Fri, Feb 26, 2021

مسلمان کیسے آتم نِر بَھر (خود مکتفی) ہوں؟
 مولانا خالد سیف اللہ رحمانی
28.08.2020
دوسری قسط

نفرت کا ازالہ
ملک کے موجودہ حالات میں بہت ہی اہم کام نفرت کی اس آگ کو بجھانا ہے، جو سنگھ پریوار نے لگائی ہے اور میڈیا نے پٹرول ڈال کر اس کو آتش فشاں بنا دیا ہے، تعلیم، دعوت اور معاشی ترقی، جو بھی کام ہو، اس کے لئے معتدل ماحول اور نفرت سے پاک سماج ضروری ہے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کو اپنی حکمت عملی میں سب سے مقدم رکھا، آپ نے ماحول کو پرُامن رکھنے کے لیے مکی زندگی میں یک طرفہ طور پر صبر سے کام لیا، صحابہ ”تنگ آمد بہ جنگ آمد” کے مصداق اگر کہیں جوابی اقدام کرنا چاہتے، تب بھی آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سے منع فرما دیتے، مدینہ تشریف لانے کے بعد آپ نے وہاں کے تمام قبائل کو جوڑ کر معاہدہ کرایا؛ تاکہ امن وامان قائم رہے، آپ شروع سے چاہتے تھے کہ اہل مکہ سے صلح ہو جائے، مکی زندگی میں آپ نے اہل مکہ کے سامنے یہ بات بھی رکھی تھی کہ وہ دعوت اسلام کے کام میں رکاوٹ نہ بنیں، اگر آپ کو کامیابی حاصل ہوگئی تو خاندانی رشتے کی بنا پر تمام اہل مکہ کے لئے عزت کی بات ہوگی اور اگر کامیابی نہیں ہو پائی تو آپ کا مقصد حاصل ہوگیا؛ لیکن اس کو بھی اہل مکہ نے قبول نہیں کیا۔
بالآخر اہل مکہ نے دوبار اپنی طاقت لگا کر حملہ کیا اور بدر و احد کے غزوات پیش آئے، تیسری بار ان تمام طاقتوں کو اپنے ساتھ ملا کر حملہ آور ہوئے، جن کی تائید وہ حاصل کر سکتے تھے، اور غزوہ احزاب کا واقعہ پیش آیا؛ لیکن اللہ تعالیٰ کی مدد سے ان کی یہ مہم بھی ناکام و نامراد ہوکر رہ گئی؛ چونکہ اہل مکہ نے اپنی صلاحیت کا پورا تجربہ کرلیا تھا، اور اندازہ ہوگیا تھا کہ وہ بزور طاقت مسلمانوں کو زیر نہیں کر سکیں گے، تو اب وہ وقت آگیا جو بقائے باہم کے اصول پر صلح کے لیے سب سے موزوں وقت تھا؛ چنانچہ صلح حدیبیہ کا واقعہ پیش آیا، جس کی پیشکش آپ ہی نے فرمائی اور آپ نے اہل مکہ ہی کی شرطوں پر صلح کو قبول کرلیا۔
اسی طرح مدینہ منورہ میں بار بار یہودیوں کی طرف سے زیادتی کے واقعات پیش آتے رہے، وہ کبھی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی توہین کرتے، کبھی اشعار کا سہارا لے کر مسلمانوں کی برائی بیان کرتے،کبھی مسلمان خواتین کی نسبت سے بدتمیزی کی باتیں کہتے، اہل مکہ کے لیے جاسوسی کرتے اور ان کو جنگ پر اکساتے، یہاں تک کہ انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے قتل کا منصوبہ بھی بنایا؛ لیکن آپ نے ہمیشہ صبر اور درگزر سے کام لیا، جب تک پانی سر سے اونچا نہ ہو گیا، درگزر ہی سے کام لیتے رہے؛ تاکہ مسلمانوں کو پُرامن ماحول میں اسلام کی دعوت اور مسلمانوں کی تعلیم وتربیت کا موقع ملے، غرض کہ ہر طرح کے اصلاحی اور ترقیاتی کاموں کے لیے پُرامن ماحول اور محبت کی فضا ضروری ہے۔
