Thu, Feb 25, 2021

مرکز نظام الدین کے خلاف میڈیا کا پروپیگنڈہ
محمد ابراہیم خلیل سبیلیؔ،حیدرآباد۔9908922786

بنگلہ والی مسجدیعنی مرکز حضرت نظام الدینؒ دہلی صرف اینٹ یا پتھر کی چہار دیواری کا نام نہیں ہے، بلکہ یہ پوری دنیا کا دعوتی و تبلیغی مرکز ہے۔ یہاں پر اندرون اور بیرون ملک سے لوگ آتے ہیں اور جماعتوں کی شکل میںسارے عالم میں پھیل جاتے ہیں۔ یہ اخلاص و للہیت کا وہ تاج محل ہے جہاں نہ جانے کتنے تشنہ لبی آتے ہیں اور سیراب ہوتے ہیں ۔ یہ وہ شجرطوبی ہے جہاں نہ جانے کتنے گم گشتہ راہ آتے ہیں اور ہدایت پاجاتے ہیں۔ یہ ان زندہ دلوں کا میخانہ ہے جہاں نہ جانے کتنے شرابی کبابی آتے ہیںاور رشد و ہدایت کے رند لے کر واپس ہوتے ہیں۔ یہ وہ ہدایت کا درخشاں مینارہے جہاں سینکڑوں گناہ گار آتے ہیںاور اللہ کے حضور توبہ کرکے مصلح امت بن کر لوٹتے ہیں۔یہ ہمارے بزرگوں کا وہ مقدس مقام ہے جہاں انہوں نے وضو کا پانی پی کرفاقہ کشی کی تھی۔ تہجد اور شب بیداری کے ذریعہ اللہ تعالی کو منایا تھا۔ خدا کے حضورلمبے لمبے سجدے کرکے ساری انسانیت کی ہدایت کیلئے دعائیں کی تھیں، اور دنیا کے چپے چپے میں دعوت و تبلیغ کی محنت کو عام کیا تھا۔لگ بھگ ایک صدی سے مرکز کا ایک نظام الاوقات ہے۔ جس کے تحت وہاں مشورہ ہوتا ہے۔ گشت ہوتی ہے۔ بیان ہوتا ہے۔ تعلیم و تربیت ہوتی ہے۔ اور قرآن کے حلقے لگتے ہیں۔ تبلیغی جماعت کے بیانات کی بہت بڑی بات یہ ہے کہ وہ سیاست سے پرے اور مسلک و مذہب کی نفرت سے بالکل پاک ہوتے ہیں۔
آج اس عالمی مرکز کو نظر لگ چکی ہے۔ ایک بار پھرسے وہ میڈیا کی شر انگیزی میں آچکا ہے۔ خاص کرالکٹرانک میڈیا مرکزاور تبلیغی جماعت کو اپنا ہدف بنارہا ہے اور ایسی باتیںپیش کر رہا ہے جس کا اصل سے کوئی تعلق نہیں ہے۔ میڈیا کے مطابق مرکز نے لاک ڈاؤن کی خلاف ورزی کی ہے۔ لاک ڈاؤن ہونے کے باوجود مرکز میں دو ہزار آدمیوں کا ہجوم تھا ۔ جس میں تقریباتین سو سے زائد لوگ بیرون ملک کے رہنے والے ہیں۔ یہ لوگ مرکز میںاپنی سرگرمیاں جاری رکھے ہوئے تھے اور سماج میں آزادی کے ساتھ گھوم پھر رہے تھے۔جس سے بڑی حد تک وائرس پھیلنے کا اندیشہ ہے۔لیکن میڈیاکو معلوم ہے کہ ایسی بھیڑ مرکزمیںہمیشہ رہتی ہے۔ اوروہ یہ بھی جانتا ہے کہ یہ ہجوم جنتا کرفیو اور لاک ڈاؤن سے پہلے کا ہے۔ اورہم سب جانتے ہیں کہ ہمارے وزیر اعظم شاہی طبیعت کے مالک ہیںاوروہ کڑک چائے پینے میں کافی شہرت رکھتے ہیں۔ نوٹ بندی اور بابری مسجد کیس کے اعلان کی طرح انہوں نے جنتا کرفیو اور لاک ڈاؤن کا اعلان بھی اچانک ہی کیا ۔ جہاں تک وائرس کا تعلق ہے تو وہ جنتا کرفیو اور لاک ڈاؤن سے کئی ہفتے پہلے ہی ملک میں داخل ہوچکا تھا ۔ اور چین میں تو نئے سال کے شروع میں ہی اس کی ابتداء ہوچکی تھی۔ اس کے باوجود ہمارے ملک میںانٹر نیشنل اور ڈومیسٹک دونوں ہی پروازوں کا سلسلہ جاری رہا۔ لیکن 22مارچ کو اچانک لاک ڈاؤن کے بعد پورا ملک منجمد ہوگیا اور لوگ جہاں کے وہیں پھنس کر رہ گئے۔ بیرونی شہری تو کیا ملک کے ہزاروں لوگ بھی دیگر ریاستوں، شہروں اوراضلاع سے نہیں نکل سکے۔خود ہمارے شہر حیدرآباد میں اب تک مختلف ریاستوں اور اضلاع کے لوگ پھنسے ہوئے ہیں۔ جب ملک گیر یہی حالت تھی تو مرکز سے لوگ اپنے اپنے مقامات کو کیسے جاسکتے تھے؟ لاک ڈاؤن کے بعد باہر نکلنا بھی غیر قانونی تھا اور مساجد، منادر یا کسی اور مقام پرجمع ہونا بھی غیر قانونی تھا ۔ اوراس کے ساتھ ساتھ حمل و نقل کے سارے ذرائع بھی بند ہوچکے تھے۔ اس تشویشناک صورت حال کو دیکھ کر مرکزکے ذمہ داروں نے کئی مرتبہ لیٹر لکھ کرحکومت کو خبردار کیا،اور اچانک لاک ڈاؤن کی صورت حال بتا کر لوگوں کو ان کے مقامات تک پہنچانے یا کم از کم پاس جاری کرنے کی سفارش کی۔ لیکن دہلی حکومت نے اس طرف کوئی توجہ نہیں دی جس کی وجہ سے شرکاء مرکز ہی میں پھنس کر رہ گئے تھے۔ لاک ڈاؤن کے بعد اگر کوئی کہیں پھنس جاتا ہے تو اسے نکالنے کی ذمہ داری حکومت اور پولیس کی ہوتی ہے ۔ کتنی سوچنے والی بات ہے کہ حکومت اپنی ذمہ داری سے بھاگ رہی ہے اور مرکز اور اس کے ذمہ داران کوقصور وار بتا رہی ہے۔
میڈیا کی منافقت اور دوغلی پالیسی بھی بڑی عجیب ہے۔سمجھ میں نہیں آتا کہ میڈیا اپنے فرض سے کب تک بھاگتارہے گا۔ الفاظ کا الٹ پھیر کوئی اس سے سیکھے۔ ’’اگر کوئی مندر میں موجود ہے تو وہ پھنسا ہوا ہے اور اگر مسجد یا مرکز میں ہے تو وہ چھپا ہوا ہے۔‘‘جب سے کورونا شروع ہوااس کے پاس ڈھنگ کی کوئی خبر نہیں تھی اب جبکہ مرکز کی ایک خبر ملی ہے تو اسے نمک مرچ لگاکر پیش کیا جارہا ہے۔اور ایک وباء کومذہبی رنگ دینے کی بھرپور کوشش کی جارہی ہے۔ حالانکہ میڈیا وائرس کو لیکراس سے پہلے اتنا سنجیدہ نہیں تھا۔کیونکہ اس نے حکومت سے کبھی یہ سوال نہیں کیاکہ حکومت نے اب تک متاثرین کیلئے کیا کام کیاہے؟ دوا خانوںمیں ان کیلئے کیا انتظامات کئے ہیں؟