Sun, Feb 28, 2021
*فاروقِ ثانی حضرت عمر بن عبدالعزیز علیہ الرحمة*
*محمد ناصر متعلم جامعہ اسلامیہ دارالعلوم حیدرآباد* 
محترم قارئین کرام ! آپ تمام کے علم میں یہ بات ہیکہ حضرت عمر بن عبدالعزیز رح کی مزارِ مبارک کو نقصان پہونچایا گیا بظاہر جنگ کرنے کی ہمت نہی تبھی مزارات کو تحس نحس کرکے اپنے غصہ کو ٹھنڈا کررہے ہیں یہ دشمنی یہ بغض وعداوت آج کل سے نہی بلکہ برسہا برس سے ہے اللہ نے کیا خوب ارشاد فرمایا ۔قل موتوا بغیظکم۔ مرو اپنے غصے میں لہذا ان آیات کے یہ بھی مصداق ہیں ۔اسی حوالے سے ہم نے سونچا کہ عوام  کو حضرت عمر بن عبدالعزیز رح کے بارے میں آپکی حیات آپکے کارناموں سے واقف کرایا جائے آج امت میں  بڑا طبقہ اسلامی تاریخ سے بے خبر ہے انہیں اپنا ماضی یاد نہی ڈراموں فلموں سے تاریخ کا صحیح پتہ چل ہی نہی سکتا جسمیں جھوٹ اور سچ دونوں کی آمیزش ہو الغرض ہمارا یہ موضعِ بحث نہی ہے اسپر الگ سے مضمون ہم نے پوسٹ کیا ہے آپ اسکا مطالعہ فرمائے۔۔
آپکا نسب :- ابو حفص کنیت اور عمر نام تھا باپ کام عبدالعزیز اور ماں کا نام ام عاصم ہے ۔۔سلسلہ نسب یوں ہے۔۔عمر بن عبدالعزیز بن مروان بن الحکم بن العاص بن امیہ بن عبد الشمس—، 
حضرت عمر بن عبدالعزیز رح بنو امیہ کے حاکمِ وقت تھے آپ سے پہلے خلافتِ راشدہ کا دور دورہ تھا آپ کو خلافتِ راشدہ کا پانچواں خلیفہ بھی مانا جاتا ہے کیونکہ جب چاروں خلفاء کا دور ختم ہوا فتنوں کا دور شروع ہوگیا حضرت فاروقِ اعظم ؓ کی وفات کے بعد سے یہ سلسلہ اور مضبوط ہوتا گیا اسی فتنے میں حضرت عثمانؓ شہید ہوئے اسی میں حضرت علیؓ شہید ہوئے اسی میں حضراتِ حسن وحسین ؓ شہید ہوئے  جس دور میں امن چین سکون غالب تھا پھر جب خلفاء راشدین کے دور کے بعد بنو امیہ کا دور آیا بنو امیہ نے سارے لوگوں پر اپنے مظالم ڈھا رکھے تھے ہر طرف ظلم وبربریت کا دور تھا امن وسکون ان سے چھین لیا گیا تھا اس بے پناہ اندھیرے میں اللہ جل شانہ نے خلفاء بنو امیہ میں ایک جلیل الشان خلیفہ پیدا فرمایا عمر بن عبدالعزیز رح خلافت پر نمودار ہوئے بدر بن کر چمکے اور شہید ہوکر رو پوش ہوگئے
حضرت عمر بن خطابؓ آپ کے پر نانا ہیں آپ کے صرف نانا حضرت عاصم ؓ ہے آپکے والد گرامی حضرت عبدالعزیز ہیں آپکی والدہ ام عاصم ؓ ہے حضرت عاصم ؓ حضرت عمر بن خطاب کے صاحبزادہ ہیں حضرت عاصمؓ بڑے نیک پاکباز اور نہایت ہی شریف مزاج تھے آپکا اگر کسی سے جھگڑا ہوجاتا تو بنا کسی سے بحث کئے مجلس سے باہر آجاتے یہ سونچ کر کہ کہیں میرا غصہ آگ بن کر باہر نہ آجائے کیونکہ یہ تھے عمرؓ کے بیٹے اور آلِ عمر بیباک جرئت مند نہایت غصہ سے معروف ہیں لیکن جہاں شریعت کا معاملہ آجاتا وہاں اپنے آپکو عاجز سمجھتے تھے اور حضرت عاصمؓ عہدِ عبدالملک بن مروان میں ٧٠ ہجری تک زندہ رہے پھر آپکی وفات ہوئی۔۔
