Fri, Feb 26, 2021

ایک عبقری شخصیت کا ذکرِ ’ سعید‘۔
 محمد تبریز عالم
 خادمِ تدریس دار العلوم حیدر آباد
وسابق معین مدرس دار العلوم دیوبند
+91 7207326739

حضرت الاستاذ، استاذ الاساتذہ مفتی سعید احمد پالن پوری نور اللہ  مرقدہ (م: ۱۴۴۱ھ = ۲۰۲۰ء) کا سانحۂ ارتحال دنیائے علم وفضل کے لیے بہت بڑا خسارہ ہے۔ حضرت الاستاذ کی علمی خدمات کا دائرہ نہ صرف بہت وسیع اور مختلف النوع حیثیت کا حامل ہے، بلکہ اتنا روشن ہے جو سب کی نگاہوں کے سامنے ہے۔ یقیناً ان کی ذات سے محرومی مسلمانانِ ہند، بالخصوص طالبانِ علوم نبوت کے لیے بہت بڑی محرومی ہے۔

تدریس، تصنیف وتالیف اور بیان وخطابت؛ بیک وقت تینوں کا کسی ایک شخص میں جمع ہو جانا خوشی نصیبی اور کمال کی بات ہے، مفتی صاحب کی زندگی میں یہ تینوں باتیں علی وجہ الکمال جمع تھیں، جس کی وجہ سے آپ کی شخصیت ایک نمایاں مقام کی حامل شخصیت تھی؛ چناں چہ آپ نے پوری زندگی علم دین کی اشاعت اور قوم وملت کی خدمت کے لیے وقف کر دی تھی، بے شمار لائق شاگرد اور مردانِ کار تیار کیے، مفید اور نافع کتابیں تصنیف کیں، اور اپنی علمی واصلاحی خدمات کی روشنی سے نہ معلوم کتنے چراغ روشن کیے۔ آپ کی تدریس اِس قدر عمدہ، شاندار، عام فہم اور دل پذیر تھی کہ اس پر خامہ فرسائی سورج کو چراغ دکھانے کے مترادف ہے، آپ کو دار العلوم دیوبند کی مسندِ تدریس کی آبرو اور اس کی پیشانی کا جھومر کہا جائے یا جماعتِ دیوبند کا علمی سالار اور یادگارِ سلف کا عنوان دیا جائے؛ یہ سب یقیناً عقیدت مندانہ خراجِ عقیدت کی علمی تعبیرات ہیں، ورنہ آپ کی تدریس اِن الفاظ کی حقیقت سے بالا تر تھی۔ یہی وجہ ہے کہ آپ کی تدریس نے نہ صرف یہ کہ طلبہ کے ذہن ودماغ کو روشن اور متاثر کیا، بلکہ آپ کی مثالی تدریس نے ان کے قلعۂ قلب پر فتح وحکمرانی کے جھنڈے لہرائے، سب جانتے ہیں کہ دل کی تسخیر کے بعد ہی کسی انسان کو مقبولیت کا اعلی معیار نصیب ہوتا ہے، جو مفتی صاحب کو خوب حاصل ہوا۔

میرے بخاری کے مؤقر استاذ شیخ الحدیث مولانا نصیر احمد خان صاحب نور اللہ مرقدہ (م: ۱۴۳۱ھ = ۲۰۱۰ء) کی علالت اور وفات کے بعد عارضی پھر دائمی طور پر بخاری کی تدریس کے لیے دار العلوم دیوبند کے موقر اور علیا درجہ کے اساتذہ کرام پر نظر ڈالی گئی تو اس وقت کے مہتمم مولانا مرغوب الرحمن صاحب نور اللہ مرقدہ (م: ۱۴۳۲ھ = ۲۰۱۰ء) کی نظرِ انتخاب ترمذی اور طحاوی کے استاذ مفتی سعید احمد پالن پوری پر رکی، چوں کہ مفتی صاحب کا علمی دبدبہ، کارہائے نمایاں، تدریسی لیاقت اور علم حدیث کے مطالعہ کی وسعت عالم آشکارا تھی، اس لیے یہ انتخاب ‘حسنِ انتخاب’ ثابت ہوا اور اسی علمی رتبے کی وجہ سے مفتی صاحب صدارتِ تدریس کے پر وقار عہدے پر بھی فائز کیے گئے۔ آپ کی تدریس اور اندازِ تدریس کی دھاک اور باز گشت برسوں محسوس کی جائے گی، بالخصوص ترمذی، طحاوی اور بخاری کی تدریس کی گونج ایک لمبے زمانہ تک سنی جائے گی؛ کیوں کہ پچھلے چالیس پینتالیس سالوں میں طالبانِ علوم نبوت کو مفتی صاحب کی ذات سے جو علمی نفع ہوا ہے وہ غیر معمولی ہے۔

آپ کی تصنیف وتالیف پر کیا گفتگو کی جائے، اس کے موضوعات وعنوانات میں اتنی وسعت اور ہمہ گیری ہے کہ اس پر خامہ فرسائی مستقل ایک کام اور لکھنے والوں کے لیے ایک علمی موقع اور بڑا میدان ہے۔ اندازِ تصنیف پر کیا کلام کیا جائے، اس پھول کی خوشبو بھی اپنی الگ اور منفرد شناخت رکھتی ہے، اس خوشبو سے اہل علم کی لائبریریاں معطر تو ہیں ہی، طلبہ واساتذہ کی تشنگی کا کافی اور شافی سامان بھی اس میں موجود ہے، اردو کی چاشنی، محاوروں کا بر موقع استعمال اور کہیں کہیں انگریزی الفاظ کی آمیزش سے آپ کی تصنیفات  پر ‘سونے پہ سہاگہ’ کا محاورہ صادق آتا ہے۔

معلوم ہونا چاہئے کہ تدریس اور تصنیف وتالیف کے لیے ایک طرف تعلقات، تفریحی مشاغل وشواغل اور دنیاوی مفادات کی قربانی نا گزیر ہے تو دوسری طرف وقت کی قدر دانی اور اسے ناپ تول کر خرچ کرنے کا خود کو پابند بنانا بھی ضروری ہے، تاکہ یکسوئی کے ساتھ مطالعہ اور کتب بینی کو غذائے روح بنایا جا سکے۔ حضرت الاستاذ اِس حوالہ سے ان اسلاف کی یاد گار اور ان مصنفین ومدرسین کا عکس جمیل تھے کہ علم ان کا اوڑھنا بچھونا تھا اور جنھوں نے اپنی مسلسل محنت اور علمی اشتغال کے پیشِ نظر ہر طرح کی قربانیاں پیش کی ہیں۔ چناں چہ بڑی قربانیوں کے بعد پیدا نام ہوتا ہے’ کے پیشِ نظر حضرت الاستاذ کے گلستانِ علم وفن میں نہ صرف عمدہ پھول کھلے، بلکہ اس علمی باغ میں ‘یافت’ کے ساتھ ‘دریافت’ کی ایسی کلیاں بھی وجود میں آئیں جن کی مہک اور افادیت پسِ مرگ بھی محسوس کی جائے گی۔

یہ بات مبنی بر حقیقت ہے کہ مفتی صاحب تدریس وتصنیف کے باب میں یکتائے روزگار تھے، آپ  کے درسی افادات، درسی تصنیفات اور غیر درسی کتب گلستانِ علم وفن کے وہ شگفتہ پھول ہیں جن کی خوشبو اور عطر بیزی اہل علم اور وابستگانِ دیوبند کے قلب وذہن کو معطر کرتی رہے گی اور اس آفتاب کی کرنیں چھن چھن کر علمی درس گاہوں کے بام ودر کو روشن کرتی رہیں گی۔

