Tue, Mar 2, 2021

روشن تھا جیسے چاند، ستاروں کے بیچ میں

گوہرِنایاب استاذ الاساتذہ حافظ نسیم احمد صاحب المعروف ’’بڑے حافظ جی‘‘ رحمۃ الله علیہکی رحلت

نقوش،     دروس،      تاثرات                                                                                                                                                                                                                                                                                                                                                                                                                                                                                                                                                                        از قلم: محمد تبریز عالم حلیمی قاسمی

خادم تدریسدار العلوم حیدرآباد

وسابق معين المدرسين دار العلوم ديوبند

   +917207326739                                                                                                                                                                                                                                               Email: mtalam800@gmail.com

’’بڑے حافظ جی‘‘ اس تعبیر اور لقب میں کس قدر احترام آمیز سادگی ہے۔مدرسہ عربیہ ریاض العلوم گورینی، جونپور میں سادگی کے اس پیکر کو ہر وہ شخص جانتا ہے جس نے مدرسہ میں کچھ لمحے گذارے ہوں یا کم از کم اسےمدرسہ کی مسجد میں ایک دو وقت کی نماز پڑھنے کا موقع ملا ہو؛ بشرطیکہ اس کا شعور و احساس بیدار ہو اور اس کا قلب، قلب سلیم کا مصداق ہو۔

بڑے حافظ جی کےسادہ لقب اور جملہ کی تکمیل کے لیے اگر آپ معانی میں غور کریں گے تو وہ اتنے وسیع نظر آئیں گے کہ اس کی وسعت کے آئینہ میں دل آویزی ، ہردل عزیزی اورمقامِ محبوبیت کے تمام عناصر بہت صاف دکھائی دیں گے؛اسی لیے بڑے حافظ جی کی شخصیت ومعنویت میں زہد و تقوی،عبادت کے ساتھ استقامت، اخلاص وللہیت، تواضع وفنائیت،عزم واستقلال،نورانیت وروحانیت اور اللہ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی محبت نے نہ صرف یہ کہ حلول کر لیا تھا؛ بلکہ ان معنوی اوصاف کو ایک خوبصورت جسم مل گیا تھا، جس کی وجہ سے وہ غیر مرئی اوصاف حمیدہ،مجسم شکل وصورت میں متحرک نظر آتے تھے۔یاد رکھنا چاہیے یہ مقام یوں ہی کسی کو نصیب نہیں ہوتا ؛بلکہ اس کے لیے نفس و قلب کو مجاہدہ اور ریاضت شاقہ کی بھٹی میں تپانا اور پکانا پڑتا ہے۔بڑے حافظ جی نے خود کو جس سانچے میں ڈھالا ہوا تھا وہ سانچہ سخت مجاہدہ اور ریاضت کی بھٹی میں ہی تپ کر تیار ہوا تھا۔بطور شہادت کچھ باتیں میں آگے لکھوں گا۔

بڑے حافظ جی کے الفاظ ومعانی اور جسم و روح کا تجزیہ کچھ یوں بھی کیا جاسکتا ہے کہ آپ انتہائی سبک روح،پر نور چہرہ، معتدل قدوقامت،قلب و کردار میں پاکی،اقوال وگفتار میں نرمی و دل گدازی، نگاہوں میں حیا،بے تکلف مزاج،متانت آمیز مزاح،لطافت سے بھر پور ظرافت،پاک طینتی جیسے اعلی اور خوبصورت خوبیوں کے مالک تھے۔

یقینا ریاض العلوم گورینی کی تاریخ جب بھی مرتب کی جائے گی بڑے حافظ جی کا ذکر جمیل اس تاریخ کا ایک جلی عنوان اور ایک بڑا باب ہوگا۔ریاض العلوم کی پہلی اینٹ سے لے کر آپ کی وفات تک کی تعمیر کے تمام بام ودر آپ کی چہل پہل اور آپ کی آمدورفت کے گواہ ہیں۔آپ کا خون جگر، آپ کی آہ سحر گاہی اور آپ کی شبانہ روز محنتوں سے ریاض العلوم کے ریاض و گلستاں میں جو پھول کھلے ہیں، اُن کی عطر بیزی برسوں محسوس کی جائے گی۔ریاض العلوم گورینی کی علمی،تعمیری، تعلیمی اور تربیتی سطح پر جو ترقیات ہیں ان میں آپ کا اخلاص اور آپ کی بے لوثی نہ صرف یہ کہ غیر معمولی ہے؛ بلکہ مثالی اور قابل قدر ہے۔فیضانِ ریاض العلوم کے عام؛ بلکہ تام کرنے میں آپ کا بھی بڑا دخل ہے۔ آپ کی رحلت بلا شبہ ریاض العلوم اور وابستگانِ ریاض العلوم کے حق میں ایک بڑا خسارہ ہے۔آپ کے وجود کی برکتوں سے محرومی نہ صرف پس ماندگان کے لیے باعث رنج و غم ہے؛ بلکہ ریاض العلوم کے لیے بھی بڑی محرومی ہے۔

اخیر زمانہ میں جب آپ نے پیرانہ سالی اور معذوری کی وجہ سے استعفی دینے کا ارادہ کیا تھا تو جامعہ کے جواں ہمت وعالی حوصلہ ناظم: مولانا عبد الرحیم صاحب مظاہری زید مجدہ  نے اُن سے مدرسہ میں ہی مقیم رہنے کی اِسی لیے گزارش کی ہوگی؛ تاکہ مدرسہ اُن کے وجود مسعود کی برکتوں سے مستفید ہوتا رہے۔آہ! اب اس وجود کی بس یادیں اور باتیں ہیں، خدا کرے وہ یادیں اور باتیں برکتوں کا سرمایہ بن کر محفوظ ہوجائیں۔

  آج جب کہ مدرسہ کے ماحول میں حفظ کا استاذ ہونا کچھ اہمیت نہیں رکھتا، جو مقامِ افسوس اور لائقِ اصلاح پہلو ہے؛لیکن اللہ تعالی نے بڑے حافظ جی کو اس سے محفوظ رکھا ہوا تھا؛چناں چہ ایک طرف تو اللہ تعالی نے آپ کو ظاہری طور پر یہ اعزاز بخشا کہ آپ ’’ بڑے حافظ جی‘‘ کہلائے، اس لقب میں آپ کا کوئی شریک وسہیم نہیں تھا اور مستقبل میں بھی  بظاہر کسی کو ریاض العلوم میں یہ لقب ملنا مشکل دکھائی دیتا ہے،اور دوسری طرف باعتبارِمعنوی آپ کو یہ شرف ربانی عطا ہوا تھا کہ کہیں بھی آپ کا ذکر خیر ہو یا آپ سے کسی کی ملاقات ہو تو سامنے والا اپنے دل میں آپ کی عظمت ورفعت اور عند اللہ مقامِ محبوبیت کا روحانی وزن ضرور محسوس کرتا تھا، کم از کم راقم الحروف اس اِحساس کا گواہ اور اس منظر کا مُشا ہِد ہے۔ اگر یہ کہا اور لکھا جائے کہ آپ کو یہ صلۂ ربانی آپ کی خدمات قرآنی کے بدلے میں ملا تو وجدانی اعتبار سے یہ دعوی مبالغہ نہیں؛ بلکہ مبنی بر حقیقت ہوگا۔