ہندوستان میں اس وقت نفرت کا ماحول قصداپیدا کرنے کی کوشش کی جارہی ہے، برسر اقتدار پارٹی نفرت انگیز منصوبہ بناتی ہے، میڈیا اس منصوبہ کو تقویت پہنچاتا ہے اور اسے گھر گھر پہنچانے کا کام کرتا ہے، حکومت اس نفرت انگیز مہم سے آنکھ بند رکھتی ہے،اپنی انتظامی مشینری کو قصداً معطل کر دیتی ہے اور قانون سازی کے ذریعے نفرت انگیز ایجنڈے کو قانون کا حصہ بنا دیتی ہے، اس نفرت کو دور کرنا موجودہ حالات میں سب سے بڑا کام ہے۔
۱۔ اس کے لیے غیر مسلم بھائیوں کے ساتھ سماجی تعلقات کو استوار کرنا نہایت ضروری ہے،الیکشن کے وقت اتحاد کی دعوت اور غیر مسلموں کے ساتھ یگانگت ایک حد تک خود غرضی کو ظاہر کرتی ہے، اور اس کو سیاسی فائدے کا عمل تصورکیا جاتا ہے؛ لیکن سیاست سے ہٹ کر سماجی زندگی میں برادرانِ وطن سے تعلقات کی استواری بہت اہم ہے، جیسے قدرتی آفات میں گاؤں اور محلہ کے غیر مسلم بھائیوں کی مدد،غیر سودی قرض اداروں کا قیام اور اس میں ان کو بھی شامل کرنا، رمضان المبارک، عیدالفطر اور عیدالاضحی کے موقع سے ان کو اپنے یہاں بلانا، مشترک سماجی مسائل کو مل جل کر حل کرنا، صفائی ستھرائی مہم چلانا، وبائی امراض کے لئے طبی کیمپ، ایک ساتھ کھانے پینے کی دعوت وغیرہ، اگر غیر مسلم تنظیمیں، جماعتیں اور ادارے اپنے اپنے حلقے میں اس کام کو انجام دیں،تو انشااللہ ضرور نفرت کم ہو گی اور اگر عمل میں تسلسل ہوتو نفرت ختم ہوگی۔
۲۔ غیرمسلموں میں بڑا حصہ دلت بھائیوں کا ہے، برہمنوں نے اگرچہ اس بات کے لئے کہ وہ اجتماعی شکل اختیار نہ کر لیں، ان کو بی سی، ایس ٹی اور او بی سی میں تقسیم کر دیا ہے،اور بعض جگہ تو دلت اور مہا دلت کی اصطلاح قائم کردی ہے؛ لیکن حقیقت میں سماجی اعتبار سے ان سب کے حالات یکساں ہیں، اس طبقہ سے خاص طور پر تعلقات کو بہتر بنانے، ان کے سماجی اور سیاسی قائد ین کو ساتھ لے کر چلنے اور ان کے ساتھ مساویانہ برتاؤ کرنے کی ضرورت ہے؛کیونکہ یہ آبادی کا تقریبا 80 فیصد ہیں،اور تھوڑی محنت اور حسن سلوک کے ذریعہ ان کو قریب کیا جا سکتا ہے، جیساکہ مختلف ریاستوں میں عیسائیوں نے کیا ہے۔
کیا بہتر ہو کہ ہر قصبہ، گاؤں، محلہ میں مسلمان آگے بڑھ کر دلت مسلم انجمن قائم کریں، جو رفاہی کام بھی انجام دیں اور مشترک برائیوں جیسے: جہیز کی رسم، نشہ، گندگی وغیرہ کو ختم کرنے کے لیے مل جل کر کام کریں؛ گویا حضورﷺکی قبل ازنبوت زندگی کی اصطلاح میں ایک’’ حلف الفضول‘‘ قائم ہوجائے، جو تمام کمزوروں کی نمائندہ ہو۔
۳۔ مسلم غیر مسلم نفرت کا سب سے بڑا سبب میڈیا کے لوگ ہیں، جنہوں نے اپنا ضمیر بیچ دیا ہے، اس کا مقابلہ بھی اسی راستے سے کرنا ہوگا،اس سلسلہ میں سہل الحصول ذریعہ سوشل میڈیا ہے، نفرت بھی اسی ذریعہ سے پھیلائی جاتی ہے، اور نفرت کا علاج بھی اسی ذریعہ سے ممکن ہے، ویسے تو مسلمان بھی مختلف مقاصد کے لیے سوشل میڈیا کا کافی استعمال کرتے ہیں؛ لیکن ضرورت ہے اس میں منصوبہ بندی کی، اور وہ اس طرح کہ:
