Tue, Mar 2, 2021

پیکرِعلم وعمل :مولانابختیاری صاحبؒ
(ولادت:۱۹۴۹ء – وفات:۲۰۲۰ء)
ازقلم:محمدتبریزعالم حلیمی قاسمی
خادم تدریس دارالعلوم حیدرآباد
Email: mtalam800@gmail.com
‏ Mob: 0720732673

اس دنیا میں جن شخصیتوں سے کسی بھی نو ع کا رشتہ و رابطہ ہوتا ہے موت اس رشتہ اور رابطہ کو توڑ دیتی ہے، اور چوں کہ یہ نظام ِکائنات کا حصہ ہے اِس لیے اِس پر بہ حیثیت مسلمان کچھ تعجب اور حیرت نہیں ہونی چاہیے؛لیکن کچھ ہستیاں ایسی ہوتی ہیں کہ ان کےاِس فانی دنیا سے رخصت ہو جانے پرفطری طور پرغم و اندوہ سے دل دو چار ہوتا ہے، نیز ان کے محاسن وکمالات اور عادات و اخلاق کی یادوں کا رابطہ سلامت رہتا ہے ، گویا ان یادوں پر موت کا اثر ظاہر نہیں ہوتا ؛ اِسی لیےایسی باکمال اور مثالی شخصیات زندہ دلوں میں ہمیشہ زندہ رہتی ہیں۔
مولانا سید احمد اللہ بختیاری صاحب رحمۃ اللہ علیہ سابق استاذِ حدیث دارالعلوم حیدرآباد، اسی شجرِطوبی کی ایک خوبصورت شاخ تھے،ان کا اِس دنیا سے رخصت ہو جانا پس ماندگان اور متعلقین کے لیے بڑا خسارہ ہے ،دارالعلوم حیدرآباد میں راقم الحروف جن بزرگوں اور اکابر کی جوتیاں سیدھی کرنااپنی سعادت سمجھتا تھا، مولانا سید احمداللہ بختیاری صاحبؒ ان میں سرِ فہرست تھے،راقم الحروف اور مولانا مرحوم بہت سی باتوں میں ہم مزاج تھے، مولانا سید صبغت اللہ بختیاری صاحب ؒ اپنے وقت میں ایک جلیل القدر اور جید عالم دین تھے ،مولانا حسین احمد مدنی ؒکے تلمیذِ خاص اور خلیفہ تھے ،جس دور میں مولانا علی میاں ندویؒ، مولانا منظور نعمانیؒ اور دیگر چوٹی کے علماء مولانا مودودی کے دست و بازو کی حیثیت رکھتے تھے، اس وقت مولانا صبغت اللہ بختیاری صاحب مدراس وغیرہ کے علاقہ میں جماعت کے اہم ذمہ داروں میں تھے،اور جب جماعت کی گمراہیوں سے باخبر ہوئے تو دیگر اکابر کے ساتھ علیحدگی اختیار کی، مولانا احمد اللہ بختیاری صاحب اسی عظیم باپ کےلائق فرزند تھے، آپ کا گھرانہ علمی ودینی مزاج کا حامل ہے،علم و عمل ، سادگی و تواضع ،عالمانہ شان بزرگانہ وضع قطع ، اور بہت ساری نیک صفات آپ کو ورثہ میں ملی تھیں۔
آپ نےدارالعلوم لطیفیہ ویلورمیں قرآن مجیدحفظ کیا،جامعہ باقیات صالحات ویلورمیں متوسطات تک تعلیم حاصل کی،آپ دارالعلوم دیوبند سے فراغت کے بعد جامعۃ الامام محمد بن سعود ریاض، سعودی عرب کے کلیۃ اللغۃ العربیہ میں چار سال رہے ۔ جامعہ عثمانیہ حیدرآباد سے پی ایچ ڈی کی ڈگری بھی حاصل کی تھی،چوں کہ آپ کے والد گرامی مولانا مدنی کے خوشہ چیں تھے اِس لیے آپ کے مزاج میں جہاں علمی رنگ غالب تھا وہیں آپ کو اکابرِدیوبندسے بہت مناسب تھی،بایں وجہ ان کی باتیں اور یادیں حافظہ کا حصہ تھیں چنانچہ حسبِ موقع ہم طالب علموں کو خوب مستفید کیا کرتے تھے۔