’’ مشک آنست کہ خود ببوید نہ کہ عطار بگوید ‘‘ اصلی مشک اپنے وجود کی خبر خود دیتا ہے ۔ اگر عطار مشک پیش کرنے کے بعد اس کی تعریف میں زمین وآسمان کے قلابے ملانے لگے، محاسن وفوائد کا طومار باندھنے لگے، تو آپ سمجھ جائیں کہ یہ سرے سے مشک ہی نہیں ، یا مشک تو ہے مگر اصلی نہیں۔ بڑے حافظ جی کے بارے میں جو کچھ لکھا گیا یا آئندہ ان ہی اوراق میں لکھا جائےگا،وہ اصلی مشک کے اثرات ہیں، جس کی اصلی خوشبو سے چمنستانِ ریاض العلوم مہکتا رہتا تھا اور وہ خوشبو ہر آنے جانے والے کے دل و دماغ کو معطر کرتی رہتی تھی۔آپ نے اپنے اسلاف کی طرح خود کو بندگی کی گمنام وادیوں میں محصور رکھنے کی پوری کوشش کی ہوگی،لیکن نظامِ فطرت کے بموجب آپ کی تواضع وخاکساری نے آپ کو رفعت وبلندی سے سرفراز کیا،اظہارِ عبدیت نے مقامِ محبوبیت عطا کیا،شب بیداری نے بیدار مغزی کا نور دیا ،اصولِ ملازمت کی رعایت نے شہرت ومقبولیت میں چار چاند لگائے،پابندئ اوقات نے بوڑھاپے میں بھی عزمِ شباب کا جام پلایا،خاموش مزاجی  اور کم گوئی نے فکرِ آخرت کی جانب متوجہ کیا،حقوق اللہ اور حقوق العباد کی ادائیگی میں استقامت نے ہر دل عزیزی کی سعادت بخشی،استغناء و بے نیازی نے ’’ غنی النفس‘‘ کا تمغہ دلایا اور نیکی کی عادت اور نیک مزاجی نے غالبا درازئ عمر کا تحفہ عنایت کیا۔ ایسے باکمال اور گوہرِ نایاب ظاہر ہے اندھیرے میں بھی اجالے کے مانند ہوتے ہیں جن کی روشنی چھپانے سے بھی نہیں چھپتی،وہ اس پھول کی طرح ہوتے ہیں جن کی خوشبو کا ادراک واحاطہ  بصارت کے دائرۂ قوت سے خارج ہوتا ہے؛لیکن قدرت، انسان کےبصیرت آمیز احساس کے ذریعہ اسے عالم آشکارا کردیتی ہے۔نگاہِ عبرت سے دیکھیے اور سلامتئ فکر کے ساتھ سوچیے،اب مدارس کی دنیا میں  شہرت و مقبولیت کے لیے کیا کیا ہتھکنڈے آزمائے جاتے ہیں:کوئی اس کے لیے کتابیں لکھتایا لکھواتا  ہے،کوئی اس کے واسطے میدانِ خطابت کی شہسواری کرتا ہے،کسی کے نزدیک اہتمام ونظامت معیارِ شہرت ہے،اور بعضے سیم وزر کا سہارا لیتے ہیں تو بعض لوگ حلقۂ یاراں کی وسعت کو باعثِ مقبولیت خیال کرتے ہیں اور اس کے لیے حیران وپریشان رہتے ہیں۔

    بڑے حافظ جی نے نہ ہی کوئی کتاب لکھی،نہ ہی زورِ خطابت کا کرشمہ دکھایا، نہ ہی مسندِ اہتمام ونظامت کی زینت بنے، نہ ہی مال داری میں نمایاں مقام حاصل کیا اور نہ ہی مریدوں کا حلقہ لگایا؛بسشعبۂ حفظ میں ایک مخلص استاذ اور بے لوث مربی ونگراں کی حیثیت سے بغرضِ رضائے الہی اپنی پوری زندگی گذاری،شہرت و مقبولیت قدم رنجہ ہوتی چلی گئی۔مندرجہ ذیل اشعار کے ذریعہ اس حقیقت کو خوب واضح کیا گیا ہے۔

کامیابی تو کام سے ہوگی
نہ کہ حسن کلام سے ہوگی

ذکر کے التزام سے ہوگی
فکر کے اہتمام سے ہوگی

     دین میں ترقی کا نسخہ اپنے اندر ہمت پیدا کرنا ہے،یہی ہمت ہے جو ہم سے دنیا کے کام کرا لیتی ہے، جب اس سے دنیا کے کام ہوسکتے ہیں تو دین کے کام کیوں نہیں ہو سکتے؟اس کے لیے ہمیں خود دعا کرنی چاہیے اور دوسروں سے دعا کی درخواست بھی کرنی چاہيے،یہ بھی یاد رکھنا چاہیے کہ اللہ تعالی کی مدد،ہماری ہمتوں سے مربوط ہے، بڑے حافظ جی سے ہم سب وابستگانِ ریاض العلوم کو دینی کاموں میں ہمت کرنا سیکھنا چاہیے:تکبیرِاولی کا غیر معمولی اِہتمام،قبل از وقت مسجد حاضری کی عادت مُستمِرہ،فجر وظہر میں بطورِ خاص طلبہ کو نماز کے لیے بیدار کرنے کی دُھن،مسجد میں تسویۂ صُفوف کے حوالہ سے فکرمندانہ اور مخلصانہ پابندی،مادیت کے چکا چوند مناظر اور دل فریب، نیز روح شکن لذات سے خود کو نہ صرف دور رکھنا؛ بلکہ روحانیت کی ڈور اور حبل اللہ کے ذریعہ خود کو مضبوطی سے باندھ کر اسی پر صابر و قانع ہوجانا؛یہ سب اسی ’’ہمت‘‘کی کرشمہ سازی ہے۔ مقامِ افسوس ہے آج فقدانِ ہمت کی وجہ سے سارے اسباب و عوامل بے روح، بے فیض اور بے رونق ہوتے چلے جارہے ہیں،کاش کوئی اس کی اصلاح کے لیے اٹھ کھڑا ہوتا؛اور کاش لوگ اسے اپنا اُسوہ بنانے کے لیے تیار ہوجاتے؛تاکہ ہر مدرسہ اور ادارہ بڑے حافظ جی جیسی بافیض شخصیت سے فیضیاب ہوتا اور اس کے نور سے مدرسہ کی فضا پُر نور ہوتی۔