الف: جو غلط باتیں پھیلائی جاتی ہیں، ہندی اور مقامی زبانوں میں دلیل کے ساتھ غیر جذباتی ہوکر ان کا جواب دیا جائے۔
ب: نفرت انگیز مواد پر کثرت سے کمنٹ کیا جائے، اور کمنٹ اس کی تردید پر مشتمل ہو، نیز اسی میڈیا کے ذریعہ جو جواب دیا جائے، کمنٹ میں اس کا حوالہ بھی ہو کہ آپ اس کی سچائی جاننے کے لیے فلاں پروگرام دیکھ سکتے ہیں۔
ج: غیر مسلم حضرات کے ساتھ جو حسن سلوک کیا جائے، اس پر ان کے تاثرات کی بھی ویڈیو ریکارڈنگ کی جائے اور اسے بھی سوشل میڈیا کے ذریعے خوب پھیلایا جائے۔
د: دلتوں، بدھسٹوں، جینیوں وغیرہ کے ساتھ مسلم دور سے پہلے جو مظالم کیے جاتے رہے ہیں، ان کو تاریخی شہادتوں کے ساتھ پیش کیا جائے؛ تاکہ تصویر کا دوسرا رخ لوگوں کے سامنے آئے۔
ہ: موجودہ دور میں دلتوں کے ساتھ تحقیر و تذلیل کا جو رویہ اختیار کیا جاتا ہے،ان واقعات کو پیش کیا جائے۔
و: انسانی بنیادوں پر محبت اور بہتر سلوک کی جو تعلیم اسلام میں دی گئی ہے، اس کو پیش کیا جائے۔
ز: مسلم دور حکومت میں ملک کو جو ترقی حاصل ہوئی اور تمام قوموں کے ساتھ مساویانہ سلوک کیا گیا، ان کو سامنے لایا جائے۔
ح: غیر مسلم بھائیوں اور بالخصوص دلتوں سے رابطہ کے وسائل جیسے: واٹس ایپ نمبر حاصل کیے جائیں اور ان تک اپنی بات پہنچائی جائے۔
ط: یوٹیوب چینل پر ڈبیٹ رکھی جائے، جس میں فرقہ پرستوں کے عمل کو ایجنڈا بنایا جائے، جیسے :بدھسٹوں اورجینیوں کی وہ عبادت گاہیں جو آج مندروں کی شکل میں ہیں، شودر اور ہندو مذہبی کتابیں، منو سمرتی نیز ہندو مذہبی کتابوں کے بعض غیر اخلاقی مضامین، وغیرہ،اس میں ہندو مقدس شخصیتوں کے احترام کا پورا لحاظ رکھا جائے اور اپنی بات کو نقلِ واقعہ تک محدود رکھا جائے، نیز یہ ڈیبیٹ بہوجن سماج کے لوگوں اور کمیونسٹ برادرانِ وطن کے ذریعہ ہو، غرض کہ ایک منصوبہ کے ساتھ سوشل میڈیا کا استعمال کیا جائے۔
۴۔ ہندی اور مقامی زبانوں میں 15 /16 صفحات کے ایسے پمپفلیٹس شائع کیے جائیں، جن میں برہمنوں کی طبقاتی تقسیم،عورتوں کے بارے میں منوسمرتی کی تعلیمات، مذہبی کتابوں میں مذکور غیر اخلاقی واقعات وغیرہ کا ذکر ہو، اور یہ غیر مسلم مصنفین کے ہوں،اسی طرح بابا صاحب امبیڈکر، جیوتی با پھلے وغیرہ نے برہمنی افکار اور نظام پر جو تبصرے کیے ہیں، انہیں مرتب کیا جائے اور زیادہ سے زیادہ پھیلایا جائے،نیز اسلام کی انسانیت نواز تعلیم اور مساوات انسانی کے تصور پر بھی موثر لٹریچر تیار کیا جائے، اور اسے برادرانِ وطن تک ان کی زبان میں زیادہ سے زیادہ پہنچایا جائے۔
معاشی ترقی