وائرس کی روک تھام کیلئے حکومت نے کیا اقدامات کئے ہیں؟جو لوگ پھنسے ہوئے ہیں ان کو نکالنے کیلئے حکومت کتنی سنجیدہ ہے؟ جو لوگ گھروں میںبھوک سے پریشان ہیں ان کو کس حد تک اناج پہنچایا جارہا ہے؟اور جولوگ باہر سے وائرس لے کر آئے ہیں ان کو کس حد تک قرنطینہ میں رکھاگیا ہے؟ لیکن میڈیا نے ان تمام باتوں سے صرف نظر کرتے ہوئے مرکز اور وہاں کے ذمہ داران کو نشانہ بنایا ہے۔ بڑی افسوس کی بات ہے کہ ایودھیا میں جمع ہونے والی بھیڑ اسے نظر نہیں آئی؟ کنیکا کپور کا کوروناٹیسٹ مثبت آیا اور اس سے سینکڑوں لوگ متاثر ہوئے، میڈیا میں یہ خبر نہیں آئی۔ یوگی آدتیہ ناتھ اور دیگر لیڈران نے رام مندر کے سلسلہ میںلاک ڈاؤن کی خلاف ورزی کی، میڈیا نے اسے نہیں بتایا۔ لاک ڈاؤن کے پہلے دن سینکڑوں لوگوں نے ایک جگہ جمع ہوکر تالیاں،تھالیاں اوربینڈ باجے بجائے، میڈیا نے اسے کور نہیں کیا۔ یہاں تک کہ لاک ڈاؤن کے بعد اکثر و بیشتر بازاروں میں خریداروں کا بڑاہجوم تھا، میڈیا نے اسے نہیں دکھایا۔ کیا یہ تمام کام قانون کی نظر میں صحیح تھے؟ اور کیا ان سے وائرس پھیلنے کا اندیشہ نہیں ہے؟ نہ جانے یہ میڈیااور سیاست دان امتیازی سلوک اور یکطرفہ تماشہ کب تک کرتے رہیں گے؟
ادھر دہلی کے وزیر اعلی کجریوال نے مرکز کے ذمہ داروں پر ایف آئی آر درج کرنے کی بات کہی ہے۔آج تک ہم یہی سمجھتے ر ہے کہ ان کی جھاڑو فسادیوںکی نظر اتارنے اوربرائیوں کو جھاڑنے کیلئے ہے۔ لیکن آج پتہ چلا کہ ان کی جھاڑو منافقت کی ڈوری سے بندھی ہوئی ہے۔ انہوں نے مرکز نظام الدینؒ کے خلاف بیان دے کر یہ ثابت کردیا کہ مذہب کے نام پر سیاست کرناانہیں بھی خوب آتا ہے۔ کپل مشرااور بی جے پی کے دیگر قائدین کی بیان بازی کے خلاف توانہوںنے ایک لفظ نہیں کہا۔ دہلی کی سڑکوں پرکئی مسلم نوجوانوں کو شہیدکیا گیا۔ ماب لینچنگ کے ذریعہ دسیوں مسلم جوانوں کوپیٹ پیٹ کر ماردیا گیا۔ اور شاہین باغ کے احتجاج کو ختم کرنے کیلئے آر ایس ایس کے غنڈوں نے پٹرول بم کااستعمال کیا،بر سر عام گولیا چلائیں، دہلی کی دوکانوں میں آگ لگائی، مساجد میں گھس کر امام اور مصلیوں کو زدو کوب کیا، منبرومحراب تک کو جلا ڈالا، جس سے پورا دہلی دہل گیا اور اس سانحہ میں کئی ساری اموات بھی ہوئیں، لیکن انہوں نے کسی ایک کے خلاف بھی ایف آئی آر درج کرنے کی بات نہیں کی۔ آج جب کہ دہلی مرکز میں لوگ پھنسے ہوئے ہیں اور مرکز کے ذمہ داروں نے حکومت سے سب لوگوں کو اپنے مقامات پر پہنچانے کی اپیل بھی کی تھی۔ اس کے باوجوددہلی کے چیف منسٹر نے ایف آئی آر درج کرنے کی بات کی ہے اور یکم اپریل کو امیر جماعت مولانا سعد صاحب کے خلاف ایف آئی آر درج بھی ہوگئی ۔کیا یہ مسلم دشمنی اور نفرت بھری سیاست نہیں ہے؟
