Sun, Feb 28, 2021

عقیدۂ ختم نبوت قران و حدیث اجماع صحابہؓ واجماع امت واکابر علماء کی تشریحات کی روشنی میں
مفتی محمد خواجہ شریف مظاہری
ترجمان مجلس تحفظ ختم نبوت کاماریڈی

 تمام تعریفیں خاوند قدوس کے لئے سزاوار ہیں، اور درود و سلاموں کی بارش نازل ہو پیارے آقا ﷺ پر کہ جن کے صدقہ میں اللہ نے دونوں جہانوں کوبنایا اور صحابہ کرام کی پاک اور مقدس جماعت پر کہ جنھوں نے ختم نبوت پر جان لٹاکر ہم جیسوں کے جسم میں روح پھونکی ہے۔
اولاً ختم نبوت کے معنی اور ثبوت کو بیان کیا گیا ہے جس میں قران اور اسکی تفسیر سے واضح کیا گیا کہ ختم نبوت کا معنی اور مطلب کیا ہے؟
ختم نبوت کا معنی اور مطلب کیا ہے؟ *
اللہ رب العزت نے نبوت کی ابتداء سیدنا حضرت آدم علیہ السلام سے فرمائی اور اس کی انتہا محمدعربیﷺ کی ذات اقدس پر فرمائی؛ آنحضرتﷺ پر نبوت ختم ہوگئی؛ آپﷺ آخرالانبیاء ہیں، آپﷺ کے بعد کسی کو نبی نہ بنایا جائے گا؛ اس عقیدہ کو شریعت کی اصطلاح میں عقیدۂ ختم نبوت کہا جاتا ہے۔
عقیدہ ختم نبوت کی اہمیت*
ختم نبوت کا عقیدہ ان اجماعی عقائد میں سے ہے، جو اسلام کے اصول اور ضروریات دین میں شمار کئے گئے ہیں، اور عہد نبوت سے لے کر اس وقت تک ہرمسلمان اس پر ایمان رکھتا آیا ہے کہ آنحضرتﷺ بلا کسی تاویل اور تخصیص کے خاتم النبیین ہیں؛
قرآن مجید کی ایک سو آیات کریمہ اور رحمت دوعالمﷺ کی 210 احادیث مبارکہ متواترہ سے یہ مسئلہ ثابت ہے۔
امت محمدیہ کا پہلا اجماع*
آنحضرتﷺ کی امت کا سب سے پہلا اجماع اسی مسئلہ ختم نبوت پر منعقد ہوا، چنانچہ امام العصر علامہ حضرت مولانا سید انور شاہ کشمیری ؒ اپنی آخری کتاب ’’خاتم النبیین‘‘ میں تحریر فرماتے ہیں، جس کا ترجمہ:۔
اور سب سے پہلا اجماع جو اس امت میں منعقد ہوا وہ مسیلمہ کذاب کے قتل پر تھا، جس کا سبب صرف اس کا دعوائے نبوت تھا، اس کی دیگر گھناؤنی حرکات کا علم صحابہ کرامؓ کو اسکے قتل کے بعد ہوا تھا، جیسا کہ ابن خلدونؒ نے نقل کیا ہے، اس کے بعد قرناً بعد قرنٍ مدعی نبوت کے کفر و ارتداد پر ہمیشہ اجماع بلافصل رہا ہے، اور نبوت تشریعیہ یا غیر تشریعیہ کی کوئی تفصیل کبھی زیر بحث نہیں آئی۔(خاتم النبیین، ص:۶۷، ترجمہ ص:۱۹۷)۔
حضرت مولانا محمد ادریس کاندھلویؒ نے ’’مسک الختام فی ختم نبوت سید الانامؐ‘‘ میں رقمطراز ہیکہ:۔
’’امت محمدیہ ؐ میں سب سے پہلا اجماع اسی مسئلہ پر ہوا کہ مدعی نبوت کو قتل کیا جائے۔‘‘۔
(احتسابِ قادیانیت،ج:۲، ص:۱۰)

عہد نبوی ﷺ میں عقیدۂ ختم نبوت کی اہمیت*
عہد نبویﷺ اسلام کے تحفظ ودفاع کیلئے جتنی جنگیں لڑی گئیں، ان میں شہید ہونے والے صحابہ کرامؓ کی کل تعداد 259 ہے۔ (رحمۃ للعالمین،ج:۲،ص:۲۱۳،قاضی سلمان منصور پوریؒ)۔

مسئلہ ختم نبوت کی عظمت واہمیت سے حضرات صحابہؓ کا والہانہ تعلق*
اور عقیدہ ختم نبوت کے تحفظ و دفاع کے لئے اسلام کی تاریخ میں پہلی جنگ جو سیدنا حضرت صدیق اکبرؓ کے عہد خلافت میں مسیلمہ کذاب کے خلاف یمامہ کے میدان میں لڑی گئی، اس ایک جنگ میں شہید ہونے والے صحابہؓ اور تابعینؒ کی تعداد 1200 ہے۔(ختم نبوت کامل، ص:۳۰۴ ، حصہ سوم ازمفتی محمدشفیعؒ)۔
اس سے اندازہ ہوسکتا ہے کہ حضرات صحابہ کرامؓ مسئلہ ختم نبوت کی عظمت واہمیت سے کس طرح والہانہ تعلق رکھتے تھے۔