مضمون جتنا مختصر ہو اتنا اچھا ہے کیونکہ لوگ مضمون کی طوالت دیکھ کر ہی پڑھنا چھوڑ دیتے ہیں اسی لئے ہم خاص خیال کر رہے ہیں آپکی ذاتی زندگی ہی پر کچھ روشنی ڈالیں تاکہ عوام کو انکی خدمات کا علم ہوسکے الغرض حضرت عمر بن عبدالعزیز رح کی پیدائش سنہ ٦١ہجری میں ہوئی اور آپکی وفات سنہ ١٠٠١ ہجری میں مرض میں مبتلا ہوکر ہوئی آپ کو آپکے والد نے مدینہ طیبہ تحصیلِ علم کیلئے بھیجا آپ نے اپنے استاذ صالح بن کیسان سےخوب علمِ دین حاصل کیا ایک مرتبہ عبدالعزیز مدینہ طیبہ کی زیارت کیلئے تشریف لائے تو استاذ صاحب سے بیٹے کے متعلق حال پوچھا تو استاذ نے جواب دیا میں عمر سے زیادہ کسی بچے میں اللہ تعالی کی عظمت کو اتنا لبریز نہی پایا پھر وقت بڑھتا گیا شادی کی عمر کو پہونچے تو عبد الملک بن مروان نے اپنی بیٹی فاطمہ رح کو آپکے نکاح میں بھیجا اور عبدالملک کو عمر بن عبدالعزیز رح سے خوب انسیت تھی خود اپنے اولاد سے زیادہ تھی یہ دیکھ کر اولاد میں حسد پیدا ہوگیا ۔پھر وقت گزرتا گیا آپ حاکمِ وقت مقرر کئے گئے سنہ ٨٧ ہجری ربیع الاول میں۔  ابتدائے خلافت میں آپ خوب بن سنور کے رہا کرتے تھے اپنے کپڑوں میں بھاری عطر لگایا کرتے تھے دھوبی آپکے کپڑے دھوتا لوگ اپنے کپڑے بھی اسی دھوبی کے پاس لے جاتے تاکہ آپکے کپڑوں کی مہک انکے کپڑوں میں شامل ہوجائے پھر وقت کے ساتھ ساتھ آپ اتنے سادہ مزاج ہوئے کہ اپنی ساری سواریوں کو بیت المال میں جمع کروادیا حتٰی کہ اپنی بیوی کے زیورات کو بھی جمع کرادیا اور کہا کہ تمہیں اختیار ہے تم میرے ساتھ رہو یا پھر علٰیحدہ بھی ہوسکتی ہو لیکن بیوی نے اس پر آپ سے رضامندی کا اظہار کیا اور سارے زیورات بیت المال میں جمع کرادیا یہاں تک کہ آپکا ایک غلام تھا جو آپکی خلافت ملنے سے پہلے سے تھا وہ بھی اب غم کرنے لگا آپ نے اسے بلایا اور کہا کہ تم کیوں رنجیدہ ہوتے ہو تو اس نے کہا میں آپکی خلافت سے پہلے آپ کی تھوڑی سی اشیاء پر قناعت کرتا تھا لیکن جب سے آپ خلیفہ بنے ہیں حال تو پہلے سے بھی برا ہوگیا اسپر آپ نے اپنے افرادِ خاندان اور غلام سے کہا میں تمہیں دنیا کی رنگ و روغن اور عیش والی زندگی تو نہی دے سکتا البتہ آخرت میں جہنم کی آگ سے ضرور بچا سکتا ہوں پھر آپ نے اپنے غلام کو آزاد کردیا بیت المال کا ایک روپیہ بھی اپنے اوپر اور افرادِ خاندان پر خرچ نہی کرتے تھے الگ سے مزدوری کیا کرتے تھے آپؓ کی خلافت سب کو حضرت عمرؓ کی یاد تازہ کرتی تھی آپ میں وہ تمام خوبیاں تھیں جو حضرت عمرؓ میں تھی آپؓ کا حلیہ بالکل خوبصورت گورہ چہرہ تیز نظر تھی آپکی شباہت حضرت عمرؓ سے ملتی تھی عمرین نے اسلام کو چار چاند لگادئے اور لوگوں کے دلوں پر اسلام کی عظمت اور اسکی ڈھاک بٹھادی اول الذکر کو دس سال کا موقع ملا اس عرصے میں نورِ اسلام کونے کونے چپے چپے میں پھیل گیا اور اسلامی تہذیب وتمدن کا بول بالا ہوا اللہ کی بے شمار نعمتوں رحمتوں نے دنیائے اسلام کو گھیر لیا اور روشنی نظر آنے لگی اور آخر الذکر کو محض ڈھائی سال کا موقع ملا اور اس قلیل عرصے میں ایسے ایسے کارنامے انجام دئے کہ تاریخ نے اسکو محفوظ کرلیا ۔۔اسلام نے کیسی کیسی عظیم شخصیتیں پیدا کیں جنکے جسم فنا ہوگئے لیکن انکی آواز آج بھی فضا میں اس طرح گونج رہی ہے جس طرح انکی زندگی میں گونجا کرتی تھی اہلِ اسلام ان بے مثال شخصیتوں پر جس قدر بھی فخر کرے کم ہے ۔۔
نوٹ : حضرت عمر بن عبدالعزیز رح سے جڑے کئی واقعات ہیں لیکن تحریر طویل نہ ہوجائے لوگوں کے ذہنوں پر بوجھ نہ ہو اس لئے اختصار سے کام لیا گیا ۔آپ سے متعلق کئی تصنیف شدہ کتابیں موجود ہیں مثلاً  آپ مطالعہ کرسکتے ہیں سیرتِ عمر بن عبدالعزیز یا پھر خلافتِ بنو امیہ اس طرح کی دیگر اور کتابیں ہیں مطالعہ کیا جاسکتا ہے