Sun, Feb 28, 2021

میرے روحانی والد حضرت مولانا محمد برہان الدین سنبھلی مفتی سید آصف الدین ندوی قاسمی ایم اے
ناظم مدرستہ الخیر قادر باغ حیدرآباد

( قسط اول)

 

مادر علمی دارالعلوم ندوۃ العلماء کے احسانوں تلے زندگی گراں بار ہے ۔ فکری آبیاری کے چشمۂ رواں کا سوتا یہیں سے پھلنا پھولنا شروع کیا۔ ندوہ العلماء کے دارالعلوم میں علماء واساتذہ کی بو قلمونی ایک کششِ و تاثیر کی دنیا رکھتی ہے۔ وہ تمام اساتذہ جنہوں نے ایک لفظ بھی سکھایا ہے وہ میرے محسن ہیں۔ ان تمام کا دل کی اتھاہ گہرائیوں سے شکریہ ادا کرنا اپنا شاگردانہ فریضہ سمجھتا ہوں۔سردست یہاں حضرت مولانا محمد برہان الدین سنبھلی صاحب مرحوم سے وابستہ یادیں ذکر کررہا ہوں۔ اور استاذ چونکہ علم وعمل، فکر وکردار کا معمار ہوتا ہے تو یہاں ان سے اپنی نسبت جوڑنے اور ان سے پانے کی چیزوں اور انہیں کھونے کے احساس وشدت کو ظاہر کرنے کے لئے روحانی والد کا عنوان دیا ہے۔وہ ہزاروں ہزار طالب علموں کے استاد ومربی، بے شمار تشنگان علم کے مشیر و مخیر، لاتعداد فیض کشوں کے مشکور و ممنون ہیں ان ہی بے شمار فیض یافتہ شاگردوں میں سے ایک ادنی شاگرد خود کو تصور کرتا ہوں۔ اور اپنے یہ تاثرات اپنے محبوب ومحسن استاد کے سلسلے میں نقش دل پاتا ہوں۔