حدیث میں ہے:نظر لگنا بالکل برحق ہے،یاد رکھنا چاہیے نظر جیسے بد ہوتی ہے ویسے ہی نظر اچھی بھی ہوتی ہے،نظر بد نقصان دہ ہے؛لیکن اچھی نظر سے آدمی کا کام بن جاتا ہے؛اس لیے انسان کو نیک لوگوں سے ملنا چاہیے،بہت ممکن ہے ان کی نظر سے اس کی زندگی ہی بدل جائےاور اسے وہ مقام مل جائے جو برسوں بعد کسی کو ملتا ہے۔اصولِ حدیث کی کتابوں میں صحابی وتابعی کی تعریف کے ذیل میں ایک جملہ آتا ہے:رؤية الصالحين بلاشك لها أثر عظيم،فكيف رؤية سيد الصالحين؟ یعنی صُلحاء واتقیاء کی زیارت وصحبت کا اصلاحِ احوال میں بہت زیادہ عمل دخل ہے۔ دیکھیے سید الصالحین سرکار دو عالم صلی اللہ علیہ وسلم کی رؤیت وزیارت سے ایک مسلمان کو صحابیت کی شکل میں ایسا مقام ومرتبہ حاصل ہوجاتا ہے جو پوری زندگی کے مجاہدۂ عظیمہ کے بعد بھی کسی کو نہیں مل سکتا۔بڑے حافظ جی اُن خوش نصیب بندگانِ خدا میں شامل ہیں جنھیں بہتیرے بزرگانِ دین اور خدا رسیدہ نُفُوس قدسیہ کی زیارت وصحبت نصیب ہوئی۔ظاہر ہےاس رؤیت وصحبت نے آپ کی زندگی پر اپنا اثر خوب دکھایا ہوگا۔اِسی لیے دیکھنے والوں نے اُسے دیکھا بھی اور مُستفید ہونے والے،اس سے مستفید بھی ہوئے۔ سلسلۂتھانوی کے مشہور بزرگ:حضرت شاہ عبد الغنی پھول پوری ؒ ،حضرت مولانا شاہ وصی اللہ صاحب الہ آبادی ؒ ،حضرت مولانا شاہ حکیم محمد اختر صاحب نور اللہ مرقدہ، شیخ الحدیث حضرت مولانا زکریا صاحبؒ،مرشد امت بانئ مدرسہ ریاض العلوم گورینی: حضرت مولانا عبد الحلیم صاحب مظاہری رحمۃ اللہ علیہ خلیفہ ومجازبیعت حضرت  مولانا شاہ وصی اللہ الہ آبادیؒ،بڑے مفتی صاحب: مفتی محمد حنیف صاحب سابق شیخ الحدیث ومفتی ریاض العلوم،گورینی جونپور،حضرت مولانا قاری سید صدیق احمد باندوی خلیفہ مولانا اسعد اللہ صاحبؒ،اور مولانا شاہ ابرارالحق صاحب خلیفہ حضرت تھانویؒ جیسے صالحین وصادقین اور آسمانِ طریقت کے ماہ و انجم کی زیارت وصحبت سےآپ بارہا مستفید ہوئے؛بلکہ بہتوں کے منظورِ نظر بھی رہے؛کیوں کہ مرشدِ امت بڑے مولانا شاہ عبد الحلیم صاحبؒ کی وجہ سے آئے دن بزرگوں کی آمد مدرسہ میں ہوتی رہتی تھی، جس کی وجہ سے استفادہ کے مواقع خوب میسر آتے ہوں گے؛ علاوہ ازیں حضرت مولانا عبد الحلیم صاحبؒ کی طویل صحبت و رفاقت نے سونے پے سہاگہ کا کام کیا ہوگا۔اس بنیاد پر بڑے حافظ جی کو بزرگانِ سلف کا پرتو،ایک قابلِ فخر اور یادگار ہستی کے الفاظِ اعزاز سے یاد کیا جائے گا،اور غالبا اسی کاایک اثر یہ بھی تھا کہ آپ نے تجویز کے بجائے تفویض کی زندگی بسر کرنا نہ صرف ضروری سمجھا؛ بلکہ اس راہ پر چلنا آپ کے لیے بہت آسان ہوگیا تھا۔بلا شبہ اس خدا رسیدہ مسافر کے نقشِ کفِ پا کو مدتوں دیکھا اور محسوس کیا جائے گا؛کیوں کہ ایسے بہترین انسان اور کامل مسلمان نہ صرف پسِ مرگ زندہ کے مصداق ہوتے ہیں؛بلکہ بحیثیتِ مجموعی اُن کی زندگی، حیاتِ ملائکہ کی آئینہ دار ہوتی ہے؛اسی لیے  اُن کا ذکر اور اُن کی یادیں اور باتیں کسی نہ کسی درجہ میں محفوظ ہو کر فنا کے بجائے بقاء کا لباس زیبِ تن کر لیتی ہیں،روحانی ترقی کی طلب رکھنے والوں کو بڑے حافظ جی کی زندگی سے یہ سبق ضرور حاصل کرنا چاہیے کہ جہاں تک ہو سکے انھیں ،صالحین کی زیارت وصحبت سے فیضیاب ہوتے رہنا چاہیے؛کیوں کہ بقول مفتی تقی عثمانی زید مجدہ: نرے مطالعہ سے معلومات میں اضافہ تو ہوجاتا ہے؛لیکن صحیح فہم، اعتدالِ مزاج اور اصلاحِ نفس شخصیات کی صحبت ہی سے حاصل ہوتی ہے۔ غور فرما لیں، باوجود اس کے کہ بڑے حافظ جی باضابطہ درسِ نظامی کے فاضل اور عالم نہیں تھے؛لیکن صحبتِ با اہلِ دل ہی کی وجہ سے صحیح فہم اور دین میں تصلُب کی دولت سے مالا مال تھے۔

     کسی مرشدِ کامل، متبعِ سنت کے ہاتھ پر اپنے گناہوں سے توبہ کرنا اور آئندہ اس کی رہنمائی میں دین پر چلنے کا عہد کرنا بیعت کہلاتا ہے۔ یہ صحیح، بہت بافیض اور بے حد مبارک سلسلہ ہے،چنانچہ  صحابہ کرامؓ کا نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے دستِ اقدس پر بیعت کرنا ثابت ہے۔ جب تک کسی اللہ والے سے رابطہ نہ ہو نفس کی اصلاح نہیں ہوتی، اور دین پر چلنا مشکل ہوتا ہے۔ اس لیے کسی بزرگ سے اصلاحی تعلق ضروری ہے،البتہ رسمی بیعت ضروری نہیں،صحبت و بیعت کے بعد خلافت نہ بھی ملے اور نہ ہی اصلاحِ کاملہ ہو تب بھی بقول حضرت تھانویؒ:کم از کم اپنے عیوب پر ہی نظر ہونے لگتی ہے،یہ بھی کافی اور مفتاحِ طریق ہے۔

اوپر جس ہمت کا ذکر کیا گیا ہے راقم الحروف کا احساس یہ ہے کہ بیعت،اس ہمت کی روح ہے،یعنی بیعت کے بغیر بہت سے باہمت لوگ بھی کم ہمتی کا شکار ہوجاتے ہیں ۔اس موقع پر بڑے حافظ جی کی بیعت کی مختصر تفصیل وتصویر پیش کرنا بہت مناسب ہے،پہلےپہل بڑے حافظ جی حضرت تھانوی کے نہایت چہیتے اور محبوب مرید و خلیفہ مصلح الامت حضرت مولانا شاہ وصی الله صاحب فتح پوری ثم الہ آبادیؒ سے بیعت ہوئے، سن ۱۹۶۷ء میں مصلح الامت کی وفات کے بعد شیخ الحدیث مولانامحمد زکریا کاندھلویؒ سے اصلاحی تعلق قائم فرمایا، الہ آباد ہو یا سہارنپور؛ دونوں خانقاہوں میں اکثر بڑے مولانا رحمہ اللہ کے ساتھ تشریف لے جانے کا معمول تھا،آپ مزاجا نفیس واقع ہوئے تھے، شیخ الحدیثؒ کی خانقاہ میں لوگ ایک بڑی تھال میں ایک ساتھ کھانا کھاتے تھے ۔آپ کی طبیعت پر اس کی وجہ سے گرانی ہوتی تھی ؛ چنانچہ آپ کے لیے کھانے کا الگ نظم کیا جاتا تھا؛ بہر حال آپ نے ان دونوں بزرگوں کی سرپرستی میں اپنا اصلاحی سفر نہ صرف یہ کہ جاری رکھا؛بلکہ پوری زندگی اس پر جمے رہے،اور اس نسبتِ اولیاء کو سر مۂ چشم بنائے رکھا، چوں کہ تصوف اور روحانی ترقی میں نسبتِ اولیاء کی بڑی اہمیت ہے،اوربڑے حافظ جی اس سے خوب واقف تھے؛ اس لیے اپنی وفات سے کچھ روز پہلے اس نسبت کی برکت کے حصول کے لیے بے قرار نظر آئے؛اس اجمال کی تفصیل یہ ہے کہ مرض الوفات میں ایک روز  ناظمِ جامعہ :مولانا عبد الرحیم صاحب مظاہری ابن مرشد امت مولانا شاہ عبدالحلیم صاحبؒ آپ کے کمرے میں تشریف لائے،باوجود اس کے کہ بڑے حافظ جی آپ کے استاذ تھے، نیز صاحب نسبت تھے، آپ نے ان سے کہا:میری ایک درخواست قبول کریں گے؟ناظم صاحب نے کہا: ضرور،بڑے حافظ جی نے کہا: مجھے بیعت کر لیجیے، چوں کہ ناظم صاحب آپ کے شاگرد تھے؛اس لیے پس وپیش ہوئے؛لیکن آپ بڑے حافظ جی کا بہت اکرام کیا کرتے تھے ؛اس لیے تعمیلِ حکم میں بیعت فرمایا۔بڑےحافظ جی اپنی حیات میں اپنے مرشدِ اول کا یہ واقعہ بہت سنایا کرتے تھے اور مصلح الامت کے سوانح نگاروں نے اسے لکھا بھی ہےکہ علامہ ابراہیم بلیاویؒ جو کہ اپنے زمانے کے جید علماءمیں شمار ہوتے تھے، اُس عہد کے بڑے بڑے علماء کو ان سے شرفِ تلمذ حاصل رہاہے، خود حضرت شاہ وصی اللہ صاحبؒ نے ان کے سامنے زانوئے تلمذ تہہ کیا ہے، وہ یعنی علامہ بلیاویؒ خود شاہ صاحبؒ کے مرید ہوئے، اور اپنی روحانی وباطنی اصلاح کے لیے ان ہی کو منتخب کیا۔ کسی استاذ کی اپنے شاگرد کے سامنے زانوئےتربیت تہہ کرنے کی مثال شاذ ونادر ہی ملے گی؛ لیکن بڑے حافظ جی اس شذوذ کی ایک مثال ضرور بنے، جو نسبت کی قدردانی کے ساتھ آپ کی تواضع کی غماز ہے۔

