Thu, Feb 25, 2021

پردہ عقل وفطرت کی روشنی میں
 مولانا خالد سیف اللہ رحمانی
02.10.2020
دوسری قسط

یہودیوں کے یہاں یہودی علماء کے اجتہاد واستنباط سے جو فقہی کتاب مرتب ہوئی ہے اور جس کو پوری دنیا کے یہودی مسائلِ زندگی کے لئے معتبر مانتے ہیں، وہ ’’ تلمود‘‘ ہے، اس کتاب میں خاص طور پر عورت کے بال سے متعلق بحث گئی ہے؛ چنانچہ مایر شلّر (Mayer Schiller) نے نقل کیا ہے :۔
’’ فقہاء یہود کا اس بات پر اجماع ہے کہ شادی شدہ یہودی عورت سڑک پر سر کے پورے بال نہیں کھول سکتی…….. کوئی بھی نص یا فقیہ کا معتبر قول نہیں ہے، جو شادی شدہ عورت کو عام مقامات پر پورے بال کھلے رکھنے کی اجازت دیتا ہو‘‘ (نیٹ سے:M. Schiller op cit: 104-405 )-
یہ جو بات کہی گئی ہے کہ پورے سر کے بال کھلے رکھنے کی ممانعت پر اجماع ہے، اس کا پس منظر یہ ہے کہ یہودیوں کے بعض فرقے جیسے سفار دیم اور بعض علماء جیسے موشی فائنسٹاین(Moshe Feinstein ) جو امریکہ کے یہودیوں کے درمیان مقبول عالم ہیں؛ کی رائے ہے کہ عورت سر کے اگلے حصے سے صرف انگشت کے بقدر بال کھلا رکھ سکتی ہے :G Ellinson, Women and Mitzvot: The Modest Way, A Guide to the Rallrinic Saurces, Jerusalem: Feldheim Pullishers .1992, P.122-123
بعض علماء یہود سے منقول ہے کہ شادی شدہ عورت کو سر چھپانا چاہئے؛یعنی غیر شادی شدہ کے لئے یہ ضروری نہیں ہے؛ مگر یہ متفق علیہ قول نہیں ہے؛ چنانچہ بعض یہودی علماء جیسے موسیٰ بن میمون نے لکھا ہے :
اسرائیلی عورتوں کے لئے کھلے سر بازار جانا جائز نہیں ہے، چاہے وہ شادی شدہ ہوں یا غیر شادی شدہ (Maimonieles:21/17 )
بعض علماء نے اس یہودی قانون کی تشریح کرتے ہوئے یہ بھی کہا ہے کہ جن حضرات نے غیر شادی شدہ عورت کو سرکھلا رکھنے کی اجازت دی ہے، ان کا مقصد یہ ہے کہ نابالغ لڑکیوں کے لئے سر چھپانا ضروری نہیں ہے؛ چنانچہ تلمود میں سر چھپانے کے احکام اس طرح بیان کئے گئے ہیں :
’’ مرد کبھی اپنے سر چھپا بھی سکتے ہیں اور کبھی کھلا بھی رکھ سکتے ہیں؛ لیکن عورتیں ہمیشہ اپنا سر چھپائیں گی، اور نابالغ بچیاں سر نہ چھپائیں‘‘
Gillion Beattie Women and Marriage in Paul and his Early Interpreters, New york: Continuum International Publishing Group.2005,P44 ( نیٹ سے)
اسی بناء پر یہودی علماء نے کہا ہے کہ جو شخص اپنی بیوی کو کھلے سر اپنے گھر سے نکلتے ہوئے دیکھے تو وہ کافر(Bodless ) ہے اور اس پر واجب ہے کہ وہ اس کو طلاق دیدے۔(Alvin Schmidt op cit. p. 13 )
