Fri, Feb 26, 2021

سی بی آئی اسپیشل کورٹ کا فیصلہ بابری مسجد کے دوہرے قتل کے مترادف
مولانا خالد سیف اللہ رحمانی سکریٹری آل انڈیا مسلم پرسنل لاء بورڈ کا بیان

بابری مسجد کی شہادت کے سلسلہ میں سی بی آئی عدالت کا جو فیصلہ آیا ہے، وہ بے حد افسوس ناک، حیرت انگیز اور انصاف کرنے والے اداروں کی کار کردگی پر سوالیہ نشان ہے، بابری مسجد کی شہادت کا واقعہ رات کی تاریکی میں نہیں دوپہر کے اجالے میں پیش آیا، اور تنہائی میں نہیں بلکہ ایک جم غفیر کے درمیان اس جرم کا ارتکاب کیا گیا، اس جم غفیر میں فورس بھی شامل تھی، پولس بھی شامل تھی اور ٹیلی ویژن پوری دنیا میں اس شرمناک منظر کو دکھا رہاتھا، نیز یہ فیصلہ کسی جلد بازی میں نہیں ہوا، بلکہ اس مقدمہ نے ۲۸/سال کا وقت لیا، جن لوگوں نے مسجد کو شہید کیا، ان کے چہرے ٹیلی ویژن کے ریکارڈ میں محفوظ ہیں؛ لیکن پھر بھی عدالت اس نتیجہ پر نہیں پہنچ سکی کہ مسجد کے خون ناحق سے کن لوگوں کے ہاتھ رنگین ہیں؟ اس فیصلہ نے مظلوموں کے عدالت پر اعتماد کو متزلزل کردیا ہے، اور پوری دنیا میں ہندوستان کے عدالتی نظام کی رسوائی ہوئی ہے؛ اس لئے یہ کہنا بے جا نہیں ہوگا کہ اس مسجد کا ایک قتل ۶/دسمبر ۱۹۹۲ میں ہواتھا، اور سی بی آئی کے اس فیصلہ نے دوسری بار مسجد کا قتل کیا ہے، اب حکومت کا اورخود سی بی آئی کا فریضہ ہے کہ وہ اس فیصلہ کے خلاف اعلی عدالت میں اپیل دائر کرے؛ تاکہ ملک کے ادارۂ انصاف پر ملک کے شہریوں کااعتماد اور ملک کے باہر اس کا وقار قائم ہو ـ۔

۱۳/صفر ۱۴۴۲ھ جاری کردہ:
محمد ارشد قاسمی
استاذ: المعہدالعالی الاسلامی حیدرآباد