Fri, Feb 26, 2021
چند دن تنہائی کے سایہ میں!
فقیہ العصرحضرت مولانا خالد سیف اللہ رحمانی
    تاشقند میں ۲۱؍ مارچ ۲۰۲۰ء کو ہم لوگ فجر کی نماز پڑھتے ہی ہوٹل سے باہر نکلے، مولانا عبدالقیوم سلمہ اور ان کے رفقاء ائیرپورٹ لے کر آئے، یہ ہم لوگوں کے لئے بہت خوشی کا موقع تھا، ایک تو اپنے ملک آنے کی خوشی، دوسرے: ازبکستان ائیرلائز نے اعلان کر دیا تھا کہ اس کے بعد غیر معینہ مدت کے لئے دہلی اور ممبئی کی فلائٹ بند رہے گی، اگر خدا نخواستہ ہم لوگ اس فلائٹ سے نہ آسکتے تو یہ کس قدر پریشانی کا سبب ہوتا؟ وہ محتاج اظہار نہیں؛ اس لئے اس خوشی کے پیچھے یہ بات بھی کارفرما تھی کہ ایک بڑی آزمائش سے ہم لوگ بچ گئے، بظاہر طبیعت بالکل ٹھیک تھی، نہ نزلہ، نہ زکام، نہ کھانسی، نہ بخار؛ اس لئے ایک گونہ اطمینان تھا کہ ہمیں ائیرپورٹ سے اپنی منزل کی طرف جانے کی اجازت دے دی جائے گی؛ لیکن میرے دل کے ایک گوشہ میں تردد وتشویش کا کانٹا بھی چبھ رہا تھا کہ چوں کہ میں الرجی کا مریض ہوں، کہیں میڈیکل ٹیسٹ میں پکڑا اور روک نہ لیا جاؤں۔
    میری فلائٹ ساڑھے گیارہ بجے دن دہلی ائیرپورٹ پر پہنچ گئی، جب اترے تو قیامت کا منظر تھا، ہزاروں مسافر ائیرپورٹ پر پڑئے ہوئے تھے، جگہ کی کمی کی وجہ سے بہت سے لوگ زمین ہی پر بیٹھے اور لیٹے ہوئے نظر آئے، اللہ جزائے خیر دے دونوں رفقاء عزیزان گرامی مولانا محمد ارشد فلاحی اور مولانا محمد ارشد کھروڑ کو کہ اِن حضرات نے خود تکلیف اٹھا کر مجھے راحت پہنچانے کی کوشش کی، حسب ضرورت پولیس سے بھی مدد لی، دوڑ دھوپ کر کرسی کا بھی انتظام کیا، مسافروں کے گروپ بنا بنا کر ہر دس آدمی پر پولیس کا ایک عملہ مقرر ہوا، اور اس نے سب کے پاسپورٹ اپنے پاس رکھ لئے، مختلف مرحلوں سے گزرنے کے بعد وہ مرحلہ تھا جہاں سرسری میڈیکل ٹیسٹ کیا جاتا تھا، اس میں رات کے تقریباََ ۱۱؍ بج گئے، میں نے دو کام خاص طور پر کئے، ایک تو اپنے ساتھیوں کے ساتھ عشاء کی نماز ائیرپورٹ ہی پر ادا کر لی، دوسرے ایک سوٹ کیس میں وہ ضروری سامان رکھ لئے، جس کی ہر وقت ضرورت پیش آتی ہے؛ تاکہ اگر قرنطینہ میں ڈال دیا جائے تو دشواری نہ ہو، اور اسی سوٹ کیس کو اپنے ساتھ رکھ لوں۔