حضرت الاستاذ کے بیان وخطابت، زورِ خطابت اور اندازِ خطابت کے سامعین کی تعداد بے شمار ہے، سب گواہی دیں گے کہ اللہ تعالی نے آپ کو بیان وخطابت کا البیلا اور دل کو چھو لینے والا ملکہ عطا فرمایا تھا۔ لہجہ کی ملاحت، گفتگو کی فصاحت وبلاغت، اشاروں کا منفرد انداز، محاوروں اور اکابر کے واقعات کی آمیزش، آسان اور عام فہم اندازِ تفہیم اور خالص علمی اور درسی انداز اور اسی جیسی وہ تمام خوبیاں آپ کے بیان وخطاب کا حصہ تھیں جن کی وجہ سے افادہ واستفادہ عام اور تام ہوتا ہے اور اس کا فیضان دیر پا ہوتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ آپ کی تقریر اور آپ کا بیان مجلس کا خلاصہ اور متعلقہ عنوان کا لب لباب ہوتا تھا۔ اصلاحی مجلس ہو یا عوامی جلسہ، افتتاح واختتامِ بخاری کا اجلاس ہو یا فقہی اجتماعات: میں اپنے تیرہ چودہ سالہ مشاہدے کی بنیاد پر یہ دعوی کر سکتا ہوں کہ ہر جگہ اور ہر موقع پر پورا مجمع ‘گوش بر آواز’ کی مثال ہوتا تھا۔ مفتی صاحب کی بہت ساری وہ تقریریں جو آن رکارڈ ہیں اور بہت سے وہ خطبات جو طبع ہو چکے ہیں  یقینا وہ سب پچھلوں کے لیے نشانِ منزل کا کام دیں گے۔

حضرت الاستاذ کی زندگی کے تمام گوشوں اور پہلوؤں پر محیط تحریر کے لیے تو ‘سوانح حیات‘ کا انتظار کرنا مناسب ہے، یہاں گنتی کے چند صفحات میں بلا کسی خاص ترتیب کے راقم الحروف اپنے تیرہ سالہ تعلقات ومشاہدات کی یادوں کو قلم وقرطاس کے ذریعہ سمیٹنا چاہتا ہے، بالخصوص ایسے واقعات وملفوظات قلم بند کرنے کو جی چاہتا ہے جو راقم الحروف کی زندگی پر بہت اثر انداز ہوئے ہیں۔

حضرت الاستاذ کی مقبولیت کا راز:۔

اکابرِ دیوبند بقول مفتی تقی عثمانی صاحب زید مجدہ: خیر القرون کی یادگار تھے، سلف صالحین کا نمونہ تھے، اسلامی مزاج ومذاق کی جیتی جاگتی تصویر تھے۔ (ماہنامہ دار العلوم، شمارہ ۹، ۱۰ جلد ۹۴، رمضان، ذیقعدہ ۱۴۳۱ھ مطابق ستمبر اکتوبر ۲۰۱۰ء) حجۃ الاسلام حضرت نانوتوی، فقیہ النفس حضرت گنگوہی، حکیم الامت حضرت تھانوی اور حضرت سہارن پوری رحمہم اللہ وغیرہ اسی تصویر کے تابندہ نقوش اور آسمانِ علم نبوت کے آفتاب وماہتاب تھے، ان کا ذوق ومزاج، تدین، سلامتیٔ فکر، دینی تصلب اور رسوخ فی العلم وہ معیارات وخصوصیات ہیں جن پر قائم رہنا اعتدال اور دیوبندیت کہلاتا ہے۔ اور انھی خصوصیات سے اتصاف کی بنیاد پر اکابر دیوبند کو وہ مقام ومرتبہ حاصل ہوا کہ آج جس کی طرف ادنی انتساب پر بھی ہم لوگ فخر کرتے ہیں۔ اسی لیے علم وفضل کے ساتھ تواضع وبے نفسی اکابرِ دیوبند کی شان ہے۔ مفتی تقی عثمانی زید مجدہ لکھتے ہیں:۔

اگر صرف وسعتِ مطالعہ، قوتِ استعداد اور کثرتِ معلومات کا نام علم ہو تو یہ صفت آج بھی ایسی کم یاب نہیں، لیکن اکابرِ دیوبند کی خصوصیت یہ ہے کہ علم وفضل کے سمندر سینے میں جذب کر لینے کے باوجود ان کی تواضع، فنائیت اور للہیت انتہا کو پہنچی ہوئی تھی۔ یہ محاورہ زبان زدِ عام ہے کہ ‘پھلوں سے لدی ہوئی شاخ ہمیشہ جھکتی ہے’ لیکن ہمارے زمانے میں اس محاورے کا عملی مظاہرہ جتنا اکابرِ دیوبند کی زندگی میں نظر آتا ہے اور کہیں نہیں ملتا۔ (ماہنامہ دار العلوم، شمارہ ۹، ۱۰ جلد ۹۴، رمضان، ذیقعدہ ۱۴۳۱ھ مطابق ستمبر اکتوبر ۲۰۱۰ء)۔

اوپر جس علم وفضل اور تواضع وفنائیت کی بات لکھی گئی ہے، یہی در حقیقت ہر انسان کی مقبولیت کا سبب اور دنیا وآخرت میں سرمایۂ افتخار ہے۔ حضرت الاستاذ مفتی سعید احمد پالن پوری نور اللہ مرقدہ کی شہرت ومقبولیت کا بنیادی اور سب سے بڑا سبب صرف ان کی تدریس وتصنیف نہیں ہے، بلکہ اکابرِ دیوبند کے علم وفضل اور تواضع وفنائیت سے خود کو متصف کرنا سب سے بڑا سبب ہے۔ حضرت مفتی صاحب کو اکابرِ دیوبند اور ان کے علوم ومعارف سے حد درجہ لگاؤ تھا، آپ اکابرِ دیوبند کے علوم کے ناقل وشارح اور ان کی تواضع وللہیت کا عکس جمیل تھے۔یہی وجہ ہے کہ حنفیت ودیوبندیت کی حفاظت کے ساتھ ساتھ باطل فرقوں اور ان کے گمراہ افکار ونظریات پر رد مفتی صاحب کا خصوصی مشغلہ تھا، آپ توسع کے نام پر فقہِ حنفی سے خروج یا فقہی جزئیات میں لچک، فکرِ دیوبند میں التباس اور عملِ متوارث کی خلاف ورزیوں سے حد درجہ دور اور نفور تھے۔جملہ معترضہ کے طورپر یہ کہنا بے محل نہیں ہوگا کہ آج بھی فضلائے دار العلوم کی شہرت ومقبولیت کا راز انھی اوصاف وخصوصیات سے اتصاف میں مضمر ہے، کم از کم مفتی صاحب کی زندگی سے یہ سبق حاصل کر لینا چاہیے۔ فتاوی دار العلوم دیوبند، باقیات فتاوی رشیدیہ، امداد الفتاوی جلد اول پر حواشی ونظر ثانی، علاوہ ازیں حضرت نانوتوی کی متعدد کتابوں کی تسہیل وترتیب، مفتی صاحب کی اکابر دیوبند کے علوم ومعارف سے گہری وابستگی کی واضح مثالیں ہیں۔