بلکہ بال چھپانے کے حکم میں علماء یہود کے نزدیک اتنی سختی ہے کہ ان کے بعض فرقے شادی کے موقع سے دلہن کے بال منڈا دیتی ہیں؛ کیوں کہ شادی کے موقع سے بال کو چُھپاکر رکھنا دشوار ہوتا ہے، اسپین، یوکرین اور فلسطین کے مذہبی یہودی خاندانوں میں رواج ہے کہ وہ بال منڈا کر سر پر کوئی کپڑا لپیٹ لیتی ہیں ، بعض یہودی علماء نے بھی اس نامعقول عرف کی پوری قوت کے ساتھ تائید کی ہے( دیکھئے: منقول از نیٹ: M. Schiller,op,cit, pp . 101,102 )
جب بال کے سلسلے میں اس درجہ سخت احکام ہیں تو اسی سے اندازہ کیا جا سکتا ہے کہ جسم کے دوسرے اعضاء کا لوگوں کے سامنے کھولنا بھی ان کے نزدیک جائز نہیں ہوگا؛ چنانچہ تلمود کے ایک بڑے عالمRavad of Pasqiures کہتے ہیں:
عورت کی کسی بھی جگہ کو دیکھنا ممنوع ہے، چاہے چھوٹی انگلی ہو یا پھر بال ہی کیوں نہ ہو۔
Cited in Hidelushei ha Rashba, Berakhuted N.M. Harbits, Jerusalem, 1979, Quated by, Shmuel Her feld op,cit (منقول از نیٹ)
تلمود میں ایک یہودی عالم ششت کی بات نقل کی گئی ہے:
اگر کوئی شخص عورت کی چھوٹی انگلی کو بھی گھورتا ہے تو گویا یا اس نے اس کی شرمگاہ کو گھور کر دیکھا (Berachoth:24a ) (منقول از نیٹ)
بلکہ یہودی مذہب میں چہرہ کو شامل کرتے ہوئے عورت کے مکمل پردہ کا تصور پایا جاتا ہے؛ چنانچہ ڈاکٹر Menachem M Brayer نے اپنی کتاب’’ عبرانی ادب میں یہودی عورتیں‘‘ میں لکھا ہے :
یہودی خواتین کا طریقہ تھا کہ وہ سر ڈھک کر باہر نکلتی تھیں اور بعض دفعہ ایک آنکھ کو چھوڑ کر پورا چہرہ بھی ڈھانکے ہوئے ہوتی تھیں: Menachem m.brayer.op.cit.p.239 ، نیٹ سے)
ایک بڑے یہودی عالم اور تورات کے مفسر دانیال قومیصی نے بعض یہودی علماء پر سخت تنقید کی ہے کہ انھوں نے یہودی عورت کو یہودی مرد کے سامنے چہرہ کھولنے کی اجازت دی تھی:
Solo Wittmayer Baron, A Social and Religious History of the Jews, New York, Columbia University press 1967 4th, printing.3/299 : نیٹ سے)
ان تصریحات سے اندازہ ہوتا ہے کہ یہودیوں کے یہاں پردہ کے قریب قریب وہی احکام ہیں،جو مسلمانوں کے یہاں ہیں۔
حفاظت نہ کہ قید:
قانونِ فطرت بھی ہمیں بتاتا ہے کہ جو چیزیں عام، غیر اہم اور کشش سے خالی ہوں، ان کے لئے حفاظت وصیانت کا اہتمام درکار نہیں ہوتا، یا کم اہتمام کافی ہو جاتا ہے، اور جو چیزیں قیمتی، اہم اور وجہ ِکشش ہوں، ان کی حفاظت کے لئے قدرت کی طرف سے تدبیریں کی گئی ہیں، پتھر کی چٹانیں بے غبار حالت میں ہر جگہ مل جائیں گی؛ لیکن سونے کی کان پتھر کی طرح کھلے عام دستیاب نہیں؛ بلکہ پتھر اور دوسرے زمینی اجزاء کے تہہ در تہہ غلاف میں سونے کے ذرات چھپا کر رکھے گئے ہیں، ان کی تلاش بھی مشکل ہے اور تلاش کے بعد ان کو نکالنا بھی دشوار، پانی میں سیپ اور اس جیسی کتنی ہی چیزیں تالابوں ، ندیوں اور دریاؤں کے کنارے وافر مقدار میںدستیاب ہیں؛ لیکن موتی کو صدف کے مضبوط غلاف میں چھپا کر رکھا گیا ہے، جو تلاشِ بسیار کے بغیر ہاتھ نہیں آتا۔