    جب ہم لوگ میڈیکل ٹیسٹ کے ہال میں آئے تو جو لوگ جوان اور نوجوان تھے، ان کو تو عام طور پر چھوڑ دیا گیا، سوائے اس کے کہ کسی کو بخار اور کھانسی ہو، یا کورونا سے متأثر ملک سے آیا ہو؛ لیکن جتنے لوگوں کی عمریں ساٹھ سے اوپر تھیں، ان سبھوں کو احتیاطی نگہداشت (کورنٹائن) میں رکھنے کا فیصلہ ہوا، میں بھی اس زمرہ میں شامل تھا، مجھے اپنے آپ سے زیادہ دوسرے ایسے لوگوں پر رحم آرہا تھا، جو زیادہ پریشانی سے دو چار تھے، جیسے بعض سن رسیدہ خواتین ، جو دوسرے ملکوں سے آئیں، انہیں بھی روک دیا گیا، شوہر وبیوی آئے، دونوں کے لئے کورنٹائن کا فیصلہ ہوا ، اور کہا گیا کہ آپ کو الگ الگ رہنا ہوگا، اللہ جزائے خیر دے عزیزی مولانا ارشد کھروڑ کو کہ انھوں نے کہا کہ میں بھی آپ کے ساتھ رہنا چاہتا ہوں؛ لیکن میں نے ان کو منع کیا اور سمجھایا کہ آپ رہیں گے بھی تو الگ ہی رہنا پڑے گا، اس سے میری پریشانی کم نہیں ہوگی، اور آپ کو بلا وجہ پریشانی سے دو چار ہونا پڑے گا، بہر حال یہ دونوں افراد بڑے ہی رنج وافسوس کے ساتھ اپنے گھروں کے لئے روانہ ہوئے، اسلامک فقہ اکیڈمی کے رفیق مولانا امتیاز احمد قاسمی سلمہ اللہ تعالیٰ بھی مجھے لینے کے لئے دہلی ائیرپورٹ پر موجود تھے، اس سے یہ سہولت ہوئی کہ زائد سامان ان کے حوالہ کر دیا۔
    سیاسی اثر و رسوخ کے حامل کئی احباب نے کوشش کی کہ میں کورنٹائن سے بچ جاؤں؛ لیکن چوں کہ اب تک ہندوستان میں کورونا کے جتنے کیسس آئے تھے، وہ باہر سے آنے والوں ہی کے تھے؛ اس لئے یہ کوششیں نتیجہ خیز نہیں ہو سکیں، میں بھی دعاء کر رہا تھا کہ جس میں خیر ہو، وہ ہو جائے اور چوں کہ اس زمرہ میں اچھے خاصے لوگ شامل تھے تو’’ مرگِ انبوہ جشنے دارد‘‘ کے مصداق کلفت کا احساس کم ہوگیا؛ البتہ ایک بات بہت اچھی ہوئی کہ میرے تمام عزیزوں اور دوستوں نے بہ اصرار کہا کہ آپ حکومت کے قرنطینہ سینٹر میں جانے کے بجائے گورنمنٹ کی طرف سے معاوضہ لے کر ہوٹل میں قرنطینہ کا جو نظم کیا گیا ہے، اس کا انتخاب کریں؛ چنانچہ ایسا ہی کیا گیا، بعد کو گورنمنٹ کے قرنطینہ سینٹر کی جو کیفیات سنیں اور واٹس ایپ پر جو تفصیلات آئیں، اس سے اندازہ ہوا کہ یہ بر وقت اور صحیح فیصلہ تھا۔
    بہر حال مختلف مراحل سے گزر کر ہمیں ائیرپورٹ کے قریب لیمن ٹری ہوٹل لایا گیا، اور اس میں ہر آدمی کو ضروری سہولتوں سے آراستہ الگ الگ روم دیے گئے، اس میں اگر کوئی تکلیف تھی تو وہ تھی تنہائی کی، کہ سوائے درودیوار کے ۲۴؍ گھنٹہ انسان کے سامنے کوئی اور چیز نہیں تھی، کھانا تو وقت پر مل جاتا تھا، اور غنیمت درجہ کا تھا، اس کی پانچ منزلوں میں قرنطینہ والے لوگ تھے؛ لیکن کسی کی دوسرے سے ملاقات نہیں تھی ، ائیر پورٹ کی تکلیف دہ اور طویل الوقت کارروائیوں سے گزر کر جب بسوں کے ذریعہ ہم لوگ ہوٹل لائے گئے، تو بالکل ٹوٹ چکے تھے اور رات کا ڈیڑھ بج چکا تھا، گویا پورے تیرہ گھنٹے ان کارروائیوں کی نذر