Wed, Feb 24, 2021

کھانہ دھوکہ عیشِ دنیا کچھ نہیں
مفتی عبدالمنعم فاروقی قاسمی
muftifarooqui@gmail.com
9849270160

اسلام نے اپنے ماننے والوں کو تعلیم دی ہے کہ وہ دنیا کو اپنی منزل نہ سمجھیں ،اس میں گم نہ ہوجائیں ،دنیا میں رہیں مگر دنیا کے طلب گار نہ بنیں ،دنیا کی چمک دمک اور اس کی رنگینی میں گم ہوکر دھوکہ نہ کھائیں کیونکہ ظاہر میں دنیا جیسی نظر آتی ہے حقیقت میں ویسی نہیں ہے یہ تو دھوکہ کا گھر ہے ،مچھر کا پر ہے ، مکڑی کا جالا ہے ، اہل ایمان اور رہروانِ شاہراہِ اسلام کی منزل مقصود تو آخرت ہے ،دنیا عارضی اور آخرت دائمی ہے ،دنیا کی نعمتیں زوال پذیر اور آخرت کی نعمتیں لازوال ہیں چنانچہ قرآن کریم نے دنیا کو دھوکہ کا گھر اور فریب کا سامان بتایا ہے ارشاد ِ ربانی ہے:وماالحیوۃ الدنیا الا متاع الغرور(الحدید ۲۰) یعنی دنیوی زندگی تو متاع فریب ہے۔ اور ایک جگہ قرآن کریم نے دنیوی زندگی کو کھیل تماشہ قرار دیا ہے اور اس کے مقابلہ میں آخرت کو اصل زندگی بتایا ہے فرمانِ خدا وندی ہے : وما ھذہ الحیوۃ الدنیا الا لھو ولعب وان الدار الاخرۃ لھی الحیوان (العنکبوت ۶۴) یہ دنیا کی زندگی سوائے لہو لعب کے کچھ نہیں ،اور اصل زندگی آخرت کی زندگی ہے ۔ قرآن کریم میں ایک جگہ آخرت کی زندگی کو بہتر اور ہمیشہ ہمیش کی زندگی بتایا گیا ہے: والاخرۃ خیر وابقی(الاعلیٰ ۱۷)یعنی دنیا کے مقابلہ میں آخرت بہتر اور باقی رہنے والی ہے حقیقت میں عاقل تو وہی شخص ہے جو فانی کو باقی پر ترجیح نہیں دیتا۔ نبی اکرم ؐ نے بہت سی احادیث میں دنیا کی بے ثباتی اور بے وقعتی کو نہایت واضح انداز میں بیان فرمایاہے ، ارشاد فرمایا:ان الدنیا ملعونۃ ،ملعون ما فیھا الا ذکر اللہ وماوالاہ ،وعالم اومتعلم(ترمذی:۲۴۹۲) بے شک دنیا قابل لعنت ہے ،اور اس میں جو چیزیں ہیں وہ بھی قابل لعنت ہیں ،سوائے اللہ تعالیٰ کے ذکر اور اس کے متعلقہ اعمال کے اور سوائے عالم یا متعلم کے۔ایک دفعہ نبی اکرم ؐ اپنے صحابہ ؓ کے ساتھ کہیں تشریف لے جارہے تھے کہ ایک دم آپ ؐ کی نظر ایک مردار کن کٹے بکری کے بچے پر پڑی تو آپ ؐ نے صحابہ ٔ کرام ؓ سے پوچھا کہ( ایکم یحب ان یا خذہ بدرھم )تم میں سے کوئی اس مرے ہوئے بچے کو صرف ایک درھم میں خرید نا پسند کریگا ؟ صحابہ ؓنے عرض کیا ہم تو اس کو کسی قیمت پر بھی خرید نا پسند نہیں کریں گے ،تب آپ ؐ نے فرمایا (فواللہ الدنیا اھون علیٰ اللہ من ھذا علیکم)(صحیح مسلم:۵۲۵۷)قسم ہے اللہ تعالیٰ کی کہ دنیا اللہ تعالیٰ کے نزدیک اس مرے ہوئے بکری کے بچے سے بھی زیادہ ذلیل اور بے قیمت ہے۔ نبی اکرم ؐ نے اہل ایمان کو دنیا میں رہتے ہوئے مگر دنیا سے بچتے ہوئے زندگی گذار نے کا حکم فرمایا ہے کیونکہ دنیا اہل ایمان کیلئے عیش وعشرت کی جگہ نہیں بلکہ یہ تو نافرمانوں اور کافروں کیلئے من مانی زندگی گذار نے کی جگہ ہے اس لئے آپ ؐ نے اہل ایمان سے فرمایا کہ: کن فی الدنیا کانک غریب اوعابر سبیل( صحیح بخاری:)دنیا میں اس طرح رہو جس طرح پردیسی یا راستہ چلتا مسافر رہتا ہے۔اس حدیث کے راوی حضرت عبداللہ بن عمر ؓ ہیں وہ فرماتے ہیں کہ آپ ؐ نے میرے دونوں مونڈھے پکڑ کر یہ اہم ترین نصیحت فرمائی ،اس حدیث میں آپ ؐ نے بڑے اہتمام سے بتایا کہ مومن کو اپنا اصل وطن دنیا کو نہیں سمجھنا چاہیے کہ اسی کے پیچھے پڑکر آخرت سے غافل ہوجائے بلکہ دنیا کو تو جیسے تیسے گذار دینا چاہیے جیسے ایک پردیسی یا مسافر چند ضروری ساز وسامان کو ساتھ لئے گذارتاہے ایسے ہی ایک مومن اور مسلمان بھی بقدر ضرورت سامان ساتھ رکھ کر زندگی گذاردے اور اصل فکر دائمی اور ابدی زندگی کی کرے جو کبھی ختم ہونے والی نہیں ہے ۔
دنیا سے محبت اور اس کے ساز وسامان سے ایسا تعلق پیدا کرنا جو آخرت کی فکر سے غافل کردے تمام گناہوں کی جڑ ہے نبی اکرم ؐ نے ارشاد فرمایا:حب الدنیا رأس کل خطیئۃ(بیھقی) دنیا کی محبت ہر گناہ کی جڑ ہے۔ حقیقت بھی یہی ہے کہ دنیوی محبت ہی کی وجہ سے انسان مال ودولت کی حرص میں مبتلا ہوتا ہے اور مال وزر کی فراوانی اکثر وبیشتر انسان کو رب کی عبادت واطاعت سے غافل کرتے ہوئے طرح طرح کے گناہوں میں پھنسا کر اس کے وجود کو دوزخ میں گرادیتی ہے ،اسی بنا پر اللہ تعالیٰ کے مقرب ومحبوب بند وں کی شان یہ ہے کہ ان کے دل دنیا کی محبت سے بالکل خالی ہوتے ہیںاور وہ دنیا سے اس طرح دور بھاگتے ہیں جس طرح آدمی خوں خوار بھیڑ ئیے سے بھاگتاہے ،ایک حدیث میں آپ ؐ کا ارشاد ہے کہ : اذاا حب اللہ عبداً حماہ من الدنیا کما یحمی احدکم مریضہ الماء(شعب الایمان:۹۹۶۵) اللہ تعالیٰ جب اپنے کسی بندے سے محبت فرماتا ہے تو اس کو دنیا سے اس طرح بچا تاہے جس طرح تم اپنے مریض کو (بیماری کے وقت) پانی سے بچاتے ہو ۔