یہ سحیح ہے کہ15سے 17مارچ تین دن تک مرکز میں صوبہ آندھرا پردیش کاجوڑ ہواتھا ۔آندھرا اور تلنگانہ سے اس میںایک ہزار سے کچھ زیادہ لوگ جمع ہوئے تھے۔ دہلی حکومت اس کو بہانا بنا کر کہ رہی ہے کہ حکومت سے اس جوڑکی اجازت نہیں لی گئی تھی۔ اس سلسلہ میں مرکز کے ذمہ داروں کا کہنا ہے کہ ہم لوگ تقریبا سو سال سے اس طرح کے جوڑ کررہے ہیں لیکن ہم نے آج تک حکومت سے اجازت نہیں لی اور نہ ہی حکومت نے ہم سے کبھی اس کا مطالبہ کیا۔کیونکہ ایسے جوڑاندرون مرکزکئے جاتے ہیں اور اس میں آنے والے چنیدہ افراد ہوتے ہیں۔اس اجتماع سے واپس لوٹنے والے افرا د کے سلسلہ میں تلنگانہ حکومت کا کہنا ہے کہ کئی سارے افراد کورونا سے متأثر ہوئے ہیں اوراپنے مقام پر آنے کے بعدچھ، سات افرادکی موت بھی ہوچکی ہے۔ اس لئے حکومت دہلی سے واپس آنے والے تمام افراد کا ٹیسٹ کر رہی ہے۔ مرکز کے تعلق سے اردو اور دیگر زبانوں کے اخبارات میں منفی اور مثبت دونوں طرح کی خبریں شائع ہوئیں، بیشتراخباروں نے جہاںاس خبرکوبڑی اہمیت دی وہیںبعض نے زیادہ اہمیت نہیں دی۔ اور بعض اخبار نے تو مرکزکے کورونا مریضوں کی کلی طور پر نفی کی۔ بہرحال جو کچھ بھی ہو ہر متأثر اور مرنے والے کو مرکزنظام الدین سے جوڑا نہیں جا سکتا۔ ہم سب یہ جانتے ہیں کہ دہلی جانے والا ہر فرد مرکز نظام ا لدین نہیں جاتا۔ کوئی نجی کام کیلئے دہلی جاتا ہے۔ کوئی سیر و تفریح کیلئے جاتا ہے اور کوئی نظام الدین اولیاء ؒ کی درگاہ کی زیارت کیلئے جاتاہے۔تو ایسے میںدہلی سے واپس آنے والے ہر فرد کو مرکز سے جوڑنا کہاں کا انصاف ہے؟
حقیقت یہ ہے کہ میڈیا مرکز کو بہانہ بناکر مسلمان اور اسلام کونشانہ بنا رہا ہے۔ اور حکومت بالواسطہ یا بلا واسطہ اس کی پشت پناہی کر رہی ہے۔ ایسے سنگین وقت میں تمام مسالک کی دینی،ملی، فلاحی، اور سماجی تنظیموں سے گذارش ہے کہ وہ آگے آئیں اور اپنے اختلافات کو بالائے طاق رکھ کر مرکز کاساتھ دیں۔اورہر سطح پر مرکز اور تبلیغی جماعت کیلئے ہر ممکن کو شش کریں۔ اللہ تعالی اسلام کی اور تمام مسلمانوں کی ہر شر وفتنہ سے حفاظت فرمائے۔ آمین
ثم آمین۔
٭٭٭٭٭