تابعین کا مسئلہ ختم نبوت پر جانثاری کا جذبہ*
نیز اسی طرح حضرات تابعین نے بھی جانثاری کا ثبوت دیتے ہوئے عقیدہ ختم نبوت کی حفاظت کی ہےواقعہ ملاحظہ فرمائیں: ۔
’’حضرت ابومسلم خولانی جن کا نام عبداللہ بن ثوب ہے، اور یہ امت محمدیہ کے وہ جلیل القدر بزرگ ہیں؛ جن کیلئے اللہ تعالیٰ نے آگ کو اسی طرح بے اثر فرمادیا؛ جیسے حضرت ابراہیم علیہ السلام کے لئے آتش نمرود کو بے اثر کرکے گلِ گلزار بنادیا تھا؛ یہ یمن میں پیدا ہوئے تھے؛ اور سرکارِ دوعالمﷺ کے عہدِمبارک ہی میں اسلام لاچکے تھے؛ لیکن سرکار دو عالمﷺ کی خدمت میں حاضری کا موقع نہیں ملا تھا؛ آنحضرتﷺ کی حیاتِ طیّبہ کے آخری دور میں یمن میں نبوت کا جھوٹا دعویدار اسود عنسی پیدا ہوا؛ جو لوگوں کو اپنی جھوٹی نبوت پر ایمان لانے کیلئے مجبور کیا کرتا تھا؛ اسی دوران اس نے حضرت ابومسلم خولانی کو پیغام بھیج کر اپنے پاس بلایا، اور اپنی نبوت پر ایمان لانے کی دعوت دی، حضرت ابومسلم نے انکار کیا؛ پھر اس نے پوچھا کہ کیا تم محمد ﷺ کی رسالت پر ایمان رکھتے ہو؟ حضرت ابومسلم نے فرمایا ہاں، اس پر اسود عنسی نے ایک خوفناک آگ دھکائی، اور حضرت ابومسلم کو اس آگ میں ڈال دیا، لیکن اللہ تعالیٰ نے ان کیلئے آگ کو بے اثر فرمادیا، اور وہ اس سے صحیح سلامت نکل آئے؛ یہ واقعہ اتنا عجیب تھا کہ اسود عنسی اور اس کے رفقاء پر ہیبت سی طاری ہوگئی؛ اور اسود کے ساتھیوں نے اسے مشورہ دیا کہ انھیں جلا وطن کردو، ورنہ خطرہ ہے کہ ان کی وجہ سے تمہارے پیرؤوں کے ایمان میں تزلزل نہ آجائے،
حضرت ابومسلم کا جلاوطن اور مدینہ منورہ حاضری*
چنانچہ انہیں یمن سے جلا وطن کردیا گیا؛ یمن سے نکل کر ایک ہی جائے پناہ تھی، وہ بھی دیار نبوی ﷺ یعنی مدینہ منورہ، چنانچہ یہ سرکار دوعالمﷺ کی خدمت میں حاضر ہونے کیلئے چلے، لیکن جب مدینہ منورہ پہنچے تو معلوم ہوا کہ آفتاب رسالت ﷺ روپوش ہوچکا ہے،۔
حضرت عمر بن الخطاب کی فراست ایمانی*
آنحضرت ﷺ وصال فرماچکے تھے، اور حضرت صدیق اکبرؓ خلیفہ بن چکے تھے، انہوں نے اپنی اونٹنی مسجد نبویؐ کے دروازے کے پاس بٹھائی اور اندر آکر ایک ستون کے پیچھے نماز پڑھنی شروع کردی؛ وہاں حضرت عمرؓ موجود تھے، انہوں نے ایک اجنبی مسافر کو نماز پڑھتے دیکھا تو ان کے پاس آئے اور جب وہ نماز سے فارغ ہوگئے، تو ان سے پوچھا: آپ کہاں سے آئے ہیں؟ یمن سے! حضرت ابومسلم نے جواب دیا؛ حضرت عمرؓ نے فوراً پوچھا: اللہ کے دشمن (اسود عنسی) نے ہمارے ایک دوست کو آگ میں ڈال دیا تھا، اور آگ نے ان پر کوئی اثر نہیں کیا تھا، بعد میں ان صاحب کے ساتھ اسود نے کیا معاملہ کیا؟ حضرت ابومسلم نے فرمایا: ان کا نام عبداللہ بن ثوب ہے؛ یہ کہنا ہی تھا کہ اتنی ہی دیر میں حضرت عمرؓ کی فراست اپنا کام کرچکی تھی، انہوں نے فوراً فرمایا: میں آپ کو قسم دے کر پوچھتا ہوں کہ کیا آپ ہی وہ دوست ہیں؟ حضرت ابومسلم خولانی نے جواب دیا: ’’جی ہاں!‘‘ حضرت عمرؓ نے یہ سن کر فرطِ مسرت و محبت سے ان کی پیشانی کو بوسہ دیا، اور انہیں لے کر حضرت صدیق اکبرؓ کی خدمت میں پہنچے، انہیں صدیق اکبرؓ کے اور اپنے درمیان بٹھایا اور فرمایا: اللہ تعالیٰ کا شکر ہے کہ اس نے مجھے موت سے پہلے امتِ محمدیہؐ کے اس شخص کی زیارت کرادی؛ جس کے ساتھ اللہ تعالیٰ نے ابراہیم خلیل اللہ جیسا معاملہ فرمایا تھا۔‘‘ (حلیۃ الاولیاء، ص ۱۲۹، ج ۲، تہذیب، ج:۶،ص: ۴۵۸، تاریخ ابن عساکر،ص:۳۱۵،ج:۷، جہاں دیدہ،ص:۲۹۳، وترجمان السنۃ،ص:۳۴۱،ج:۴)۔
منصب ختم نبوت کی خصوصیات*
قرآن مجید میں اللہ تعالیٰ کیلئے ’’رب العالمین‘‘ آنحضرت ﷺ کی ذاتِ اقدس کیلئے ’’رحمۃ للعالمین‘‘ اور بیت الله کیلئے ’’ھدی للعالمین‘‘ فرمایا گیا ہے، اس سے جہاں آنحضرتﷺ کی نبوت و رسالت کی آفاقیت و عالمگیریت ثابت ہوتی ہے، وہیں آپ ﷺ کے وصفِ ختم نبوت کا اختصاص بھی، آپﷺ کی ذاتِ اقدس کیلئے ثابت ہوتا ہے، اس لئے کہ پہلے تمام انبیاء علیہم السلام اپنے اپنے علاقہ، مخصوص قوم اورمخصوص وقت کیلئے تشریف لائے، جب آپﷺ تشریف لائے تو حق تعالیٰ نے کل کائنات کو آپ کی نبوت ورسالت کیلئے ایک اکائی (ون یونٹ) بنادیا؛ جس طرح کل کائنات کیلئے اللہ تعالیٰ ’’رب‘‘ ہیں، اسی طرح کل کائنات کیلئے آنحضرتﷺ ’’نبی‘‘ ہیں؛ یہ صرف اور صرف آپ ﷺ کا اعزاز و اختصاص ہے۔
آپﷺ کی چھ خصوصیات*
آنحضرتﷺ نے اپنے لئے جن چھ خصوصیات کا ذکر فرمایا ان میں سے ایک یہ بھی ہے: ۔
ارسلت الی الخلق کافۃ وختم بی النبیون‘‘۔
ترجمہ: ’’میں تمام مخلوق کیلئے نبی بناکر بھیجا گیا اور مجھ پر نبوت کا سلسلہ ختم کردیا گیا‘‘ (مشکوٰۃ، ص:۵۱۲، باب فضائل سید المرسلین‘ مسلم، ج:۱،ص: ۱۹۹،کتاب المساجد)۔
آنحضرتﷺ آخری نبی ہیں، آپؐ کی امت آخری امت ہے، آپؐ کا قبلہ آخری قبلہ (بیت اللہ شریف) ہے، آپؐ پر نازل شدہ کتاب آخری آسمانی کتاب ہے؛ یہ سب آپؐ کی ذات کے ساتھ منصبِ ختم نبوت کے اختصاص کے تقاضے ہیں، جو اللہ تعالیٰ نے پورے کردیئے، چنانچہ قرآن مجید کو ذکرللعالمین اور بیت اللہ شریف کو ھدی للعالمین کا اعزاز بھی آپؐ کی ختم نبوت کے صدقے میں ملا؛ آپؐ کی امت آخری امت قرار پائی جیسا کہ ارشاد نبوی ہے: ۔
انا آخر الانبیاء وانتم آخر الامم(ابن ماجہ،ص:۲۹۷)۔
خاتم النبیین ہونا آپ ہی کی شان ہے*
حضرت علامہ جلال الدین سیوطیؒ نے اپنی شہرہء آفاق کتاب ’’الخصائص الکبریٰ‘‘ میں آنحضرت ﷺ کا خاتم النبیین ہونا، آپؐ ہی کی خصوصیت قرار دیا ہے (دیکھئے، ج:۲،ص:۱۹۳ ،۱۹۷ ،۲۸۴)۔
اسی طرح امام العصر علامہ حضرت مولانا سید محمد انور شاہ کشمیریؒ فرماتے ہیں:۔
’’وخاتم بودن آنحضرت ﷺ از میان انبیاء از بعض خصائص وکمالاتِ مخصوصہ کمال ذاتی خود است۔‘‘۔
ترجمہ: ’’اور انبیاء میں آپ ﷺ کا خاتم ہونا، آپؐ کے مخصوص فضائل وکمالات میں سے خود آپؐ کا اپنا ذاتی کمال ہے۔