احسان وشفقت کے چند نقوش

استاذ وشاگرد کے مقدس رشتہ میں استاذ ہمیشہ محسن اور شفیق ہوتا ہے، اس لیے کسی استاذ کے سامنے زانوئے تلمذ وادب تہ کرنا در حقیقت استاذ کو اپنا محسن تسلیم کر لینا ہوتا ہے۔ چوں کہ حضرت الاستاذ سے راقم الحروف کو ترمذی جلد اول، علل ترمذی، طحاوی کتاب الطہارہ اور بخاری جلد اول کا ایک سبق پڑھنے کی سعادت ملی ہے، اس لیے حضرت الاستاذ میرے محسن بھی ہیں۔ محسن استاذ کے احسان وشفقت کے چند نقوش اور یادوں کو قیدِ تحریر میں لانا احسان شناسی کا تقاضا معلوم ہوتا ہے۔

۔(الف)  جب دار العلوم میں میری معین مدرسی(۲۰۱۰ء) کی مدت پوری ہونے والی تھی تو کسی مدرسہ میں بغرضِ تدریس ملازمت کی فکر دامن گیر ہوئی، بعض اساتذہ نے حضرت مفتی صاحب سے ملاقات کا مشورہ دیا، چوں کہ طالب علمی اور معین مدرسی کے دوران مفتی صاحب کی خدمت میں حاضری برائے نام تھی؛ اس لیے ملاقات اور اظہارِ مدعا میں خوف آمیز تردد محسوس ہوا، لیکن ہمت کر کے حاضرِ خدمت ہوا۔ میں نے سببِ ورود اور شانِ نزول کے طور پر ایک مدرسہ کی نشان دہی کی، چوں کہ مفتی صاحب اس مدرسہ کے سر پرست تھے، اس لیے کہا: میں بات کر کے تمھیں بتاؤں گا۔ دوسرے دن حاضرِ خدمت ہوا تو فرمایا : اگر تم نے دار الافتاء کیا ہے تو مدرسہ میں جا کر بات کر لو، میں نے تمھارا تذکرہ کر دیا ہے۔ اور آنے جانے کا کرایہ مدرسہ کے ذمہ ہوگا۔ مفتی صاحب کے مشفقانہ برتاؤ نے میرے اندر جرأت پیدا کی، چناں چہ میں نے کہا: حضرت ایک بار میرے سامنے فون پر گفتگو ہو جائے تو مناسب ہوتا۔ چوں کہ مفتی صاحب کے مزاج میں صراحت اور حق گوئی کے ساتھ شفقت ومحبت تھی، غالباً اس لیے فرمایا: بھائی! میں تمھارے اخلاق سے بہت زیادہ واقف نہیں ہوں، بایں وجہ اس معاملہ میں زیادہ گفتگو نہیں کر سکتا۔ میری زبان سے غیر اختیاری طور پر یہ جملہ نکل گیا کہ حضرت! آپ کی تصدیق اور انٹرویو کے بعد ہی میں دار العلوم میں تدریب المعلمین کے لیے منتخب ہوا ہوں۔ مجھے لگا  مفتی صاحب اِس گستاخی پر ناراض ہو جائیں گے، لیکن شفقت اور خندہ پیشانی کے ساتھ کہا: ٹھیک ہے، میری مدرسہ کے صدر مدرس سے بات کراؤ۔ مفتی صاحب نے میرے سامنے ذمہ دارِ مدرسہ سے کہا: مولانا تبریز صاحب آئے ہوئے ہیں، آپ ان کا تقرر کر سکتے ہیں، یہ بھی اچھا کام کریں گے۔ اس کے بعد مجھ سے کہا: جاؤ اور میری نصیحت یاد رکھو: جو بھی کتاب دیں کہنا پڑھا دوں گا، تواضع مت کرنا۔

اس واقعہ کے بعد حضرت الاستاذ کے تئیں عقیدت ومحبت میں نہ صرف یہ کہ اضافہ ہوا، بلکہ تعلقات کی راہیں ہموار ہوئیں، ایسا اس لیے نہیں کہ میرا کام بن گیا، بلکہ اس لیے کہ اس پورے واقعہ کے آئینہ میں مفتی صاحب کی صاف ستھری باطنی تصویر، بے داغ سراپا اور کسی عام طالب علم کے تئیں آپ کی محبت وشفقت کا عکس جمیل دکھائی دے رہا تھا۔

۔(ب) ۱۵/ شوال ۱۴۴۰ھ مطابق ۱۹/ جون ۲۰۱۹ء یعنی حضرت الاستاذ کی وفات سے دس ماہ پہلے کی بات ہے، راقم مجلس میں حاضر ہوا، اور پیچھے جہاں جگہ ملی بیٹھ گیا، کچھ دیر کے بعد جب مجھ پر مفتی صاحب کی  نظر پڑی تو حسبِ عادت اپنے قریب بیٹھایا اور مختلف موضوعات پر گفتگو ہوتی رہی۔ قبیل مغرب میں نے اجازت چاہی تو فرمایا: بعد مغرب تھوڑی دیر کے لیے آنا۔ بعد نمازِ مغرب حاضر ہوا تو پانچ ہزار روپے  بہ طور ہدیہ عنایت فرمائے۔ دل باغ باغ ہوگیا، اس لیے نہیں کہ روپے ملے ہیں، بلکہ خوشی کا اصل سبب یہ تھا کہ مفتی صاحب نے اپنے پاس سے اور اپنے ہاتھوں سے دیے ہیں۔ میری زبان سے بے ساختہ کچھ دعائیہ جملے نکلے، جس پر مفتی صاحب نے بس اتنا کہا: جاؤ محنت سے پڑھاؤ۔ یہ مفتی صاحب سے میری آخری ملاقات ثابت ہوئی۔ ہر چند کہ ممبئی میں بغرضِ علاج قیام کے دوران مفتی صاحب سے بذریعہ فون بات ہوئی، لیکن ملاقات کا موقع نہ مل سکا اور آہ!  آئندہ ممکن بھی نہیں ہے۔

اجالے اپنی یادوں کے ہمارے ساتھ رہنے دو
نہ جانے کس گلی میں زندگی کی شام ہو جائے

حضرت الاستاذ کے علمی اور مادی احسانات اور شفقت کا معاملہ صرف میرے ساتھ ہی نہیں تھا، بلکہ ایسے بہتیرے طلبہ، اساتذہ اور دیگر افراد ہیں جن پر مفتی صاحب کے احسان وشفقت کا سایہ رہا۔

رسوخ فی العلم کا مشاہدہ:۔

۔۱۴۲۹ھ مطابق ۲۰۰۸ء میں دار العلوم کے شعبۂ تدریب المعلمین (معین مدرسی) کے لیے جب میری درخواست منظور ہوئی تو مجھے دفترِ اہتمام میں بغرضِ انٹرویو بلایا گیا، جہاں مولانا نعمت اللہ صاحب اعظمی زید مجدہ، مولانا ایوب صاحب زید مجدہ کے ساتھ حضرت الاستاذ مفتی سعید احمد صاحب نور اللہ مرقدہ تشریف فرما تھے۔ چوں کہ میرے لیے یہ پہلا موقع تھا جب میں مفتی صاحب کے بالکل سامنے اور بہت قریب تھا، مذکورہ اساتذہ کے ساتھ مفتی صاحب کی موجودگی اور علمی رعب میں اپنے دل میں محسوس کر رہا تھا، جس کے اثرات چہرے پر بھی رہے ہوں گے۔ میری درخواست اور تعلیمی رکارڈ مفتی صاحب کے ہاتھ میں تھا، مفتی صاحب نے دونوں بزرگوں سے کہا: ان کی تکمیلِ افتاء میں اول پوزیشن ہے، مفتی صاحب کے اس جملہ میں مجھے کچھ ایسی حوصلہ افزائی محسوس ہوئی کہ دل سے خوف کا احساس جاتا رہا اور مفتی صاحب کے سوالات کی جواب دہی آسان ہوئی۔