احاطہ دارالعلوم حیدرآباد میں آپ ’’بختیاری صاحب‘‘سے معروف تھے،طلبہ اور اساتذہ اسی نام سے پکارتے تھے، بختیاری آپ کے والد اور آپ کے ساتھ آپ کے اہلِ خانہ کے ناموں کا حصہ اورلاحقہ کیوں تھا مجھے اس کاعلم نہیں ہے؛لیکن مولانابختیاری صاحب کی صورت و سیرت دیکھ کر مشہور بزرگ قطب الدین بختیار کاکی دہلویؒ کی یاد تازہ ہو جاتی تھی؛ کیوں کہ بختیار کاکی اور مولانا بختیاری دونوں سادات میں سے ہیں، دارالعلوم حیدرآباد میں کم و بیش تیس سال کا عرصہ تدریسی خدمات میں آپ نے صَرف کیا اور یہاں ابتدائی کتابوں سے لےکر دورہ حدیث تک کی کتابیں شوق و ذوق کے ساتھ پڑھائی، اپنی وفات سے چار پانچ سال قبل دارالعلوم حیدرآباد سے سبک دوش ہو گئےتھے؛ لیکن اِس دوران اپنے گھر میں لکھنے پڑھنے کا مشغلہ جاری رکھا ،اِس دوران جب بھی ملاقات کےلیےمیں ان کے دولت کدہ پر حاضر ہوا ہمیشہ قلم وقرطاس کی ڈور سے انھیں بندھا ہوا پایا، دیکھ کر رشک بھی ہوتا تھا اور خوشی بھی۔
مولانا بختیاری صاحب کی کتابِ زندگی کے بہت سارے ابواب و عنوانات ہیں ؛تاہم لایعنی باتوں اور بے فائدہ کاموں سے پرہیز اوردوری آپ کی زندگی میں بہت صاف اور نمایاں طور پر محسوس ہوتی تھی ۔ترمذی کی روایت ہے : انسان کے اسلام کی ایک خوبی بے فائدہ چیزوں کو چھوڑ دینا ہے۔ اس روایت سے معلوم ہوتا ہے کہ انسان چوں کہ اِس دنیا میں آخرت کمانےکے لئے آیا ہے اِس لیے اس کے لیے ضروری ہے کہ وہ گناہوں سےاپنےآپ کو بچائے؛بلکہ فضول باتوں اور بے کار کاموں سے خود کو کنارے اور دور رکھے؛ کیوں کہ فضول بات اور بے فائدہ کام میں اگر گناہ بھی نہ ہو تو کیا یہ تھوڑا نقصان ہے کہ جتنی دیر کوئی فضول بات یابے فائدہ کام کیا اتنی دیر میں جو آخرت کی کمائی ہو سکتی تھی اس سے محروم ہوگیا ۔
بختیاری صاحب کی زندگی سرکارِ دو عالم صلی اللہ علیہ وسلم کے مذکورہ ارشاد اور اس کی تشریح کی آئینہ دار تھی، بے جا سوالات، تجسس، فضول بحث و تکرار، سیاست ،احوالِ مدارس و متعلقات مدارس پر بے فائدہ تبصروں سے بہت دور تھے ۔