دو دہے قبل یعنی ١٩٩٧ میں ندوہ کا رخ کرنا خود ایک انوکھا اقدام سمجھا گیا کہ میرے وطن محبوب نگر ضلع سے ندوہ پہنچنے والا راقم دوسرا طالب علم تھا۔ احقر سے پیش تر پورے ضلع میں صرف مولانا عبیداللہ واحد عالم تھے جنہوں نے مادر علمی سے فراغت حاصل کی تھی۔ اور وہ اب بیرون ملک حجاز میں مقیم تھے۔ اس آباد علمی دنیا سے روشناس کرانے اور وہاں تک پہنچانے میں میرے علمی رہبر حضرت مولانا احمد عبد المجیب قاسمی ندوی دامت برکاتہم کی دور رس فکر وتحریک اصل بنیاد ہے۔ دارالعلوم سبیل السلام حیدرآباد کے پنجم عربی کے بعد چار ساتھیوں مولانا محمدصابر احمدحسامی، مولانا مقصود یمانی مظاہری، ہم نام مولانا محمد آصف ندوی گنٹوری پر مشتمل کارواں ندوہ پہنچا۔ اور بحمد اللہ میرا اور مولانا صابر کا داخلہ عالیہ ثالثہ شریعہ میں ہوگیا دوسرے دو ساتھی ندوہ کی ضیاء العلوم شاخ چلے گئے۔ ١٩٩٧ و ١٩٩٨ یہ دو سال اس چمنستان میں یادگار بن کر گذرے۔ آب وہوا، موسم وحالات نے بہت کچھ کمزور کیا لیکن کبھی وطن اور ماں باپ کی طرف پلٹنا نہ سوچا۔ اتنی شدت کی گرمی زندگی میں پہلی مرتبہ دیکھی، نکیسر بہنی شروع ہوگئی، ناتوانی و کمزوری اس درجہ بڑھ گئی کہ چلتے چلتے چکر آنے لگے۔ سردی وکہر کے کیا کہنے کہ رنگ نکھرنے لگا۔ یہ تو تھی جسمانی حالت اور آج تک میری تیسری ہمشیرہ کی شکایت ہے کہ میں ان کی شادی میں شریک نہیں رہا اور ندوہ کے عالیہ رابعہ شریعہ کے سال کو اہمیت دی۔
عالیہ رابعہ شریعہ کے سال کی علمی گہما گہمی تو دیکھنے اور محسوس کرنے کی چیز ہوتی ہے۔ بقر عید کی تعطیلات اور گرماءی چھٹیوں میں بھی گھر نہیں آیا۔ الف ہمارا سکشن تھا۔ اسعد اللہ امین الصف تھے۔ مولانا محمد نفسِ خان ندوی، مولانا احمد علی ندوی، مولانا محمد فرمان ندوی، مولانا عنایت اللہ وانی وغیرہ ہم درس ساتھیوں میں تھے تو مسابقت بھی بہت تھی۔ وہیں اپنی ریاست کے مولانارکن الدین ندوی و مولانا ملک عنایت علی ندوی جیسے سینیر رفقاء ہم درجہ تھے۔ اب نور علی نور کہ الف کو اس سال حضرت مولانا محمد رابع حسنی ندوی صاحب، حضرت مولانا سعید الرحمن اعظمی صاحب و حضرت مولانا محمد برہان الدین سنبھلی صاحب ، حضرت مولانا محمد زکریا سنبھلی صاحب ، حضرت مولانا محمد نیاز احمد ندوی صاحب ،حضرت مولانا خالد غازی پوری ندوی صاحب ، حضرت مولانا ابو سحبان روح القدس صاحب کے گھنٹے ملے تھے،پڑھنے والوں کی تو معراج ہوگیی اور جی چرانے والوں کے لئے تو جیسے قیامت کی گھنٹی بج گئی۔ رابعہ کے دیگر اساتذہ کرام میں حضرت مولانا سلمان حسینی ندوی صاحب، حضرت مولانا اقبال ندوی صاحب، وغیرہ تھے۔ درجہ میں تیسری صف میں شہ نشین کے سامنے والے حصے میں کسی طرح جگہ ملی۔ لیکن حضرت مولانا برہان الدین صاحب کے درس تفسیر وصحیح بخاری میں ساتھیوں سے مان مناکر پہلی صف میں گھس آیا اور کسی طرح جگہ بنا پایا۔ تھوڑے ہی دنوں میں طالب علم کی اس قربت کو شفیق استاد نے بھی محسوس کرلیا اور پھر حاضر باشی و حاضر جوابی نے استاذ محترم کی خصوصی توجہ کا مرکز بنایا، یاد نہیں پڑتا کہ کوئی ناغہ ہوا ہو، ہر درس کی ڈایری لکھنے کا تو معمول تو تھا ہی یہاں چونکہ ذہنی وابستگی عقیدت ومحبت سے بڑھ کر گرویدگی کی صورت اختیار کرچکی تھی تو درس کو نا لکھنے کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا البتہ حضرت مولانا کے درس کی خوبی یہ ہوتی کہ وہ ذہن ودماغ میں رقم ہوتا اور درس بھی کلام اللہ اور اصح الکتب بعد کتاب اللہ صحیح بخاری کا ہو تو مقناطیسیت وجاذبیت بام عروج پر ہوتی،اور مولانا محترم کے درس کو سننا نہیں بلکہ جذب کرنا شروع کیا، مولانا محترم کے تفسیر کے درس نے قرآن مجید سے عشق وفریفتگی کا کام کیا،الفاظ ومعانی کے بحر بیکراں کا مسافر، مسائل و معارف کا نکتہ شناس، تدبر وتفکر کا عادی، ربط و تعلق کی گہرائی کا معترف بنایا۔قرآن مجید کو ڈوب کر پڑھنے اور پڑھ کر عش عش کرنے کا جی بن گیا، اس وقت عمر کچھ بیس بائیس سال کی رہی ہو گی ایسی طالب علمانہ عمر میں حضرت ہی کے گھنٹے کے وہ دن ابھی تک یاد ہیں کہ درس میں آنکھیں کلام اللہ کی تاثیر انگیزی و جادو بیانی وسحرآفرینی سے اشک بار بار بار ہوجاتیں۔ مزید اس پر مولانا محترم کا وہ دل موہ لینے والا انداز بیان رقت طاری کردیتا، طلبہ درس کو غور سے سنتے اس لئے کہ مولانا امتحان میں وہی جواب قبول فرماتے جو انہوں نے درس میں بتایا اور سمجھایا ہے لیکن بندے نے امتحان کے لئے نہیں بلکہ کلام اللہ کے فہم و بصیرت کا خزانہ اس سے سمیٹا۔ یہی وجہ ہے کہ امتحان کے موقع پر بہت بڑی تعداد میں ساتھیوں نے میری ڈائری کو زیراکس کروایا کہ اس میں وہ سارے نکات و پواینٹس لکھے تھے۔ درس جیسے جیسے آگے بڑھتا گیا قرآن مجید سے قربت بھی دل میں موجزن ہونے لگی،اپنی کم علمی خود پر آشکارا ہوتی جاتی تھی اور نور قرآن کی بصیرت شمع بن راہ ہموار کرتی چلی جاتی، مولانا محترم سبق کے درمیان اپنے فوائد ونکات پوچھ لیا کرتے تھے تو یہ شاگرد ہمیشہ اول رہا کرتا تھا، ششماہی امتحان میں تفسیر وصحیح بخاری میں محصولہ نمبرات نے مولانا سے اور بھی قریب کردیا، مولانا محترم ہی کے مشورے سے حکیم الامت حضرت تھانوی کی بیان القرآن اور علامہ صابونی کی صفوت التفاسیر کا مطالعہ معمول بنالیا، حسب ارشاد دیگر تفاسیر سے بھی رجوع کرتا۔ درس کے بعد دور تک پیچھے پیچھے جانے کا دور شروع ہوا، پھر ایک دن مغرب بعد کوئی سوال پوچھا تو گھر پہنچنے تک رفاقت ملی اور یہ اتفاق اب معمولات میں شامل ہوگیا تھا کہ نماز مغرب سے فارغ ہوکر دروازے کے سامنے کھڑا رہتا اور حضرت مسجد سے باہر تشریف لاتے تو ساتھ ساتھ گھر تک درس وتفسیرقرآنِ سے متعلق سوالات وجوابات کا سلسلہ جاری رہتا۔ حضرت فارغ ہوتے تو کچھ دیر بیٹھنے کا بھی موقعہ مل جایا کرتا۔—————— جاری