کسی بھی قوم کے لئے معیشت کی حیثیت ریڑھ کی ہڈی کی ہے، اسلام نے حالانکہ آخرت کو مقصد زندگی بنانے کا حکم دیا ہے اور دنیا پر دین کو ترجیح دینے کا سبق پڑھایا ہے؛ لیکن کسب معاش کی بھی ترغیب دی ہے، اس بات کو بہتر قرار دیا ہے کہ مسلمان کے پاس دینے والا ہاتھ ہو نہ کہ لینے والا، حلال روزی کو اللہ تعالی کی بہت بڑی نعمت قرار دیا گیا ہے؛ کیونکہ انسان بہت سے فرائض دولت کے بغیر ادا نہیں کرسکتا اور جو قوم دوسروں کے سامنے ہاتھ پھیلا تی ہے، وہ عزت و سربلندی کا مقام حاصل نہیں کر پاتی ہے۔
ہندوستان کی صورتحال یہ ہے کہ انگریزوں ہی کے دور سے یہاں خاص طور پر مسلمانوں کی معیشت کو نشانہ بنایا گیا، ملازمتوں سے ان کو الگ کیا گیا، آزادی کے بعد جن شہروں میں کوئی کاروبار مسلمانوں کے ہاتھ میں تھا، جیسے: علیگڑھ، بنارس، بھاگلپور، مرادآباد وغیرہ، وہاں خوں ریز فسادات کرائے گئے، سخت معاشی پسماندگی کے باوجود مسلمانوں کو ریزرویشن سے محروم رکھا گیا، ملازمتوں میں ان کا گراف اتنا گر چکا ہے کہ وہ بالکل آخری صف میں ہیں؛ اس لیے ضروری ہے کہ مسلمان معیشت کے ایسے وسائل اختیار کریں، جو کم اخراجات پر مبنی ہوں، جن کے لیے سرکاری وسائل کی ضرورت نہ ہو اور جن کو اپنے اختیار سے چلایا جا سکتا ہو، اس کے لیے ان امور پر توجہ کی ضرورت ہے:
۱۔ چھوٹی صنعتوں کا قیام، ان میں ا خراجات بھی کم آتے ہیں، قانونی مسائل بھی زیادہ نہیں پیدا ہوتے، جن شہروں میں مسلمانوں نے چھوٹی صنعتوں کو اپنا ذریعہ معاش بنایا ہے، وہاں مسلمانوں کی مالی حالات نسبتا بہتر ہے، جیسے: بنارس اور مئو میں ساری کا کاروبار، علی گڑھ میں تالے، بھاگلپور میں ریشم کے کپڑے، وغیرہ۔
۲۔ تجارت، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ تجارت میں برکت رکھی گئی ہے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے خود تجارت کی ہے، حضرت ابوبکرؓ، حضرت عمرؓ اور اکثر مہاجر صحابہؓ نے تجارت کو اپنا ذریعہ معاش بنایا تھا،آج بھی جن علاقوں میں مسلمانوں نے تجارت کی طرف توجہ دی ہے، جیسے:بمبئی، کلکتہ، گجرات اور جنوبی ہند کے بعض علاقے، وہاں وہ معاشی طور پربہتر حالت میں ہیں، جب معیشت بہتر ہوگی تو اپنے بچوں کو اعلیٰ تعلیم دلانے کے مواقع بھی حاصل ہوں گے اور یہ بھی ان کے لیے معاشی ترقی کا ذریعہ بنے گا۔
۳۔ معاش کے دو قدیم ترین ذرائع ہیں: زراعت اور مویشی پالن، پہلے یہ کام معمولی سطح پر کیا جاتا تھا؛ لیکن اب زراعت اور مویشی پالن کی ایک پوری سائنس وجود میں آچکی ہے، جدید ٹیکنالوجی کا استعمال کرکے کم جگہ میں زیادہ پیداوار حاصل کی جا سکتی ہے۔ جہاں پانی کم ہو وہاںاسی لحاظ سے ایسی چیز وں کی زراعت کی جاسکتی ہے جس میں زیادہ پانی کی ضرورت نہیں پڑتی، مویشی پالن کے ایسے طریقے آگئے ہیں کہ کم مدت میں جانور کا وزن بڑھ جاتا ہے، مسلمانوں کو ان ذرائع کے اختیار کرنے کی ترغیب دینی چاہیے، اس طرح کم وسائل کے ذریعے وہ زیادہ آمدنی حاصل کرسکتے ہیں، اس کی بہترین مثال پنجاب ہے، جہاں معیشت کا بنیادی ذریعہ زراعت ہے، پھر بھی وہ معاشی ترقی کے اعتبار سے ملک کی ریاست نمبر ایک سمجھی جاتی ہے، مسلمان کاشتکار عام طور پر شعور سے تہی دامن ہیں اور وہ حالات کو دیکھے بغیر روایتی کاشت کو جاری رکھے ہوئے ہیں۔
