Fri, Feb 26, 2021
مکتبی تعلیم اگلی نسلوں کے دین کی حفاظت کا ذریعہ ہے
*جمعیۃ علماء ضلع کاماریڈی و منڈل پٹلم کے زیر اہتمام منعقدہ اجلاس بعنوان تقسیم انعامات سیرت کوئز سےعلماء کرام کے خطابات*
(__________) مکتب کی تعلیم کی فکر کرنا یہ توفیقِ خداوندی ہے یہ خدائی انتخاب ہے، مکتب میں تعلیم حاصل کرنا یہ اگلی نسلوں کے دین کی بقاء اور حفاظت کا ذریعہ ہے اور پچھلی نسل کی مغفرت کا باعث ہے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی تعلیمات بھی رحمت ہے مکتب کی تعلیم سے اطاعتِ الٰہی اور سنت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی پیروی اور اتباع صحابہ کا جذبہ پیدا ہوتا ہے، اہل عرب کی جہالت کا تذکرہ کرتے ہوئے کہا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی تعلیمات جو انھیں مسجد نبوی کے مکتب سے ملی تھیں اس سے ان کی زندگیاں بدل گئیں، وہ تعلیمات محمدیہ سے ایسے آراستہ ہوگئے تھے کہ خداوند قدوس نے انھیں مژدہ سنادیا رضی اللہ عنہم رضوا عنہ لہذا اب ضرورت ہے تعلیمات نبویہ کو اپنی زندگیوں میں لائیں پھر ہمیں بھی قدرکی نگاہ سے دیکھا جائے گا، ہمیں بھی خداوند قدوس کی جانب سے مژدہ بہشت مل سکتی ہے، ان خیالات کا اظہار مولانا حسین احمد حسامی (صدر مدرس مدرسہ کاشف العلوم کاماریڈی) نے کیا، نیز مولانا عامر عتیق حسامی (ناظم مدرسہ مدنیۃ العلوم بورہ بنڈہ) نے سیرت کوئز میں حصہ لئے طلباء سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ ہر بچہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے بچپن کو پڑھیں اور آپ کے بچپن کی طرح اپنے بچپن کو بنائیں، حضور صلی اللہ علیہ وسلم اپنی ماں سے بہت زیادہ پیار و محبت کرتے تھے، ماں باپ کو محبت کی نگاہ سے دیکھنا ثواب ہے، حدیث میں ثوابِ عظیم یعنی حج مبرور کی بشارت دی گئی ہے، گھروں میں ماں باپ کے کام میں ہاتھ بٹانا بھی سنت محمدی صلی اللہ علیہ وسلم ہے، ماں باپ کی خدمت کرنا بہت بڑا ثواب کا باعث ہے، نیز جلسہ میں موجود عوام سے خصوصی خطاب کرتے ہوئے کہا کہ علماء کی جہد مسلسل سے یہ سیرت کوئز کی محفل اور گلدستہ سجا ہے، اور اسی چمن کے پھول کے گلدستے سے ہم معطر ہوئے ہیں، یہ بہت عمدہ کام ہے، سیرت کو اس کا گلدستہ جو سجایا گیا ہے اس کو ہر سال سجانے کا اہتمام کریں، ایسی مجلسوں کے اہتمام سے حضور صلی اللہ علیہ وسلم خوش ہونگے، اور والدین فخر کرینگے کہ میرا بچہ سیرت کوئز میں حصہ لیا، اور سیرت محمدی صلی اللہ علیہ وسلم کو یاد کیا، یہ دنیا دارالتکلیف ہے، ایمان کی حرارت کو بڑھانے کے لئے ایمان والوں پر بہت حالات آئے ہیں ایمان نام ہے، مشقت، تکلیف اور مجاہدہ کا، اور کفر نام ہے سہولت کا، آسانی کا اور عیاشی کا، حالاتِ حاضرہ پر تبصرہ کرتے ہوئے کہا کہ آج  آج کے ان حالات سے گھبرانے کی ضرورت نہیں ہے، ایمان کی حرارت کو بڑھانے کے لئے اللہ تعالی ایسے حالات ہم پر لا رہے، لیکن ایسے حالات آئے کیوں؟ ہمارے گناہوں کی نحوست سے ظالم حکمراں ہم پر قابض ہو کر ہمارے ساتھ ظالمانہ رویہ اختیار کر رہے ہیں، آج غیر مسلموں کے ساتھ ہمارا رویہ فرعون، نمرود اور شداد جیسا ہوگیا ہے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم غیر مسلموں کے ساتھ کیسا پیش آنے تھے؟ آپ انکا اکرام کرتے تھے ابوجہل کو ابو الحکم کے نام سے بلاتے تھے، نہ کہ ابوجہل اتنا احترام کرتے تھے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے روم کے بادشاہوں کو خطوط لکھا، اس میں بھی آپ نے احترام و اعزاز اور اکرم کو ملحوظ رکھا، لہذا  غیر مسلموں کا اکرام و احترام کریں، انہیں غم و خوشی میں شریک رکھیں، حضرت محی السنہ رحمۃ اللہ علیہ نے فرمایا کہ ہندوستان میں دین پھیلا اللہ والوں کی آمد سے اور غیروں کے ساتھ باہم تجارت سے، حضرت شاہ محدث دہلوی رحمۃ اللہ علیہ نے فرمایا کہ امت محمدیہ کی خصوصیت یہ ہے کہ اللہ نے ہر عبادت میں اتحاد امت کا پہلو ملحوظ رکھا ہے، علاقے کے اتحاد کے لئے نمازوں میں جماعت کو، اور ملک کے اتحاد کے لئے روزہ میں چاند کو، اور عالمی اتحاد کے لئے حج بیت اللہ کو فرض قرار دیا، آج کفر متحد ہوگیا ہے، آج نہ ہماری صفوں میں اتحاد ہے نہ تختہ داریوں میں اتحاد ہے، نہ سیاسی اعتبار سے اتحاد ہے اور نہ ہی مذہبی اعتبار سے اتحاد باقی ہے، مولانا شیخ احمد مظاہری صاحب نے۔ صدارتی خطاب کرتے ہوئے کہا کہ اولاد کی تربیت کریں، اخلاق و کردار کی درستگی میں ان کی فکر کریں، ہر آدمی اپنی صلاحیتوں کا اس زمانے میں استعمال کریں، اگر مضمون نگار ہے تو اپنے قلم کے ذریعہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی تعلیمات کو غیروں تک پہنچائیں، آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے اخلاق اور آپ کے کردار اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی حیات مبارک اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی مکی اور مدنی دور کی زندگی کو قلمکار فلم سے کتابوں، اور لٹریچروں میں لکھ کر کے ان تک پہنچانے کی فکر کریں، مختلف زبان جاننے والوں کو چاہیے کہ وہ اپنے متعلقہ زبان میں پمفلٹ بنائیں، اور اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم اور صحابہ کی زندگی کو اور ان کی قربانیوں کو ان کے مجاہدوں کو لکھ کر کے اس کا ترجمہ کرکے لوگوں تک پہنچائیں، تعلیمات کو لوگوں تک پہنچائے سماجی خدمت اور فلاحی خدمات انجام دیںے والے بھی آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی اس  سماجی فلاحی میدان میں کیا تعلیمات و کردار تھے، یہ انھیں بتائیں، ہر اعتبار سے ایسی تعلیمات کو غیروں تک پہنچائیں، عملی اقدام سے لوگوں کو متاثر کریں، مسلمان بن کر جیو، مسلمان بن کر مسلمانوں کی تعلیمات کو عام کرو تو پھر سکون کا ماحول ملے گا اور امن کا ماحول ملے گا، اخوت وہمدردی بڑھے گی، غیروں میں ہمارے لئے محبت رہے گی اور امن عام ہوگا۔ مفتی جمشید اشاعتی (صدر جمعیۃ منڈل پٹلم) کی سرپرستی اور مولانا محمود حسامی (جنرل سکریٹری جمعیۃ منڈل پٹلم) کی زیر نگرانی اور مفتی خواجہ شریف مظاہری (ترجمان مجلس تحفظ ختم نبوت ٹرسٹ کاماریڈی) کی زیر نظامت میں یہ پروگرام منعقد ہوا اور اس موقع پر شہہ نشین پر موجود مقامی ذی اثر شخصیات میں سے حافظ عبدالحفیظ (نائب صدر جمعیۃ منڈل پٹلم) جناب سید عبدالباسط (صدر مسجد) محمد منیر حسین صاحب (نائب صدر مسجد) عبدالمجید قاری شفیع، عبدالکریم، محمد ایوب علی و دیگر علما ائمہ حفاظ دینی، سیاسی، سماجی خدمات انجام دینے والوں کی ایک کثیر تعداد موجود تھی جن کے ہاتھوں سیرت کوئز میں حصہ لینے والے تمام ہی طلباء و طالبات میں انعامات تقسیم کئے گئے، مولانا محمود حسامی (جنرل سکریٹری جمعیۃ منڈل پٹلم) نے اظہار تشکر پیش کیا، اور مفتی جمشید اشاعتی نے جمعیۃ علماء کی ممبر سازی کی تشکیل بھی کی۔