Tue, Mar 2, 2021

اس سال سادگی کے ساتھ عید منانا کیوں ضروری ہے؟
از : مفتی عبدالمغنی صاحب مظاہری مدظلہٗ
صدر سٹی جمعیت علماء گریٹر حیدرآباد

عید در اصل خوشی اور مسرت کے دن کا نام ہے ، جو ہر قوم اور مذہب اور ہر علاقہ کے لوگوں میں منائی جاتی ہے، دنیا میں جتنی قومیںموجود ہیں سب میں کوئی نہ کوئی تہوار ضرور ہوتا ہے، عید کا یہ نظام زمانۂ دراز سے جاری و ساری ہے، ماقبل اسلام ، ماقبل مسیح بلکہ اس سے قبل بھی قوموں میں عید کا جشن پایاجاتا ہے، سال بھر میں کسی نہ کسی دن عید و تہوار منانے کا رواج زمانۂ قدیم سے چلا آرہا ہے، ایسے ہی ایک موقع پر حضور ﷺ نے ارشاد فرمایا تھا کہ اے ابو بکرؓ ہر قوم میں کوئی نہ کوئی دن عید کا ہوتا ہے اور آج کا یہ دن ہمارے لئے عید ہے، ایک دوسری حدیث میں حضرت انسؓ سے منقول ہے کہ رسول اللہ ﷺ جب مدینہ منورہ تشریف لائے تو آپ ﷺ نے دیکھا کہ مدینہ کے لوگ سال میں دو دن کھیل کود کیا کرتے ہیں آپﷺ نے ان سے پوچھا تو انہوں نے کہا کہ ہم زمانۂ جاہلیت سے ان دو دنوں میں کھیل کود کیا کرتے ہیں،(یعنی عید کا جشن مناتے ہیں) آپﷺ نے فرمایا کہ اللہ تعالیٰ نے تمہیں اس سے اچھے اور بہتر دو دن عطا فرمائے ہیں اور وہ عید الفطر اور عید الاضحی ہیں (ابوداؤد)، یعنی رمضان کی عید اور بقر عید، یہ دو دن مسلمانوں کے لئے عید کے مقرر کئے گئے ہیں، جس میں خوشی ومسرت کا اظہار ہوتا ہے، اچھے اور نئےکپڑے پہنے جاتے ہیں، لذید اور مزے دار کھانوں کا اہتمام ہوتا ہے ، شیرینی کھائی اور کھلائی جاتی ہے اور ایک خاص طریقہ پر اللہ کی عبادت و بندگی ہوتی ہے اور اپنےخالق و مالک خدا کی کبریائی و بڑائی بیان کی جاتی ہے، ایک دوسرے سے بغل گیر ہوکر عید کی مبارک بادی دی جاتی ہے۔
اور یہ انسانی فطرت کا تقاضہ ہے کہ سال میں کوئی نہ کوئی خوشی و جشن کا دن ہو کیوں کہ انسان جب سال بھر دینی یا دنیاوی کاموں میں مشغول رہتا ہے تو انسانی فطرت تقاضہ کرتی ہے کہ کوئی دن ایسا بھی ہو جس میں کاموں سے آزادی ہو اور فیملی کے ممبر مل کر آپس میں خوشی اور مسرت کا جشن منائیں، اسلام چوں کہ فطرت کے عین مطابق ہے اس لئے اسلام میں بھی سال میں دو دن خوشی اور مسرت کے تجویز کئے گئے ہیں۔
اس سال رمضان کی عید یعنی عید الفطر ۲۵؍ مئی ۲۰۲۰؁ء بروز پیر واقع ہوسکتی ہے لیکن اس سال مسلمان عید کی خوشی کس طرح منائیں گے؟ جب کہ ملک میں ہر طرف غموں کے پہاڑ توڑے جارہے ہیں، یکے بعد دیگرے رنج و غم کا ایک سلسلہ ہے جو بظاہر تھمتا نظر نہیں آرہا ہے ۔ قومی، ملی، سماجی، ملکی اور عالمی طور پر نہ صرف مسلمان بلکہ تمام انصاف پسند انسان غم زدہ ہیں۔
بابری مسجد کے حق میں نا انصافی کا غم، کشمیریوں کے قید و بند کئے جانے کا غم ، شرعی احکامات میں مداخلت کرنے کا غم، شہریت سے متعلق ظالمانہ قانون کے مسلط کئے جانے کا غم، انسانی و قومی برادریوں میں نفرت پھیلانے کا غم، فساد کے نام پر سینکڑوں مسلمانوں کے قتل کئے جانے کا غم، مسلم معیشت کو تباہ کرنے اور گھروں کو نذرِ آتش کرنے کاغم،گاؤکشی اور بچہ چوری کے نام پر موب لنچنگ کا غم، بے قصور مسلمانوں کو گرفتار کر کے جیل بھیجنے اور تشدد کئے جانے کا غم اور اب کرونا وائرس کی وجہ سےہزاروں بھائیوں اور بہنوں کی موت کا غم اور ہزاروں کی تعداد میں انسانوں کے متأثر اور مریض ہونے کاغم، بے روزگاری اور بھوک کی وجہ سے ہزاروں بھائیوں و بہنوں کے مرنے کاغم، کروناوائرس کے بہانے قوموں میں تفریق اور نفرت پھیلانے کاغم، مسجدوں کو بند کردیئے جانے کا غم، جمعہ و جماعت سے محروم کردیئے جانے کا غم ، لاکھوں انسانوں کے بے روزگار ہونے کا غم اور گیاس و ٹرین کی زد میں مرنے والوں کا غم۔