ہوگئے، اور بہت ہی بے آرامی کے ساتھ گزرے، صبح سے کچھ کھانے کی نوبت نہیں آئی تھی، صرف دو تین بسکٹ ائیرپورٹ پر دیے گئے تھے، اور ہوٹل میں کھانے پینے کا اس وقت کوئی نظم نہیں تھا ،نیند کا سخت تقاضہ تھا؛ چوں کہ ۳۶؍ گھنٹے سے آنکھ بند کرنے کی نوبت نہیں آئی تھی، میں نے اللہ کا نام لے کر سامان اپنی جگہ رکھا ،وضوء کر کے چار رکعت نماز پڑھی اور خوب دعاء کی کہ اگر میرے لئے یہاں رکنا ہی مقدر ہے تو اس میں خیر پیدا فرما دے اور برداشت کی طاقت عطا فرما، اس کے بعد بستر پر دراز ہوگیا، اور گہری نیند سو گیا، الارم کی آواز پر ہی فجر کے لئے اُٹھ سکا، اور نیند کے غلبہ کی حالت میں جیسے تیسے فجر کی نماز ادا کی اور پھر سو گیا، تقریباََ نو دس بجے آنکھ کھلی، جب کہ ناشتہ آچکا تھا، ناشتہ سے فارغ ہونے کے بعد اپنے ۲۴؍ گھنٹے کا نظام بنایا، جس میں نماز، تلاوت اور تسبیحات کے علاوہ مطالعہ اور لکھنے لکھانے کی مشغولیات بھی رکھی گئیں اور کوشش کی کہ زیادہ سے زیادہ مشغول رہا جائے؛ تاکہ تنہائی کا احساس کم ہو، اور یہ بھی طے کیا کہ فون پر بلا ضرورت گفتگو سے بچا جائے؛ کیوں کہ ہر فون کرنے والا کچھ مزاج پرسی کرے گا، کچھ اظہار رنج  اور کچھ تدبیروں کی رہنمائی، اس سے خواہ مخواہ کلفت کا احساس بڑھ جاتا ہے؛ چنانچہ اسی نظام کے تحت بحیثیت مجموعی وہاں کے اٹھارہ دن گزارنے کی نوبت آئی، اس درمیان ہم نے شمع فروزاں کے دو طویل مضامین لکھائے، جودو دو قسطوں میں شائع ہوئے، یہ فل اسکیپ سائز میں تقریباََ بیس صفحات ہیں، بعض احباب کی کتابوں پر تقریظات لکھی گئیں، جو میرے ذمہ قرض تھیں، ملک وبیرون ملک سے آئے ہوئے کورونا سے متعلق سوالات کے جوابات دیے گئے، ایک عزیز دوست کی خواہش کی تعمیل میں ان کے مسودہ پر نظر ثانی بھی کی گئی۔
    دلچسپ بات یہ ہے کہ وہاں پہنچ کر مجھے سب سے زیادہ جس بات کا احساس ہوا، وہ یہ کہ جو قلم میرے پاس ہے، وہ قریب الختم ہے اور کاغذ کے بھی چند اوراق ہی بچے ہیں، ہوٹل والوں نے اپنے معمول کے مطابق ہر کمرہ میں ایک چھوٹا سا پیڈ اور پینسل رکھا تھا، ہوٹل والوں سے کاغذ اور قلم کا مطالبہ کیاتو انھوں نے معذرت کی، پھر میں نے رفیق عزیز مولانا امتیاز احمد صاحب سے کچھ دواؤں، بسکٹ اور قلم کاغذ پہنچانے کے لئے کہا، وہ باوجود قانونی بندشوں کے کسی طرح لے کر آئے ؛ لیکن کسی کو ملاقات کی اجازت نہیں تھی، استقبالیہ پر انھوں نے صرف دوائیں وصول کیں اور کاغذ وقلم کے بہ شمول تمام چیزیں واپس کر دیں،، ایک دو دن کے بعد ایک ماہر نفسیات ڈاکٹر آئیں، وہ نفسیاتی نقطۂ نظر