آیت خاتم النبیین کی تفسیر*
ماکان محمد ابا احد من رجالکم ولکن رسول اللہ وخاتم النبیین وکان اللہ بکل شئی علیما۔ (سورۃ احزاب:۴۰) ۔
ترجمہ:محمدﷺ باپ نہیں کسی کے تمہارے مردوں میں سے؛ لیکن رسول ہیں اللہ کے اور مہر لگانے والے ہیں سب نبیوں پر؛ اور اللہ سب چیزوں کو جاننے والا ہے۔‘‘۔
شان نزول :۔*
اس آیت شریفہ کا شان نزول یہ ہیکہ آفتابِ نبوتﷺ کے طلوع ہونے سے پہلے تمام اہلِ عرب جن تباہ کن اور مضحکہ خیز رسوماتِ قبیحہ میں مبتلا تھے، ان میں سے ایک رسم یہ بھی تھی کہ متبنیٰ (لے پالک بیٹے) کو تمام احکام واحوال میں حقیقی اور نسبی بیٹا سمجھتے تھے، اس کو بیٹا کہہ کر پکارتے تھے، اور مرنے کے بعد شریکِ وراثت ہونے میں، اور رشتہ ناطے، حلت و حرمت کے تمام احکام میں حقیقی بیٹا قرار دیتے تھے؛ جس طرح نسبی بیٹے کے مرجانے یا طلاق دینے کے بعد باپ کیلئے بیٹے کی بیوی سے نکاح حرام ہے، اسی طرح وہ لے پالک کی بیوی سے بھی اس کے مرنے اور طلاق دینے کے بعد نکاح کو حرام سمجھتے تھے۔
جاہلانہ رسم کے خاتمہ کی خداوندی تدبیر*
یہ رسم بہت سے مفاسد پر مشتمل تھی: اختلاط نسب، غیر وارثِ شرعی کو اپنی طرف سے وارث بنانا، ایک شرعی حلال کو اپنی طرف سے حرام قرار دینا وغیرہ وغیرہ؛ اسلام جو کہ دنیا میں اسی لئے آیا ہیکہ کفر و ضلالت کی بیہودہ رسومات سے عالم کو پاک کردے، اس کا فرض تھا کہ وہ اس رسم کے استیصال (جڑ سے اکھاڑنے) کی فکر کرتا، چنانچہ اس نے اس کیلئے دو طریقے اختیار کئے، ایک قولی اور دوسرا عملی۔
ایک طرف تو یہ اعلان فرمادیا: ’’و ما جعل ادعیاءکم ابناءکم ذلکم قولکم بافواھکم واللہ یقول الحق وھو یھدی السبیل ادعوھم لاباءھم ھو اقسط عند اللہ۔‘‘ (سورۃ احزاب:۵) ۔
متبنیٰ کو اسکے حقیقی باپ کے نام سے پکارو! *
اصل مدعیٰ تو یہ تھا کہ شرکتِ نسب اور شرکتِ وراثت اور احکامِ حلت وحرمت وغیرہ میں اس کو بیٹا نہ سمجھا جائے، لیکن اس خیال کو بالکل باطل کرنے کیلئے یہ حکم دیا کہ متبنیٰ (لے پالک) بنانے کی رسم ہی توڑ دی جائے، چنانچہ اس آیت میں ارشاد ہوگیا کہ لے پالک کو اس کے باپ کے نام سے پکارو۔
شان نزول کی تفصیل*
نزول وحی سے پہلے آپ ﷺ نے حضرت زید بن حارثؓ کو (جو کہ آپؐ کے غلام تھے) آزاد فرما کر متبنیٰ (لے پالک بیٹا) بنالیا تھا؛ اور تمام لوگ یہاں تک کہ صحابہ کرامؓ بھی عرب کی قدیم رسم کے مطابق ان کو ’’زید بن محمد ‘‘ کہہ کر پکارتے تھے؛ حضرت بن عمرؓ فرماتے ہیں کہ جب یہ آیت اتری اس وقت سے ہم نے اس طریق کو چھوڑ کر انکو ’’زید بن حارثہ ؓ‘‘ کہنا شروع کیا، لیکن چونکہ کسی رائج شدہ رسم کے خلاف کرنے میں اعزہ واقارب اور اپنی قوم وقبیلہ کے ہزاروں طعن وتشنیع کا نشانہ بننا پڑتا ہے، جس کا تحمل ہرشخص کو دشوار ہے؛ اس لئے اللہ نے چاہا کہ اس عقیدہ کو اپنے رسول ہی کے ہاتھوں عملاً توڑا جائے۔
چنانچہ جب حضرت زیدؓ نے اپنی بی بی زینبؓ کو باہمی ناچاقی کی وجہ سے طلاق دے دی؛ تو اللہ نے اپنے رسولﷺ کو حکم فرمایا کہ ان سے نکاح کرلیں، تاکہ اس رسم وعقیدہ کا کلیۃً استیصال ہو جائے؛ چنانچہ ارشاد ہوا:۔
فلما قضیٰ زید منھا وطراً زوجنکھا لکی لا یکون علی المؤمنین حرج فی ازواج ادعیاءھم (احزاب:۳۷) ۔
ترجمہ:پس جبکہ زیدؓ زینبؓ سے طلاق دے کر فارغ ہوگئے؛ تو ہم نے ان کا (زینبؓ) نکاح آپؐ سے کردیا، تاکہ مسلمانوں پر اپنے لے پالک کی بیبیوں کے بارے میں کوئی تنگی واقع نہ ہو. ۔
آپﷺ نے بامرِ خداوندی نکاح فرمایا، ادھر جیسا کہ پہلے ہی خیال تھا، تمام کفار عرب میں شور مچا کہ لو، اس نبی کو دیکھو کہ اپنے بیٹے کی بیوی سے نکاح کر بیٹھے؛ ان لوگوں کے طعنوں اور اعتراضات کے جواب میں آسمان سے یہ آیت نازل ہوئی،۔
ماکان محمد ابا احدمن رجالکم ولکن رسول اللہ وخاتم النبیین۔ (سورۃ احزاب:۴۰)۔
نزول آیت کی غرض اصلی*
لہذا آپؐ کا ان کی سابقہ بیوی سے نکاح کرلینا بلاشبہ جائز و مستحسن ہے، اور اس بارے میں آپؐ کو مطعون کرنا سراسر نادانی اور حماقت ہے؛ ان کے دعوے کے رد میں اتنا کہہ دینا کافی تھا کہ آپؐ حضرت زیدؓ کے باپ نہیں، لیکن خداوند تعالیٰ نے ان کے مطاعن کو مبالغہ کے ساتھ رد کرنے اور بے اصل ثابت کرنے کے لئے اس مضمون کو اس طرح بیان فرمایا کہ آپؐ زیدؓ کے باپ نہیں بلکہ آپؐ تو کسی مرد کے بھی باپ نہیں، پس ایک ایسی ذات پر جس کا کوئی بیٹا ہی موجود نہیں یہ الزام لگانا کہ اس نے اپنے بیٹے کی بیوی سے نکاح کرلیا کس قدر ظلم اور کجروی ہے، آپؐ کے چاروں فرزند بچپن ہی میں وفات پاگئے تھے، ان کو مرد کہے جانے کی نوبت ہی نہیں آئی آیت میں ’’رجالکم‘‘ کی قید اسی لئے بڑھائی گئی ہے؛ بالجملہ اس آیت کے نزول کی غرض آنحضرتﷺ سے کفار و منافقین کے اعتراضات کا اٹھانا اور آپؐ کی برأت اور عظمت شان بیان فرمانا ہے اور یہی آیت کا شان نزول ہے۔ اس کے بعد ارشاد ہوتا ہے: ’’ولکن رسول اللہ وخاتم النبیین۔‘‘ (لیکن رسول ہیں اللہ کے اور مہر لگانے والے ہیں سب نبیوں پر)۔