   مجھے بڑے حافظ جی سے گو شرفِ تلمُّذ حاصل نہیں ؛لیکن کئی جہتوں سے میرا دل اُن کی طرف مائل رہا۔ریاض العلوم میں دورانِ طالب علمی، میری مسجد کی حاضری اورمسجد میں صف بندی کے وقت آپ کے چہرہ پر نظر ضرور ہی پڑتی تھی؛ گویا وہ ریاض العلوم کی مسجد کا اٹوٹ حصہ تھے۔گرمیوں میں دیگر طلبہ کے ساتھ میں بھی چھت پر سویا کرتا تھا،فجر کی نماز کے لیے جب آپ ٹارچ لے کر آتے تھے تو زیارت کے ساتھ آپ کی آواز سنائی دیتی تھی،ٹارچ کی وہ روشنی اور آپ کی وہ آواز آج پندرہ سال بعد بھی گویا دکھائی اور سنائی دے رہی ہے۔ ان دونوں جہتوں سے آپ میرے مربی ہوئے۔آپ سے قلبی تعلق میں اس وقت اور اضافہ ہوا جب مجھے اردو حفص اور قراءت ِ سبعہ مع شاطبیہ کی تکمیل کے لیے ایک ایسی محترم شخصیت کے آستانۂ علمِ تجوید و قراءت پر حاضری کا موقع ملا جو جامعہ عربیہ ریاض العلوم گورینی میں شعبۂ قراءت کے ماہر استاذ عالی مرتبت ہیں اور شفقت و محبت کی مجسم تصویر بھی،میری مراد قاری شمیم احمد صاحب زید مجدہ ہیں؛چوں کہ بڑے حافظ جی آپ کے پدرِ بزرگوار تھے ؛اس لیے مجھےآپ میں’’دادا استاذ‘‘ کا عکسِ جمیل دکھائی پڑتا تھا۔اس حوالے سے خوشگوار اتفاق یہ پیش آیا کہ درسی رفاقت کے راستے محمد اسجد (اب مولانا محمد اسجد حلیمی قاسمی) سے شناسائی ہوئی ؛چوں کہ قاری شمیم احمد صاحب زید مجدہ ابن حافظ نسیم احمد صاحب رحمہ اللہ تعالی، رفیقِ مکرم محمد اسجد کے والد محترم تھے ؛اس لیے اس تعلق میں گہرائی اور استحکام پیدا ہونا یقینی اور فطری بات تھی۔پھر جوں جوں وقت گذرتا رہا بڑے حافظ جی کے نبیرۂ مکرم(محمد اسجد)کی زبانی آپ کے کرداروگفتار سے دل کی کلیاں کِھلتیں،چٹختیں،اور مچلتی رہیں،اور آج جبکہ میں بڑے حافظ جی کی یادوں اور باتوں کا گلشن سجا رہا ہوں تو اس گلشن کے زیادہ تر روایتی اور واقعاتی پھول رفیق مکرم ہی کے فراہم کردہ ہیں۔ریاض العلوم سے فراغت کے بعد جب بھی میرا مدرسہ آنا ہوتا ،قلبی تعلق کا یہی سرمایہ بڑے حافظ جی کی خدمت میں دعا سلام کے لیے مجھے حاضری پر مجبور کرتا تھا۔اکثر مسجد میں ہی ملاقات ہوتی تھی، میں اس وقت آپ کے سامنے رفیق مکرم اسجد ابن قاری شمیم احمد صاحب ابن حافظ نسیم احمد صاحب رحمہ اللہ سے میری رفاقت و دوستی کا ذکر ضرور کرتا تھا؛تاکہ اس کی وجہ سے بآسانی آپ کی توجہات اور دعا کا مستحق بن جاؤں۔یاد پڑتا ہے بوقتِ ملاقات مجھ سے یہ سوال ضرور کیا کرتے تھے کہ کھانے اور ٹھہرنے کا نظم ہے یا نہیں؟سوچتا ہوں جب کبھی ریاض العلوم جانا ہوگا تو مسجد میں ستاروں کے بیچ جب چاند نما چہرہ دکھائی نہیں دے گا تو غافل دل حسرت و غم سے ضرور دوچار ہوگا؛جس کی وجہ سے چشمِ حسرت اشک برسانے پر آمادہ ہوگی؛لیکن تسلی بایں معنی ہو جائے گی کہ آپ اب جن ستاروں کے درمیان میں ہوں گے وہاں کا چاند کبھی غروب نہیں ہوگا؛کیوں کہ یہاں کے اختتامِ زندگی کے بعد وہاں دوامِ زندگی کی جو صبح ہوگی، چوں کہ وہ ’’عيشة راضية‘‘ اور’’خلود‘‘کی روشنی سے منور ہوگی؛اس لیے موت اس سے اب کبھی ہم آغوش نہیں ہوسکتی ۔عالمِ بقاء میں فنا کا کیا کام؟۔کتنی سچی ترجمانی کی گئی ہے ع

