Fri, Feb 26, 2021

آپ کے شرعی مسائل
 خالد سیف اللہ رحمانی
02/10/2020

 

تشہد میں انگلیوں کا حلقہ کب تک رکھا جائے؟
سوال: التحیات پڑھتے ہوئے کلمئہ شہادت میں انگلی اٹھائی جاتی ہے، اور اس کے لئے جو حلقہ بنایا جاتا ہے، یہ حلقہ کب تک قائم رکھنا ہے؟ بعض لوگ انگلی اٹھانے کے ساتھ ہی حلقہ کھول دیتے ہیں اور بعض حضرات اخیر تک حلقہ بنائے رکھتے ہیں ؟
(اہتشام اللہ ، ممبئی )
جواب:۔
حدیث میں صرف اس قدر آتاہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم تشہد میں دائیں ہاتھ دائیں گھٹنے پر رکھتے تھے، اور انگلی کو ۵۳ کی شکل میں بناتے اور انگشت شہادت سے اشارہ کرتے تھے:ووضع یدہ الیمنی علی رکبتہ الیمنی، و عقد ثلاثۃ و خمس و اشار بالسبابۃ، ( صحیح مسلم : ۱/۲۱۶، کتاب الصلاۃ ، باب صفۃ الجلوس فی الصلاۃ )، ۵۳ سے مراد یہ ہے کہ انگشت شہادت انگوٹھے پر کر حلقہ بنادیا جائے اور بقیہ تین انگلیوں کو موڑ کر رکھا جائے ، اب کیا کلمہ شہادت میں انگلی اٹھانے کے بعد حلقہ ختم کردیا جائے یا قعدہ کے اخیر تک حلقہ باقی رکھا جائے؟ تو راجح یہ ہے کہ قعدہ کے اخیر تک اسی کیفیت پر باقی رکھاجائے؛ چنانچہ اسی مسئلہ میں علامہ رافعیؒ فرماتے ہیں: والأصل بقاء الشئی علی ماعلیہ واستصحابہ ۔۔۔(تقریرات الرافعی علی ردالمحتار: ۱/ ۶۳، کتاب الصلاۃ ، فصل فی بیان صفۃ الصلاۃ )۔
نماز میں حفص کے علاوہ دوسری قرأت میں تلاوت
سوال:ہماری مسجد میں ایک حافظ صاحب نے نماز پڑھائی، اور جو قرأت عام طور پر کی جاتی ہے، اس سے ہٹ کر قرأت کی ، اس سے لوگوں میں بے چینی پیدا ہوگئی ؛ یہاں تک کہ بعض لوگوں نے کہا کہ نماز نہیں ہوئی، جب لوگوں نے اعتراض کیا تو امام صاحب نے وضاحت کی کہ یہ بھی ایک قرأت ہے ، براہ کرم اس کی وضاحت فرمائیں ۔
(محمد شبیر، سکندراباد )
جواب:۔
قرآن مجید کی سات قرأتیں تواتر یعنی نہایت مستند ذریعوں سے ثابت ہیں ، ان میںسے کسی بھی قرأت میں قرآن پڑھ لیا جائے تو نماز ہوجائے گی: قراء ۃ القرآن بالقرأت السبعۃ والروایات کلھا جائزۃ (الفتاوی الھندیۃ :۱/۷۹، کتاب الصلاۃ، الفصل فی القرأۃ ) ؛اس لئے نماز تو ہوگئی ؛لیکن عوام کے درمیان ایسے عمل سے بچنا چاہیئے، جولوگوں کے لئے تشویش کا باعث بن جائے ؛ اس لئے جہاں ،مسجد میں عوام نماز اداکرتے ہوں،وہاں ہندوستان میں عام طور پر جو قرأت حفص کی جاتی ہے، اسی میں قرآن مجید پڑھنا چاہیئے؛ہاں اگر دینی مدارس میں دوسری قرأت کرلیں، تو حرج نہیں ہے؛ کیونکہ جہاں اہل علم ہوتے ہیں،وہاں یہ عمل انتشار کا باعث نہیں ہوتا ؛بلکہ کبھی کبھی اس طرح پڑھانا بہتر ہوتا ہے؛ تاکہ قرآن کی دوسری متواتر قرأتوں کا معمول بالکل ختم نہ ہوجائے ،اور یہ سنت زیندہ رہے۔
ماں کے زیر پرورش بچہ سے باپ کا فون پر گفتگو کرنا
سوال :حامد اور اس کی بیوی کے درمیان علاحدگی ہوگئی ہے، حامد کی بیوی سے اولاد بھی ہے، بچہ ماں کے زیر پرورش ہے، باپ چاہتا ہے کہ فون پر اپنی اولاد سے بات کرے؛ لیکن نانیہال کے لوگ اسے فون پر بات چیت کرنے سے منع کرتے ہیں ، تو کیا باپ کا فون پر بات کرنے سے روکنا ماں کے لئے یا اس کے گھر والوں کے لئے جائز ہے؟