اس واقعہ کے گیارہ سال بعد یعنی ۱۴۴۰ھ مطابق ۲۰۱۹ء میں راقم الحروف نے دار العلوم میں جب ثانویہ کی تدریس کے لیے درخواست دی تو منظوری کے بعد بغرضِ انٹرویو دار العلوم کے مہمان خانہ میں حاضر ہوا۔ مولانا رحمت اللہ صاحب کشمیری اور مفتی اسماعیل صاحب مالیگاؤں (اراکین شوری) کے ساتھ حضرت الاستاذ مفتی سعید احمد صاحب نور اللہ مرقدہ بھی تشریف فرما تھے۔ میرے اندر آتے ہی مفتی صاحب نے کہا: دیکھو بھائی! گھٹنوں میں تکلیف کی وجہ سے ہم لوگ صوفے پر بیٹھے ہوئے ہیں، سامنے بھی صوفہ ہے، اگر تم چاہو تو ہماری طرح صوفہ پر بیٹھ جاؤ، لیکن میری قوتِ سماعت چوں کہ کمزور ہوگئی ہے؛ اس لیے میرے پاس نیچے بیٹھنا چاہو تو نیچے بیٹھ جاؤ۔ یہ مفتی صاحب کی تواضع تھی، ورنہ نیچے بیٹھنے کا حکم دینا مفتی صاحب کا حق تھا اور میری ذمہ داری تھی کہ میں نیچے بیٹھ جاؤں۔

میں نے مذکور بالا دونوں انٹرویو اِس لیے ذکر کیے تاکہ مفتی صاحب کے علمی رسوخ اور اعلی صلاحیت کا ایک نقشہ پیش کیا جا سکے۔ اول الذکر انٹرویو کے وقت مفتی صاحب ترمذی، طحاوی اور حجۃ اللہ البالغہ پڑھایا کرتے تھے اور ثانی الذکر انٹرویو کے موقع پر صحیح بخاری زیرِ درس تھی۔ علم بیزاری کے عمومی ماحول میں دیکھا اور سوچا جائے تو ترمذی وبخاری کے استاذ کو عربی اول تا چہارم یعنی ثانویہ کی کتابوں کا استحضار عموما نہیں ہوتا؛ کیوں کہ وہ زیرِ مطالعہ نہیں ہوتیں اور نہ ہی فرصت وضرورت ہوتی ہے کہ شیخ الحدیث ثانویہ کی کتابوں کا مطالعہ کرتا رہے۔ لیکن مفتی صاحب اِس حوالہ سے بالکل منفرد اور یکتائے زمانہ واقع ہوئے تھے، میں اپنے اِن انٹرویوز کی وجہ سے یہ دعوی کر سکتا ہوں کہ آپ رسمی علم نہیں، بلکہ حقیقتِ علم کے مالک تھے۔ ہر فن کی کتابیں آخری عمر میں بھی ازبر تھیں، ابتدائی کتب کی استعداد ہی نہیں، بلکہ ان کتابوں کا استحضار ایسا تھا جیسے ان کتابوں کے اصل مصنف اور شارح خود آپ ہیں، چناں چہ دورانِ انٹرویو غلطی پر مفتی صاحب نہ صرف یہ کہ روکتے اور ٹوکتے، بلکہ ثانی الذکر انٹرویو کے موقع پر متعلقہ عبارت کی مکمل تشریح بیان کر دیتے تھے، تاکہ امید وار کو اپنی غلطی معلوم ہو جائے، اور اس لیے بھی تاکہ دوسرے ممتحن حضرات کے سامنے صورتِ مسئلہ خوب واضح ہو جائے۔ میرا احساس ہے کہ مفتی صاحب دار العلوم دیوبند کے لیے اعلی معیار کا مدرس چاہتے تھے، تاکہ دار العلوم کا علمی مقام برقرار رہے۔ غالباً اسی لیے فارسی اور منطق کی استعداد، استحضار اور عبارت فہمی مفتی صاحب کے نزدیک انتخاب کی  بنیاد تھی؛ چناں چہ دورانِ انٹرویو کہنے لگے: آج کل کے فضلاء کتابیں لکھ لیتے ہیں، علیا درجہ کی کتابیں پڑھا لیتے ہیں، لیکن ابتدائی کتب کی استعداد ناقص اور کمزور رہتی ہے۔ مفتی صاحب کے اس طرزِ عمل سے بعض فضلاء کو اختلاف ہو سکتا ہے، لیکن چوں کہ یہ سب دار العلوم دیوبند کے مفاد کے پیشِ نظر تھا، اس لیے مفتی صاحب اِس حوالہ سے نہ صرف یہ کہ معذور ہیں، بلکہ عند اللہ ماجور بھی ہوں گے۔

مفتی صاحب سے کبھی سنا تھا کہ میرے استاذ علامہ ابراہیم بلیاوی ۔(م: ۱۹۶۷ء) دار العلوم دیوبند میں ‘استاذ کرسی’ کی حیثیت رکھتے تھے، اب وہ کرسی خالی ہے۔ میرا تاثر یہ ہے کہ ‘استاذ کرسی’ کی تعبیر مفتی صاحب پر بھی فٹ بیٹھتی ہے۔ استاذ کرسی کا مطلب مفتی صاحب یہ بیان کرتے تھے: ایسا استاذ جس کی طرف مشکل مسائل میں رجوع ہوا جائے اور وہ ہر علمی گتھی سلجھا سکتا ہو۔

مصنف ساز شخصیت کی کچھ یادیں:۔

مصنف ومؤلف ہونا بلاشبہ مفتی صاحب کی کتابِ زندگی کا ایک اہم باب ہے، لیکن آپ کا مصنف ساز ہونا اس باب کا اہم عنوان ہے۔ اسی لیے فضلائے دار العلوم کو ہمیشہ تصنیف وتالیف کی جانب متوجہ فرماتے تھے، کتاب خواہ کیسی بھی ہو، صاحبِ کتاب کی حوصلہ افزائی سے دریغ نہیں کرتے تھے، بلکہ مفید مشوروں سے نوازتے تھے۔ جس مجلس میں کتاب پیش کی جاتی تھی سرسری طور پر پوری کتاب دیکھ لیتے تھے،بعض دفعہ موضوع کی تعیین کے ساتھ متعلقہ موضوع پر لکھنے کا مشورہ دیا کرتے تھے۔ طلبہ اور فضلاء کے تئیں آپ کا یہ طرزِ عمل دور رس نتائج اور مفید اثرات کا حامل ثابت ہوا؛ چناں چہ بلا واسطہ یا بالواسطہ متعدد فضلاء اور طلبہ نے آپ کی تحریک یا رہبری کی وجہ سے قلم پکڑنا سیکھا اور قلم وقرطاس کے میدان میں اپنی ایک شناخت قائم کی۔ بلا شبہ یہ مفتی صاحب کا ایک بڑا کارنامہ ہے۔