سے لوگوں کے حالات کا جائزہ لے رہی تھیں، میں نے ان سے کہا کہ اگر آپ میرے لئے صرف ایک قلم فراہم کردیں تو مجھے اپنے احساسِ تنہائی کو کم کرنے میں بہت مدد ملے گی، انھوں نے بہت ہمدردی سے میری بات سنی اور کمرہ کے باہر سے کہا کہ یہاں تو کوئی قلم نہیں ہے؛ لیکن میرے پاس جو قلم ہے، وہ تمام لوگوں کی رپورٹ لکھنے کے بعد آپ کو بھیج دوں گی؛ مگر یہ وعدہ بھی وفا نہ ہو سکا، کئی احباب نے اور بچوں نے مشورہ دیا کہ اس کا ایک متبادل یہ ہے کہ آپ جو کچھ لکھنا چاہتے ہیں، واٹس ایپ پر وائس میسیج کے ذریعہ ریکارڈ کر کے بھیج دیں، یہ مشورہ بہت مفید ثابت ہوا، اور میں نے معمول بنا لیا کہ روزانہ عصر سے عشاء تک موبائل کے ذریعہ اپنی بات ریکارڈ کر کے بھیجتا ، معہد میں شعبۂ تحقیق کے رفیق عزیزی مولانا محمد ندوی سلمہ اللہ تعالیٰ اسے نوٹ کرتے ، اور محب عزیز مولانا محمد محبوب عالم قاسمی (ناظم کتب خانہ) اسے کمپوز کر کے واٹس ایپ پر مجھے بھیج دیتے، پھرمیں اس کی پروف ریڈنگ کرتا، اس طرح اندازہ ہے کہ اس عرصہ میں کمپوز شدہ پچاس ساٹھ فل اسکیپ سائز صفحات لکھانے میں کامیاب ہو سکا، اس کے علاوہ کتاب الفتاویٰ کے کچھ صفحات پر نظر ثانی کی، جو میرے ساتھ تھی، اور بہت سے لوگوں کے زبانی سوالات کے جواب دئے، عجیب اتفاق ہے کہ چودہ دن کی یہ مدت بڑھ کر اٹھارہ دن ہوگئی؛ کیوں کہ میڈیکل آلات اور عملہ کی کمی کی وجہ سے سمپل لینے میں دو دن لگ گئے اور رپورٹ آنے میں بھی دو دن لگ گئے، اس طرح اٹھارہویں دن اسلامک فقہ اکیڈمی انڈیا کے دفتر جامعہ نگر اوکھلا پہنچ سکا۔
     اس تنہائی میں کئی سبق ملے، جن کا تذکرہ مفید ہوگا:
    اول یہ کہ جب ظاہری سہارے ختم ہو جاتے ہیں تو ایک مسلمان کے لئے اس پہلو سے یہ وقت اچھا ہوتا ہے کہ اللہ کی طرف اس کا رجوع بڑھ جاتا ہے، اور عام دنوں کے مقابلہ عبادت، ذکر ودعاء کی زیادہ توفیق میسر آتی ہے؛ اسی لئے قدیم زمانہ میں صوفیاء پہاڑ کی چوٹیوں اور زمین کے اندر تہہ خانوں میں بیٹھ کر چلہ کشی کیا کرتے تھے، مجھے اختیاری طور پر تو اس خلوت نشینی کی توفیق نہیں ہوئی؛ لیکن اضطراری طور پر جو موقع میسر آیا، اس سے ایک گونہ نشاط بھی حاصل ہوا، اور اس خیال کو تقویت ہوئی کہ جیسے ہم اپنے اہل تعلق، رشتہ داروں، دوستوں اور کاروبای مشاغل کے لئے وقت نکالتے ہیں، اسی طرح روزانہ کچھ وقت ایسا بھی رکھنا چاہئے جس میں ہمارے اور ہمارے خدا کے سوا کوئی اور نہ ہو، یہ وقت اللہ کو یاد کرنے، اس سے مانگنے اور اس کے سامنے گڑگڑانے میں خرچ ہو، کاش ہمیشہ اس کی توفیق میسر ہو!