موت کو سمجھے ہے غافل اختتامِ زندگی
ہے یہ شامِ زندگی، صبحِ دوامِ زندگی

بڑے حافظ جی کا سنِ ولادت۱۹۲۹ء ہے،آپ کا آبائی گاؤںبکھراں ہے، یہ گاؤں اعظم گڑھ کے سرائے میر تھانہ کے تحت آتا ہے۔پسماندگان میں تین صاحبزادے اور ایک صاحبزادی ہیں:استاذ گرامی قدر قاری شمیم احمد صاحب آپ کے بڑے صاحبزادے ہیں۔قاری نعیم احمد صاحب کا چند سال پہلے انتقال ہوچکا ہے اور سب سے چھوٹے لڑکے حاجی کلیم احمد مکہ مکرمہ میں مقیم ہیں۔بڑے حافظ جی نے حفظ قرآن کے بعد رسمی طور پر نورالایضاح تک تعلیم حاصل کی۔حافظ احمد صاحب، بکھراں، حافظ نعیم صاحب ،حافظ عبد الرب صاحب رحمھم اللہ وغیرہ آپ کے اساتذہ ہیں۔ فارسی کی بنیادی اور درسی کتابیں ازبر تھیں۔مولانا سعید صاحب استاذ مدرسہ بیت العلوم آپ کے فارسی کے خاص استاذ تھے۔مانی کلاں میں بڑے مولاناؒ نے فارسی زبان کی مشہور کتاب مثنوی، یوسف و زلیخا اس لیے شروع کرائی تھی کہ بڑے مولانا آپ کو عالم بنانا چاہتے تھے؛لیکن بڑے مولانا کی عدیم الفرصتی کی وجہ سے یہ سلسلہ بہت جلد موقوف ہوگیا۔

بڑے حافظ جی کی پوری زندگی قرآن مجید پڑھنے پڑھانے میں گذری ہے۔اپنے ابتدائی ایام میں بیت العلوم سرائے میر میں بطور استاذ دس سال خدمت انجام دی۔کچھ روز مدرسہ عظمتیہ کلکتہ میں بھی کام کیا۔۱۹۵۸ء میں قصبہ مانی کلاں کھیتا سرائے میں واقع مدرسہ ضیاء العلوم میں مُدرِّس مقرر ہوئے۔ضیاء العلوم میں کم وبیش ۱۲ سال کا عرصہ گذار کر ستر کی دہائی میں بانئ ریاض العلوم مرشد امت مولانا شاہ عبد الحلیم صاحبؒ کے ساتھ ریاض العلوم تشریف لے آئے۔سن ۱۹۷۳ءسے تا وفات(۲۰۲۰ء) اسی مدرسہ میں مقیم رہے۔تعلیم قرآن اور حفظِ قرآن مجید کے حوالہ سے آپ کی زندگی دیگراساتذۂ کرام کے لیےاستقامت ویکسوئی کی کسوٹی اور بہترین اسوہ ہے۔عیسوی سن کے اعتبار سے آپ نے  ۹۱سال اور ہجری سن کے حساب سے ۹۴سالعمر پائی،ان میں سے اکہتر(۷۱) سالوں کا عرصہتحفیظ قرآن مجید کی مبارک خدمت میں گذرا۔اس کا مطلب یہ ہوا کہ شروع کے بیس سالوں میں آپ کی زندگی حفظِ قرآن اور کچھ عربی کی تعلیم کے حصول میں گذری۔اس سے یہ نتیجہ اخذ کرنا بہت آسان ہے کہ بلوغت سے پہلے اور بلوغت کے بعد تا زندگی اللہ تعالی نے آپ کو اپنے پاک کلام سے مربوط رکھا اور بتوفیقِ الہی آپ نے اس نعمت و سعادت کی خوب قدر بھی کی۔یہی وجہ ہے کہ آپ کے شب و روز کے زیادہ تر اوقات تلاوتِ قرآن میں گذرتے تھے،اس دوران آپ کے چشمہ فیضانِ قرآنی سے بے شمار طلبہ نے اپنی تشنگی بجھائی؛بلکہ ایک ہی گھرانے میں تین تین نسلوں نے آپ سے حفظِ قرآن کی سعادت حاصل کی ہے۔بلاشبہ آپ کی روح مبارک جب اپنے مبارک مقام پر پہنچی ہوگی تو رحمتِ خاص نے آپ کا استقبال کیا ہوگا،فرشتوں کو پیار ہی نہیں؛ رشک آیا ہوگا،اور حوروغلماں نے خوشیاں منائی ہوں گی۔قرآن کریم کی کُلی وجزئی اور مجموعی وخصوصی تلاوت پر تالی کے لیے جس خاص خاص اجروثواب کا وعدہ کیا گیا ہے یقینا آپ کو اس سے سرفراز کیا جائےگا۔اس حوالے سے آپ کی زندگی کو دیکھ کر یہ شہادت بھی دی جا سکتی ہے کہ آپ کے حق میں قرآن کریم کی خصوصی شفاعت و سفارش بے حد مقبول ہوگی۔

میں نے کسی سے سنا تو نہیں ؛لیکن ایک تحریری بیان میں پڑھا ہے:بڑے مولانا یعنی مرشدِ امت مولانا عبد الحلیم صاحبؒ فرمایا کرتے تھے: ’’جس کو دنیا میں جنتی دیکھنا ہو وہ حافظ نسیم صاحب کو دیکھ لے‘۔ سچ ہے: ’’ولی را ولی می شناسد‘‘۔ اس دنیا میں جب بھی آپ کی کتابِ زندگی کے اوراق کھولے  جائیں گے توآپ کی بے لوث خدمتِ قرآن مجید کے ذکر کو رشک و تحسین کے ساتھ پڑھا جاے گا۔

     حدیث میں ہے:’’خير الناس من طال عمره وحسن عمله‘‘ یعنی درازئ عمر اگر حسنِ عمل کا باعث بن جائے تو اس کی وجہ سے انسان اللہ اور اس کے رسول کی نگاہ میں ’’خیر الناس‘‘یعنی سب سے اچھا انسان اور مثالی مسلمان کا مصداق ہوتا ہے،بڑے حافظ جی بلاشبہ اس خوشخبری اور بشارت نبوی کے مستحق ہیں؛سب جانتے ہیں کہ آپ کی درازئ عمر،حسنِ عمل پر مُنتِج ہوئی ہے۔’’ولا يزيد في العمر إلا الدعاء‘‘ سے استفادہ کرتے ہوئے اگر زبانِ ذوق سے کہا اور قلمِ ذوق سے لکھا جائے کہ حسنِ عمل بھی درازئ عمر کا باعث ہوتاہے اور بڑے حافظ جی کو اس کی ایک مثال قرار دیا جائے تو کچھ غلط نہیں ہوگا۔ کم علمی نہیں ؛ بے عملی کے اس دور میں حسنِ عمل کا یہ مہ پارہ ہم سب؛بالخصوص فضلائے ریاض العلوم کے لیے دعوتِ فکر و عمل سے کم نہیں۔