(شائستہ انجم، بنجارہ ہلز)
جواب:۔
ماں باپ کے درمیان تفریق کی وجہ سے اگر بچہ ان میں سے کسی ایک کے زیر پرورش ہو، تو دوسرے کو اس سے ملاقات کا حق ہے، اور جب ملاقات کا حق ہے تو فون کرنے کا حق بدرجہ اولیٰ ہوگا: الولد متی کان عند أحد الأبوین لایمنع الآخر عن النظر الیہ ( الفتاوی الہندیہ: ۱/۵۴۳) ؛البتہ شریعت کا ایک بنیادی اصول یہ ہے کہ کسی بھی انسان کے لئے اپنے حق کو حاصل کرتے ہوئے اس بات کی رعایت کرنا ضروری ہے کہ وہ دوسرے کے لئے تکلیف کا سبب نہ بنے، لہذا باپ کو فون پر گفتگو کرتے ہوئے اس کا لحاظ رکھنا چاہیئے ، جیسے: سونے کا وقت نہ ہو، جس سے دوسروں کو خلل ہوجائے، پڑھنے کا وقت نہ ہو کہ بچہ کی تعلیم متأثر ہوجائے، وغیرہ ۔
اگر ٹیلر کے پاس سے کپڑا چوری ہوجائے؟
سوال:میں ٹیلر کاکام کرتا ہوں، لوگ مجھے کپڑا سلنے کے لئے دیتے ہیں، بعض دفعہ کپڑا چوری ہوجاتا ہے ؛ کیوں کہ بہت سے مزدور کام کرتے ہیں، اور لوگوں کی بھی آمد و رفت جاری رہتی ہے، کیا ایسی صورت میں چوری ہونے والے کپڑے کا تاوان میرے اوپر واجب ہوگا؟
(ظہیرالدین، بنگلور)
جواب :۔
جس شخص کو کپڑا حوالہ کیا جائے، کپڑے کی حفاظت کرنا اس کی ذمہ داری ہے، ایسی صورت میں اگر اس کے پاس سے کپڑاضائع ہوجائے تو وہ اس کا ضامن ہوگا یا نہیں؟ اس میں اختلاف ہے، امام ابوحنیفہؒ کے دونوں شاگرد امام ابوسفؒ اور امام محمدؒ کے نزدیک اس صورت میں وہ شخص کپڑے کا ضامن ہوگا اور اس کو اس کا تاوان ادا کرنا ہوگا، موجودہ دور میں چوںکہ امانت و دیانت کی بہت کمی ہوگئی ہے ؛اس لئے فقہاء نے لکھا ہے کہ اسی پر فتوی ہے: اعلم أن الھلاک إما بعمل الأجیر أولا۔۔۔۔۔و فی أولہ لایضمن عندالامام مطلقا، ویضمن عندھما مطلقا (رد المحتار:۶/۶۵، باب ضمان الأجیر) و فی الھندیۃ :۔۔۔۔۔وبقولھما یفتی الیوم لتغیر أحوال الناس، وبہ یحصل صیانۃ أموالھم کذا فی التبیین (الفتاوی الھندیۃ: ۴/۵۰۰)۔
رشتہ ٹوٹ جائے تو کیا منگنی کی چیز واپس لی جاسکتی ہے؟
سوال: ہندوستان میں رشتہ طے ہونے کے وقت لڑکے والے کی طرف سے لڑکی کو انگوٹھی پہنانے کی رواج ہے ، جس کو منگنی کہتے ہیں ، ایک واقعہ ایسا پیش آیا کہ منگنی ہوگئی؛ لیکن رشتہ ٹوٹ گیا ، تو ایسی صورت میں لڑکے والوں کے لئے منگنی کے طور پر دی گئی انگوٹھی کی واپسی کا مطالبہ کرنا درست ہے؟
(مصباح الدین، مہدی پٹنم )
جواب: ۔
منگنی کے موقع پر جو چیز لڑکے کی طرف سے دی جاتی ہے، وہ بھی ہبہ کی ایک صورت ہے، اور ہبہ کا حکم یہ ہے کہ جس کو چیز دی جاتی ہے، وہ اس کا مالک ہوجاتا ہے، اور اس کی واپسی کا مطالبہ مکروہ ہے ؛ اس لئے اب لڑکے والوں کو اس کا مطالبہ نہیںکرنا چاہئے ،یہ بہت گری ہوئی بات ہے:فی الفتاوی الغیاثیۃ: الرجوع فی الھبۃ مکروہ فی الأحوال کلھا ویصح، کذا فی التاتارخانیۃ (الفتاوی الھندیۃ: ۴/۳۸۵، کتاب الھبۃ، الباب الخامس فی الرجوع فی الھبۃ و فی ما یمنع عن الرجوع ومالایمنع)۔