انسان خود اپنے جسم میں بھی قدرت کی اس تقسیم کو دیکھ سکتا ہے، انسان کے ہاتھ پاؤں تو کھلے ہوئے ہیں؛ لیکن اس کے ’’دل‘‘ کو لچکدار ہڈیوں کے پنجرے میں اور ’’دماغ‘‘ کو تہہ در تہہ کھوپڑی کے خول میں رکھا گیا ہے، انسان کے چہرہ کو جن اعضاء سے سجایا گیا ہے، ان میں سب سے نازک عضو انسان کی آنکھ ہے، اللہ نے اس پر پلکوں کی حفاظتی دیوار بنا دی ہے، اور اس پر ایسے بال لگا دئیے ہیں جو آنکھوں کو کیڑوں مکوڑوں کے داخل ہونے سے بچا سکیں، عورت کا وجود بھی یقیناََ ایک پرکشش وجود ہے، جو تاریخ میں بعض بڑی لڑائیوں کا باعث بنا ہے تو کیا ان کی خصوصی حفاظت وصیانت مطلوب نہیں ہے اور ان کو سماج کے رحم وکرم پر چھوڑدینا ان کے ساتھ زیادتی نہیں ہے؟
عجیب بات ہے کہ جو لوگ پردہ کو عورتوں کی توہین قرار دیتے ہیں، وہی اپنی دولت کی حفاظت میں اس نسخہ کا استعمال کرتے ہیں، آپ گھر کی تعمیر کے لئے اینٹ ، پتھر اور لوہا ، لکڑی لاتے ہیں تو اسے گھر کے باہر ڈال دیتے ہیں؛ لیکن اگر سونا خرید کر لائیں، ہیرے جواہرات خرید کریں اور بینک سے پیسے نکال کر لائیں تو اسے اس طرح نہیں چھوڑتے؛ بلکہ اسے گھر کے اندر ، اور برآمدہ میں نہیں کمرہ میں، اور صرف کمرہ میں نہیں الماری میں؛ بلکہ ہو سکے تو الماری کے اندر موجود لاکر میں اس احتیاط سے رکھتے ہیں کہ لاکر کو بھی مقفل کر دیتے ہیں، الماری کو بھی، اور گھر سے باہر جائیں تو کمرہ کے دروازہ کو بھی اور باہر کے گیٹ کو بھی، کیا یہ سونے، جواہرات اور روپیوں کی توہین اور ناقدری ہے؟ یا اس کی اہمیت کا احساس ہے؟؟ ملک کا عام شہری تنِ تنہا دن ہو یا رات ، ایک جگہ سے دوسری جگہ آمدورفت کرتا ہے ، نہ اس کے ساتھ کوئی محافظ ہے اور نہ بندوق بردار سیکوریٹی گارڈ؛ لیکن ملک کا صدر، وزیر اعظم یا دوسرے اعلیٰ عہدہ داروں کو کس قدر حفاظتی حصار میں رکھا جاتا ہے، اس کی قیام گاہ ہو یا سواری، ہر جگہ کئی کئی مرحلوں میں تحفظ کا انتظام ہوتا ہے، کیا یہ ان عہدہ داروں کے لئے قید ہے یا سیکوریٹی ؟ حقیقت یہ ہے کہ پردہ عورتوں کا وقار، اس کی عزت اور قدردانی ہے اور اس کے ذریعہ حریص نگاہوں سے اس کی حفاظت ہوتی ہے۔
