Thu, Feb 25, 2021

’’عید الفطر‘‘مسرت و مغفرت کا دن
مفتی عبدالمنعم فاروقی قاسمی
muftifarooqui@gmail.com
9849270160

اللہ تعالیٰ نے انسان کی فطرت و طبیعت میں ہی خوشی ومسرت کا مادہ رکھا ہے ،اسی وجہ سے وہ روزِ اول ہی سے خوشی ومسرت کے مواقع تلاش کر تا رہتا ہے ،پھر اس کے ملنے پر خوشی ومسرت سے سرشار ہوکر اپنے جسم و دماغ کو تسکین پہنچاتا رہتا ہے ، چونکہ اسلام دین فطرت ہے اور اس کے احکامات انسانی طبیعتوں کے عین مطابق ہیں ،یہی وجہ ہے کہ اس کی تعلیمات میں انسانوں کے مزاج ومذاق کی مکمل رعایت بھی موجود ہے بلکہ وہ خود ایسے مواقع بھی فراہم کرتا ہے جس سے کہ انسان جائز طریقہ پر اپنے جذبات کی تسکین اور خواہشات کی تکمیل کر سکے، ہر قوم ،ہر علاقہ اور ہر مذہب میں خوشی و تہوار منانے ،کھیل کود کے ذریعہ جشن منانے اور بزم مسرت سجانے کیلئے کوئی نہ کوئی دن متعین ہے، اس دن وہ خوشی مناتے ہیں ،نئے نئے لباس زیب تن کرتے ہیں ،عمدہ عمدہ کھانے بناتے ہیں اور رقص وسرور کی مجلسیں سجاتے ہیں۔
مدینہ منورہ میں بھی اسلام کی آمد سے قبل لوگ سال میں دودن خوشی اور تہوار کے طور پر منایا کرتے تھے اوریہ سلسلہ اسلام کی آمد کے بعد بھی جاری تھا، خادم رسول حضرت انس ؓ فرماتے ہیں کہ جب آپ ؐ ہجرت فرماکر مدینہ منورہ پہنچے تو یہاں کے لوگوں کو سال میں دودن( ’’مہر جان‘‘ اور ’’نوروز ‘‘ کو) بطور تہوار کے مناتے دیکھ کر ان سے اس کی حقیقت دریافت کی تو انہوں نے عرض کیا کہ ہم جاہلیت میں بھی ان دودنوں میں تہوار اسی طرح منایا کرتے تھے (بس وہی رواج ہے جو اب تک چلا آرہا ہے ) ، تو آپ ؐنے ارشاد فرمایا :’’قد ابدلکم اللہ بھما خیرا منھما یوم الاضحی ویوم الفطر‘‘(ابوداود ) اللہ تعالیٰ نے تمہیں انکے بدلے ان سے بہتر دودن عطا کئے ہیں ،ایک ’’یوم الفطر ‘‘ دوسرے ’’یوم الاضحی‘‘، اسلام کی خوبی یہ ہے کہ وہ قدم قدم پر انسانیت کی رہنمائی ورہبری کرتا ہے چاہے خوشی ومسرت کا موقع ہو یا پھر غم وتکلیف کا وقت،وہ کسی بھی حالات میں انہیں کھلی چھوٹ دے کر بے لگام ہونے نہیں دیتا بلکہ ان کے لئے کچھ حدود وقیود کو لازم کرتا ہے تاکہ یہ خوشی میں بے خود ہوکر اور غم میں آپے سے باہر ہوکر کوئی ایسا کام نہ کر دے جو انسانیت کو شرم سا ر اور شریعت کی حدوں کو پامال کر بیٹھے، اسلام خوشی اور غم دونوں مواقع میں توازن برقرار رکھنے کی تعلیم دیتا ہے اور اس کی یہی خوبی ہے جو اسے دوسرے مذاہب سے ممتاز کر تی ہے،دیگر مذاہب واقوام کے تہواروں میں بدتمیزی کا ایک طوفان بر پا ہوتا ہے ، شراب وکباب کی محفلیں سجائی جاتی ہیں ،بے شرمی وبے حیائی کا بازار گرم رہتا ہے اور اخلاقی قدروں کو پامال کرتے ہوئے خوشی ومسرت حاصل کرنے اور دل ودماغ کو تسکین پہنچانے کی ناکام کوشش کی جاتی ہے ، اس بر خلاف اسلام اپنے ماننے والوں کو تعلیم دیتا ہے کہ حقیقت میں خوشی ومسرت تو اللہ تعالیٰ عظیم نعمت ہے وہ جسے چاہتا ہے خوشیوں سے سرشار کرتا ہے اور جسے چاہتا ہے دکھ اور مصیبتوں سے دوچار کرتا ہے ،لہذا جب مصیبت آپہنچے تو صبر وضبط کا مظاہرہ کرنا چاہیے اور خوشی میسر آئے تو باری تعالیٰ کے جناب میں ہدیۂ تشکر پیش کر تے ہوئے اس کی بڑائی اور بزرگی بیان کرنا چاہیے ، غم میں بے قابو ہوجانا اور خوشی میں حد سے تجاوز کر جانا یہ اسلامی مزاج ومذاق کے خلاف اور اس کی تعلیمات کے مغائر ہے۔
اسلام انسایت کو بتاتا ہے کہ اس کی اصل خوشی تو اپنے خالق ومالک کی فرما برداری اور اس کے احکامات کی عمل آوری میں ہے ، کھیل کود ،لہولعب اور مجالس رقص وسرور سے عارضی خوشی اور وقتی سکون تو حاصل ہوجاتا ہے مگر دائمی اور قلبی تسکین تو مالک الملک اور رب العالمین کو یاد کرنے اور اس کے احکامات کو پورا کرنے ہی سے حاصل ہوتی ہے ،جب بندہ اپنے آقا ومالک کی اطاعت وعبادت کرتا ہے اور اس کے احکامات کو اپنی خواہشات پر مقدم رکھتا ہے اور اس پر عمل پیرا ہوتے ہوئے اپنی بندگی اور غلامی کا اظہار کرتا ہے تو اس کا یہ عمل بارگاہ الٰہی میں قبولیت کا مقام حاصل کر لیتاہے چنانچہ اایسے بندہ کو رب العالمین کی طرف سے رضامندی کا پروانہ دے دیا جاتا ہے ، دراصل بندہ کیلئے یہی سب سے بڑی خوشی اور حقیقی مسرت کا موقع ہے ، اسلام دو اہم ترین فریضوں کی ادائیگی کی تکمیل پر اہل ایمان کے لئے عید کا دن منتخب کر کے بتا نا چاہتا ہے کہ حقیقی خوشی ومسرت رب کی مرضیات پر چلنے اور اس کے احکامات کو پورا کرنے میں ہے ، مسلمانوں کے لئے عید کے دن کا انتخاب ایک تو رمضان المبارک میں روزوں کی تکمیل پر کیا گیا اور دوسرے اسلام کے عظیم الشان اجتماع اور اہم ترین بنیادی فریضہ یعنی حج بیت اللہ کی ادائیگی کے موقع پر کیا گیا ، چنانچہ عالم اسلام کی مایہ ناز شخصیت،صاحب نسبت عالم دین اور مشہور صاحب قلم حضرت مولانا محمد منظور نعمانی ؒ رقمطراز ہیں کہ:عید الفطر رمضان المبارک کے ختم ہونے پر یکم شوال کو منائی جاتی ہے اور عید الاضحی ۱۰ ذی الحجہ کو۔۔۔۔۔۔۔۔ رمضان المبارک دینی وروحانی حیثیت سے سال کے بارہ مہینوں میں سب سے مبارک ہے اسی مہینہ میں قرآن مجید نازل ہونا شروع ہوا ،اسی پورے مہینے کے روزے امت مسلمہ پر فرض کئے گئے ،اس کی راتوں میں ایک مستقل باجماعت نماز کا اضافہ کیا گیا اور ہر طرح کی نیکیوں میں اضافہ کی ترغیب دی گئی ،الغرض یہ پورا مہینہ خواہشات کی قربانی اور مجاہدہ کا اور ہر طرح کی طاعات وعبادات کی کثرت کا مہینہ قرار دیا گیا،ظاہر ہے کہ اس مہینہ کے خاتمہ پر جودن آئے ایمانی اور روحانی بر کتوں کے لحاظ سے وہی سب سے زیادہ اس کا مستحق ہے کہ اس کو امت کے جشن ومسرت کا دن اور تہوار بنایا جائے چنانچہ اسی دن کو عید الفطر قرار دیا گیا،اور ۱۰ ؍ ذی الحجہ وہ مبارک تاریخی دن ہے جس میں امت مسلمہ کے مؤسس ومورثِ اعلیٰ سید نا حضرت ابراہیم خلیل