ہوٹل میں بفے سسٹم
سوال:آج کل ہوٹلوں میں بفے سسٹم کا رواج بڑھ گیا ہے، بفے سسٹم میں کھانے کی قمت تو متعین ہوتی ہے؛ لیکن کھانے کی نوعیت اور اس کی مقدار متعین نہیں ہوتی ، متنوع قسم کے کھانے ہوتے ہیں، کھانے والا کسی میں سے کھاتا ہے تو کسی میں سے نہیں کھاتا، تو کیا شرعا یہ صورت درست ہوگی، جب کہ فقہاء کی اصطلاح کے اعتبار سے اس میں مبیع مجہول ہے؟
(حمید الرحمن قاسمی، بنگلور)
جواب :۔
خرید و فروخت کے عمل میں ابہام جس کو فقہ کی اصطلاح میں جہالت کہتے ہیں، اس وقت مضرہے اور اس سے وہ معاملہ فاسد ہوجاتا ہے، جبکہ اس کی وجہ سے نزاع پیدا ہو جانے کا اندیشہ ہو؛ لیکن جب کوئی چیز رواج کا درجہ اختیار کر لیتی ہے، اور عام طور پر لوگوں کے عمل میں شامل ہو جاتی ہے، تو وہ نزاع کا سبب نہیں بنتی؛ اس لئے اس کی گنجائش ہے، جیسے فقہاء نے حمام کا مسئلہ لکھا ہے کہ لوگ ایک مقررہ اجرت پر حمام سے استفادہ کرتے تھے، اور وہاں غسل کیا کرتے تھے؛ لیکن غسل کرنے میں پانی کی کتنی مقدار خرچ ہوگی؟ اور کتنا وقت صرف ہو گا؟ یہ متعین نہیں ہوتا تھا، اس کے باوجود فقہاء نے اس کو جائز قرار دیا ہے، اسی طرح اللہ تعالی نے فرمایا کہ دودھ پلانے کی اجرت بچے کے باپ پر واجب ہوگی، اور اسے اجرت کے طور پر کھانے اور کپڑے کا انتظام کرنا ہوگا؛ لیکن ظاہر ہے کہ مختلف لوگوں کی خوراک اور کپڑے کا سائز ایک سا نہیں ہوتا، اس حیثیت سے اس میں ابہام پایا جا رہا ہے، اس کے باوجود اللہ تعالی نے اس اجرت کو جائز قرار دیا ہے، اور فقہاء نے لکھا ہے: وفی ہذہ الآیۃ (أی فی قولہ تعالیٰ: وعلی المولود لہ رزقھن و کسوتھن بالمعروف) دلالۃ علی جواز استئجار بطعامھا وکسوتھا (احکام القرآن للجصاص: ۱/۱۰۴)۔
لہذا بفے سسٹم میں جس درجہ کا ابہام پایا جاتا ہے، اس کی وجہ سے یہ صورت ناجائز نہیں ہوگی، عصر حاضر کے جلیل القدر فقیہ حضرت مولانا محمد تقی عثمانی صاحب نے بھی یہی لکھا ہے۔ (فقہ البیوع: ۱/۳۸۸)۔
مشترکہ زمین میں اپنا حصہ فروخت کرنا
سوال:کچھ دوستوں نے مل کر چند ایکڑ زمین خریدی کہ اسکی پلاٹنگ کرکے فروخت کریں گے، ہر ایک کے لئے زمین کی مقدار متعین ہوگئی؛ لیکن حصّے الگ الگ متعین نہیں کیے گئے اور اس کی علامت نہیں ڈالی گئی، تو کیا ایک فریق تقسیم سے پہلے اپنا حصہ فروخت کرسکتا ہے؟
(ایاز احمد، دہلی)
جواب: ۔
جو چیز چند مالکان کے درمیان مشترک ہو، الگ الگ نہیں کی گئی ہو؛ لیکن مقدار متعین ہو، مثلا: ایک ایکڑ یا نصف ایکڑ ،تو اس کو فقہ کی اصطلاح میں’’ مشاع‘‘ کہتے ہیں، اور اگر اس میں ایک شریک اپنا حصہ کسی کو بیچنا چاہتا ہے تو بیچ سکتا ہے،البتہ اگر اسی قیمت میںدوسرے شرکاء خریدنا چاہیں، تو حق شفعہ کی وجہ سے ان کا حق مقدم ہے، خلافت عثمانیہ ترکی نے ایک اہم خدمت یہ انجام دی کہ ”مجلۃ الاحکام العدلیۃ” کے نام سے دفع وار مجموعہ قوانین مرتب کرایا، انہوں نے اس صورت کو جائز قرار دیا ہے: یصح بیع الحصۃ المعلومۃ الشائعۃ بدون إذن الشریک، (مجلۃ الاحکام العدلیۃ: ۲۱۵)۔