یہ عجیب بات ہے کہ مردوں نے اپنی ہوس پوری کرنے کے لئے عورتوں کو بے پردہ کر دیا اور اپنے آپ کو چھپائے رکھا، کھیل کا میدان ہو، فلم کی تصویر کشی ہو، ائیرلائنز کا عملہ ہو، استقبالیہ پر بیٹھنے والے ملازمین ہوں یا اسکول اور تجارت گاہوں کے یونیفارم ہوں، مرد خود تو پورا لباس پہنتا ہے، جو عموماََ ڈھیلا ڈھالا بھی ہوتا ہے، اور عورتوں کو ایسا لباس پہناتا ہے، جس کے بعد وہ نیم برہنہ نظر آتی ہے، اور کپڑے بھی اتنے چست ہوتے ہیں کہ جسم کا ایک ایک اَنگ نمایاں ہو جائے، اور اس کے ساتھ ساتھ بعض دفعہ کپڑے بھی اتنے باریک کہ جسم کی رنگت جھلکنے لگے، کیا یہ عورت کی توہین اور تجارتی اغراض کے لئے ان کا استحصال نہیں ہے، کیا کوئی غیرت مند مرد اپنی ماں، اپنی بیٹی اور اپنی بیوی کے لئے یہ پسند کر سکتا ہے کہ وہ اس حالت میں لوگوں کے درمیان نکلے اور لوگ اس سے لذت ِدید حاصل کریں؟؟
جہاں کہیں برہنگی اور بے پردگی کو رواج دیا گیا ہے، وہاں باہمی رضامندی سے بغیر شادی کے مردو عورت کے تعلق پر کوئی پابندی نہیں ہے، پھر بھی عورتیں بڑی تعداد میں مردوں کی زیادتی اور جبر کا شکار ہوئی ہیں، F.B.I کی رپورٹ کے مطابق امریکہ میں صرف ۱۹۹۰ء میں روزانہ عصمت دری کے اوسطاََ ۱۷۵۶ مقدمات درج ہوئے، بعد کی ایک اور رپورٹ کے مطابق امریکہ میں روزانہ تقریباََ ۱۹۰۰ کے اوسط سے عصمت دری کے واقعات پیش آئے ہیں،(اسلام پر چالیس اعتراضات، ڈاکٹر ذاکر نائک:۸۵)بے پردگی، عریانیت اور اختلاط کی وجہ سے مغربی ممالک میں کیا صورت حال ہے؟اس کا اندازہ اسی سے کیجئے کہ ۲۰۱۴ء میں یوروپی یونین کے بنیادی حقوق کے ادارے کے سروے نتائج کے مطابق یونین میں شامل ممالک میں تقریباََ ایک تہائی خواتین ۱۵؍ برس کی عمر سے جسمانی یا جنسی تشدد کا شکار رہی ہیں، یہ تعداد چھ کروڑ بیس لاکھ کے لگ بھگ بنتی ہے، سروے میں کہا گیا ہے کہ یہ اس موضوع پر لیا جانے والا اب تک کا سب سے بڑا جائزہ ہے اور اس کے لئے ۴۲؍ ہزار خواتین کے انٹرویو کئے گئے( دیکھئے: http: 11www.bbc.com/ urdu/ 2014/03/140305eu.women-violence-report-zs )
اب ایک نظر امریکہ کی صورت حال پر ڈالئے، ایک تازہ سروے میں یہ حقیقت سامنے آئی ہے کہ ہر ۱۶؍ میں ایک امریکی خاتون کا پہلا جنسی تجربہ زبردستی کا تھا، امریکہ میں خواتین کی تعداد ۱۶؍ کروڑ سے زائد ہے، اس حساب سے ایک کروڑ خواتین زنا بالجبر کا شکار ہوئی ہیں، ۷؍ فیصد خواتین کا کہنا تھا کہ انہیں ۱۵؍ سال کی عمر میں ریپ کا نشانہ بنایا گیا اور وہ مرد عمر میں ان سے کئی سال بڑا تھا، فوج سب سے زیادہ ڈسپلن کی پابند سمجھی جاتی ہے؛ لیکن مرد فوجی بھی اپنی ساتھی خاتون فوجی کے ساتھ زنا بالجبر کا ارتکاب کرتے ہیں؛ چنانچہ امریکی ڈپارٹمنٹ آف ڈیفنس کی ۲۰۱۷ء میں شائع ہونے والی ایک رپورٹ کے مطابق ۲۰۱۶ء میں امریکی فوج میں جنسی زیادتی کے ۶۱۸۲ کیسس فائل ہوئے، یہ ۲۰۱۲ء کے مقابلے