خاتم النبیین کی قرآنی تفسیر*
قرآن مجید کی رو سے اس کا ترجمہ و تفسیر کیا جانا چاہئے؟
چنانچہ ہم دیکھتے ہیں کہ لفظ ’’ختم‘‘ کے مادہ کا قرآن مجید میں سات مقامات پر استعمال ہوا ہے:۔
الف) مہر کردی اللہ نے ان کے دلوں پر (سورۂ بقرہ:٧)۔
ب) مہر کردی تمہارے دلوں پر (سورۂ انعام:۴۶) ۔
ج) مہر کردی ان کے کان پر اور دل پر (سورۂ جاثیہ:۲۳) ۔
د) آج ہم مہر لگادیں گے ان کے منہ پر(سورۂ یٰس:۶۵) ۔
ہ) ہاں اگر اللہ چاہے مہر کردے تیرے دل پر (سورۂ شوریٰ:۲۴) ۔
و)مہر لگی ہوئی (سورۂ مطففین:۲۵) ۔
ز) جس کی مہر جمتی ہے مشک پر (سورۂ مطففین:۲۶)۔
ان ساتوں مقامات کے سیاق و سیاق میں ’’ختم‘‘ کے مادہ کا لفظ جہاں کہیں استعمال ہوا ہے؛ ان تمام مقامات پر قدرے مشترک یہ ہیکہ کسی چیز کو ایسے طور پر بند اور اسکی ایسی بندش کرنا کہ باہر سے کوئی چیز اس میں داخل نہ ہوسکے، اور اندر سے کوئی چیز اس سے باہر نہ نکالی جاسکے، وہاں پر ’’ختم‘‘ کا لفظ استعمال ہوا ہے،
مثال کے بار ہر پہلی پہلی آیت کو دیکھیں کہ اللہ تعالیٰ نے ان کافروں کے دلوں پر مہر کردی، کیا مطلب کہ کفر ان کے دلوں سے باہر نہیں نکل سکتا اور باہر سے ایمان ان کے دلوں کے اندر داخل نہیں ہوسکتا فرمایا: ’’ختم اللہ علی قلوبھم۔
اب آیت خاتم النبیین کا اس قرآنی تفسیر کے اعتبار سے ترجمہ کریں تو اس کا معنی ہوگا کہ آپ محمد کی آمد پر حق تعالیٰ نے انبیاء علیہم السلام کے سلسلہ پر ایسے طور پر بندش کردی، اورمہر لگادی کہ اب کسی نبی کو نہ اس سلسلہ سے نکالا جاسکتا ہے اور نہ کسی نئے شخص کو سلسلہ نبوت میں داخل کیا جاسکتا ہے۔ فھوالمقصود، ۔
لیکن قادیانی اس ترجمہ کو نہیں مانتے،۔
خاتم النبیین کی نبوی تفسیر*
’’عن ثوبان رضی اللہ عنہ قال : قال رسول اللہﷺ انہ سیکون فی امتی کذابون ثلاثون کلھم یزعم انہ نبی وانا خاتم النبیین لا نبی بعدی‘‘ (ابو داؤد،ص:۱۲۷، ج،۲: کتاب الفتن واللفظ لہ،سنن ترمذی، ص:۴۵,ج:۲)۔
ترجمہ:حضرت ثوبان حضورﷺ کا فرمان نقل فرماتے ہیکہ میری امت میں تیس جھوٹے پیدا ہوں گے، ہر ایک یہی کہے گا کہ میں نبی ہوں؛ حالانکہ میں خاتم النبیین ہوں، میرے بعد کوئی نبی نہیں۔‘‘۔
آنحضرتﷺ نے لفظ ’’خاتم النبیین‘‘ کی ’’لانبی بعدی‘‘ کے ساتھ خود تفسیر فرمادی ہے۔