    دوسرا سبق یہ ہے کہ دینی اور علمی مشاغل سے آخرت میں جو کچھ نفع ہوگا، وہ تو ان شاء اللہ ہوگا ہی؛ لیکن یہ عمل دنیا میں بھی اطمینان قلب کا باعث بنتا ہے، جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا: ألا بذکر اللہ تطمئن القلوب (الرعد: ۲۸) جب میں ہوٹل پہنچا، توطبیعت میں گھبراہٹ تھی ،اضطراب تھا؛ لیکن جب نماز پڑھ کر اللہ سے دعاء کر لی اور پھر اپنے چوبیس گھنٹے کا کچھ اس طرح نظام بنایا کہ کھانے اور سونے کے علاوہ سارا وقت کسی نہ کسی دینی وعلمی عمل میں مشغول رہے، تو یہ بے قراری جاتی رہی، اس بات کی فکر تو ستاتی تھی کہ میڈیکل رپورٹ کیا آئے گی؟ لیکن احساس تنہائی کا غم نہ ہونے کے درجہ میں ہوگیا؛ بلکہ جب گھر کے لوگوں کا اور دوست احباب کا فون آتا اور وہ تسلی کے کلمات کہتے تو میں اپنے بارے میں پورے اطمینان کا اظہار کرتا اورعرض کرتا کہ لاک ڈاؤن کے درمیان آپ بھی فارغ وقت کا صحیح استعمال کریں ،موجودہ حالات میں احتیاطی تدابیر کا پورا خیال رکھیں، اور دعاء واستغفار کا اہتمام کریں۔
    تیسرا سبق جو اس وقفہ امتحان سے حاصل ہوا، وہ یہ ہے کہ اگر آدمی کسی کام کا جذبہ اور عزم مصمم رکھتا ہو تو وہ کہیں بھی اور کسی بھی حالت میں اپنے کام کو جاری رکھ سکتا ہے، اللہ تعالیٰ اس کے لئے راستہ نکال دیتے ہیں، آج کل نوجوان فضلاء عام طور پر شکایت کرتے نظر آتے ہیں کہ ہمیں یکسوئی حاصل نہیں ہو پاتی ہے، وقت نہیں ملتا ہے، کتابیں میسر نہیں ہیں؛ لیکن اگر انسان کسی کام کے لئے اپنے اندر عزم مصمم پیدا کر لے تو وہ کہیں بھی اور کسی بھی حالت میں اپنے لئے کام کا راستہ نکال سکتا ہے، ہمارے بزرگوں نے اسی طرح دین کی خدمت انجام دی ہے، یہاں تک کہ انہیں اندھے کنویں میں قید کر دیا گیا اور وہیں سے انھوں نے المبسوط جیسی ضخیم اور عظیم کتاب املاء کرا دی، حقیقت یہ ہے کہ موجودہ دور میں گزشتہ ادوار کے مقابلہ علمی مشاغل کو جاری رکھنا آسان ہوگیا ہے، آپ کے چھوٹے سے موبائل میں ایک بڑی لائبریری محفوظ ہو سکتی ہے ، اگر آپ سفر میں ہوں، قلم کاغذ کا استعمال نہیں کر سکتے ہیں تو جن لوگوں کو تیز ٹائپ کرنے کا سلیقہ ہے، وہ تو براہ راست اپنی چیزیں موبائل کے ذریعہ کمپوز کر سکتے ہیں، اور جو میری طرح اس کا سلیقہ نہیں رکھتے، وہ آواز محفوظ کر کے یا دوسرے کو بھیج کر اپنے مافی الضمیر کو محفوظ کر سکتے ہیں۔