راقم الحروف کو تدریسی زندگی میں قدم رکھنے کے بعد کچھ لکھنے کی خواہش ہوتی تھی، لیکن نا اہلی اور تن آسانی کی وجہ سے امروز فردا کی کیفیت رہتی تھی۔ ۱۸/ شوال ۱۴۳۴ھ کی بات ہے، میں مفتی صاحب کی مجلس میں حاضر تھا، مفتی صاحب نے مجھ سے یا کسی اور سے کہا: مدرسہ کو صرف معیشت  کا ذریعہ نہ بناؤ، بلکہ علم میں ترقی کا ذریعہ بنانا چاہیے، اگر مدرسہ میں رہ کر علم میں کمال پیدا نہیں ہوا تو خسر الدنیا والآخرۃ، پیسے تو مدارس کے باہر بھی کما سکتے ہو، بلکہ یہاں سے زیادہ کما سکتے ہو، مدارس میں رہنے کا مقصد علمی ترقیات ہے۔ اللہ کی شان دیکھیے، مفتی صاحب کی یہ بات میرے دل کو لگ گئی، چوں کہ تصنیف وتالیف بھی علمی ترقی کا ایک زینہ ہے؛ اس لیے میں نے کچھ لکھنے اور مفتی صاحب کی خدمت میں پیش کرنے کا عزم کر لیا۔ میری کتاب ‘اسلام کا نظامِ سلام ومصافحہ’ (صفحات: ۵۰۲) کی تکمیل در حقیقت مفتی صاحب کی تحریک کا ہی نتیجہ ہے۔

عجیب اتفاق اور خوش گوار لمحہ اس وقت  سامنے آیا جب میں نے اپنی کتاب مفتی صاحب کی خدمت میں پیش کی تو اسی مجلس میں پوری کتاب پر سرسری نگاہ ڈالی، اظہارِ خوشی کے ساتھ دعاؤں سے نوازا اور حوصلہ افزائی کے طور پر ایک ہزار روپے یہ کہتے ہوئے مجھے دیے: یہ تمھارا انعام ہے۔ مفتی صاحب کے متعلقین جانتے ہیں کہ مفتی صاحب کا کسی کے بارے میں زبانی طور پر حوصلہ افزا کلمات کہہ دینا بہت بڑی بات تھی، کسی نو آموز مؤلف کی تالیف پر مفتی صاحب کا نقد انعام دینا نہ صرف یہ کہ مؤلف کے لیے سرمایہ افتخار ہے، بلکہ مفتی صاحب کی اعلی ظرفی، بلند حوصلگی اور دریا دلی کا غماز بھی ہے۔ میری مذکورہ کتاب کے اخیر میں ‘مؤلف کے کوائف’ کے زیرِ عنوان میرا مختصر تعارف بھی شامل ہے، جب مفتی صاحب کی اس پر نظر پڑی تو فرمایا: یہ نئے زمانے کے لوگوں کا انداز ہے، ہمارے اکابر اسے پسند نہیں کرتے ہیں، دیکھو خاک ہونے سے پہلے خود کو خاک بنانے کی کوشش کرنی چاہیے (خاک شو پیش از آنکہ خاک شوی)۔ مطلب یہ تھا کہ شہرت اور ناموری کے لیے بقلم خود اس طرح کی حرکت کرنا غیر مناسب ہے۔ پھر فرمایا: کتابیں اپنی ذمہ داری پر لکھا کرو، تقریظ کے چکر میں نہیں رہنا چاہیے۔

جب میری دوسری اور تیسری کتاب منظرِ عام پر آئی تو مفتی صاحب کی خدمت میں پیش کی گئی، حسبِ عادت پوری کتاب دیکھی اور پہلی کتاب ‘موجودہ دور کے اندھیرے اور دعائے نبوی کی روشنی’ کے بارے میں فرمایا: کتاب کا نام چھوٹا رکھنا چاہیے تھا، ‘دعائیں اور حکمتیں’ موزوں تھا۔ حوصلہ افزائی کے طور پر کہا: تمھارا قلم رواں ہے، لکھا کرو’۔ دوسری کتاب ‘تمازِ تراویح کی اہمیت اور چند قابلِ اصلاح پہلو’ دیکھ کر ارشاد فرمایا: جلسۂ تعزیت کے موضوع پر لکھو۔ مفتی صاحب تو دارِ بقاء کو کوچ کر گئے، لیکن قلم وقرطاس جب بھی ہم آغوش ہوں گے ان کی یاد آتی رہے گی؛ کیوں کہ قلم ہوگا، قرطاس ہوگا، کتاب ہوگی، مجلس بھی ہوگی، لیکن میرِ مجلس نہ ہوگا، میرِ مجلس نہ ہوگا تو سب کچھ ہو کر بھی کیا ہوگا؟

اِس موقع پر مفتی صاحب کی متعدد مجلسوں کی کچھ امانتوں کا حوالۂ قرطاس کرنا مناسب معلوم ہوتا ہے۔

ایک موقع پر مجھ سے دورانِ گفتگو کہا: قلم مت رکھو، لکھتے رہو، ایک محقق نے کہا تھا: سو کتابیں آتی ہیں تو ایک پڑھنے کے قابل ہوتی ہے، باقی کتابیں بے کار ہوتی ہیں۔ لیکن کمیت میں گیہوں کے دانوں کے ساتھ گھاس پھوس بھی ہوتی ہے، وہ دانے اس کے بغیر پیدا نہیں ہوتے، اس لیے لکھتے رہنا چاہیے، تاکہ کوئی ایک کتاب بھی اچھی آ سکے۔ اگر کتاب کی اشاعت کے اسباب نہ ہوں تب بھی لکھتے رہو۔ راندیر گجرات میں میں نے کئی کتابیں لکھیں، لکھ کر بکس میں بند کر دیتا تھا، جب دیوبند آیا تو وہ سب شائع ہوئیں۔

۔۱۴۳۰ھ کے انعامی جلسہ میں جہاں ایک طرف طلبہ کو یہ نصیحت فرمائی کہ انھیں مطالعہ اور تکرار کی پابندی کرنی چاہیے، وہیں اساتذہ کرام سے کہا: اساتذہ فن دیکھ کر پڑھائیں، اس کے ساتھ تجمیع اور استنتاج کرتے رہیں، یعنی فن سے متعلق باتیں جمع کریں اور ان سے نئی باتیں اخذ کریں اور تصنیف کی لائن میں قدم رکھیں۔

تصنیف وتالیف کے لیے اپنی ذاتی لائبریری میں کتابوں کا ذخیرہ ہونا بہت ضروری ہے، مفتی صاحب فرمایا کرتے تھے کہ میرے پاس وہ تمام کتابیں موجود ہیں جو تصنیف وتالیف کے لیے امہات کتب اور مآخذ ومصادر کی حیثیت رکھتی ہیں۔ غلبۂ مادیت کے ساتھ علم بیزاری کے اِس دور میں مفتی صاحب کا یہ واقعہ درسِ عبرت اور باعثِ تقلید ہے۔ فرمایا: دورانِ طالب علمی گھر سے جو گھی لاتا تھا، اسے خود استعمال کرنے کے بجائے ایک کلو، چودہ روپے میں بیچ کر کتابیں خریدتا تھا۔

تصنیف وتالیف کے لیے جہاں کتب بینی اور مطالعہ بے حد ضروری ہے وہیں حاصلِ مطالعہ کو محفوظ رکھنا بھی ناگزیر ہوتا ہے، مفتی صاحب اِس حوالے سے بھی مثالی تھے، بلکہ آپ  درسِ نظامی کے متون حفظ کرنے کے قائل تھے، اسی لیے آپ نے کئی متون کی شرح لکھی اور اپنے متعلقین کو متون حفظ کرائے بھی۔ ایک مجلس میں استاذِ محترم مولانا محمد نسیم صاحب بارہ بنکوی استاذ ادب دار العلوم دیوبند سے فرمایا: جب میں نے مدرسی شروع کی تھی تو درسی مطالعہ کے علاوہ روزانہ پانچ سو صفحات کا خارجی مطالعہ کیا کرتا تھا۔ ایک موقع پر فرمایا: کتابیں دو طرح سے پڑھی جاتی ہیں: بالاجمال، یعنی فہرست دیکھی جائے اور جو ضروری معلوم ہو اسے پڑھ لیا جائے، دوسرا طریقہ ہے بالتفصیل پوری کتاب پڑھی جائے۔