میں تقریباََ دوگنا ہیں، جب ۳۶۰۴ کیسس رپورٹ کئے گئے تھے، پنٹاگون کی رپورٹ کے مطابق امریکی فوجی خواتین دشمن کے حملوں میں ہلاکت کی نسبت ساتھیوں اور افسران سے ریپ کے خطرے کی زیادہ شکار ہیں،حد تو یہ ہے کہ سیاستداں خواتین بھی اپنے مرد سیاستداں ساتھیوں کی طرف سے اس قسم کی زیادتی کا شکار ہوتی رہتی ہیں، اور اس کی رپورٹیں بھی موجود ہیں۔
خود ہمارے ملک بھارت کی صورت حال یہ ہے کہ جرائم کے اعداد وشمار یکجا کرنے والے سرکاری ادارہ’’ نیشنل کرائم ریکارڈ بیورو (این، سی، آر ،بی) ‘‘ کی رپورٹ ۲۰۱۸ء کے مطابق بھارت میں اوسطاََ ہر روز ۹۱؍ خواتین کے خلاف جنسی زیادتی کی شکایت درج کرائی گئی ہے، یہ بات بھی ملحوظ رکھنی چاہئے کہ امریکہ ہویا یورپ ،یا بھارت ،یہاں شادی شدہ یا غیر شادی شدہ بالغ مرد وعورت کے درمیان باہمی رضامندی سے جنسی فعل کی ممانعت نہیں ہے؛ اس لئے یہ جرم میں شامل نہیں ہے، نیز جنسی جرائم کے زیادہ تر واقعات عورتیں شرم کی وجہ سے یا مجرموں کے دباؤ کی وجہ سے ظاہر نہیں کرتیں، جو معاملات پولیس میں درج کئے جاتے ہیں، ان ہی کی بنیاد پر یہ رپورٹیں مرتب کی جاتی ہیں؛ اس لئے حقیقی واقعات اس سے کہیں زیادہ ہوتے ہیں۔
ظاہر ہے کہ جنسی جرائم کے اس بڑھتے ہوئے رجحان کا بنیادی سبب بے پردگی، عریانیت اور اختلاط ہے؛ اسی لئے جن ملکوں میں عریانیت اور بے پردگی کا آزادانہ ماحول نہیں ہے، وہاں ایسے جرائم کی شرح بہت ہی کم پائی جاتی ہے، مسلم ممالک میں حالاں کہ شرعی قوانین نافذ نہیں ہیں، اس کے باوجود چوں کہ مسلمان عورتیں مذہبی جذبات کے تحت اپنی خوشی سے پردہ کا اہتمام کرتی ہیں؛ اس لئے ان کی صورت حال بہتر ہے ، دنیا میں کل ۱۹۵؍ ممالک ہیں، ان میں سے ۱۹۳؍ ممالک اقوام متحدہ کے ممبر ہیں، اقوام متحدہ کے رکن ممالک میں غالباََ ۵۷؍ مسلم ممالک ہیں؛ لیکن سالہا سال سے جرائم کے سلسلے میں جو رپورٹیں آرہی ہیں، ان میں مسلم ممالک بحمد اللہ جرائم اور خاص کر جنسی جرائم کے اعتبار سے سب سے کم تر سطح پر ہیں، یعنی ان کے یہاں جنسی جرائم کافی کم ہیں۔
۲۰۱۸ء میں عورتوں کی عصمت دری کے اعدادوشمار کی روشنی میں ٹاپ ٹین ممالک میں ڈنمارک، فن لینڈ، اسٹریلیا، کینیڈا، نیوزی لینڈ، برطانیہ، امریکہ، سویڈن اورجنوبی افریقہ شامل ہیں، بحمد اللہ ان میں ایک بھی مسلم ملک نہیں ہے، افسوس کہ اس فہرست میں ہمارا ملک بھارت بھی شامل ہے، جہاں رپورٹ کے مطابق روزانہ ۹۳؍ عورتوں کی عزت لوٹی جاتی ہے،( روزنامہ سالار بنگلور: ۲۷؍ اپریل۲۰۱۹) یہ صرف اس لئے ہے کہ مسلمانوں میں پردہ کا تصور ہے اور عریانیت کو بہت قبیح فعل سمجھا جاتا ہے۔
ترقی کے لئے رکاوٹ نہیں!