    بہر حال ۱۸؍ اپریل کی شام ۵؍ بجے مجھے قرنطینہ سے نجات ملی اور ہوٹل ہی کی گاڑی سے اسلامک فقہ اکیڈمی انڈیا کے دفتر اوکھلا پہنچ کر مغرب کی نماز ادا کی ، یہ میرے لئے بے حد مسرت انگیز لمحہ تھا، یہاں میرے استقبال کے لئے شعبۂ علمی کے رفیق عزیز مکرم مولانا امتیاز احمد قاسمی اور اکیڈمی کے خادم عبدالقیوم سلمہ موجود تھے، مجھے ایسا لگا کہ میں گویا اپنے گھر پہنچ چکا ہوں، گھر کے لوگوں نے بھی اطمینان کی سانس لی، دوست احباب اور رشتہ داروں کی طرف سے ڈھیر سارے فون آئے اورمبارکباد پیش کی گئی، دہلی میں موجود بعض اقرباء ،شاگرد اور دوست احباب آکر ملاقات کرنے کے متمنی تھے؛ لیکن قریبی علاقے میں بیماری کے پھیلاؤ اور لاک ڈاؤن میں سختی کی وجہ سے میں نے ان حضرات کو منع کر دیا اور عرض کیا کہ فون پر ہی ہم لوگ رابطہ رکھیں اور ایک دوسرے کے حق میں دعائے خیر کا اہتمام کریں۔
    ہمارے بزرگوں میں حضرت مولانا قاری محمد صدیق باندویؒ جہاں اپنے اخلاق کے اعتبار سے ایک مثالی شخصیت تھے اور ان کی سادگی اور بے نفسی کو دیکھ کر عہد صحابہ کی یاد تازہ ہوتی تھی، وہیں ان کی ایک اہم خدمت طلبۂ مدارس کے لیے اردو زبان میں فن کی ابتدائی نصابی کتابوں کی ترتیب بھی ہے، حیدرآباد میں اہل علم کی ایک مجلس میں اس حقیر نے عرض کیا کہ آں مخدوم علم کلام پر بھی اردو میں کوئی نصابی کتاب مرتب فرما دیتے توبہت بہتر ہوتا؛ کیوں کہ طالب علم اس مضمون کی الف، ب سے بھی واقف نہیں ہوتا ہے اور سیدھے شرح عقائد پڑھتا ہے تو اسے بڑی دشواری ہوتی ہے، قاری صاحبؒ نے فرمایا کہ آپ کا احساس صحیح ہے اور واقعی اس کی ضرورت ہے، پھر فرمایا : اب میری عمر بھی زیادہ ہے اور وقت کی کمی بھی ہے؛ چوں کہ آپ کی  زبان آسان اور عام فہم ہوتی ہے، اس لئے میری خواہش ہے کہ آپ ہی اس کام کو کر ڈالیں، اور میں آپ کے لئے دعاء کرتا ہوں، اس کے بعد سے دل کے ایک گوشہ میں یہ خواہش موجود تھی کہ اللہ تعالیٰ مجھ سے یہ کام لے لیں۔
     یہ حقیر ہر سال رمضان المبارک میں جاری تصنیفی کام کی تکمیل کی کوشش کرتا ہے، یا انئے کام کا آغاز کرتا ہے، اور خیال ہوتا ہے کہ رمضان کی برکتیں اور رحمتیں اس کام میں شاملِ حال ہو جائیں گی؛ اس لئے ازبکستان کے سفر سے پہلے ہی معہد میں اپنا سبق مکمل کرنے کے بعد میں نے رمضان المبارک کے لئے اس کام کا پروگرام بنایا تھا، ذیلی عنوانات بھی قائم کر لئے تھے، کچھ موادبھی اکٹھا کیا تھا، کچھ طلبہ سے کرایا تھا، اب جب اکیڈمی میں قیام کی نوبت آئی تو پہلے تو امید تھی کہ جلد ہی لاک ڈاؤن ختم ہو جائے گا اور منزل کے لئے روانہ ہو جاؤں گا؛ اس لئے پڑھنے لکھنے کے کچھ ضمنی کام انجام دئے؛ لیکن جب اطلاع ملی کہ یہ آگے بڑھ رہا ہے تو پھر مفتی جنید فلاحی سلمہ (اندور) کی یاد دہانی پر اس دیرینہ خواب کو شرمندۂ تعبیر کرنے کی طرف ذہن گیا؛ کیوں کہ اکیڈمی کی لائبریری میں کتابیں موجود تھیں اور مولانا امتیاز صاحب جیسے پختہ کار اِملا نویس بھی مہیا تھے؛ اس لئے اللہ کا نام لے کر غالباََ ۱۴؍ اپریل ۲۰۲۰ء کو راقم الحروف نے ’’ آسان علم کلام‘‘  کا کام شروع کیا۔