ان غموں کے انبار اور پے در پے غموں کی زنجیر کے ساتھ خوشی و مسرت کے اظہار کا کیا موقع؟ مسلمان عید کی خوشی منائیں تو کیسے منائیں؟ دل غم زدہ و رنجیدہ ہو تو کیا نئے کپڑوں اورنئے جوتوں میں خوشی محسوس ہوسکتی ہے؟ دل بے چین و بے قرار ہو تو کیا لذیذ اور مزہ دار کھانوں کی لذت حاصل ہو سکتی ہے؟ رنج و غم کے اس ماحول میں کیا نئے فرش اور نئے پردوں کی سجاوٹ مناسب معلوم ہو سکتی ہے؟ عید کی نماز کے بغیر کیا عید کی برکت و فرحت حاصل ہو سکتی ہے؟
امت مسلمہ کے سامنے یہ وہ سوالات ہیں جن پر سنجیدگی کے ساتھ غور کرنے کی ضرورت ہے ، اس لئے امت کے تمام دانشور علماء کرام اور دانشمند حضرات امت کو مشورہ دے رہے ہیں کہ اس سال عید بہت ہی سادگی کے ساتھ منائیں۔
عید کرنا شریعت کا حکم ہے اور مسلمانوں کا مذہبی ، سماجی و ملی تہوار ہے، دل چاہے نہ چاہے عید ضرور منائیں گے ، شرعی خوشی کا اظہار بھی کریں گے مگر نہایت سادگی کے ساتھ۔
عید کا جوش و خروش بچوں میں زیادہ پایا جاتا ہے اس لئے مسلمان اپنے بچوں کی ذہنی تربیت کریں ، محبت و شفقت کے ساتھ سمجھائیں کہ اس سال عید میں موجودہ کپڑوں میں جو اچھے ہیں اسی کو پہنیں گے نئے کپڑے نہیں بنوائیں گے، موجودہ جوتے و چپل کو درست کرکے پالش کرکے استعمال کرلیں گے نئے جوتے و چپل نہیں خریدیں گے، گھر میں موجودہ فرش اور پردوں ہی سے کام چلا لیں گے مگر نئے نہیں خریدیں گے، بچوں کو سمجھائیں کہ اس سال عید سادگی کے ساتھ کریں گے، عید کے نام کی کوئی خریداری ہرگز نہیں کریں گے، چاہے بازار ، مارکٹ ، دکانیں کھول دیئے جائیں اور ہمیں خریداری کا موقع ملے تب بھی ہم خریداری نہیں کریں گے، کیوں کہ اس سال عید دھوم دھام سے کرنے کا کوئی موقع نہیں ہے، کپڑوں اور جوتوں کے ذریعہ شان و شوکت ظاہر کرنا موجودہ حالات میں مناسب نہیں ہے، عید کی خریداری کے نام پر بازار ، مارکٹ ، منڈی میں جمع ہونا خطرہ سے خالی نہیں ہے اس لئے عید کی خریداری کئے بغیر گھروں میں رہ کر عید کی تیاری کرنے اور سادگی کے ساتھ عید منانے پر زور دیا جارہا ہے اس سادگی کی برکت سے سوشیل ڈسٹنسنگ باقی رہے گا ہم خود اور دیگر ابنائے وطن بیماریوں کے اندیشے سے محفوظ رہیں گے برادران وطن کو بدگمان ہونے کا موقع نہیں ملے گااور وہ مسلمانوں، مسجدوں و عیدگاہوں کو نشانہ ٔ ملامت نہیں بنا سکیں گے اور ہرہر خاندان کے ہزاروں روپیہ بچ جائیں گے جو آپ کے یا غریبوں کے یا مدارس و مساجد کے کام آئیں گے، اور ملک کے مصیبت زدہ عوام کے غموں میں شرکت بھی ہوگی، ملک کے ساتھ وفاداری ہوگی اور شرپسند تاجروں کی حوصلہ شکنی ہوگی، اللہ تعالیٰ ہم سب کو سنجیدگی کے ساتھ غور کرنے اور علماء کی ہدایت کے مطابق عمل کرنے کی توفیق و سعادت نصیب فرمائے۔ آمین