 آپ کے آئینۂ حیات میں بہت صاف دِکھنے والا ایک عکسِ جمیل آپ کی تواضع،استقامت اور اخلاص کے ساتھ مدرسہ کی مخلصانہ خدمت اور طلبہ کی مشفقانہ وپدرانہ تربیت ہے۔مدرسہ ضیاء العلوم مانی کلاں میں تو آپ نے مطبخ میں کھانا بھی تقسیم کیا ہے،تنہا ایک ہاتھ سے چاول اور دوسرے ہاتھ سے دال دیا کرتے تھے۔اسی مدرسہ میں جب تعلیم کی گھنٹی بجانے کی بات سامنے آئی تو ایک طرف خود ہی شاہ گنج جاکر گھنٹا خرید کر لائے اور دوسری طرف گھنٹی وقت پر لگانے کی نگرانی وذمہ داری بھی قبول فرمالی۔اس وقت کا ایک واقعہ بروایت رفیق مکرم اسجد حلیمی قاسمی یہاں لکھنا بہت مناسب لگتا ہے:ایک بار قاری شمیم احمد صاحب ابن حافظ نسیم احمد صاحب رحمہ اللہ کی والدہ بیمار ہوگئیں اور مسلسل دو تین ہفتہ بیمار رہیں،اور اسی مرض میں ان کی وفات بھی ہوئی۔بڑے حافظ جی شام کی چھٹی ہوتے ہی اپنے گاؤں بکھراں کے لیے روانہ ہو جاتے تھے،یاد رہے مانی کلاں سے بکھراں کا فاصلہ تقریبا بیس کلو میٹر ہے۔عصر کی نماز راستے میں ادا کرتے،پھرگھر پہنچ کر تیمار داری کے ساتھ ضروری کام انجام دیتے اور قاری شمیم احمد صاحب جو اس وقت آٹھ سال کے تھے،صبح ان کی اور ان کے چھوٹے بھائیوں اور اکلوتی ہمشیرہ کی نیند کھلنے سے پہلے ہی مدرسہ کے لیے روانہ ہوجاتے،فجر راستے میں ادا کرتے اور وقت مقررہ پر مدرسہ حاضر ہو کر بروقت آغازِ تعلیم کی گھنٹی بجواتے تھے، یہ مجاہدہ ایک دو روز نہیں،بلکہ دو تین ہفتے برداشت کیا۔مدرسہ سے مخلصانہ محبت کی ایسی مثال اب عنقاء ہے۔

علاوہ ازیں ریاض العلوم میں بعض مخصوص نگرانیوں کا تسلسل و تواتر،اخلاص واستقامت کا وہ تاج محل ہے جس کا فی الحال کوئی ثانی نہیں ہے۔کم ہمتی ،سستی ،اور مفوضہ امور کی انجام دہی میں پس و پیشی کے اس عہد میں بڑےحافظ جی کی زندگی اور زندگی کے مجاہدانہ کارہائے نمایاں، وابستگانِ ریاض العلوم کے لیے درسِ عبرت اور انقلابی سبق ہے۔سلف کی یادگار حضرت الاستاذ قاری محمداسماعیل صاحب صدر شعبہ تجویدوقراءت المعروف ’’بڑے قاری صاحب‘‘(أطال الله بقاءه)سے سنی ہوئی بات ہے کہ بڑے مولانا رحمۃ اللہ علیہ فرمایا کرتے تھے کہ مدرسہ کا ہر استاذ ناظمہے۔بڑے حافظ جی کو بھی بڑے مولانا کی طویل صحبت و معیت نصیب ہوئی ہے، غالبا آپ نے بھی یہ جملہ مرشدِ امت سے سنا ہوگا؛اسی لیے استقامت اور بے لوثی کی کٹھن راہ پر چلنا آپ کے لیے آسان ہوا ہوگا۔

بڑے حافظ جی کی زندگی دیکھ کر مشہور تابعی حضرت سعید بن مسیبؒ جیسے باکمال عابدین و زاہدین کی سیرت کے دل کش اور خاص پہلو کا نقشہ نگاہوں کے سامنے آجاتا ہے؛حضرت سعید بن مسیبؒ کے بارے میں آتا ہے:آپ تکبیر اولی اور نماز با جماعت کی پابندی میں یکتائے زمن اور رشکِ ملائکہ تھے،ابن حرملہ سے منقول ہے کہ چالیس سال کے عرصہ میں آپ کی کوئی جماعت فوت نہیں ہوئی،ان کے ایک دوسرے شاگرد عثمان ابن حکیم سے مروی ہے کہ تیس سال کے طویل زمانے میں ایسا کبھی نہیں ہوا کہ اذان شروع ہوئی ہو اور اس مسجد میں پہلے سے سعید ابن مسیب موجود نہ ہوں۔ (حلیۃ الأولياء)

بڑے حافظ جی کو بہت قریب سے دیکھنے والے تقریبا تمام ہی لوگوں نے یہ بات بطور خاص لکھی اور کہی ہے کہ برسہا برس آپ کی تکبیر اولی فوت نہیں ہوئی اور نہ ہی اذان سے پہلے یا اذان کے متصلا بعد مسجد حاضری میں تخلف ہوا۔بڑے حافظ جی نہ تابعی تھے اور نہ ہی حدیث و فقہ کے علم میں کسی تابعی کے ہم پلہ؛لیکن مذکورہ عمل میں حضرت سعید بن مسیبؒ کی یادگار اور بہترین عکس ضرور تھے؛ تخلیقِ آدم کے وقت فرشتوں نے انسان کے بارے میں اِفساد فی الارض اور سفک الدماء کا جو خدشہ اور اندیشہ ظاہر کیا تھا،بڑے حافظ جی جیسے نیک انسان اس اندیشہ کی خوب صورت تردید ہیں۔ریاض العلوم کے فضلاء ہوں یا مستقبل میں ریاض العلوم میں آنے والے طلبہ؛ سب کے لیے بڑے حافظ جی نے اس حوالے سےایک روشن نقش چھوڑا ہے، جس کی پیروی شرعا بھی مطلوب ہے اور آپ سے عقیدت و تعلق کا تقاضا بھی یہی ہے۔یہ جو کہا جاتا ہے کہ اب وہ زمانہ نہیں رہا، اب فرائض کی پابندی ہو جائے یہی بڑی بات ہے۔بڑے حافظ جی کے اس طرزِ عمل سےاس کی تردید ہوجاتی ہے۔بڑے حافظ جی تو ہمارے اسی عہد کے انسان تھے۔اسی تحریر میں لکھ چکا ہوں کہ اصل چیز ہمت ہے،اسی ہمت نے حضرت سعید ابن مسیبؒ کو باکمال بنایا اور اسی ہمت نے حافظ نسیم احمد صاحب کو ’’بڑے حافظ جی‘‘بنایا۔مثل مشہور ہے: ہمتِ مرداں مددِ خدا۔

                         منزل رسی کے واسطے اخلاص شرط ہے
                          پھر رہبری کرے گی، مشیت قدم قدم

عموما اللہ والے بااخلاق،  حلیم الطبع اور نرم مزاج ہوتے ہیں ؛ کیوں کہ وہ عاشقِ رسول ہوتے ہیں، اور سرکار دوعالم نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے اخلاق، نرم مزاجی اور حلم وبردباری کا جواب ہی نہیں ہے؛ شمائل نبوی کی وہ روایت اہلِ علم کے مطالعہ میں بارہا آئی ہوگی،خادمِ رسول حضرت انس ابن مالک رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ میں نے مدینہ میں حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی دس سال خدمت کی،اس دوران آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے نہ کبھی کسی کام پر سرزنش کی اور نہ ہی کبھی میری پیٹائی کی،کبھی مجھے بیٹا کہہ کر پکارتے تھے اور کبھی ابو حمزہ کہہ کر آواز دیتے تھے۔بڑے حافظ جی کے مزاج میں بھی نرمی اور حلم کا مادہ قابلِ تعریف تھا،اس باب میں بڑے حافظ جی کے خادمِ خاص حافظ احمد اللہ اعظمی کا یہ بیان بہت اہم ہے،وہ بتاتے ہیں ’’میں نے اپنی زندگی میں ان جیسا بااخلاق اور محسن نہیں دیکھا،تقریبا چودہ سال تک میں ان کے ساتھ رہا ہوں ،مجھے انھوں نے کبھی ڈانٹا تک نہیں اور نہ ہی چہرے سے کسی طرح کی ناگواری کے آثار نمایاں ہوئے،مجھ پر بے حد شفقت فرماتے تھے‘‘۔ رفیق مکرم مولانا محمد اسجد ابن قاری شمیم احمد صاحب جو اکثر اپنے دادا بڑے حافظ جی کے لیے گھر سے کھانا لایا کرتے تھے اور علالت کے زمانے میں تیمار داری اور خدمت گزاری کے لیے اپنے دادا مرحوم کے ساتھ رہے، انھوں نے بھی کبھی سختی اور ڈانٹ ڈپٹ کی کوئی بات یا واقعہ نہیں سنایا؛بلکہ میرے اصرار پر یہ بتایا کہ از راہِ شفقت مجھے بابو سے پکارتے تھے (شمالی ہند کے اکثر علاقوں میں بابو کا لفظ چھوٹے بچوں کے لیے استعمال ہوتا ہے ) اور جس دن دادا کا انتقال ہوا اس رات کو انتہائی دُلار وپیار بھرے انداز میں ببُوا کہہ کر مجھے آواز دے رہے تھے(ببوا،بابو کی تصغیر ہے،اس میں بابو سے زیادہ محبت وشفقت کا معنی ہوتا ہے)۔