     لیکن رمضان المبارک جیسے جیسے قریب آرہا تھا، گھر پہنچنے کی بے قراری بھی بڑھ رہی تھی، جب معلوم ہوا کہ ۳؍مئی کو بھی بندشیں ختم ہونے کی امید نہیں ہے تو اب بے قراری اور بڑھ گئی، اور خیال ہوا کہ بذرریعہ سڑک سفر کی کوشش کی جائے، اب ایک تو ڈیڑھ ہزار کیلو میٹر سے زیادہ کا کار کے ذریعہ سفر میری صحت کے لئے ایک جوکھم سے کم نہیں تھا، پھر میڈیا کے ذریعہ پھیلایا ہوا زہر، اور داڑھی ٹوپی والوں کے ساتھ نفرت انگیز سلوک کے تحت یہ سفر پُر خطر بھی تھا، پھر بھی ایک ڈرائیور محمد شانو تیار ہوا، جس کے ساتھ میں دہلی سے مغربی یوپی کے مختلف علاقوں کا سفر کر چکا تھا، اس نے اطمینان دلایا کہ میں شہروں کے اندر داخل ہوئے بغیر باہر باہر سے لے کر چلوں گا اور ان شاء اللہ کوئی خطرہ نہیںہوگا، بچوں اور دوستوں نے بھی ہمت دلائی، اب مسئلہ پاس حاصل کرنے کا تھا، جب کوشش کی گئی تو معلوم ہوا کہ یہ جوئے شیر لانے سے کم نہیں ہے، بالآخر حیدرآبادکے بعض سیاسی قائدین کی کوششوں سے پاس مل سکا، جس کے لئے حیدرآباد اور دہلی سے کم سے کم ہفتہ بھر کوششیں جاری رہیں، اس درمیان بعض غیر مسلم عہدیداروں کا بہت بہتر سلوک رہا، اگرچہ فون پر ہی بات ہوتی تھی؛ لیکن وہ بہت احترام سے پیش آتے اور جب تک میں حیدرآباد پہنچ نہیں گیا اور ڈرائیور دہلی واپس نہیں ہوگیا، وہ برابر خبر گیری کرتے رہے؛ اس لئے یہ ایک حقیقت ہے کہ میڈیا کی شرانگیزیوں کے باوجود آج بھی غیر مسلم بھائیوں کی بڑی تعداد انسانیت دوست اور انصاف ورواداری پر قائم ہے، بہر حال میں ۲۵؍ اپریل کو تراویح کے بعد اسلامک فقہ اکیڈمی کے دفتر سے روانہ ہوا اور ۲۷؍ اپریل کی صبح ۷؍ بجے اپنے گھر پہنچ گیا، راستہ میں قدم قدم پر پولس کی طرف سے چیکنگ ہوتی رہی ؛ لیکن چوں کہ مجھے وزارت داخلہ کے واسطے سے پاس ملا تھا؛ اس لئے پاس دیکھتے ہی پولس عہدیداروں کا رویہ بدل جاتا تھا، اور ایسا ہو جاتا تھا کہ گویا وہ ہماری تفتیش کے لئے نہیں؛ بلکہ استقبال کے لئے کھڑے ہیں۔
    اکیڈمی میں ۲۱؍ دنوں کے اس قیام کا فائدہ یہ ہوا کہ ’’آسان علم کلام‘‘  کا کام قریب قریب مکمل ہوگیا، حیدرآباد پہنچنے  اور اوسان بحال ہونے کے بعد دو تین دنوں میں یہ کام پایۂ تکمیل کو پہنچ گیا اور یہ کئی مسرتوں کا باعث بنا، ایک تو گھر سے غیر اختیاری طور پر دوری کے اوقات ضائع نہیں ہوئے، دوسرے: حضرت قاری صاحبؒ کے ایک حکم کی تعمیل کی سعادت حاصل ہوئی، تیسرے: ایک ضروری کام ہوگیا، میں نے ان صبر آزما دِنوں سے یہ سبق حاصل کیا کہ تنہائی، وطن سے دوری اور معمول کی زندگی سے محرومی یقیناََ بڑی زحمت ہے؛ لیکن اللہ تعالیٰ نے ہر شر میں خیر کا اور ہر تکلیف میں راحت کا پہلو رکھا ہے، یہ انسان کا کام ہے کہ وہ اس چھپے ہوئے خیر کو تلاش کرے اور وہاں تک پہنچنے میں کامیاب ہو۔٭    ٭    ٭