خاتم النبیین کی تفسیر صحابہ کرامؓ سے*
ابن جریر طبریؒ اپنی عظیم الشان تفسیر میں حضرت قتادہؓ سے خاتم النبیین کی تفسیر نقل فرماتے ہیں:۔
عن قتادہ ولکن رسول اللہ وخاتم النبیین ای آخرھم۔(ابن جریر، ص:۱۶،ج:۲۲)۔
ترجمہ: لیکن آپؐ اللہ کے رسول اور خاتم النبیین یعنی آخرالنبیین ہیں۔
حضرت قتادہؓ کا یہ قول علامہ سیوطیؒ نے دُرّمنثور میں عبد الرزاق، عبدابن حمید، ابن منذر اور ابن ابی حاتم سے بھی نقل کیا ہے۔ (دُرّمنثور،ص:۲۰۴، ج:۵)۔
نیز حضرت ابن مسعودؓ کی قرأت ہی آیت مذکور میں : ’’ولکن نبینا خاتم النبیین‘‘ ہے؛ جو خود اسی معنی میں دلالت کرتی ہے، علامہ سیوطیؒ نے درمنثور میں نقل کیا کہ:عن الحسن فی قولہ و خاتم النبیین قال ختم اللہ النبیین بمحمدﷺ و کان آخر من بعث۔ (درّمنثور،ص:۲۰۴،ج:۵)۔
کہ اللہ تعالیٰ نے تمام انبیاء کو محمدﷺ پر ختم کردیا اور آپؐ آخری نبی ہیں۔
کیا اس جیسی صراحتوں کے بعد بھی کسی شک یا تاویل کی گنجائش ہے؟*
خلاصہ*
اس آیت مبارکہ میں آپؐ کیلئے خاتم النبیین کا لفظ استعمال کیا گیا ہے، قرآن و سنت، صحابہ کرامؓ، تابعینؒ کی تفسیرات کی رو سے اس کا معنی آخری نبی ہی ہے، اور اصحاب لغت کی تصنیفات نے ثابت کردیا ہے کہ خاتم کا لفظ جب جمع کی طرف مضاعف ہے تو اس کا معنی سوائے آخری کے اور کوئی ہو ہی نہیں سکتے۔ چنانچہ ملعون مردود مرزا قادیانی نے بھی خاتم کو جمع کی طرف مضاعف کیا ہے، وہاں بھی اس کے معنی آخری کے ہی ہیں، ملاحظہ فرمایئے: ’’میرے بعد میرے والدین کے گھر میں اور کوئی لڑکی یا لڑکا نہیں ہوا، اور میں ان کے لئے خاتم الاولاد تھا۔‘‘ (تریاق القلوب، ص: ۱۵۷،خزائن،ص:۴۷۹ ، ج۱۵)۔

