Fri, Feb 26, 2021

ایسا کہاں سے لاوں؛ تجھ سا کہیں جسے

دارالعلوم کنداکرتی میں مولانا سید ولی اللہ صاحب قاسمی کے جلسہ تعزیت سے مولانا خالد بیگ قاسمی، علماء و حفاظ مصلیانِ مسجد کی شرکت تلاوتِ قرآن و دعاء کا اہتمام۔

حافظ افضل بیگ کی اطلاع کے بموجب 25 ذیقعدہ ؁1441ھ مطابق 17 جولائی ؁2020ء بروز جمعہ بعد نمازِعشاء 9 بجے رات مولانا عبدالقیوم شاکر صاحب نے حضرت مولانا خالد بیگ قاسمی صاحب کو بذریعہ فون سسکیوں بھری آواز میں کہا خالد بھائی بڑے مولانا کا انتقال ہوگیا۔ اپنے متعلقین میں اطلاع فرما دیں۔ انا للہ وانا الیہ راجعون دل دھڑکنے لگا، آنکھیں بھر آئیں۔
یہ خبر سنتے ہی حضرت مولانا خالد بیگ قاسمی، مفتی حبیب بیگ، انجم قاسمی، مولانا انصار بیگ قاسمی کے ہمراہ بذریعہ کار مولانا کے دیدار نمازِ جنازہ تکفین و تدفین میں شرکت کی غرض سے روانہ ہوا۔
حضرت مولانا خالد بیگ قاسمی صاحب نے تعزیتی تقریب میں کہا کہ جب ہم ادارہ مظہر العلوم پہونچے تو علماء وحفاظ ائمہ مساجد کا کثیر مجمع اظہار تعزیت پیش کررہا تھا۔ اور محترم جناب افضل الدین صاحب، وسیم بھائی، مولانا سمیع اللہ صاحب، حافظ آصف صاحب وغیرہ تجہیز و تدفین کے انتظامات میں ہمہ تن مصروف تھے،
مولانا سے اس عاجز کا قریبی تعلق رہا ہے، مولانا سے میری آخری ملاقات 2/ذیقعدہ مطابق 24/جون کو کاماریڈی کے ایک پروگرام میں ہوئی حسبِ عادت غیرمعمولی محبت شفقت کا اظہار فرماکر دوپہر کا کھانا ساتھ لیکر تناول فرمایا۔
اسی طرح آخری مرتبہ 9 جولائی بروز جمعرات خود مولانا نے اس عاجز کو فون کر کے بات کی اور اہم امور پر تبادلہ خیال بھی کیا؛
نیز بحیثیتِ صدر جمعیۃ علماء ضلع نظام آباد ہمارے رنجل منڈل کے دیہات میں آپ علیہ الرحمۃ کی دینی دعوتی رفاہی ہنگامی حالات میں دورے اور امدادی رقوم ساز وسامان کی سربراہی میں آپ کی خدمات ایک تاریخی یادگار ہے؛
مفتی حبیب اللہ بیگ نے کہا کہ مدرسہ دارالعلوم کنداکرتی کے اساتذہ اور ذمہ داران مدرسہ سے آپ کا قریبی تعلق رہا ؛ کوئی جلسہ کوئی پروگرام آپ کے بغیر نہیں ہوا کرتا تھا۔ الاماشاءاللہ۔
اللہ تعالی آپ کے خاص فضل کا معاملہ فرمائے۔ لواحقین، پسماندگان ومحبین خصوصاً مولانا آصف صاحب، مولانا سمیع الله قاسمی صاحب،محترم مولانا عبد القیوم شاکر قاسمی صاحب کو صبر یعقوبی عطاء فرمائے ہمیں مولانا کا نعم البدل وارث عطاء فرمائے آمین بجاہ خاتم النبیﷺ۔
اس موقع پر حافظ الیاس بیگ، حافظ متین الدین ؛ حافظ اکرام کے علاوہ ذمہ داران مدرسہ، نظیر بیگ جلیل بیگ مصلیان مسجد بھی موجود تھے۔