امر بالمعروف اور نہی عن المنکر:۔

اسلام میں امر بالمعروف اور نہی عن المنکر کا شعبہ اور فریضہ نہایت اہمیت وافادیت کا حامل ہے؛ اسی لیے ہر فرد کو اس کا پابند بنایا گیا ہے کہ وہ اپنی بساط بھر مسلم معاشرہ میں رائج برائیوں کی نشان دہی کرے، اس پر روک ٹوک کرے، مردہ سنتوں کو زندہ کرنے اور کرانے کی کوشش کرے اور اسلام کی جملہ تعلیمات کو اس کی صحیح صورت کے ساتھ عام کرنے کی دعوت دے۔ مفتی صاحب کی زندگی  اِس حوالہ سے بھی بہت نمایاں تھی۔ سفر ہو یا حضر جہاں بھی موقع ملتا تھا اِس فریضہ کی ادائیگی کی فکر دامن گیر رہتی تھی۔

بہ وقتِ ملاقات مصافحہ کرتے ہوئے اگر کسی نے مغفرت کی دعا ‘یغفر اللہ لنا ولکم’ نہیں پڑھی تو فوراً تنبیہ فرمایا کرتے تھے، بلکہ ناراضگی کا اظہار فرماتے تھے۔ فرمایا کرتے تھے: لوگوں کے مصافحے بے دعا ہو کر رہ گئے ہیں، لوگوں میں مصافحہ کی دعا کے سلسلے میں بہت غفلت پائی جاتی ہے۔ لوگوں کو چاہیے کہ یہ سنت زندہ کریں۔ ایک مجلس میں مزاحاً فرمایا: اب لوگ مصافحہ کی دعا پڑھنے کے بجائے کہتے ہیں: دعا کی درخواست ہے۔ پھر ترقی ہوئی اور خصوصی دعا کا چلن ہوا اور  اب ‘اخص الخواص دعا میں یاد رکھیں’ کا رواج ہے۔ ایک مجلس میں راقم الحروف نے سلام ومصافحہ سے پہلے ہی دعا کی درخواست کی تو مفتی صاحب نے کہا: دعا ادھار مت رکھو، نقد دعا لو، یغفر اللہ لنا ولکم کہو، میں بھی دعا دوں گا۔ اگرچہ یغفر اللہ لنا ولکم کے الفاظ کے ساتھ کوئی حدیث وارد نہیں ہے؛ لیکن بہ وقتِ مصافحہ مطلقاً مغفرت کی دعا کرنا ثابت ہے؛ اس لیے مفتی صاحب اِس حوالہ سے بہت فکر مندی کا مظاہرہ کرتے تھے۔ تحفۃ الالمعی اور رحمۃ اللہ الواسعۃ میں بھی اِس پر تفصیل سے روشنی ڈالی ہے۔ میں خود بہ وقتِ مصافحہ بآوازِ بلند یغفر اللہ لنا ولکم پڑھنے کا عادی نہیں تھا؛ لیکن مفتی صاحب کی متعدد مجلسوں میں ڈانٹ ڈپٹ کی وجہ سے نہ صرف یہ کہ عادی بن گیا، بلکہ اپنی کتاب ‘اسلام کا نظامِ سلام ومصافحہ’ میں اس پر بالتفصیل گفتگو کی ہے۔ الدال علی الخیر کفاعلہ کے بموجب ان شاء اللہ مفتی صاحب ماجور ہوتے رہیں گے۔

ایک صاحب کے بچے دار العلوم کے شعبۂ حفظ میں زیرِ تعلیم تھے، وہ صاحب مفتی صاحب سے ملنے آئے تھے، ان کے چہرے سے داڑھی صاف تھی، مفتی صاحب نے نکیر فرماتے ہوئے کہا: لڑکے کو علمِ دین سکھا رہے ہو اور خود بے دین ہو۔ یاد رکھو، لڑکا ڈنڈے کھا کر حافظ بنے اور والد  بے دینی کے ساتھ تاج کا خواہاں ہو، یہ ممکن نہیں۔ اگر والدین دیندار نہیں ہوں گے تو اولاد پر اسلامی رنگ کیسے چڑھے گا۔ میرا یہ احساس ہے کہ مفتی صاحب اِس کے روادار نہیں تھے کہ اکرامِ ضیف کی آڑ میں ملاقاتیوں کی بے دینی پر نکیر نہ کی جائے۔ یہی وجہ ہے کہ جو طلبہ یا نو وارِد مفتی صاحب کی مجلس میں بے لوثی کے ساتھ حاضر ہوتے تھے ان کی اصلاح ہوتی رہتی تھی؛ کیوں کہ اصلاح کے لیے صلاح اور اخلاص ضروری ہے اور مفتی صاحب میں یہ دونوں جوہر موجود تھے، اور جو بے مقصد یا مفاد پرستی کے جذبہ سے شریکِ مجلس ہوتے تھے وہ خالی دامن لوٹتے تھے یا مجلس کو الوداع کہنے پر مجبور ہو جاتے تھے۔

نا خوش گوار ماحول میں نصیحت کا اثر:۔

غالباً جمادی الاولی ۱۴۲۹ھ کی بات ہے، یہ وہ سال ہے جس میں جمعیت کا اختلاف برائے صدارت عروج پر تھا، دار العلوم کے احاطہ میں بھی اس کے اثرات اور اس کی باز گشت دکھائی اور سنائی دیتی تھی۔ ایک شب دار العلوم میں کچھ شر پسند عناصر نے ایسا انتشار پھیلایا کہ اس نے بہت سارے طلبہ کو اپنے حصار میں لے لیا۔ اس بھیڑ نے دفترِ اہتمام میں توڑ پھوڑ کی اور کچھ کاغذات بھی جلا دیے۔ تقریباً ڈھائی بجے رات مفتی سعید احمد صاحب، مولانا ریاست علی صاحبؒ (م: ۲۰۱۷ء) وغیرہ تشریف لائے، دار الحدیث میں طلبہ کو جمع کیا گیا۔ طلبہ کے درمیان مفتی صاحب کی مقبولیت کچھ ایسی تھی کہ مفتی صاحب کی مختصر تقریر سے حالات قابو میں آگئے۔ مفتی صاحب نے کہا: جمیعت کی لڑائی کو دار العلوم سے مت جوڑو، تم پڑھنے آئے ہو پڑھو۔ دار العلوم کی املاک، قوم وملت کی املاک ہیں، آپ کو کیا حق پہنچتا ہے کہ انھیں نقصان پہنچائیں، آپ کو اگر اشخاص سے شکایت ہے تو اشیاء کو نقصان کیوں پہنچاتے ہو؟ چناں چہ سارے طلبہ اپنے اپنے کمروں میں چلے گئے، اور ایک بہت بڑا فتنہ ختم ہو گیا۔

پان کھانے میں اپنے استاذ کی تقلید

مفتی صاحب کو پان کھانے کی عادت تھی، پاندان، ناگردان اور اگلدان آپ کی نشست گاہ کے قریب ہی رکھے رہتے تھے، اکثر خود ہی پان کے بیڑے اور گلوریاں تیار کرتے تھے، دورانِ سفر بھی اس کا اہتمام تھا، دورانِ سفر پان سے افطار  کا واقعہ بھی سنایا کرتے تھے۔ سبق پڑھانے آتے تھے تو پان ضرور کھاتے تھے، لیکن احاطہ مولسری میں پہنچ کر کنویں والے ہینڈ پائپ پر پان تھوک کر کے دار الحدیث میں تشریف لاتے تھے۔ ایک مجلس میں مفتی صاحب کو پان کھاتا ہوا دیکھ کر میں نے پوچھا: پان کھانے میں طلبہ کو اپنے استاذ کی تقلید کرنی چاہیے یا نہیں؟ فرمایا: تقلیدِ لغوی جائز ہے، شرعی ناجائز ہے؛ کیوں کہ شرعی تقلید صرف شرعیات میں ہوتی ہے۔ آہ اب ایسی علمی مجلسیں کیوں کر نصیب ہوں گی؟

