار یہی چاہ رہاتھاکہ وہی آج بھی امام ہوتے ،وہ مقتدیٰ ہوتے اور میں مقتدی ۔
مناظر بھائی کو یہ سب مناظر وواقعات یاد ہوں گے اور میرے لئے تو سرمائے حیات کچھ کم نہیں ہیں کہ حضرت نے اپنے ایک ادنی شاگرد کی دعوت قبول فرمایا اور میری مسجد میں نمازجمعہ ادا فرمائی ،یو ں بھی کہا جاسکتا ہے کہ علمی زندگی میں جیسے امتیازی نمبرات سے نوازا تھا آج عملی زندگی میں پیچھے کھڑے ہوکر کارکردگی کا جائزہ لے کر تمغہ کامیابی دیا۔ایک شاگرد کے لئے اپنے استادکا وہ اعتماد ہے کہ زندگی بھر ان حسین یادوں کو اپنے سینے سے فراموش نہیں کرپاونگا۔یہ سب کچھ قلب والفت کی باتیں ہیں اور دل سے دل کی راہیں ہیں،اور اردومیں تو محاورہ ہی ہے نا کہ جہاں چاہ وہاں راہ۔حیدرآباد کا یہ سفر حضرت مولانا سے رشتہ محبت کی تجدید کرنے کا سفر ثابت ہوا،پرانی یادوں کے سائیوں پر پڑے گرد وغبارکو دور کرنے کا ذریعہ بنا،
ع
لوٹ ماضی کی طرف ائے گردش ایام تو
کے مطابق وہی شفقتیں اور عنایتیں ایک مرتبہ اور دامن میں سمیٹے کا موقعہ ملا۔ایسے بے غرض اکابر ہی تو اصاغر کے لئے نقوش راہ ثابت ہوتے ہیں،واللہ العظیم یہاں تو صرف لینا ہی لینا تھا ،دینے کے لئے ایک حقیر کے پاس کیا تھا ،یہی تو ذرہ نوازی ہے کہ بے مطلب وبے لوث دست کرم بانٹتا چلا جائے ، احسانوں کا بوجھ ناتواں کندھوں پر بار گراں بن جائے۔

تذکر ے ہی تذکرے۔
عربی کی ایک کہاوت ہے من احب شیئا اکثر ذکرہ جو جسے چاہتا ہے اس کانام وتذکرہ بھی کثرت سے کرتا ہے ،اگر یہ درست ہے تو پھر دلیل محبت مان لیجئے،۱۶ جنوری ۲۰۲۰ جمعرات کو ضلع میدک کے مدرسہ مدینۃ العلوم میں میرے بھانجے عبد الرزاق فہیم کے حفظ قرآن کی تکمیل سے ایک جلسہ تھا ، حضرت مولانا محمد جاوید علی حسامی ناظم مدرسہ نے اس مناسبت ونسبت سے بندے کو آنے کے لئے کہا،اس سے قبل میرے ایک اور بھانجے عبداللہ تمیم بھی اسی مدرسہ سے حافظ قرآن بنے تھے ،اس وقت حاضر نہ ہوسکا تھا ،بھانجے کی دلی خواہش واصرار اور قرآن کی نسبت سے پہنچا اور خصوصی خطاب کے لئے کہا گیا تو اس موقعہ پر طلبہ واستاتذہ اور والدین کے اس مجمع سے کچھ باتیں پیش کی گئیں،جن میں ایک نصیحت یہ بھی خاص طورپر گوش گذار کی کہ طلبہ علم اگر چاہیں کہ اپنے استاتذہ کے علم کا فیض جاری رہے تو میرے مربی ومشفق استاذ حضرت مولانا محمد برہان الدین سنبھلی رحمہ اللہ نے یہ نسخہ بتلایا ہے کہ اپنے اساتذہ کے حق میں دعائے خیر کرتے رہیں تو ان کے علم کا فیض جاری رہے گا۔اس مدرسہ میں میرے قابل شاگرد مولانا محمد عابد اللہ ندوی بھی استاذ ہیں ،انہوں نے جب حضر ت مولانا کا تذکرہ سنا تو یادیں تازہ ہوگئیں۔اور بہت دیر تک چمنستان ندوہ اور اس کے اصحاب کمال ،اہل فضل کا چرچا رہا۔
کچھ باتیں تھیں پھولوں جیسی، کچھ لہجے خوشبو تھے

حضرت مولانا کا انتقال ۔
۱۷ جنوری ۲۰۲۰ جمعہ کے دن نماز کے بعد سوشیل میڈیا پر حضرت مولانا رحمہ اللہ کے انتقال کی خبریں آئیں،تصدیق کی تو اپنے محبو ب ومشفق استاذ جو محترم تھے اب مرحوم بھی ہوگیے۔ انا للہ واناالیہ راجعون ۔
ایک والہانہ تعلق تھا تو دل گیر ہوگیا، چاہت تو تھی آنکھوں نے اس کا ساتھ دیا، اپنے اہل تعلق سے اپنے اس حادثہ کا ذکر کیا، اپنے مدرسے مدرستہ الخیر میں دعائے مغفرت کا اہتمام کیا۔
موت کسے نہیں آنی ہے، ہر نفس راہی ہے،ہر نقش فانی ہے، فنا ہی تو بقا کا نقطہ آغاز ہے، آپ ہی کی زبان سے سنے ہوئے وہ تسلی بخش وروح پرور جملے ذہن و دماغ میں تازہ ہوگئے کہ الموت جسر یوصل الحبیب الی الحبیب موت لازوال نعمتوں کے حصول کا پل ہے جس سے ہوکر سرمدی آرام، ابدی سکون کی جنت آتی ہے۔ موت بھی ہم جیسوں کے لئے ایک دعوت کہ عید المومنین جمعہ کے دن اپنے پروردگار سے جاملے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا فرمان عالیشان ہے کہ جیسے جیؤ گے ویسے مروگے ۔ واقعہ یہ ہے کہ حضرت مولانا ایک تابناک ودرخشندہ زندگی گزار کر اس دنیائے دوں میں ایک مثالی ویادگار کردار چھوڑ گئے اور اپنے پیچھے ثواب جاریہ کا ایک سیل رواں اور ایک پورا کارواں بناگیے۔ سلام ہو اور سلامتی ہو ایک لایق وفایق استاد پر، رحمت و مغفرت کی مینہ برسے مفسر قرآن پر، عنایت و عافیت کے دروازے کھلیں شارح حدیث کی تربت پر، اجر و ثواب بے پناہ ملے، عمر طویل کی طرح اجر جزیل سے غنی ولطیف انہیں نواز دے۔

آسماں تیری لحد پر شبنم افشانی کرے
سبزہ نورستہ اس گھر کی نگہبانی کرے آمین—————–جاری