Sun, Feb 28, 2021

میرے روحانی والد حضرت مولانا محمد برہان الدین سنبھلی رحمۃ اللہ علیہ

مفتی سید آصف الدین ندوی قاسمی ایم اے
ناظم مدرستہ الخیر قادر باغ حیدرآباد
9849611686

( قسط دوم)

 

مغرب کے بعد کا یہ معمول نہایت مفید ثابت ہوا،قرآن مجید سے متعلق کوئی بھی سوال و اشکال پیدا ہوتا تو وہ مغرب بعد باقی نہ رہتا، سامنےایک اتھاہ سمندر تھا جس سے ایک کوتاہ علم سیراب ہونے کی جستجو لئے چل پڑا تھا، کبھی خود ہی سے کوئی علمی بات فرماتے، احقر کے بڑے بڑے سوالات آپ کے سامنے بچکانہ باتیں معلوم ہوتیں،اور آپ کے مختصر سے جملوں سے تہہ بہ تہہ گھتیاں سلجھ جاتیں،علمی وفکری راستے میں ایسے خضر راہ ہوں تو بھول بھلیاں میں بھٹکنے کا کہاں سوال پیدا ہوتا ہے۔
یہ حضرت ہی کے درس وتدریس، شاگردگی و اتالیقی کے مرہونِ منت ہے کہ کلام اللہ کو ہمیشہ معری پڑھنے کا مزاج بنا، ترجمہ کی ضرورت بہت کم پیش آتی،اور کوئی خاص ترجمہ وتفسیر کبھی بھی حرف آخر کی صورت نہ لے سکی،یہ الگ بات ہے کہ تحقیق و بحث اور مقارنہ کے موقع پرساری ہی تفاسیر و تراجم دیکھنے کا مزاج ہے، کسی مفسر سے شخصی مرعوبیت کبھی پیدا نہیں ہوءی۔ آپ ہی کے مشورہ سے اردو وعربی تفاسیر سے مراجعت ہوتی تھی،ان کے انداز و طریقہ تفسیر پر پہلے جامع ہدایات آپ سے مل جا تی تھیں۔ امام فخر الدین رازی کی تفسیر کبیر کے بابت فرمایا تھا کہ اس میں تفسیر کے علاوہ سب کچھ ہے، نصرانیت اور اس کے باطل مزعومات کے جوابات کے لئے تفسیر ماجدی سے مراجعت کے لئے فرماتے تھے۔ مولانا محترم سے جو چیز بندہ نے پاءی اورسیکھی وہ تھی کلام اللہ سے براہ راست اخذ و استنباط کرنے کا مزاج بنانا ، اس میں ڈوب جانا اور اس کے گوہر پاروں سے اپنے فکر وعمل کو آراستہ کرنا، تفسیر قرآن بالقرآن کی ایسی فکر پیدا فرمایی کی خود کلام اللہ اپنا بیان بن جاتا، حدیث کے استناد واستشہاد کو بھی کوٹ کوٹ کر بلکہ گھول گھول کر پلا دیا تھا۔حضرت مولانا لمبی لمبی بحثوں اور قیل وقال کے قاءل نہ تھے،بلکہ پیام قرآن کو پیش نظر رکھنے کے داعی تھے۔ اور تفسیر قرآن کی کلاس میں بارہا ارشاد فرماتے تھے کہ اس موقعہ پر دو صرف نکتے بیان کرونگا زیادہ نہیں انہیں یاد رکھنا۔ ایسے اہم فوائد و باریکیوں کو واضح کرنے کے بعد موقعہ با موقعہ ان کا استحضار بھی فرماتے۔ ۔مولانا محترم کی یہ گرہ کشا قرآنی افادات اس سلسلہ مضمون کا حصہ بناکر پیش کرنے کی سعادت حاصل کرونگا۔( انشاءاللہ ) قبل ازیں سن 2012 میں 1970کے دور کے حضرت مولانا کے درس تفیسر کے انتخاب کو حضرت مولانا سید سلمان حسینی ندوی صاحب نے ” درس قرآن ” کے نام سےجمع فرماکر شایع کیا ہے۔ مغرب کے بعد گھر میں بھی بیٹھنے اور سننے کا موقعہ ملا، ضیافت کے شرف سے بھی بہت سے موقعوں پر مستفید ہوا ۔ زیر مطالعہ کتابوں کے سلسلہ میں دریافت کرتے اور حسب ضرورت رہنمائی فرماتے، اور اچھی طرح سے یاد ہے کہ جب گھر پہنچ جاتے تو پوچھتے کہ کوئی اور ضرورت تو نہیں ہے۔ شاگرد اپنے استاد کی جوتیاں سیدھی کرنے اور رکھنے کی کوشش کرتا تو منع فرمادیا اور سختی کے ساتھ ایسا کرنے سے روک دیا۔ سادگی تو جیسے ندوہ کے اساتذہ کی میراث وروایت ہے، اس بحر ذخار کی ذرہ نوازی وخورد پروری پر سو جان نثار تھے۔ داستان وارفتگی تو دراز سے دراز تر ہے۔ سمیٹتے ہوئے کچھ جھلکیاں ہی ہدیہ بصیرت کرونگا۔

