Fri, Feb 26, 2021

سماجی فاصلہ رکھنا ضروری ہے؛ مگر اچھوت کا سا برتاؤ کرنا درست نہیں
حضرت مولانا خالد سیف اللہ رحمانی کی اپیل

    اس وقت کوروناکی جووباء پوری دنیا میں پھیل چکی ہے، یقیناََ اس سے انسانیت کو بچانے کی کوشش کرنا ہم سب کا انسانی، دینی اور اخلاقی فریضہ ہے نیز حکومت نے جو ہدایات دی ہیں، ان پر عمل کرنا ضروری ہے؛ اسی لئے علماء نے جماعت اور جمعہ جیسی اہم عبادتوں کے لئے بھی یہ راستہ نکالا کہ چند افراد کی جماعت اور جمعہ ہو جائے اور بقیہ لوگ اپنے گھروں میں نماز ادا کرلیں اور جمعہ کے بجائے ظہر پڑھنے پر اکتفاء کریں؛ لیکن اس کا یہ مطلب نہیں ہے کہ جن لوگوں کی رپورٹ کورونا میں پازیٹیو آئی تھی اور اب وہ صحت یاب ہو کر آگئے، یا جن کی رپورٹ پازیٹیو نہیں آئی تھی؛ لیکن احتیاطی تدبیر کے تحت اُن کو کورونٹائن کیا گیا اور اس کے بعد حکومت نے ان کو گھر جانے کی اجازت دے دی ، یا جن کی رپورٹ نگیٹیو آچکی ہے، صرف اس بنیاد پر کہ انہیں کورونٹائن میں جانا پڑا، یا ہاسپیٹل میں رہنا پڑا، یا اس بنیاد پر کہ وہ دوسرے شہر سے آرہے ہیں، ان کے ساتھ اچھوت کا سا معاملہ کیا جائے،یہ شرعاََ جائز نہیں ہے ، ہمیں اس بات کا یقین رکھنا چاہئے کہ اگرچہ ڈاکٹروں کی ہدایت پر عمل کرنا اور طبی نقطۂ نظر سے احتیاط برتنا ضروری ہے ،آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے خود اس کی تلقین فرمائی ہے؛ لیکن جب تک اللہ تعالیٰ کی مشیت نہ ہو، اُس وقت تک ایک انسان کی بیماری دوسرے انسان کے جسم میں منتقل نہیں ہوسکتی، مؤثر حقیقی اللہ تعالیٰ کی ذات ہے، یہ ہمارے بھائی،رشتہ دار، پڑوسی اور ہمارے سماج میں رہنے والے ہیں، ہمارے لئے درست نہیں ہے کہ ان کے ساتھ اچھوت کا سا معاملہ کریں، اوران سے دور سے بھی ملنا نہ چاہیں، بات کرنے سے بھی گریز کریں ، اگر کوئی احتیاطی مرحلوں سے گزر کر محلہ میں آرہا ہے تو محلہ والے چاہیں کہ وہ محلے میں نہ آئے، پڑوسی اعتراض کریں کہ وہ اپنے گھر میں کیوں آیا؟ اس کا شرعاََ اور اخلاقاََ کوئی جواز نہیں ہے، اسی طرح اگر کورونا کے مرض میں کسی کا انتقال ہو جائے تو بہر حال ایک مسلمان اور انسان ہونے کی حیثیت سے نماز جنازہ اور تدفین میں حکومت کی ہدایات کے دائرہ میں رہتے ہوئے شریک ہونا چاہئے کہ بڑی تعداد میں لوگ شریک نہ ہوں اور فاصلہ کے ساتھ نماز پڑھی جائے، یہ بات بھی سامنے آرہی ہے کہ بعض جگہ مسلمان کورونا کی وجہ سے فوت ہونے والے مریضوں کو قبرستان میں دفن کرنے سے منع کر دیتے ہیں، ایسا کرنا قطعاََ جائز نہیں ہے؛ کیوں کہ مسلمان کی تدفین تمام مسلمانوں پر فرض کفایہ ہے، اس سے بڑھ کر افسوس کی بات اور کیا ہوگی کہ اس کے نتیجے میں ملک کے ایک بڑے شہر میں ایک مسلمان کی لاش جلا دی گئی، ہمیں چاہئے کہ ہم تمام احتیاطی تدابیر کے باوجود ہر گز ایسی صورت حال پیدا نہ ہونے دیں؛ البتہ احتیاطی تدبیریں اختیار کریں، قبر گہری کھودی جائے ،تدفین سے پہلے قبر کو سینی ٹائز کیا جائے اور تدفین کے بعد قبر کو اوپر سے سینی ٹائز کر دیا جائے، ان چیزوں کی رعایت کے ساتھ جنازہ میں شرکت اور تدفین میں شرکت ہونی چاہئے، بڑے افسوس کی بات ہے کہ ہندوستان سے بھی اور بیرون ملک سے بھی بعض ایسی خبریں آرہی ہیں کہ ماں باپ کا انتقال ہوا اور اولاد نے آخری مرحلہ میں شرکت سے انکار کر دیا، یہ اسلامی تعلیمات اورعام انسانی اور اخلاقی تقاضوں کے خلاف ہے، ہمیں ایک طرف شریعت کے احکام پر عمل کرتے ہوئے انسانی واسلامی اخوت کا لحاظ رکھنا چاہئے اور دوسری طرف حکومت کی ہدایت پر عمل کرتے ہوئے سماجی فاصلہ بھی رکھنا چاہئے اور کسی انسان کے ساتھ اچھوت جیسا سلوک تو ہر گز نہیں کرنا چاہئے۔   

    ۹؍اپریل ۲۰۲۰ء                    خالد سیف اللہ رحمانی