ختم نبوت سے متعلق آیات*
و ماارسلنک الا کافۃ للناس بشیرا ًو نذیراً۔(سبا: ۲۸)۔
ترجمہ: ہم نے تم کو تمام دنیا کے انسانوں کیلئے بشیر اور نذیر بناکر بھیجا ہے۔
قل یایھا الناس انی رسول اللہ الیکم جمیعا۔(الاعراف: ۱۵۸) ۔
ترجمہ: فرمادیجئے کہ اے لوگو! میں تم سب کیلئے اللہ تعالیٰ کا رسول ہوں۔
یہ دونوں آیتیں صاف اعلان کررہی ہیں کہ حضورﷺ بغیر استثناء تمام انسانوں کی طرف رسول بنکر تشریف لائے ہیں، جیسا کہ آپؐ نے خود ارشاد فرمایا ہے: انا رسول من ادرکت حیا ومن یولد بعدی۔(کنز العمال،ج:۱۱ ص:۴۰۴،الخصائص الکبریٰ،ص:۸۸،ج:۲)۔
و ما ارسلنک الا رحمۃ للعلمین۔(الانبیاء:۱۰۷) ۔
ترجمہ: میں نے تم کو تمام جہاں والوں کیلئے رحمت بناکر بھیجا ہے۔
الیوم اکملت لکم دینکم واتممت علیکم نعمتی ورضیت لکم الاسلام دینا۔ (مائدہ:۳) ۔
ترجمہ:آج کے دن میں نے تمہارا دین کامل کردیا اور اپنی نعمت تم پر تمام کردی، اور تمہارے لئے دین اسلام ہی پسند کیا۔
تنبیہ*
یہ آیتیں بطورِ اختصار کے ختمِ نبوت کے ثبوت اور تائید میں پیش کردی گئیں، ورنہ قرآن کریم میں سو سے زائد آیتیں ختم نبوت پر واضح طور پر دلالت کرنے والی موجود ہیں۔ (مزید تفصیل کیلئے دیکھئے۔ختم نبوت کامل، از حضرت مولانا مفتی محمد شفیع ؒ)۔

ختم نبوت سے متعلق احادیث مبارکہ*
میں نبیوں کو ختم کرنے والا ہوں*
عن ابی ہریرۃؓ أن رسول اللہ ﷺ قال مثلی ومثل الأنبیاء من قبلی کمثل رجل بنی بنیانا فأحسنہ و أجملہ الا موضع لبنۃ من زاویۃ من زوایاہ فجعل الناس یطوفون بہ وی یعجبون لہ و یقولون ھلا وضعت ھذہ اللبنۃ قال فأنا اللبنۃ و أنا خاتم النبیین۔(بخاری، کتاب المناقب، مسلم ص ۲۴۸ ج ۲ واللفظ لہ)۔
ترجمہ:حضرت ابوہریرۃؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہﷺ نے ارشاد فرمایا کہ میری اور مجھ سے پہلے انبیاء کی مثال ایسی ہے کہ ایک شخص نے بہت ہی حسین وجمیل محل بنایا مگر اس کے کسی کونے میں ایک اینٹ کی جگہ چھوڑ دی، لوگ اس کے گرد گھومنے اور اس پر عش عش کرنے لگے اور یہ کہنے لگے کہ یہ ایک اینٹ بھی کیوں نہ لگادی گئی؟ آپؐ نے فرمایا: میں وہی (کونے کی آخری) اینٹ ہوں اور میں نبیوں کو ختم کرنے والا ہوں۔
مجھے چھ چیزوں میں تما نبیوں پر فضیلت دی گئی ہے*
عن ابی ہریرۃؓ ان رسول اللہ ﷺ قال فضلت علی الانبیاء بست اعطیت جوامع الکلم و نصرت بالرعب و أحلت لیٰ الغنائم و جعلت لی الارض طھورا و مسجداً و أرسلت الی الخلق کافۃ و ختم بی النبیون۔(مسلم ص ۱۹۹ ج ۱،مشکوٰۃ ص ۵۱۲)۔
ترجمہ: حضرت ابوہریرۃؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہﷺ نے فرمایا کہ مجھے چھ چیزوں میں انبیاء کرام علیہم السلام پر فضیلت دی گئی ہے: ۔
(۱) مجھے جامع کلمات عطا کئے گئے
(۲) رعب کے ساتھ میری مدد کی گئی
(۳) مال غنیمت میرے لئے حلال کردیا گیا ہے
(۴) روئے زمین کو میرے لئے مسجد اور پاک کرنے والی چیز بنادیا گیا ہے
(۵) مجھے تمام مخلوق کی طرف مبعوث کیا گیا ہے
(۶) اورمجھ پرنبیوں کا سلسلہ ختم کردیا گیا ہے۔