عالیہ رابعہ شریعہ کے سالانہ امتحانات تھے، ان ایام میں پرایے توپرایے ہیں اپنے بیگانے بن جاتے ہیں اور تو اور خود کی بھی کہاں پرواہ رہتی ہے،بس یہ دھن طاری رہتی ہے کہ عالمیت کا آخری امتحان ہے اور بہرصورت بہتر سے بہتر تر مظاہرہ کرنا ہے،اسی دھن میں مگن کیی دن حضرت مولانا سے ملاقات نہ کرسکا۔تفسیر قرآن اور صحیح بخاری کا مشکل امتحان بھی ہوگیا ایک دن حسب معمول پیچھے پیچھے چل پڑا،فرمایا کہ تفسیر وبخاری کے امتحان ہوگیے توپھر پرچہ لاکر کیوں نہیں بتایا کہ کیسا رہا،اور یہ جملے اپناءیت سے دو تین مرتبہ دہراءے، کسی اور طالب علم نے بھی نہیں دکھایا کم سے کم تم تو دکھا دیتے، عرض گزار ہوا کہ اب پیش کرتا ہوں،جواب ملا کہ پوچھنے کے بعد کیا تعمیل کروگے شاگرد تو بن بولے کرنے کا نام ہے،آج کے شاگرد تو بس ایسے ہی ہیں، حضرت کےبارباردہرانے سے آپ کے تعلق واپناءیت کا پتہ چلا اور اپنی نادانی و غفلت پر پھوٹ پھوٹ کر رونے کو جی چاہا، امتحان دینے سے پہلے طلبہ کو فکر رہتی ہے اور اس کے بعد وہ بے فکر ہو جاتے ہیں، یہاں استاد کو امتحان کے بعد فکر مندی ہے کہ پرچہ سوالات مشکل تو نہیں بن گیا، وہ بھی کیا دور تھا اور کیسے مخلص و متفکر اساتذہ تھے۔
ڈھونڈوگے ملکوں ملکوں ملنے کے نہیں نایاب ہیں ہم

حضرت مولانا ہمارے دور کے اساتذہ کرام کے لئے ایک مینارہ نور ہیں کہ وہ امت کے ذہانتوں کے امین ہیں، مسقبل کے معماروں کی تعمیر ان کے ہاتھوں میں سونپ دی گئی، میدان عمل کے شہسواروں کی نکیل ان کے اشاروں پر ہے، یہی نہیں بلکہ نا تراشیدہ لعل و جواہر کی ہییت و ماہیت ان کے دست تربیت و ید صناعی میں ہے۔ کاش کہ نصف صدی کی مولانا محترم کی یہ عملی خدمات اساتذہ مدارس، ارباب جامعات، علماء دین کے لئے نقش راہ ، جادہ منزل بن جائے۔ اور وہ طلبہ علم جن کے پیشِ نظر دین ہے، اور جن کا مطلوب و مقصود قرآن مجید وحدیث نبوی ہے کاش وہ اپنے دور کے آفتاب علم،مہتاب فکر کی قدر دانی جان جاییں، فکر ونظر کو جلا بخشی والی شمع کے پروانے ہو جائیں۔ کاش کے ہمارے مدارس ان اکابر و حضرات کے صرف نام ہی کو نہیں بلکہ کام کو بھی اپناءیں۔