دنیا سے محبت اور دنیوی سازوسامان سے حد درجہ لگاؤ رکھنے والا ضرور اپنی آخرت کو تباہ کر لیتا ہے اس لئے کہ جو شخص دنیوی لذ توں اور اس کی وقتی راحتوں کے پیچھے پڑ جاتا ہے تو بالیقین آخرت اس سے چھوٹ جاتی ہے اور وہ ہمیشہ کی نعمتوں اور لذتوں سے محروم ہو جاتاہے چنانچہ نبی اکرم ؐ نے ارشاد فرمایا: من احب دنیا ہ اضربآخرتہ ومن احب آخرتہ اضربدنیاہ فآثروا ما یبقیٰ علیٰ مایفنیٰ(مسند احمد:۱۹۶۹۷) جو شخص دنیا سے محبت کرے گا وہ اپنی آخرت تباہ کرلے گا ،اور جس کو اپنی آخرت محبوب ہوگی تو وہ اپنی دنیا کو نقصان پہنچائے گا ،تو اے لوگو تم باقی رہنے والی زندگی کو فناہوجانے والی زندگی پر ترجیح دو۔
نبی اکرم ؐ نے دوچیزوں کو ذلت ورسوائی کا سبب بتایا ہے ایک دنیا کی محبت اور دوسرے موت سے نفرت ، حضرت ثوبانؓ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ ؐ نے ایک موقع پر صحابہ ؓ کو مخاطب کرتے ہوئے ارشاد فرمایا: میری امت پر عنقریب وہ وقت آئے گا جب دوسری قومیں اس پر اس طرح ٹوٹ پڑیں گی جس طرح کھانے والے دستر خوان پر گرتے ہیں ،کسی کہنے والے نے کہا اے اللہ کے رسول ؐجس دور کا آپ حال بیان فرمارہے ہیں کیا اس دور میں ہم مسلمان کم تعداد میں ہوں گے ؟آپ ؐ نے فرمایا نہیں ،اُس زمانہ میں تمہاری تعداد کم نہ ہوگی بلکہ تم بہت بڑی تعداد میں ہوں گے لیکن تم سیلابی جھاگ کی طرح ہوجاو ٔ گے (بے وزن وبے حیثیت وبے قیمت) تمہارے دشمنوں کے سینے سے تمہاری ہیبت نکل جائے گی اور تمہارے دلوں میں پست ہمتی گھر کرلے گی ،ایک آدمی نے پوچھا اے اللہ کے رسولؐ یہ پست ہمتی کس وجہ سے ہوگی؟ آپ ؐ نے فرمایا لوگ دنیا سے محبت اور موت سے نفرت کر نے لگیں گے(ابوداؤد:۴۲۹۷)۔ یقینا اس حدیث کی روشنی میں موجودہ دور میں مسلمانوں کے حالات کا اگر موازنہ کیا جائے تو پتہ چلے گا کہ ان کے دلوں میں دنیا ،سامان دنیا اور یہاں زندگی رچ بس گئی ہے ،وہ موت سے غافل ہو کر زندگی گزار رہے ہیں حالانکہ سب جانتے ہیں کہ موت تو بہرے حال آکر ہی رہے گی ،کسی کو اس سے مفر نہیں ہے ،بہت سے مسلمانوں کی حالت تو یہ ہے کہ وہ موت کے نام سے گھبرانے لگے ہیں اور اس قدر خوف کھانے لگے ہیں جس کا اظہار مشکل معلوم ہورہا ہے ،حالانکہ موت اس کے مقررہ وقت پر ہی آتی ہے اور جب آتی ہے تو لے کر ہی جاتی ہے ،وہ نہ کسی سے ڈر تی ہے اور نہ کسی سے مرعوب ہوتی ہے ،نہ تو کسی کے لئے ٹہر تی ہے اور نہ کسی کو مہلت دیتی ہے ،اس کی نظر میں شاہ وگدا ،امیر وغریب اور قابل وخالی سب برابر ہیں ،جو موت سے ڈر ڈر کر جیتا ہے وہ درحقیقت پژمردگی کی زندگی گزارتا ہے اور جو موت کی تیار ی کے ساتھ زندگی گزار تا ہے وہ سرخروئی حاصل کرتا ہے ،موت ایسے شخص کے لئے تحفہ ثابت ہوتی ہے ،اس کے مرنے پر لوگ روتے ہیں مگر وہ مسکراتا ہوا جاتا ہے ،وہ قلب مضطرب نہیں بلکہ قلب مطمئن کے سا تھ دنیا سے جاتا ہے۔