جب بولتے تھےتومنطقی اندازواستدلال کے ساتھ ناپ تول کر بولا کرتے تھے،جہاں بیٹھتےتھےعلم کےشگفتہ پھول کِھلا دیتے تھے ،اپنے اکابر واسلاف کے علوم و معارف اور ملفوظات و ارشادات سے مجلس کو لالہ زار بنا دیا کرتے تھے،اگر گفتگو کا موقع نہ ہوتا تو سادگی اور سنجیدگی کے ساتھ اپنے کام میں لگے رہتے تھے ،مطالعہ ،تصنیف و تصحیح یا قرآن پڑھنا اور سننا آپ کی خلوتوں اور تنہائی کی غذا تھے، اگر آپ کے سامنے کوئی لایعنی گفتگو یابے فائدہ کاموں کا تذکرہ ہوتا تو بہت خوبصورت انداز میں ٹال دیتے یا کوئی مناسب تاویل کر لیا کرتے تھے یا پھر لاعلمی کا اظہار کیا کرتے تھے۔ لایعنی اور بے فائدہ باتوں اور کاموں سے پرہیز کی برکت تھی کہ آپ نےاپنی تدریس کے ساتھ تصنیف و تالیف کے میدان میں بھی شہسواری کی،پیرانہ سالی اور کمزوری کے باوجود مسودات کا ایک تھیلہ ساتھ لیے رہتے تھے، تقریبا ایک درجن سےزائد کتابیں درسی شروحات اور دینی موضوعات پر تصنیف کیں، مضامین ومقالات اس کے علاوہ ہیں۔اردو کے ساتھ عربی زبان میں خامہ فرسائی کا ذوق بھی اچھا تھاچنانچہ عربی زبان میں لکھی گئی کئی تحریریں آپ کی یاد تازہ کرتی رہیں گی۔ مدارس اِسلامیہ کے ماحول میں مولانا بختیاری صاحب کی کتابِ زندگی کا یہ باب ہم جیسوں کے لیے لائق تقلید اور قابلِ رشک ہے۔
مولانا بختیاری صاحب کی زندگی کا ایک نمایاں وصف ’’نافعیت‘‘ہے اپنی ذات سےدوسروں کوہمیشہ نفع پہنچانےکی فکر سے سرشار تھے،جس کے حق میں نافع نہیں تھے اس کے حق میں ضاربھی نہیں تھے،خیر الناس من ینفع الناس کے پیشِ نظر آپ ایک اچھے انسان اور بہترین مسلمان کا نمونہ تھے، مجھے آپ کی ذات سے بہت نفع ہوا، چنانچہ میں نے آپ سےملازمت اور تدریس و تصنیف کے حوالہ سے بہت کچھ سیکھا اور فائدہ اٹھایا۔
مولانابختیاری صاحبؒ کواللہ تعالی کےپاک کلام سےبہت لگاؤتھا۔شغف بالقرآن کےتعلق سےیہ بات قابلِ ذکرہی نہیں؛ بلکہ قابلِ تقلیدوعمل ہےکہ مولانامرحوم تقاضاکرکےاعدادیہ کی جماعت میں قرآن پاک کےدورکاگھنٹہ لیاکرتےتھے،یہ بات اوریہ واقعہ ایک طرف آپ کےشغف بالقرآن کاغمازہےتودوسری طرف درس وتدریس کی روایتی فضاکےپس منظر میں آپ کی تواضع وفنائیت کاعکاس بھی ہے؛کیوں کہ اس وقت آپ دورہ حدیث میں موطین جیسی اہم کتاب کےموقراستاذتھے،مولانابختیاری صاحبؒ کےایک لائق شاگرداوردارالعلوم حیدرآبادمیں حدیث وافتاءکےاستاذمفتی مکرم محی الدین صاحب نےبتایا:ایک دفعہ حضرت کی زبانی کچھ اِس طرح سناتھاکہ ابتدائی دورمیں تراویح میں قرآن پاک سنانےکامعمول تھا،مگربعدمیں یہ سلسلہ قائم نہ رہ سکاتواس کی تلافی یوں کی کہ ماہِ مبارک میں ہرسال یومیہ دس تاپندرہ پارےتلاوت کامعمول بنالیااورپیرانہ سالی اورضعف کےزمانہ میں یہ معمول اِس طرح پوراکرلیاجاتاتھاکہ کچھ پاروں کی تلاوت کرلی جاتی اورکچھ پارےائمہ حرم کی ریکارڈنگ سننےکےذریعہ مکمل کرلیےجاتے۔