اللہ علیہ الصلوۃ والسلام نے اپنی دانست میں اللہ تعالیٰ کا حکم واشارہ پاکر اپنے لخت جگر سید نا اسمٰعیل علیہ السلام کو ان کی رضا مندی سے قربانی کے لئے اللہ کے حضور میں پیش کر کے اور ان کے گلے پر چُھری رکھ کر اپنی سچی وفا داری اور کامل تسلیم ورضا کا ثبوت دیا تھا اور اللہ تعالیٰ نے عشق ومحبت اور قربانی کے اس امتحان میں ان کو کا میاب قرار دے کر حضرت اسماعیل ؑ کو زندہ سلامت رکھ کر ان کی جگہ ایک جانور کی قربانی قبول فرمائی تھی اور حضرت ابراہیم ؑ کے سر پر ’’انی جاعلک للناس اماماً‘‘ کا تاج رکھ دیا تھا اور ان کی اس ادا کی نقل کو قیامت تک کے لئے رسم عاشقی قرار دے دیا تھا پس اگر کوئی دن کسی عظیم تاریخی واقعہ کی یاد گار کی حیثیت سے تہوار قرار دیا جا سکتا ہے تو اس امت مسلمہ کے لئے جو ملت ابراہیمی کی وارث اور اسوۂ خلیلی کی نمائندہ ہے ۱۰؍ ذی الحجہ کے دن کے مقابلے میں کوئی دوسرا دن اس کا مستحق نہیں ہو سکتا اس لئے دوسری عید ۱۰؍ ذی الحجہ کو قرار دیا گیا،جس وادیِ غیر ذی زرع میں حضرت اسماعیل ؑ کی قربانی کا یہ واقعہ پیش آیا تھا اسی وادی میں پورے عالم اسلامی کا حج کا سالانہ اجتماع اور اس کے مناسک قربانی وغیرہ اس واقعہ کی گویا اصل اور اول درجے کی یاد گار ہے اور ہر اسلامی شہر اور بستی میں عید الاضحی کی تقریبات نماز اور قربانی وغیرہ بھی اسی کی گویا نقل اور دوم درجہ کی یاد گار ہے ۔۔۔۔۔۔۔بہرحال ان دونوں (یکم شوال اور ۱۰؍ ذی الحجہ ) کی ان خصوصیات کی وجہ سے ان کو یوم العید اور امت مسلمہ کا تہوار قرار دیا گیا(معارف الحدیث :۳؍ ۳۹۶)۔
اس لحاظ سے مسلمانوں کے عید کے دن دیگر مذاہب اور اقوام کے تہواروں پر فوقیت رکھتے ہیں کہ انہیں ان کے ذریعہ جسمانی شادمانی کے ساتھ روحانی سکون بھی حاصل ہوتا ہے وہ اس طور پر کہ عبادات کی تکمیل پر خالق کا ئنات ان سے اپنی رضامندی کا اظہار کرتے ہوئے اور فرشتوں کو گواہ بناتے ہوئے بخشش کا اعلان فرماتے ہیں ،بھلا اس سے بڑھ اور کوئی دن عید کا ہوسکتا ہے۔
جب عید کا دن آتا ہے تو ایک مسلمان نہا دھوکر ،دھلے ہوئے یا نئے سلے ہوئے کپڑے پہنکر اور خوشبو لگاکر خوشی کے جذبات سے لبریز ہوکر بارگاہ خدا وندی میں صدائے تکبیر بلند کرتے ہوئے نہایت عاجزی وبندگی کا مظاہرہ کرتے ہوئے عید گاہ کی طرف چل پڑتا ہے ،راستے میں غرباء ومساکین کو صدقۃ الفطر دیتے ہوئے ان کے ساتھ ہمدردی اور انسانیت نوازی کا مظاہر ہ کرتا ہے ،عید گاہ پہنچ کر نماز عید مع زائد تکبیرات ادا کرتے ہوئے اسلام کے اہم ترین فرائض یعنی روزہ اورحج کی ادائیگی کی توفیق پر شکر بجا لاتا ہے اور بارگاہ ِ صمدی میں اپنی مغفرت ،معافی ،جہنم سے خلاصی اور رب کی رضا مندی چاہتا ہے ، اللہ تعالیٰ اپنے بندوں کی مہینہ بھر کی عبادتوں اور ریاضتوں کا ذکر فرشتوں کے سامنے فرماتے ہیں اوران کی اس عاشقانہ اور عاجزانہ ادا ؤں پر