میرے بعد کوئی نبی نہیں*
عن سعد بن ابی وقاص قال قال رسول اللہﷺ لعلیؓ انت منی بمنزلۃ ھرون من موسی الا انہ لا نبی بعدی۔(بخاری ص ۶۳۳ ج۲) و فی روایۃ مسلم أنہ لا نبوۃ بعدی (مسلم ص ۲۷۸ ج ۲)۔
ترجمہ: سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ آپ ﷺ نے حضرت علی رضی اللہ عنہ سے فرمایا: تم مجھ سے وہی نسبت رکھتے ہو جو ہارون کو موسیٰ (علیہما السلام) سے تھی، مگر میرے بعد کوئی نبی نہیں۔ اور مسلم کی ایک روایت میں ہے: ’’میرے بعد نبوت نہیں۔‘‘۔
آپﷺ کے بعد کوئی نبی نہیں، البتہ بہت سے خلفاء ہوں گے*
عن ابی ہریرۃؓ یحدث عن النبیﷺ قال کانت بنواسرائیل تسوسھم الانبیاء کلما ھلک نبی خلفہ نبی وانہ لا نبی بعدی وسیکون خلفاء فیکثرون۔(بخاری ص ۴۹۱ ج ۱، واللفظ لہ، مسلم ص ۱۲۶ ج۲، مسند احمد ص ۲۹۷ ج ۲)۔
ترجمہ: حضرت ابوہریرہؓ رسول اکرمﷺ سے بیان کرتے ہیکہ بنی اسرائیل کی قیادت خود ان کے انبیاء کیا کرتے تھے، جب کسی نبی کی وفات ہوتی تھی تو اسکی جگہ دوسرا نبی آتا تھا لیکن میرے بعد کوئی نبی نہیں، البتہ بہت سے خلفاء ہوں گے۔
آپﷺ کے بعد نہ نبی اور نہ نئی شریعت ہے۔*
بنی اسرائیل میں غیرتشریعی انبیاء آتے تھے جو موسیٰ علیہ السلام کی شریعت کی تجدید کرتے تھے، مگر آپﷺ کے بعد ایسے انبیاء کی آمد بھی بند ہے۔

عن أنس بن مالک قال قال رسول اللہﷺ ان الرسالۃ و النبوۃ قد انقطعت فلا رسول بعدی و لا نبی۔ (ترمذی ص ۵۱ ج ۲، مسند احمد ص ۲۶۷ ج ۳)۔
ترجمہ: حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ رسالت و نبوت ختم ہوچکی ہے، پس میرے بعد نہ کوئی رسول ہے اور نہ نبی۔
عن ابی ہریرہؓ انہ سمع رسول اللہﷺ یقول نحن الآخرون السابقون یوم القیامۃ بید أنھم أوتوا الکتاب من قبلنا۔ (بخاری ص ۱۲۰ ج ۱ واللفظ لہ،مسلم ص ۲۸۲ ج ۱)۔
ترجمہ: حضرت ابو ہریرہؓ کو رسول اللہﷺ نے فرمایا: ہم سب کے بعد آئے اور قیامت کے سب سے آگے ہوں گے، صرف اتنا ہوا کہ ان کو کتاب ہم سے پہلے دی گئی۔

اگر نبوت کا سلسلہ جاری رہتا تو عمر میں وہ صلاحیت تھی*
عن عقبۃ بن عامرؓ قال قال رسول اللهﷺ لو کان بعدی نبی لکان عمر بن الخطابؓ۔(ترمذی ص ۲۰۹ ج ۲)۔
ترجمہ: ’’حضرت عقبہ بن عامرؓ سے روایت ہے کہ حضورﷺ نے ارشاد فرمایا اگر میرے بعد کوئی نبی ہوتا تو عمر بن خطابؓ ہوتے۔

دو ایسے اسمائے گرامی جو آپؐ کے خاتم النبی ہونے پر دلالت کرتے ہیں*
عن جبیر بن مطعم رضی اللہ عنہ قال سمعت النبی ﷺ یقول أن لی أسمائی،أنا محمد، و أنا أحمد، و أنا الماحی الذی یمحواللہ بی الکفر، و أنا الحاشر الذی یحشر الناس علی قدمی، و أنا العاقب، و العاقب الذی لیس بعدہ نبی۔‘‘ صحیح مسلم، کتاب الفضائل، باب فی اسمائہ ﷺ،۔
ترجمہ: حضرت جبیربن مطعم رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ میں نے نبی کریمﷺ کو یہ فرماتے ہوئے خود سنا ہے کہ میرے چند نام ہیں: میں محمد ہوں، میں احمد ہوں، میں ماحی (مٹانے والا) ہوں کہ میرے ذریعے اللہ تعالیٰ کفر کو مٹائیں گے اور میں حاشر (جمع کرنے والا) ہوں کہ لوگ میرے قدموں پر اٹھائے جائیں گے اور میں عاقب (سب کے بعد آنے والا) ہوں کہ میرے بعد کوئی نبی نہیں۔
اس حدیث میں آنحضرت ﷺ کے دو اسمائے گرامی آپؐ کے خاتم النبیین ہونے کی دلالت کرتے ہیں۔ اول ’’الحاشر‘‘، حافظ ابن حجرؒ فتح الباری میں اس کی شرح کرتے ہوئے لکھتے ہیں:۔
’’اشارۃ الی انہ لیس بعدہ نبی و لا شریعۃ … فلما کان لا أمۃ بعد امتہ لأنہ لا نبی بعدہ، نسب الحشر الیہ، لأنہ یقع عقبہ۔ ‘‘ (فتح الباری ص ۴۰۶ ج ۶)۔
ترجمہ: یہ اس طرف اشارہ ہے کہ آپؐ کے بعد کوئی نبی اور کوئی شریعت نہیں… سو چونکہ آپؐ کی امت کے بعد کوئی امت نہیں اور چونکہ آپؐ کے بعد کوئی نبی نہیں، اس لئے حشر کو آپؐ کی طرف منسوب کردیا گیا، کیونکہ آپؐ کی تشریف آوری کے بعد حشر ہوگا۔
دوسرا اسم گرامی: ’’العاقب‘‘ جس کی تفسیر خود حدیث میں موجود ہے یعنی کہ: ’’الذی لیس بعدہ نبی‘‘ (آپؐ کے بعد کوئی نبی نہیں)۔