شفقت و محبت انسان میں پائی جانے والی وہ عمدہ صفت ہے جس کی بنیاد پر انسان مثالی اور باکمال بن جاتا ہے، لوگوں میں مقبولیت و محبوبیت کا مقام حاصل کر لیتا ہے، مولانا بختیاری صاحبؒ شفقت و محبت کے حسین پیکر تھے ،نہ صرف یہ کہ طلبہ کے ساتھ نرمی، شفقت و محبت کا معاملہ کرتے تھے؛ بلکہ اساتذہ کرام کے ساتھ آپ کا مشفقانہ سلوک محبت بھرا رویہ اور پرخلوص انداز بے مثال تھا ؛اِسی لیےآپ سب کے محبوب تھے اور اِسی لیےسب آپ کا احترام کیا کرتے تھے۔ طلبہ کی ٹھوس استعداد کے پیشِ نظر انھیں متعلقہ کتب ِدرسیہ کے نوٹس بھی دیا کرتے تھے ۔
مجھے بختیاری صاحب کے ساتھ ایک سال ایک ہی کمرے میں رہنے کا موقع ملا،اس دوران آپ کی شفقت و محبت سے خوب بہرہ ورہوا، میں اور بختیاری صاحب عمر میں باپ بیٹے جیسےتھے؛لیکن بختیاری صاحب نے اپنی طرف سے کبھی یہ احساس نہیں ہونے دیا کہ وہ عمر میں مجھ سے کافی بڑے ہیں۔ گھٹنے میں تکلیف کی وجہ سے آپ کرسی پر بیٹھ کر ہی اپنا سارا ضروری کام کیا کرتے تھے،دوپہرکا کھانا عموماً ایک ساتھ ہو اکر تا تھا، میں ان کی کرسی کے پاس بیٹھا کرتا تھا؛ تاکہ انھیں سہولت ر ہے، بسااوقات میں ہی انھیں کھانا دیتا ،پانی پیش کرتا،کبھی ہاتھ دُھلادیتا،باہر جاتے وقت ان کی چپل سیدھی کر دیتا اور کبھی ان کی ضرورت کی چیز لینے میں ان کا تعاون کرتاتھا، ان سب موقعوں پر مجھے ایسا کرنے سے منع کرتے تھے ،اپنی معذوری اور پیرانہ سالی کے باوجود اکثر حکم دینے سے گریز کرتے تھے، میں نے بارہا کہا حضرت آپ میرے باپ جیسے ہیں، بلاتکلف حکم فرمایا کریں اس سے مجھے خوشی ہوگی؛ لیکن ہمیشہ مجھے ایک معاصر استاذ ہی سمجھا کیےاور مفتی صاحب کہہ کر متوجہ کیا کرتے تھے۔ اقدامی طور پر جب میں کوئی معمولی سا کام بھی کر دیا کرتا تھا تو بہت دعائیں دیا کرتے تھے، ان کا تعاون کرکے مجھے عجیب سا قلبی سکون ملتا تھا، اور ان کی دعاؤں سے بہت خوشی ہوتی تھی، یقیناً وہ دعائیں میرے حق میں تو شہ راہ ثابت ہوئی ہوں گی یا ہوں گی ان شاءاللہ ،کاش اس سعادت کا عرصہ اور دراز ہوتا اور کاش ان کی خدمت کا مزید موقع ملتا۔