نظر رحمت ڈالتے ہوئے فرشتوں کو گواہ بناکر ان کی بخشش ومغفرت کا اعلان فرمادیتے ہیں چنانچہ حدیث شریف میں ہے کہ :عید کے دن صبح ہی سے فرشتے آبادیوں کی ہر گلی ،ہر کوچہ ،ہر بازار اور سڑک کے سِروں پر کھڑے ہوجاتے ہیں اور امت محمدیہ ؐ سے مخاطب ہوکر کہتے ہیں ائے لوگو! اپنے اس رب ِ کریم کی طرف چلو جو تھوڑی عبادت قبول کر لیتا ہے اور زیادہ اجر وثواب دیتا ہے اور بڑے بڑے گناہ معاف کر دیتا ہے ،رب العالمین فرشتوں سے مخاطب ہوکر فرماتے ہیں کہ جب مزدور اپنا کام پورا کر لے تو اس کی جزا کیا ہے ؟ فرشتے عرض کرتے ہیں اسے مزدوری پوری ملنی چاہیے ،چنانچہ خدائے رحمن ورحیم فرشتو ں کو گواہ بناتے ہوئے فرماتے ہیں کہ میرے بندے اور بندیوں نے (مقرر کردہ) فرض کو ادا کیا ،اب وہ گھروں سے دعا کے لئے عید گاہ کی طرف نکلے ہیں ،قسم ہے اپنی عزت کی ، اپنے جلال کی،اپنی بخشش ورحمت کی ،اپنی عظمت شان کی اور اپنی رفعتِ مکان کی کہ میں ان کی دعاؤں کو قبول کروں گا ،پھر فرماتے ہیں اے میرے بندو! اپنے گھروں کو لوٹ جاؤ میں نے تمہیں بخش دیا اور تمہاری برائیوں کونیکیوں میں تبدیل کر دیا،آپ نے ؐ نے فرمایا پس مسلمان عید گاہ سے اس حال میں واپس ہوتے ہیں کہ ان کے سارے گناہ معاف کر دئیے جاتے ہیں (بیہقی)۔
رمضان المبارک ،شب قدر اور شب عید کی طرح عید کا دن بھی مسلمانوں کے لئے خدا کی طرف سے ایک عظیم انعام ہے،یہ وہ دن ہے جس میں اللہ تعالیٰ بندوں کی میزبانی فرماتے ہیں اور بندوں کو اس عظیم اور کائنات کے رب کی مہمانی کا شرف حاصل ہوتا ہے ،اسی وجہ سے اس دن روزہ رکھنے کو حرام قرار دیا گیا ہے ، یہ نعمت کی ناشکری اور بے ادبی ہے کہ بندے روزہ رکھ کر ا س کی میزبانی سے منہ موڑ رہے ہیں ، اس لئے اس دن اپنی حیثیت استطاعت کے مطابق عمدہ لباس پہن کر ،خوشبو لگا کر اور ہمہ قسم کے پکوان بناکر خود بھی کھانا چاہئے اور اپنے اہل خانہ،رشتے دار واحباب اور پڑوس ومستحق کو بھی اس خوشی کے موقع پر شامل کر نا چاہئے ،ویسے بھی ایک مؤمن مزاجاً رحم دل، فیاض ،مہمان نواز اور ہمدرد وغمخوار ہوتا ہے ،وہ تو ایثار اور قربانی کا مزاج رکھتا ہے ،وہ جس کسی کو بھی کھلاتا ،پلاتا اور پہناتا ہے تو نہایت خوش دلی اور بشاشت کے ساتھ عمل کرتا ہے ،وہ اس کے ذریعہ اپنے اللہ سے اجر وثواب کی امید رکھتا ہے ،بھلا ایسا مزاج رکھنے والا بندہ عید کے دن جو سراپا خوشی ومسرت کا دن ہے اس میں دوسروں اور خصوصاً مستحق لوگوں کو کس طرح فراموش کر سکتا ہے،صدقہ فطر کا حکم تو اسی منشا ومقصد کے لئے دیا گیا ہے کہ غربا ء ومساکین خوشی ومسرت میں سب شریک ہوں ،کوئی ایک بھی عید کی خوشیوں سے محروم نہ رہے ،کیونکہ عید کا حقیقی مقصد رضا الٰہی کا پانا ہے اور یہ چیز عبادت،فرماں برداری،تعمیل حکم اور ایک دوسرے کے ساتھ ہمدردی سے حاصل ہوتی ہے،خوشی میں دوسروں کو شامل رکھنا اور انہیں بھی مسرت کا