اس وقت پوری دنیا اضطرابی کیفیت سے دوچار ہے ،چاروں سمت افرا تفری پھیلی ہوئی ہے، چھوٹے بڑے ،بچے بوڑھے ، پیر وجوان ،عالم وان پڑھ ،امیر وغریب اور تخت نشین وفرش مکیں سب کے سب حیران وپریشان ہیں ،سب کے دلوں پر موت کا خوف طاری اور مرنے کا ڈر سوار ہے ،تعجب تو اس بات ہے کہ بے ایمان تو بے ایمان اہل ایمان جن کا ایمان موت پر ،بعث بعد الموت پر اور آخرت پر ہے وہ بھی مارے خوف کے مرے جارہے ہیں ، اخبارات اور سوشل میڈیا کے ذریعہ لوگوں کے مرنے کی جیسے جیسے اطلاعات ملتی جارہی ہیں ویسے ویسے ان کے خوف میں اضافہ ہوتا جارہا ہے ،بعض لوگوں کے متعلق یہاں تک سننے میں آرہا ہے کہ وہ دوسروں کے موت کی خبر سن کر ہیبت میں مبتلا ہورہے ہیں اور اسی ہیبت کی وجہ سے اسپتال میں داخل ہو رہے ہیں ،حالانکہ اہل ایمان جانتے ہیں کہ دنیا فانی اور آخرت باقی ہے ،موت دخول آخرت کا دروازہ ہے ،اس دنیا سے گزرنے کے بعد ایک ایسی دنیا میں داخلہ ہے جہاں مؤمنین ،فرماں بردار وں اور دنیاوی زندگی کو آخرت کی تیاری میں گزارنے والوں کے لئے راحت ہی راحت اور آرام ہی آرام ہے ،ایک مؤمن جب یہ اچھی طرح جانتا ہے کہ موت کے بعد اسے نعمتوں بھری زندگی حاصل ہونے والی ہے اور کبھی ختم نہ ہونے والی زندگی ملنے والی ہے تو پھر اسے خوف ودہشت کس بات کی اور رنج والم کس چیز کا ،بلکہ ایک حدیث میں تو موت کو پل بتایا گیا ہے جس پر سے گزر کر ایک محبوب (بندہ مؤمن) اپنے محبوب (خالق دوجہاں) سے ملاقات کرتا ہے ۔
موجودہ اضطرابی حالات میں بندہ مؤمن کو بلا کسی خوف کے مطمئن ہو کر زندگی گزارنا چاہئے اور موت کے خوف کے بجائے خدا سے ملاقات کا شوق رکھنا چاہئے ،وہاں کی دائمی نعمتوں اور ابدی زندگی کا تصور کرتے ہوئے اپنے اندر سے موت کا خوف نکال باہر کرنا چاہئے، قرآن وحدیث میں جن عبادتوں پر انعامات خداوندی کا وعدہ کیا ہے اور اس کی خوشخبری سنائی گئی ہے اس پر محنت کرتے ہوئے زیادہ سے زیادہ اپنا وقت اسی میں صرف کرنا چاہئے ، فرائض وواجبات سے ہٹ کر تلاوت قرآن ،منتخب قرآنی ونبوی دعائیں ،کثرت درود واستغفار اور دیگر نفلی عبادتوں کے اہتمام کا التزام کرنا چاہئے ،کیونکہ عبادات وذکر واذکار اور تعلق مع اللہ ایسی چیز ہیں جس سے قلب