نہیں نا امید اقبال اپنے کشت ویراں سے
ذرا نم ہو تو یہ مٹی بڑی زرخیز ہے ساقی

امتحانات پورے ہوے، وطن کی کی یاد نے دل میں بسیرا کرلیا، ماں باپ ، بھائی بہنوں کے پیار نے تڑپاتا شروع کردیا، جذبات مچلنے لگے، فرط خوشی سے لمحے، گھنٹے لگتے، گھنٹے جیسے ہفتے اور وقت گزارنامشکل بن گیا تھا، عالمیت کی تکمیل، ندویت کی نسبت سے سینہ پھولا جارہا تھا، وہ یادگار دن بھی آپہنچا تھا جس کے سپنے سجا سجا کر سارے کڑوے گھونٹ خوش دلی سے پییے تھے، سند کامرانی جیسے ہاتھ لگ چکی تھی اور ایک ایک پل کی بے تابی تھی کہ اپنے والدین کو یہ سوغات دوں، دوستوں ساتھیوں سے گلے ملوں، اور انہیں دکھاؤں، ان مسرت کن گھڑیوں میں جب دیکھا کہ یہ چمن اور اس کے بےلوث مالیوں سے جدائی ہونے والی ہے، جن کے پاس رہ کر والدین کی محبت و شفقت پایی تھی، اور ایک بڑا خاندان چھوٹنے والا ہے تو دل ہی دل میں مغموم بھی ہوجاتا، اور واقعہ یہی ہے کہ اس سدا بہار وپرکیف ماحول کی دل کشی نے دل کے نہاں خانے میں محبت کے بیج بوکر،چاہت کی کونپلیں کھلاکر، خلوص کاپانی دیکر، اخلاص کی ہواؤں میں لہراکر، عزم واستقلال کی دھوپ میں تپاکر، بے لوثی کی چادر سے ڈھانپ کر، عمل وکردار بنیادیں بناکر، صلاحیت وصالحیت کی شاخوں پر بٹھا کر ندوہ کی محبت کا پورا شجر سایہ دار کبھی کا کھڑا کردیا تھا، جس کا احساس جدائی کے ان گھڑیوں میں پوری شدت سے ہورہا تھا، ان متلاطم خیالات کا اظہار بھی اپنے روحانی والد ہی سے بے ساختہ کردیا تو فرمایا کہ نہیں، جاؤ رمضان المبارک بعد آکر فضیلت بھی کرلینا، کہا کہ معلوم نہیں والدین اجازت بھی دیں گے بھی کہ نہیں، آگے کے حالات تو یہی کہہ رہے ہیں کہ شاید اب پھر نہیں آپاونگا، استفادہ واستشارہ، تعلم و تعمل کے یہ سنہری مواقع ختم ہوجائیں گے، فیض یابی و باریابی ختم ہو جائے گی، عرض گزار ہوا کہ یہ سلسلہ دور رہ کر بھی کیسے جاری رہ سکتا ہے؟ فرمایا کہ اپنے اساتذہ کے حق میں دعائے خیر کرتے رہوگے،دور رہ کر بھی فیض یابوں میں رہوگے، ساتھ میں ایک شرط بھی ہے عمل کرتے رہنا ورنہ صرف دعا کرنا ہی کافی نہ ہوگا، فرمایا کہ رابطہ میں رہنا،اپنے حالات و کوایف سے مطلع کرتے رہنا، خط وکتابت کروگے تو ضرور جواب دیا کروں گا۔ ایک محسن ومشفق، ایک مربی و صالح بندہ کی یہ تسلی ڈھارس بندھایی، ٹوٹنے والے اس پھل و پھول کو اٹوٹ سرپرستی کا سایہ بخش دیا۔ اور بزبان شاعر یہ حوصلہ پاکر وطن لوٹا ع
وابستہ رہ شجر سے امید بہار رکھ۔