موقع فراہم کرنا خدا کی خوشنودی اور رضا جوئی کا بہترین ذریعہ ہے ،مسلمانوں کو چاہئے کہ وہ اس خاص اور عالم اسلام کو عطاکردہ خوشی کے دن میں سبھی کو اپنے ساتھ خوشی میں شامل کریں ،کوشش کریں کہ اپنے متعلقین وقرب وجوار میں بسنے والے اس پُر مسرت لمحات سے محروم نہ رہیں، مستحق افراد ان کے ساتھ شفقت وعنایت کا برتاؤ کریں اور اس یقین کے ساتھ ان کی خدمت کریں کہ ان کی خوشی سے اللہ خوش ہوتے ہیں اور دوسروں کو خوشیاں باٹنے سے اللہ کی طرف سے خوشیوں کی سوغات ملتی ہے ، یقینا عید کا دن مغفرت اور معافی کا دن ہے ،رمضان میں بندوں کی طرف سے کی گئیں عبادتوں سے خدا خوش ہوتے ہیں بلکہ اپنے عبادت گزار بندوں کی عبادتوں پر فخر کرتے ہیں اور فرشتوں میں ان کا ذکرتے ہیں اور انہیں گواہ بناکر ان کی مغفرت اور معافی کا اعلان کرتے ہیں ،گویا عید کی سب سے بڑی خوشی یہ ہے کہ اللہ کی طرف سے بندوں کے لئے مغفرت اور معافی کا مژدہ سنایا جاتا ہے ،غور کیجئے کہ جو خدا ایک ماہ کی عبادت اور اس کے احکامات کی پابندی پر اس قدر مسرور ہوتا ہے تو عمر بھر اس کی غلامی کرنے اور اس کے احکام کی تعمیل پر کس قدر خوش ہوتا ہوگا ،گویا عید کا دن ہم کو زندگی بھر کی فرماں برداری کا پیغام د دیتا اور بزبان حال ہم سے کہتا ہے کہ جس کی زندگی رمضان جیسی بن جاتی ہے تو اس کی موت عید جیسی ہوجاتی ہے ، یعنی ایسے بندیوںکی موت ان کے لئے خوشی ومسرت کا پیغام لاتی ہے اورموت کے بعد والی زندگی میں انہیںوہ خوشیاں حاصل ہوتی ہیں جیسے رمضان کے بعد ایک مومن کو عید کی شکل میں حاصل ہوتی ہیں ، اس لئے عید پر یہ عہد بھی کرنا چاہئے کہ جس طرح ہم نے رمضان گزارا ہے اسی طرح مکمل زندگی گزاریں گے اور حکم ربی کی تعمیل میں نفس وشیطان کی طرف سے جو کچھ رکاوٹیں پیدا ہوں گی انہیں تقوی کی طاقت سے کچل کر آگے بڑھیں گے ،اس طرح زندگی گزار نے والوں کو قدم قدم پر افطار جیسی مسرت اور قلبی سکون حاصل ہوتا ہے اور موت پر عید جیسی خوشی ومسرت اور مغفرت ومعافی کا پروانہ عطا ہوتا ہے ، بندہ مؤمن کا ہر عمل آخرت کے لئے ہوتا ہے ،وہ اس کے ذریعہ آخرت کی کامیابی چاہتا ہے اور دائمی زندگی کا سکون چاہتا ہے ،یقینا آخرت کی خوشی ہمیش گی کی خوشی ہے اور وہاں کا قیام ختم نہ ہونے والا قیام ہے اور جنت وہ مقام ہے جہاں قیام دائمی ہے اور وہاں کی نعمتیں حقیقی نعمتیں ہیں ،وہ اسے دنیوی زندگی میں اطاعت کے بدلے دی جائیں گی ،مگر اس کے لئے زندگی کو رمضان جیسا بنانا ہوگا ،توحید کے علم کو مضبوطی سے پکڑنا ہوگا اور رسالت کی روشنی میں زندگی گزارنا ہوگا ،بلاشبہ رب کی خوشی ہی میں بندوں کی عید ہے ،اگر رب نا خوش ہے تو اس کی عید بھی بے معنیٰ ہے ،بندہ مومن کی عید تو خدا کی خوشی میں مضمر ہے ، شاعر کہتا ہے ـ ؎
بس ایک کے ہو رہنا

توحید اسی کو کہتے ہیں
خوش ہم سے رہے مولیٰ

ہم عید اسی کو کہتے ہیں
٭٭٭