کو راحت واطمینان حاصل ہوتا ہے ،رنج والم سے نجات ملتی ہے ،ذہنی انتشار کا خاتمہ ہوتا ہے اور آخرت میں ثواب کی امید سے اور وہاں کی ابدی زندگی کی راحتوں کے تصور سے موت کا خوف جاتا رہاتا بلکہ آخرت کا شوق پیدا ہوتا ہے ،ایک حدیث شریف میں آپ ؐ نے آخرت کی زندگی ہی کو اصل زندگی بتا تے ہوئے ارشاد فرمایا کہ الہم لاعیش الا عیش الآخرہ( ترمذی: ۳۸۵۷) ’’ اے اللہ ! (حقیقی خوشی ومسرت سے بھر پور اور سکون واطمینان والی ) زندگی تو آخرت کی زندگی ہے‘‘ پھر آگے دعا دیتے ہوئے ارشاد فرمایا کہ تو انصارؓ اور مہاجرینؓ کی تکریم فرما، اس سے یہ بات واضح ہوجاتی ہے کہ زندگی کا اصل مزہ اور نعمتوں کی حصول کا اصل مقام تو آخرت ہی ہے اور جو دنیا پر آخرت کو ترجیح دیتا ہے وہ دنیوی زندگی اور اس کے نشیب وفراز پر مطمئن رہتا ہے اور آخرت کی نعمتوں سے مالا مال ہوجاتا ہے جس کی وجہ سے اس کی موت اس کے لئے حصول نعمت کا ذریعہ بن جاتی ہے ،چنانچہ ان حالات میں خوف کھانے کے بجائے شوق آخرت کی فکر کرتے رہیں اور اپنے اعمال کو درست کرنے ،تعلق مع اللہ کو مضبوط کرنے اور اوقات زندگی کو نیکیوں میں خرچ کرتے ہوئے زندگی گزاریں، ہمارے بعض اکابرین کا کہنا ہے کہ موجودہ خوف کے حلات سے باہر نکلنے کا واحد راستہ شوق آخرت اور وہاں کی نعمتوں کا تذکرہ ہے ،اس کے لئے حکیم الامت مجدد ملت حضرت مولانا اشرف علی تھانوی ؒ کی تصنیف کردہ عظیم کتاب’’ شوق وطن‘‘ کا مطالعہ نہایت مفید اور کار آمد ہے،جس کے پڑھنے کا خود بھی اہتمام کریں ،گھروں اور دوست احباب کی مجلسوں میں اس کے پڑھنے اور پڑھ کر سنانے کی ترغیب بھی دیں ،ان شاء اللہ زندگی آسان ہو جائے گی ،خوف جاتا رہے گا اور آخرت کی فکر میں اضافہ ہوگا ،ہمیشہ اس تصور کے ساتھ لمحات زندگی گزاریں کہ دنیا کی زندگی اور یہاں کا ساز وسامان سب دھوکہ ہے ،عقل مند اجلی چیزوں سے دھوکہ نہیں کھاتا اور وہ فانی چیزوں میں پڑ کر دائمی چیزوں کو نہیں کھوتا اور دنیوی زندگی کی خاطر ابدی زندگی سے ہاتھ نہیں دھوتا بلکہ اس کے پیش نظر ہمیشہ آخرت اور وہاں کی زندگی ہوتی ہے ، خواجہ عزیز الحسن مجذوب ؒ نے اپنے اشعار میں دنیا کی حقیقت بتائی ہے ،زندگی کے بے بھروسہ ہونے کو بتایا ہے اور اس کے دھوکہ میں نہ پڑنے کی طرف توجہ دلاتے ہوئے کہا کہ ؎

تجھ کوغافل فکرِ عقبیٰ کچھ نہیں
کھانہ دھوکہ عیش دنیا کچھ نہیں
زندگی ہے چند روزہ کچھ نہیں
کچھ نہیں اس کا بھروسہ کچھ نہیں
٭٭٭٭