ہمیں جب نہ ہوں گے تو کیا رنگِ محفل
کسے دیکھ کر آپ شرمائیے گا؟

حضرت الاستاذ کی قیمتی باتیں:۔

۔۱۔ ایک مجلس میں میں نے کہا: حضرت میں نے آپ سے طحاوی کا سبق پڑھا ہے، اب میں طحاوی پڑھا رہا ہوں، آپ اس کی اجازت دیں گے؟ کہنے لگے: یہ سب برکت کے لیے ہے۔ سندیں سب لکھی ہوئی ہیں، تا ہم تین شرطوں کے ساتھ میری طرف سے اجازت رہتی ہے: روایت کرنے والا اہل السنۃ ہو، حدیث سمجھتا ہو اور تثبت کے ساتھ بیان کرتا ہو۔

۔۲۔ ایک بار فرمایا: جب میں مدرس ہو کر راندیر گجرات جا رہا تھا تو میرے استاذ علامہ ابراہیم بلیاویؒ نے مجھے تین نصیحتیں کی تھیں: (الف) فن دیکھ کر پڑھائیو، علم آئے گا۔ (ب) سنت کی پیروی کیجیو، عند الناس مقبولیت نصیب ہوگی۔ (ج) شاگردوں کو اولاد سمجھیو۔

۔۳۔ سفر نمونۂ سفر تو ہے؛ تا ہم سفر وسیلۂ ظفر بھی ہے۔

۔۴۔ مجھ سے پوچھا: ‘تبریز’ کا معنی کیا ہے؟ میں کہا: ایک نہر کا نام ہے یا پھر بابِ تفعیل کا بگڑا ہوا مصدر ہے۔ مفتی صاحب نے کہا: نہیں، یہ فارسی لفظ ہے، اور سونا (ذھب) کے معنی میں ہے۔

۔۵۔ میبذی میں الہیات پڑھانے کی چیز ہے، شروع کا حصہ تو فلسفہ کی تردید میں لکھا گیا ہے۔

۔۶۔ ایک مجلس میں بہ وقتِ رخصت میں نے نصیحت کی درخواست کی تو کہا: میری کتابیں پڑھو۔

۔۷۔ استاذ شاگرد کے درمیان علمی پردہ حائل رہنا چاہیے۔ استاذ شاگردوں سے بے تکلف رہے، لیکن علم کا رعب باقی رہنا چاہئے۔

۔۸۔ اگر استاذ فن جانتا ہوگا اور فن دیکھ کر پڑھاتا ہوگا تو طلبہ کو فیض پہنچے گا ورنہ نہیں۔

۔۹۔ مصباح اللغات اور المعجم الوسیط میں زندہ الفاظ ہیں، اور مردہ الفاظ یعنی جن کا استعمال بند ہوگیا ہے ان کا قبرستان ‘تاج العروس’ اور ‘لسان العرب’ ہے۔

۔۱۰۔ ترمذی کے سبق میں ایک روز فرمایا: دعوت کی تین قسمیں ہیں: کامل دعوت (پیسہ دے دینا)،  ہاف دعوت (کھانا گھر بھیج دینا)، دعوت لا شئ (گھر بلا کر کھلایا جائے اور سارے لوگ دیکھیں)۔

ایک عوامی خطاب

۔۲۶/ صفر ۱۴۲۸ھ مطابق ۲۰۰۷ء کو دار العلوم دیوبند کی مسجد رشید میں غلہ اسکیم کا جلسہ منعقد ہوا۔ مفتی صاحب کا خطاب سننے کے لیے میں بھی حاضر تھا، مفتی صاحب نے سورۃ العصر کی تلاوت فرمائی اور اس کی روشنی میں عوام الناس کو خطاب کرتے ہوئے فرمایا: جن میں چار باتیں ہوں وہ تو کام یاب ہیں، بقیہ لوگ بلا شبہ خسارے اور گھاٹے میں ہیں۔ زمانہ کی قسم یہ اس کی دلیل ہے، یعنی انسانی تاریخ کا مطالعہ بتاتا ہے کہ صرف وہ قومیں پنپ سکی ہیں جن میں ایمان، نیک عمل، حق کی وصیت وتاکید اور مصائب پر صبر اور آلام پر ایک دوسرے کو ہمت دلانا، موجود ہوں۔ انسانی تاریخ حضرت آدم سے شروع ہوتی ہے، ہابیل وقابیل کا واقعہ دیکھیے، ہابیل کو قابیل نے قتل کیا تو وہ گھاٹے میں رہا، حضرت نوح اور ان کی قوم کی تاریخ دیکھیے، ان کی پوری قوم طوفان میں بہہ گئی؛ کیوں کہ ایمان قبول نہیں کیا تھا۔ آگے بڑھو، حضرت ابراہیم علیہ السلام  اور نمرود کے قصہ میں نمرود گھاٹے میں رہا، حضرت موسی علیہ السلام  اور فرعون کا واقعہ دیکھیے، حضرت موسی علیہ السلام  کام یاب اور فرعون نامراد ہوا، حضرت عیسی علیہ السلام اور یہودیوں کے قصہ میں یہودیوں نے حضرت عیسی  علیہ السلام کو اپنے خیال میں پھانسی دی، لیکن وہی ناکام رہے، بعد میں حضرت عیسی علیہ السلام  کا دین عام اور شائع ہوگیا، اور آخر میں حضور علیہ  السلام اور قریش کا حال دیکھو، قریش گھاٹے میں رہے۔ الغرض کام یابی انھی چار باتوں میں مضمر ہے۔

ہندوستان اسلامی اعتبار سے دیگر ممالک سے بہتر اسی لیے ہے کہ یہاں مدارس کا نظام ہے، جس سے تواصی بالحق والصبر کا کام ہوتا ہے، اور جب یہ دونوں باتیں ہوں گی تو ایمان وعمل خود وجود میں آئیں گے؛ اس لیے آپ حضرات اپنے محلے میں مکتب قائم کریں، کسی بچے کو بے تعلیم نہ رہنے دیں، دینی ماحول میں دنیا پڑھانے میں کوئی حرج نہیں اور جو جوان وبوڑھے مکتب نہیں جا سکتے وہ جماعت میں نکل کر دین سیکھیں۔

اللہ کی طرف سے بندوں کی آزمائش ہوتی ہے اور ‘وإذ ابتلی إبراهیم ربه’ میں ‘ربہ’ کے لفظ سے معلوم ہوتا ہے کہ آزمائش تربیت اور ربوبیت کے لیے ہوتی ہے؛ کیوں کہ اللہ تعالی نے ابتلاء کے ساتھ ‘رب’ کا لفظ استعمال کیا ہے، دوسری آیت ‘ولنبلونکم بشيء من الخوف والجوع ونقص من الأموال والأنفس والثمرات’ سے معلوم ہوتا ہے کہ پانچ باتوں سے آزمائش ہوتی ہے؛ اس لیے جب ایسے حالات آئیں تو اس پر صبر کرنا چاہیے، اس کا اجر ملے گا۔