یہ بات کہ پردہ ترقی کے لئے رکاوٹ ہے، انتہائی خلاف ِواقعہ بات ہے، نہ عقل اس کی تصدیق کرتی ہے اور نہ تجربہ، غور کیجئے کہ علم کے بنیادی طور پر دو ذرائع ہیں، ایک: انسان کی عقل ، جس کا مرکز دماغ ہے، دوسرے: انسان میں محسوس کرنے کی صلاحیتیں ، یعنی آنکھ جو دیکھتی ہے، کان جو سنتا ہے، زبان جو چکھتی ہے، ناک جس میں سونگھنے کی صلاحیت ہے، اور ہاتھ یا دوسرے اعضاء جو چھو کر کسی چیز کی سختی اور اور نرمی کا ادراک کرتے ہیں، ان ہی پانچ صلاحیتوں کو فلسفہ کی اصطلاح میں ’’حواس خمسہ‘‘ (Five Senses) کہا جاتا ہے، عقل اور حواس ہی علم وتحقیق کے بنیادی ذرائع ہیں، اب سوچنے کی بات ہے کہ کیا پردہ ان میں سے کسی صلاحیت کو متأثر کر تا ہے؟ کیا پردے کی وجہ سے عقل اپنا کام کرنا چھوڑ دیتی ہے؟ اور کیا اس کی وجہ سے احساس کی یہ صلاحیتیں مفلوج ہو جاتی ہیں؟ اگر نہیں تو پھر کوئی وجہ نہیں کہ پردہ کو علمی وفکری ترقی میں رکاوٹ تصور کیا جائے۔
حقیقت یہ ہے کہ اگر شریعت کے مطابق پردہ کا نظام قائم ہو ، جس میں مردوں اور عورتوں کے درمیان اختلاط سے بچاجائے تو زندگی کی تگ ودَو میںعورتوں کے لئے معاشی جدوجہد کے مواقع بھی بڑھ جائیں گے، مثلاََ اس نظام کے تحت اسکول سے لے کر یونیورسٹی تک لڑکیوں کے تعلیمی ادارے الگ ہوں گے، جن میں خاتون اساتذہ اور عملہ کام کریں گی، ہاسپیٹلوں میں نہ صرف خواتین مریضوں کا وارڈ الگ ہوگا؛ بلکہ پورا سیکشن ہی الگ ہوگا، اس میں ڈاکٹر س اور تمام عملہ بھی عورتوں کا ہوگا، اسی طرح بینکوں میں اور عوامی ضروریات سے وابستہ اداروں میں خواتین کے مستقل حصے ہوں گے، یہی حال مارکٹوں کا ہوگا، جن میں خواتین کے لئے مستقل مارکٹ ہوگی، دوکانوں میں ان کے لئے الگ حصہ ہوگا، خواتین کے لئے مخصوص حصہ میں خاتون کارکن کام کریں گی؛ اس لئے پردہ کا نظام خواتین کے لئے کام کے مواقع کو بڑھا دے گا اور وہ مرد ساتھیوں کی ہراسانی سے بچتے ہوئے کام کر سکیں گی۔
حقیقت یہ ہے کہ پردہ خواتین کے لئے نعمت ہے، جو ان کو وقار عطا کرتا ہے، اور پردہ کو ختم کر دینا بہت سی معاشرتی برائیوں کا سبب بنتا ہے، جن میں سب سے اہم زنا کی کثرت اور عورتوں کو زیادہ سے زیادہ برہنہ کرنا ہے، زنا اگرچہ دو طرفہ فعل ہے؛ لیکن اس کا زیادہ نقصان عورت کو اٹھانا پڑتا ہے، اگر وہ زنا کی وجہ سے بچے کی ماں بن گئی تو اسے اپنا ہی نہیں اپنے بچہ کا بوجھ بھی اُٹھانا پڑتا ہے، اور اگر بے قید تعلق کا معاملہ آگے بڑھا اور مختلف مردوں سے اس کا رابطہ ہوا تو پہلے وہی ایڈس کی مریض ہوتی ہے، پھر مرد ہوتا ہے، اور اس کی زندگی دُکھ بھری زندگی بن جاتی ہے، جب عورت کی عریاں تصویر لی جاتی ہے تو اگرچہ مرد بھی اس عمل میں شریک ہوتا ہے؛ لیکن رسوائی اس عورت ہی کی زیادہ ہوتی ہے، اگر وہ آئندہ اپنی پاکیزہ زندگی شروع کرنا چاہے تو اس سے قاصر رہتی ہے، مجرمانہ ذہن رکھنے والوں کا شکار اکثر وہی عورتیں بنتی ہیں، جو سرِ عام اپنے جسم کی نمائش کرتی ہیں، نیم برہنہ لباس پہنتی ہیں، یاایسے چست ملبوسات کا استعمال کرتی ہیں، جن سے جسم کا نشیب وفراز نمایاں ہو جائے ،جو عورتیں ڈھکا چھپا اور ڈھیلا ڈھالا لباس استعمال کرتی ہیں، ان کے ساتھ زیادتی کے واقعات کم پیش آتے ہیں اور زیادہ تر وہ عیاش مردوں کی ہوسناک نظروں سے محفوظ رہتی ہیں۔