بڑے حافظ جی یادگارِ سلف اور اللہ تعالی کے نیک بندہ تھے؛ اس لیے دیگر خاصانِ خدا کی طرح مستجاب الدعوات تھے،اسی وجہ سے لوگ آپ سے دعائیں کرایا کرتے تھے،اس حوالہ سے چوںکہ بڑے حافظ جی کے مزاج اور طبیعت میں اِخفا اور تستُّر کا غلبہ تھا ؛ اس لیے بہت جلد اس کے لیے آمادہ نہیں ہوتے تھے۔ناظمِ جامعہ مولانا عبد الرحیم صاحب مظاہری زید مجدہ اکثر بغرضِ دعا آس پاس کے علاقوں میں آپ کو لے جایا کرتے تھے؛ ایسے موقع پر عموما بڑے حافظ جی اُن سے کہتے تھے کہ آپ دعا کرائیں ،میں آمین کہوں گا۔انسان کے مستجاب الدعوات ہونے میں دو چیزوں کا بہت زیادہ عمل دخل ہے: صدقِ مقال اور اکلِ حلال ،بلاشبہ بڑے حافظ جی اس معاملہ میں بھی نمایاں مقام کے حامل شخصیت تھے،آپ مدرسہ سے کھانا نہیں لیتے تھے؛بلکہ آپ کا کھانا ہمیشہ قاری شمیم احمد صاحب زید مجدہ کے گھر سے آیا کرتا تھا۔

چوں کہ بزرگانِ دین قلبِ صافی کے مالک ہوتے ہیں اور دل جب گناہوں کی آلائش سے پاک ہوتا ہے تو اس میں خود بخود موزون کلام کی آمد ہونے لگتی ہے، اِسی لیے شعروسخن کا عمدہ اور اِلہامی ذوق ہمارے بزرگوں کی شناخت رہی ہے،مرشدوں کے مرشد ،شیخ المشائخ حضرت حاجی امداد اللہ مہاجر مکیؒ سے لے کر عصرِ حاضر تک کے بزرگوں کا ایک طویل سلسلہ ہے جوالہامی اشعار کے ذریعہ اپنے گوشۂ تنہائی کو آباد رکھنے کی کوشش کیا کرتے تھے؛ لیکن کیوں کہ شعروشاعری شانِ نبوت کے مناسب نہیں ہے،نیز اس میں بہت زیادہ دلچسپی سے اصل کاموں کا بڑا حرج ہوتا ہے ؛اس لیے بزرگانِ دین اس کو مشغلہ نہیں بناتے ہیں۔چوں کہ بڑے حافظ جی کو زندگی بھر قرآن کی تلاوت اور اس کی سماعت کی سعادت ملی ہے،اور ایک حدیث میں تلاوتِ قرآن کو دل کا زنگ دور کرنے کا مؤثر ذریعہ بھی بتایا گیا ہے؛اس لیے آپ کا دل بھی مانندِ آئینہ صاف شفاف تھا،زنگ آلود نہیں تھا؛ چناں چہ آپ بھی فطرتا اور مزاجا ذوقِ سخن کے مالک تھے،اپنے عہدِ شباب میں کچھ اشعار بھی کہے تھے؛ لیکن جب ایک عالم نے آپ سے کہا کہ شعروشاعری اچھی چیز نہیں ہے تو اس حوالہ سے اپنی زبانِ ذوق کو بالکل بند ہی کردیا؛تاہم اپنی گفتگو کے اندر فی البدیہ تُک بندی سے گریز نہیں کرتے تھے،آپ کےالفاظ کی تک بندی عموما لطافت اور محبت بھرے مزاح پر مشتمل ہوتی تھی،جو سامعین و حاضرین اور طلبہ کے لیے تفریحِ طبع کا باعث ہوتی تھی،اس طرح کا مزاح سرکارِ دوعالم نبئ رحمت صلی اللہ علیہ وسلم سے بھی ثابت ہے۔امام ترمذیؓ نے شمائل ترمذی میں اس سے متعلق متعدد روایتوں کو جمع کیا ہے۔

بہر حال بات بڑے حافظ جی کی شاعری کی ہورہی تھی،اس لیے اس موقع پر ان کے کچھ اشعار نذرِ قارئین کرنا بہت مناسب ہوگا۔اسی تحریر میں ایک جگہ بڑے حافظ جی کی اہلیہ محترمہ کی علالت ووفات کی بات لکھی گئی ہے،اہلیہ کی وفات کے وقت بڑے حافظ جی کی عمر محض ۳۲سال کی تھی،آپ اس وقت ضیاء العلوم مانی کلاں میں مدرس تھے،آپ کے سارے بچے کم عمر تھے،ایسی عمر اور ایسے حالات میں شریکِ حیات کی رحلت کس قدر باعثِ رنج ہوئی ہوگی اسے الفاظ میں ڈھالنا دشوار ہے،اور عموما ایسے دلخراش موقع پر دامنِ صبر ہاتھ سے چھوٹ جاتا ہے،اور انسان رونے دھونے اور شکوہ کے علاوہ کچھ نہیں کرپاتا،بڑے حافظ جی کے اس موقع سے کہے گئے اشعار پڑھنے سے اندازہ ہوتا ہے کہ آپ نے نہ صرف یہ کہ اس وقت خود کو سنبھالا؛ بلکہ اپنے غم کو غمِ یارِ حقیقی بنا کر اپنے رُخِ غم کو اللہ اور اس کے رسول کی جانب کر دیا،پھر یارِ حقیقی سے ہی فریاد کی،اسی سے تسلی چاہی اور اسی پر اپنی ہستی نچھاور اور نثار کرنے کی تمنا بھی ظاہر کی۔اس پس منظر کو ذہن نشیں کرکے مندرجہ ذیل مرثیہ پڑھیں،میں صرف اشعار درج کرنے پر اکتفا کروں گا، اوپر لکھی گئیں چندسطریں تبصرہ کے لیے کافی ہیں۔