راقم الحروف عرض گزار ہے کہ مفتی صاحب کی عوامی تقریر بھی دل پذیر ہوتی تھی، درسِ حدیث میں تو محدثانہ شان ظاہر ہوتی ہی تھی، تاہم عوامی تقریروں میں مفسرانہ گفتگو سے اندازہ ہوتا تھا کہ آپ کو قرآن فہمی کا عمدہ ذوق عطا کیا گیا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ آپ نے تکمیلِ افتاء کے سال قرآن مجید حفظ کیا، شعبہ چمن بندی کا موجودہ  دفتر آپ کا کمرہ تھا، دیکھنے والے بتاتے ہیں کہ عشاء کے بعد اس کمرے کے چبوترے پر بیٹھ کر آپ نے قرآن یاد کیا، آپ کا ماننا تھا کہ قرآن سمجھنے کے لیے حفظِ قرآن ضروری  امر ہے۔ اور یہ واقعہ ہے کہ بہت ساری آیتوں کی تفسیر دوسری آیتوں سے ہو جاتی ہے، اگر وہ ساری آیتیں پیشِ نظر نہ ہوں تو مفسر عمدہ اور صحیح تفسیر کا فریضہ انجام نہیں دے سکتا۔

جن لوگوں نے مفتی صاحب کی تفسیر نہیں سنی ہے انھیں مفتی صاحب کےذوقِ تفسیر کے لیے ‘ہدایت القرآن’ کا مطالعہ کرنا چاہیے۔ تفسیر ہدایت القرآن مفتی صاحب کے قلم کا آخری شاہ کار ہے، پارہ تیس اور ایک تا نو کی تفسیر مولانا محمد عثمان کاشف الہاشمی صاحب کے قلم سے ہے، بقیہ پاروں کی تفسیر مفتی صاحب نے کی ہے۔ مکمل تفسیر شائع ہو چکی ہے۔ مفتی صاحب فرمایا کرتے تھے: میں نے پہلے فقہ پڑھا، پھر حدیث پڑھی، اس وجہ سے میرے لیے قرآن سمجھنا آسان ہوگیا۔ گمراہی سے بچنے کے لیے یہی ترتیب مناسب ہے؛ کیوں کہ صرف فقہ پڑھو گے تو جمود کا شکار ہو جاؤگے اور صرف حدیث پڑھو گے تو غیر مقلد بن جاؤگے، قرآن کا عالمانہ فہم: فقہ، حدیث اور کلام پڑھے بغیر ممکن نہیں ہے۔ ایک بار اپنا رمضان کا معمول بتایا کہ رمضان میں صرف قرآن مجید پڑھتا اور سمجھتا ہوں، تصنیف وتالیف اور دیگر علمی مصروفیات بند کر دیتا ہوں۔

ہمارا سبق اور ہماری ذمہ داریاں:۔

اِس فانی دنیا میں جب موت کا وقت آ پہنچتا ہے تو زندگی  دوڑتی ہوئی موت سے لپٹ جاتی ہے؛ اسی لیے یہاں زندگی سے زیادہ کوئی جی نہیں سکتا اور موت سے پہلے کوئی مر نہیں سکتا۔ مفتی صاحب بھی اِس فانی دنیا میں عارضی طور پر مقیم تھے، اس لیے اپنے وقتِ موعود پر فانی دنیا سے دارِ بقاء کی جانب کوچ کر گئے، لیکن اشاعتِ اسلام، حفاظتِ اسلام اور دفاعِ اسلام کے حوالے سے آپ کی خدمات، آپ کی محنتیں اور آپ کی کوششیں زندہ جاوید ہیں؛ کیوں کہ مفتی صاحب جیسے عبقری اور مثالی شخصیات کی خدمات اور ان کی یادیں اِس دار فانی میں لباسِ بقاء زیبِ تن کر لیتی ہیں، یہ نظامِ قدرت کا حصہ ہے کہ مفتی صاحب جیسے اکابر امت کے کارہائے نمایاں کے فانی جسم میں روحِ بقاء حلول کر جاتی ہے، اسی لیے ایسے لوگ پسِ مرگ زندہ کا مصداق ہوتے ہیں۔ اس لیے  جب تک اہلِ علم کی انجمنیں قائم رہیں گی، ان انجمنوں میں مفتی صاحب کا ذکرِ سعید ہوتا رہے گا، ان شاء اللہ۔ مفتی صاحب کی زندگی اپنے شاگردوں اور متعلقین سے یوں مخاطب ہے:۔

مٹا دے اپنی ہستی کو اگر کچھ مرتبہ چاہے
کہ دانہ خاک میں مل کر گل وگلزار ہوتا ہے

آخر میں شیخ الحدیث مولانا محمد زکریا صاحب نور اللہ مرقدہ (م: ۱۹۸۲ء) کے ایک خط کا حصہ درج کرنا مناسب معلوم ہوتا ہے۔ یہ خط شیخ الحدیث کی طرف سے ۹/ شعبان ۱۳۹۸ھ کو مدینہ منورہ سے مفتی تقی عثمانی صاحب کو لکھا گیا ہے۔ یہ خط البلاغ خصوصی اشاعت کراچی میں شائع ہوا ہے۔ حضرت شیخ لکھتے ہیں:۔

‘‘ایک وہ زمانہ تھا کہ دونوں مدرسوں میں دربان سے لے کر صدر مدرس اور مہتمم تک ہر شخص صاحبِ نسبت ہوتا تھا، آج میں اپنی آنکھوں سے دیکھ رہا ہوں کہ وہ امتیازی شئون مٹ رہی ہیں جو اپنے اکابر کا طرۂ امتیاز تھیں۔ اکابر ایک ایک کرکے رخصت ہو چکے ہیں، اور اصاغر ان کی جگہ تو لے رہے ہیں، لیکن علوم واعمال اور اذکار میں ان کے قائم مقام نہیں بن رہے ہیں۔ صرف رسمیہ الفاظ اور شاعرانہ قسم کے مضامین کی بہتات رہ گئی ہے، جن چیزوں کی ضرورت ہے وہ کماً وکیفاً ختم ہو رہی ہے۔ کسی کی وفات پر ماہناموں کے نمبر نکلنا یہ بھی ایک فیشن سا ہوگیا ہے، نمبر نکال دینے سے مرنے والے کا حق ادا نہیں ہو جاتا، جانے والے نے جو شریعت اور طریقت کی خدمت انجام دی اس کو آگے بڑھانا اور اس مزاج کے آدمی پیدا کرنا بہت زیادہ ضروری ہے۔’’۔

جنھیں مفتی صاحب کی شاگردی کا شرف حاصل ہے ان کی ذمہ داری ہے کہ وہ اپنی تدریسی، تصنیفی اور علمی وعملی زندگی میں مفتی صاحب کے چھوڑے ہوئے انمٹ نقوش کو سرمۂ چشم بنائیں اور ان کے مشن کو آگے بڑھائیں، یہی مفتی صاحب کی روح کی تسکین کا صحیح سامان ہوگا۔ مفتی صاحب کی زندگی کی ایک خاص بات یہ بھی ہے کہ انھوں نے اپنے مزاج ومذاق، افادات وخطبات، ارشادات وملفوظات اور علمی وعملی خدمات کو ہمیشہ کے لیے محفوظ کر دیا ہے، چناں چہ  کتابی شکل میں ساری چیزیں موجود ہیں؛ اس لیے ان سے استفادہ اور ان سے حصولِ روشنی اپنے لیے بھی آسان ہے اور اگلی نسلوں کے لیے بھی سہل ہے۔

نہیں ہے پیرِ مے خانہ، مگر فیضان باقی ہے
ابھی تک مے کدہ سے بوئے عرفانی نہیں جاتی

٭٭٭