آپ کے گلدستہ حیات میں فیاضی،سخاوت اوراعلی ظرفی جیسے پھول بھی تھے، مدرسہ کےٹفن میں کبھی حیدرآبادی طرزکا سالن ہوتا تھا تو میرے منع کرنے کے باوجود میرے لیے باہر سے میری پسند کے مطابق کچھ منگوادیا کرتےتھے،کھانے کے بعد کبھی مشروب کا انتظام کرتے تھے، ایک روز پلاسٹک کے دو ڈبے لے کر آئے، بڑے ڈبے میں بسکٹ اور چھوٹے ڈبے میں نمکین تھی۔کہنے لگے دورانِ تدریس بھوک لگ جاتی ہے اِس لیے یہ انتظام کیا ہے آپ بھی استعمال کیا کریں، وہ دونوں ڈبے ان کی اجازت سے آج بھی میرے گھر کی زینت اور ان کی یادگار ہیں ، میرے گھر اور اہلِ خانہ کے تعلق سے اکثر خیر خیریت معلوم کیا کرتے تھے ،ایک مرتبہ وطن روانگی کے موقع پر میرے والد مرحوم کے بارے میں پوچھا تو میں نے کہا کہ گھٹنے میں کافی درد رہتا ہے، اس پر نہ صرف یہ کہ کچھ دواؤں کے نام بتلائے، بلکہ دوسرے دن کچھ دوائیں عنایت فرمائیں اور پیسے بھی نہیں لیے۔ میرے والد مرحوم کو اس سے بہت خوشی ہوئی تھی ۔امتحانات میں جو الاؤنس ملتا تھا عموماًنظمائےامتحان میں تقسیم کر دیا کرتے تھے، اِس حوالہ سے طلبہ بھی خوب مستفید ہوتے تھے، ایک مرتبہ مدرسہ عربیہ ریاض العلوم ،جون پوریوپی کے سفیر میرے پاس آئے ہوئے تھے ، مدرسہ ہذا کے صدر القراء اور میرے مشفق استاذ قاری اسماعیل صاحب زیدمجدہ کی ستودہ صفات شخصیت کا ذکر خیر ہوا تو مولانابختیاری صاحب نے رخصتی کے وقت نہ صرف یہ کہ سفیر مدرسہ کو ہدیہ پیش کیا، بلکہ قاری صاحب کی خدمت میں بھی غالبا ًسویادو سو روپے کا ہدیہ روانہ کیا ۔آپ کی شفقت،عنایت اور سخاوت کی یادیں ہمیشہ سلامت رہیں گی۔
مولانا بختیاری صاحب کے آئینہ حیات میں ذرہ نوازی اور حوصلہ افزائی کا عکسِ جمیل بھی خوب نظر آتا تھا ۔ حدیث پاک میں جس تعریف کی ممانعت وارد ہوئی ہے اس سے مراد ہے: حد سے زیادہ تعریف کرنا ،بتکلف مدح کرنا، جھوٹی یا خوشامدانہ تعریف کرنا، بختیاری صاحب جھوٹی تعریفوں اورخوشامدانہ رویوں سےدور ونفورتھے ؛لیکن اچھے کاموں کو سراہاکرتےتھے،ازراہِ خیرخواہی مفید مشورے دیا کرتے تھے، دل شکن اور حوصلہ شکن باتوں کے بجائے حوصلہ افزاء کلمات استعمال کیا کرتے تھے ۔ایک روز میں جلالین کے سبق سے لوٹ رہا تھا۔ راستے میں بختیاری صاحب سے ملاقات ہوگئی، فرمایا:علامہ شوکانی کی تفسیر فتح القدیر دیکھا کیجئے ۔علامہ شوکانیؒ بعض الفاظ کے متعدد معانی بیان کرتے ہیں ۔میں جب بھی اپنی کوئی تصنیف ان کی خدمت میں پیش کرتا تو نہ صرف یہ کہ اظہارِ خوشی کے ساتھ حوصلہ افزائی فرماتے، بلکہ سو روپے کا ہدیہ بھی عنایت فرماتے۔ ہمیشہ کچھ لکھنے کی تاکید کیا کرتے تھے ۔جب میں نے الاشباہ والنظائر پر کام شروع کیا تو مسودہ کا پہلا صفحہ ملاحظہ فرمایا اور کہا مجھے ترجمہ دیکھنا تھا، اندازہ ہوا کہ ترجمہ اچھا ہے ۔ الاشباہ کی تشریح وتسہیل کا کام اچھا ہے اسے ضرور مکمل کیجئے ۔امسال الاشباہ کی شرح تسہیل النظائر منظر عام پر تو آگئی ؛ لیکن افسوس آپ کی خدمت میں پیش نہ کرسکا اور آپ مالک حقیقی سے جاملے۔ میری جمعہ کی خطابت کا انھیں علم ہوا تو کہنے لگے اپنی تقریر یں ٹیپ کرکے کسی طالب علم کےتعاون سےمرتب کیجئے ۔یہ حوصلہ افزائی اور حسن ظن کی بات تھی ورنہ کہاں میں اور کہاں نکہتِ گل ۔یہ بھی حوصلہ افزائی اور اعتماد کی بات تھی کہ ایک موقع پر اپنی ایک تصنیف برائے پروف ریڈنگ اوربغرض تصحیح میرے حوالہ کی۔ میں نے جب کام مکمل کر کے کتاب ان کے حوالہ کر دی تو بہت خوش ہوئے اور دعاؤں سےنوازا۔
علم دوستی میں بھی آپ کی ایک الگ شناخت تھی ،عالم ہو کرعلم اور علماء پر مال وزرخرچ کرنا اِس زمانہ میں یقینا بہت بڑی خوبی ہے، آپ اس خوبی سےبھی متصف تھے،علم اور متعلقاتِ علم کے سلسلے میں جس چیز کی بھی ضرورت محسوس کرتے خریدلاتے،قلم، کاپی، کاغذات، فائل، زیروکس، بک بائنڈنگ ، پرنٹنگ،میز اور پیڈ وغیرہ جیسی چیزیں آئے دن مدرسہ میں لاتے رہتے تھے۔ علماء پر مال خرچ کرنے کے کچھ واقعات پیچھے لکھ چکاہوں۔
شہر حیدرآباد اور دارالعلوم حیدرآباد کی ایک ممتاز شخصیت اب ہمارے درمیان نہیں رہی،علم وعمل، خلوص و للہیت،تواضع وانکساری،سادگی وسنجیدگی اور مختلف کمال و جمال کا آفتاب ہمیشہ کے لیے غروب ہوگیا۔اب ان کی ذات سے استفادہ ممکن نہیں رہا،اب ان کی نکتہ آفرینی،بذلہ سنجی اور علمی لطائف و ظرائف سننے کے لیے کان ترستے رہیں گے؛لیکن آپ نے میرے علم کے مطابق جیسی زندگی گزاری اور اللہ تعالی نے آپ کو جس خدمتِ دین کے لیے منتخب فرمایا اس کےصلہ میں آپ کو بروز جزاء سرخ رو کیا جائے گا اور ابدی راحت و آرام مقدر ہوگا۔ مولانا سید احمد اللہ بختیاری صاحب سے میرے تعلقات اور ان کے ساتھ یا ان کے سایہ شفقت میں گزرے ہوئے ایام ولمحات کی یادیں اس وقت قلم کی راہ سےصفحہ قرطاس پرثبت ہونا چاہتی تھیں میں انہیں روک نہ سکا۔
مولانا سید احمد اللہ بختیاری کا سنِ ولادت ۱۹۴۹ءاورجائے ولادت رائے چوٹی آندھرا پردیش ہے،آپ کی تاریخ وفات۱۸/ذی قعدہ۱۴۴۱ھ مطابق۱۰/جولائی۲۰۲۰ءشبِ جمعہ ہے۔