قاریین با تمکین ! ابھی تک آپ نے اک طرفہ دعوے ہی دعوے دیکھے، ٹاٹ کا پیوند ریشم سے محبت کا دعویدار ہے، کلی زیبائش چمن کی عطر بیزی کا منھ ملارہی ہے، اک گل چمن ندوہ میں کھلتا ہے اور زینت وطن بن جاتا ہے، لاکھوں بلبلوں کے اس گلشن میں ایک چھوٹی سی چڑیا آتی، نشیمن بناتی ہے، چمنستان کے سارے پھولوں سے عطر ورنگ، دلفریبی ورعناءی کشید کرتی ہے، اور اپنے چھوٹے سے گھروندے کو مقدور بھر سجاسجا کر لوٹ جاتی ہے۔ تعلیمی و تحقیقی، تربیتی کارواں لگتا ہے کہ جیسے رک سا گیا تھا، نہیں،نہیں یہ تو وہ دریا ہے کہ جس کی لہروں میں تلاطم ہے، چمن میں نیی نیی کلیاں کھلنے لگی ہیں، شجر ندوہ پہ نیی نیی بلبلیں آشیانہ بنارہی ہیں، یہی تو حقیقت ہے، یہی تو زندگی کی پہچان اور ندوہ کی شان ہے۔ دعوے ہم نے ضرور کیے ہیں اور ہماری یہ شیفتگی و فرزانگی یک طرفہ بھی ہو تو کیا ایک شاگرد کی یہ خوبی نہیں ہے، لیکن قربان جاؤں کہ اس شوریدہ سر کی فریفتگی کے دعوے اور جواب میں کہ حضرت الاستاذ استاذ العلماء مولانا محترم بھی اس گہنگار کو چاہتے تھے، ان کےپاک دل میں ایک ادنی شاگرد کے لئے بھی جگہ بن گیی تھی، لیجیۓ حضرت مولانا کا خود بیان پڑھ لیجئے۔سن ٢٠٠٤ میں دارالعلوم دیوبند کے اساتذہ کرام سے متعلق راقم کی ایک کتاب ‘ گلشن ہند کا علمی گلدستہ’ شایع ہوءی ہے، جس کے صفحہ ١٧ پر حضرت مولانا کی یہ تحریر موجود ہے۔ ” عزیز گرامی قدر مولوی آصف الدین ندوی قاسمی سلمہ ایک سعادت مند طالب علم ہونے کی حیثیت سے دارالعلوم ندوۃ العلماء میں مجھ سے متعارف رہے،ان کے اندر طلب علم اور مسایل علمیہ کی تحقیق کے لئےسعی کا جذبہ میں نے پایا، دارالعلوم ندوۃ العلماء سے درجہ عدلیہ رابعہ یعنی عالمیت کے نصاب کی تکمیل کے بعد وہ دارالعلوم دیوبند طلب علم کے لئے گئے وہاں جانے کے بعد انہوں نے مجھ سے رابطہ رکھا، پھر وہاں سے بھی اپنے وطن حیدرآباد چلے جانے اور مجلس علمیہ آندھراپردیش سے مربوط ہونے کے بعد بھی وقتاً فوقتاً رابطہ کرتے رہے، اس درمیان راقم کا جب حیدرآباد جانا ہوا عزیز موصوف ایک متواضع اور سعادت مند کی طرح ملے، اب انہوں نے ایک کتاب تیار کرلی ہے اور جسے دیکھنے اور اس پر کچھ لکھنے کی فرمائش کی ہے، لیکن راقم کو اپنی مشغولیات اور دیگر وجوہ سے اس پر ایک نظر ڈالنے کا کبھی موقعہ نہیں مل سکا، مگر آں عزیز کا اس پر اصرار رہا کہ یہ حقیر اس پر کچھ نا کچھ لکھ دے اور نہیں تو صرف دعائیہ کلمات ہی سہی چنانچہ اس کی خواہش کے احترام میں یہ چند سطریں لکھ کر دعا کرتا ہوں کہ اللہ تعالیٰ آں عزیز کو علمی ودینی خدمات کے لئے قبول کرلے اور قدم قدم پر ان کی دستگیری کرے اور ان کا ناصر ومددگار ہو۔ “

اولیک آباء یی فجءینی بمثلھم
اذا جمعتنا یا جریر المجامع

—————— جاری