متعدد احادیث میں آپ ﷺ نے انگشت شہادت اور درمیانی انگلی کی طرف اشارہ کرکے فرمایا*
بعثت أنا والساعۃ کھاتین(بخاری كِتَاب الرِّقَاقِ) قال الامام القرطبی فی التذکرۃ: فمعناہ أنا النبی لأخیر فلا یلینی نبی آخر … ولیس بینی وبین القیامۃ نبی (التذکرۃ فی أحوال الموتی وأمور الآخرۃ ص ۷۱۱) وقال الامام السندھی: التشبیہ فی المقارنۃ بینھما، ای لیس بینھما رجع اخری کما أنہ لا نبی بینہﷺ وبین الساعۃ۔(حاشیہ علامہ سندھیؒ برنسائی ص ۲۳۴ ج۱)۔
ترجمہ: مجھے اور قیامت کو ان دو انگلیوں کی طرح بھیجا گیا ہے، نیز امام قرطبی ’’تذکرہ‘‘ میں لکھتے ہیں: آپﷺ کا فرمان ہےکہ: مجھے اور قیامت کو ان دو انگلیوں کی طرح بھیجا گیا ہے، اس کے معنی یہ ہیکہ میں آخری نبی ہوں، میرے بعد اور کوئی نبی نہیں، میرے بعد بس قیامت ہے، … اسی طرح میرے اور قیامت کے درمیان کوئی نبی نہیں۔ نیز علامہ سندھیؒ لکھتے ہیں: تشبیہ دونوں کے درمیان اتصال میں ہے (یعنی دونوں کے باہم ملے ہوئے ہونے میں ہے) یعنی جس طرح ان دونوں کے درمیان کوئی اور انگلی نہیں، اسی طرح آپ ﷺکے درمیان اور قیامت کے درمیان اور کوئی نبی نہیں۔
ان احادیث میں آپﷺ کی بعثت کے درمیان اتصال کا ذکر کیا گیا ہے؛ جس کے معنی یہ ہیں کہ آپﷺ کی تشریف آوری قربِ قیامت کی علامت ہے اور اب قیامت تک آپؐ کے بعد کوئی نبی نہیں۔

ختم نبوت پر اجماعِ امت*
حجۃ الاسلام امام غزالی ؒ ’’الاقتصاد‘‘ میں فرماتے ہیں:۔
ان الأمۃ فھمت بالاجماع من ھذا اللفظ ومن قرائن أحوالہ أنہ أفھم عدم نبی بعدہ أبدا … و أنہ لیس فیہ تأویل و لا تخصیص فمنکر ھذا لا یکون الا منکر الاجماع۔(الاقتصاد فی الاعتقاد ص ۱۲۳)۔
ترجمہ:بے شک امت نے بالاجماع اس لفظ (خاتم النبیین) سے یہ سمجھا جس کا مفہوم یہ ہے کہ آپؐ کے بعد نہ کوئی نبی ہوگا اور نہ رسول، اور اس پر اجماع ہے کہ اس لفظ میں کوئی تاویل و تخصیص نہیں۔
ختم نبوت پر تواتر*
حافظ ابن کثیرؒ آیت خاتم النبیین کے تحت لکھتے ہیں:۔
وبذلک وردت الأحادیث المتواترۃ عن رسول اللہﷺ من حدیث جماعۃ من الصحابۃ رضی اللہ عنہم۔(تفسیرابن کثیرص۴۹۳ج۳) ۔
و کونہﷺ خاتم النبیین مما نطق بہ الکتاب و صدعت بہ السنۃ و أجمعت علیہ الأمۃ فیکفر مدعی خلافہ و یقتل ان اصر۔(روح المعانی ص ۳۹ ج ۲۲)۔
ترجمہ: اور ختم نبوت پر آپ ﷺ سے احادیث متواترہ وارد ہوئی ہیں، جن کو صحابہؓ کی ایک بڑی جماعت نے بیان فرمایا۔ نیز علامہ آلوسی تفسیر لکھتے ہیں:۔
ترجمہ: آپﷺ کا خاتم النبی ہونے پرقرآن ناطق ہے، احادیث نے جس کو واضح کیا اور امت نے جس پر اجماع کیا ہے، پس جو شخص اس کے خلاف کا مدعی ہو اس کو کافر قرار دیا جائے گا اور اگر وہ اس پر مصر ہو تو اس کو قتل کیا جائے گا۔
خلاصہ*
پس عقیدۂ ختم نبوت جس طرح قرآن کریم کے نصوص قطعیہ سے ثابت ہے اسی طرح آپﷺ کی احادیث متواترہ سے بھی ثابت ہے۔