اپنےمکان واقع صالحین کالونی،حیدرآبادمیں آخری سانس لیا،مولانامجیب الدین صاحب حسامی استاذدارالعلوم حیدرآبادنےنمازِجنازہ پڑھائی،مصری گنج حیدرآباد کےایک قبرستان میں تدفین ہوئی،پس ماندگان میں بیوی، دو صاحبزادے اور دو صاحبزادیاں ہیں،بختیاری صاحب کی حیات میں ہی سب ازدواجی رشتہ میں منسلک ہوگئےتھے،آپ کے اہلِ خانہ کےبیان کےمطابق گذشتہ چندمہینوں سےآپ علیل تھے؛لیکن نمازوں کی پابندی کے ساتھ قرآن کریم کی تلاوت کامشغلہ آخری وقت تک موقوف نہیں ہواتھا،امسال رمضان المبارک کےمکمل روزےبھی رکھےاورتراویح کااہتمام بھی کیا۔مولاناکی اہلیہ محترمہ نےبتایاکہ تہجدکی نمازآپ کادائمی معمول تھا۔
ملک وبیرون ملک میں آپ کے جوشاگرداورروحانی اولادمصروفِ عمل ہیں،ان کی تعدادبہت زیادہ ہے،جنھوں نےآپ کے سامنے زانوے تلمذ وادب تہ کیےہیں ان میں مفتی تجمل حسین قاسمی،مولانامجیب الدین حسامی،مولاناسیداحمدومیض ندوی نقشبندی،مفتی مکرم محی الدین قاسمی صاحبان(اساتذہ دارالعلوم حیدرآباد)اورمولاناموسی خان ندوی صاحب کےاسماءگرامی قابلِ ذکرہیں۔
آپ کی تصانیف درج ذیل ہیں:
1. ابن هشام النحوي خدماته وآراؤه (غیر مطبوع)
2. الإمام أبو الحسن الأشعري حياته وآراؤه (غیر مطبوع)
3. أدب الحديث النبوي عليه السلام (غیر مطبوع)
4. قصة يوسف ابن يعقوب – عليهما السلام – دراسة أدبية، تحليلية، تطبيقية
5. قصة أصحاب الأخدود – دراسة أدبية، تحليلية، تطبيقية
6. أقصوصة الحب (دراسة أدبية تحليلية)
7. العقيدة الطحاوية نسخة رتبها: الشيخ محمد بن أحمد القاسمي تخريج الآيات، والأحاديث، وترقيمات العبارات (من أسلوب قديم إلى الأسلوب الجديد) وترجمة المؤلف رحمه الله
8. كتاب المرتضي: للشيخ أبي الحسن علي الحسني الندوي – رحمه الله – (وحقيقة النقد عليه)
9. الأستاذ المودودي، والشيخ البختياري – رحمهما الله – (دراسة تاريخية، تحليلية التي تظهر بها مواضع الاتجاه الفكري، والعلمي، والعملي بينهما، ومواقع الاختلاف بينهما مع الودِّ بينهما)
10. الشيخ حسين أحمد المدني والشيخ صبغة الله البختياري دراسة تحقيقية، تثبت بها (العلاقات الودية بينهما كشأن السلف)
11. المدارس العربية الجنوبية وعلاقاتها مع الشيخ البختياري – رحمه الله – وخدماته فيها، (عشرين مدرسًا)
12. ذكريات الإمام الندوي الأدبية رحمه الله
13. مناسكِ الحج
14. تكفيرى افسانے
15. یہودیت،مسیحیت،قادیانیت،بریلویت (محاضرات)
16. شرح الموطأ ( اردو،کتاب الطھارہ)
اہم مقالات:
1. قرآن كريم كا اعجاز بيانى
2. بزرگوں کے ملفوظات ادب اور دين کے آئينہ میں
3. مسلمان اور عالمي ذرائع ابلاغ
4. حديث كے تربیتی پہلو
5. سيد سليمان ندوی كی شاعری میں درد مندی کے عناصر
اللہ تعالیٰ پس ماندگان اورمتعلقین کوصبرجمیل عطافرمائےاورمولانابختیاری صاحب کوغریقِ رحمت فرمائے۔
٭٭٭