میرا دل ہے کیوں بے قرار اللہ اللہ
نہیں ہے کوئی غم گسار اللہ اللہ

ہواؤں کا چلنا، وہ کالی گھٹائیں
کہاں ہے وہ دل کش بہار اللہ اللہ

یہ دل کہہ رہا ہے چلا جا وہاں پر
جہاں ہے، نبی کا مزار اللہ اللہ

گر اُن کی جھلک دیکھ پاؤں ذرا میں
ہو جاؤں ان پر نثار اللہ اللہ

نسیم اب دعاؤں میں یہ کہہ رہا ہے
کہ آ جائے دل کو قرار اللہ اللہ

  اوپر آپ نے پڑھ لیا کہ بڑے حافظ جی کی اہلیہ کا انتقال بڑے حافظ جی کے عہدِ شباب میں ہی ہو گیا تھا،اس حوالہ سے دلچسپ اور حیران کن بات یہ ہے کہ آپ نے اس کے بعد تا زندگی دوسرا نکاح نہیں کیا،بڑے مولانا رحمہ اللہ تعالی نے بارہا اس طرف توجہ دلائی؛لیکن بچوں کی تربیت اور پرورش کا حوالہ دے کر بڑے حافظ جی ہمیشہ اسے ٹال دیا کرتے تھے،آپ کا یہ فیصلہ صحیح تھا یا غلط، وہ یہاں موضوعِ بحث نہیں ؛ لیکن اس سے یہ نتیجہ اخذ کرنا بالکل درست ہے کہ دن بھر خدمتِ قرآن،طلبہ کی تربیت اور مختلف نگرانیوں اور پنج وقتہ نمازوں کی مصروفیت کے بعد آپ کی راتوں کی تنہائی،تنہائی نہیں؛ بلکہ یادِ الہی سے آباد رہتی ہوگی،یعنی اس وقت کی خلوت، ذکرِ خدا کی وجہ سے جلوت کا منظر پیش کرتی ہوگی،ورنہ اگر آئینۂ دل میں تصویرِ یارِ حقیقی کا عکس نہ ہو تو از عہدِ شباب تا عہدِ شیخوخت تنہائی کی زندگی موجبِ وحشت بھی ہے اور ذکرِ الہی سے غفلت کا باعثِ بھی۔شیخ الاسلام مفتی محمد تقی عثمانی صاحب زید مجدہ کا شعری مجموعہ ابھی حال ہی میں ’’ گوشۂ تنہائی‘‘ کے نام سے شائع ہوا ہے،اس کے کچھ اشعار بڑے حافظ جی کی زندگی کی ترجمانی کے لیے بہت مناسب معلوم ہوتے ہیں،گویابڑے حافظ جی اس زمانہ میں یہی اشعار بزبانِ حال پڑھتے ہوں گے۔

درد سے، یادوں سے، اشکوں سے شناسائی ہے
کتنا   آباد   میرا    گوشۂ       تنہائی      ہے

پھونک   کر ساری   تمناؤں  کے  دفتر، یہ دل
اب   تو   بس   تیری   تمنا   کا تمنائی ہے

ان   کا   دیدار  تقی   کیسا    قیامت     ہوگا
جب فقط ان  کے  تصور   میں یہ رعنائی ہے

بڑے حافظ جی کی زندگی کا ایک اہم سبق ہمارے لیے یہ بھی ہے کہ آپ نے جس طرح نیکی کی زندگی گذاری ،جس طرح قرآن کو نہ صرف سینے سے لگایا؛ بلکہ اسے دل میں بسایا، جس طرح پوری زندگی اسی پر جمے رہے، دنیا کی فکرِ مسلسل میں ایک ساتھ دوکشتی میں سوار ہونے کی کوشش نہیں کی،اور جس طرح اپنی اولاد کے لیے بھی یہی سب کچھ پسند کیا؛ اس کا دوطرفہ انعام ،اللہ تعالی نے آپ کو عطا فرمایا:ایک طرف آپ معاشی تنگی اور ذہنی تناؤ سے دوچار نہیں ہوئے تو دوسری طرف اللہ تعالی نے آپ کے خاندان اور نسل میں قرآن کی خدمت کی سعادت اور بہ حیثیت مجموعی دینداری کو اب تک جاری اور باقی رکھنے کا فیصلہ فرمایا ہے،ثانی الذکر دعوی کی صداقت کے لیے آپ دیکھ لیں: بڑے حافظ جی کے بڑے صاحبزادے مدرسہ عربیہ ریاض العلوم میں تجوید و قراءت کے قدیم ترین استاذ کی حیثیت سے قرآن کی خدمت کا بافیض چراغ روشن کیے ہوئے ہیں،قاری صاحب کے چار صاحبزادے ہیں اور چاروں حافظِ قرآن ہیں اور بعض قاری وعالم وفاضل بھی ہیں،رفیق مکرم محمد اسجد حلیمی قاسمی ابن قاری شمیم احمد صاحب زید مجدہ کی جتنی ہمشیرہ ہیں وہ گو حافظہ نہیں ہیں ؛لیکن قرآن پڑھنے میں تجوید اور صحتِ مخارج کے حوالہ سے کسی حافظ سے کم نہیں ہیں،محمد اسجد کے بڑے صاحبزادے اب حفظ شروع کرنے والے ہیں۔یعنی حفظ قرآن اور دینداری کا سلسلہ فی الحال تین نسلوں کو محیط ہے۔بڑے حافظ جی کے مرحوم صاحبزادے قاری تھے، جب کہ تیسرے صاحبزادے اگرچہ حافظ وقاری نہیں ہیں ؛ لیکن دینداری اور تشرُّع اول الذکر خاندانوں کی طرح یہاں بھی سلامت ہے۔بلاشبہ خدمتِ قرآن اور تدیُّن وتشرُّع کی یہ پھل دار اور ہری بھری شاخیں اسی شجرِ طوبی سے نکلی ہیں جسے ہم اور آپ ’’بڑے حافظ جی‘‘ کے نام سے جانتے ہیں۔خدا کرے ان شاخوں کا سلسلہ خوب دراز ہو اور یہ شاخیں ثمر آور بھی ہوں اور سایہ دار بھی۔آج جب کہ  بیجا فکرِ معاش اور غلبۂمادیت کی وجہ سے لوگ دینی تعلیم سے نہ صرف یہ کہ دور ہوتے جارہے ہیں ؛بلکہ اپنی اولاد کے لیے ایسی تعلیم کا انتخاب ضروری سمجھتے ہیں جو خوب پیسہ کمانے کا ذریعہ ہو،تو ایسی صورتِ حال میں بڑے حافظ جی کی زندگی کا مذکور بالا پہلو اُن سے بہت کچھ کہتا ہے۔

۱۸/ ذی الحجہ ۱۴۴۱ھ مطابق ۹/ اگست ۲۰۲۰ءبروز اتوار بقضائے الہی بڑے حافظ جی کی  قابلِ رشک زندگی کا سفر موقوف ہوگیا؛کیوں کہ وہ اپنے مالکِ حقیقی سے جا ملے،یعنی اب ان کی زیارت وملاقات  کے لیے آنکھیں ترستی رہیں گی؛ لیکن ان کے نقوش اب بھی باقی ہیں؛ کیوں کہ بڑے حافظ جی جیسے برگزیدہ اشخاص ایسے ہوتے ہیں جن کی عُمر،اُن کی حیاتِ مستعار سے بڑھ جاتی ہے۔غور کرنے سے معلوم ہوتا ہے کہ قدرت  ایسے لوگوں کی حیات وخدمات کو اس لیے باقی اور سلامت رکھتی ہے؛ تاکہ آئندہ نسلِ نو کی روحانی،عرفانی اور احسانی ترقی کاسامان اس دنیا میں موجود رہے۔بڑے حافظ جی کی زندگی کے کچھ قابلِ تقلید پہلؤں کو اس تحریر میں اسی مقصد کے تحت سمیٹنے کی کوشش کی گئی ہے،بڑے حافظ جی بزبانِ حال گویا ہیں۔

اب جس کے جی میں آئےوہی پائے روشنی
ہم   نے تو   دل جلا   کے سرِ عام رکھ    دیا

(۲۸/ ذی الحجہ ۱۴۴۰ھ مطابق ۱۹/ اگست ۲۰۲۰ء بروز بدھ بوقت بارہ بجے دن)

٭٭٭