۴۔ روزگار کا ایک کم خرچ اور مفید ذریعہ ہنر ہے، ہنرمندوں کی ضرورت قدم قدم پر پیش آتی ہے،الیکٹریشن ہو یا پلمبر، یا کسی اور فن کا ماہر، ہر جگہ اس کی طلب ہے، خلیجی ممالک میں ہنرمندوں کی بہت زیادہ کھپت ہے،بعض شعبے ایسے ہیں جن سے خواتین بھی استفادہ کر سکتی ہیں، جیسے: نرسنگ، میڈیکل لیب،گارمنٹ کی تیاری، وغیرہ، میں جب بنگلہ دیش گیا تو دیکھاکہ گارمنٹ فیکٹری کے باہر عورتوں کی لمبی قطاریں کھڑی ہیں، یہ سب وہاں کام کرنے والیاں ہیں اور انہیں معقول معاوضہ ملتا ہے، اسی کے نتیجے میں بنگلہ دیش اس وقت سارک ممالک میں معاشی ترقی کے اعتبار سے اول نمبر پر ہے، بعض ہنر ایسے بھی ہیں کہ جو لوگ زیادہ جسمانی محنت نہیں کرسکتے اور کسی قدر تعلیم یافتہ بھی ہیں، وہ ان سے فائدہ اٹھا سکتے ہیں، حکومت اسکیل ڈیولپمنٹ کے نام سے ہنرمندوں کی تیاری پر بہت توجہ دے رہی ہے اور اس کی بہت حوصلہ افزائی کرتی ہے، اس سے فائدہ اٹھانا چاہیے۔
۵۔ سرکاری اسکیمیں، غریبوں بے روزگاروں اور اقلیتوں کے لیے مرکزی اور ریاستی حکومتوں کی بعض خصوصی اسکیمیں ہیں، اگر آپ اقلیتی اسکیموں سے فائدہ اٹھانے والوں کی فہرست کسی ذریعہ سے حاصل کریں تو آپ دیکھیں گے کہ سب سے بڑی اقلیت یعنی مسلمانوں کا حصہ اس میں بہت ہی کم ہے،ان ا سکیموں سے فائدہ اٹھانا ہمارا حق ہے؛ کیونکہ مسلمان بھی اس ملک کو ٹیکس ادا کرتے ہیں، جب کوئی مصیبت آتی ہے تو ہنگامی تعاون کرتے ہیں، ابھی کووِڈ کے موقع سے جن لوگوں نے بڑا ڈونیشن دیا، ان میں کئی مسلمان ہیں اور جس نے سب سے بڑا ڈونیشن دیا، وہ بھی ایک مسلمان ہی تھا، تو مسلمانوں کا حق ہے کہ وہ ایسی سکیموں سے فائدہ اٹھائیں اور ان میں سے بیشتر اسکیمیں ایسی ہے جن کو علماء نے شرعی نقطہ نظر سے بھی جائز قرار دیا ہے۔
ان ا سکیموں سے محروم رہنے کے دو بنیادی اسباب ہیں: پہلا سبب افسروں کا تعصب ہے؛ لیکن اگر ہمت نہ ہاری جائے، مقررہ ضوابط کی پیروی کی جائے تو دو چار بار دوڑنے اور دو چار سرکاری آفسوں کی خاک چھاننے کے بعد کامیابی حاصل ہو جاتی ہے؛اس لیے جدوجہد کرنی چاہیے اور اپنا حق حاصل کرنا چاہیے، اس کا دوسرا اور بڑا سبب مسلمانوں کی بے خبری ہے، عام طور پر مسلمان ان اسکیموں سے باخبر نہیں ہوتے، اگر سرسری طور پر کچھ معلوم بھی ہو تو طریقہ کار کی تفصیل سے ناواقف ہوتے ہیں؛ اس لیے اکثر اپنی لاعلمی کی وجہ سے فائدہ نہیں اٹھا پاتے ہیں، ضرورت ہے کہ مسلم آبادیوں میں’’گائیڈنس سینٹر‘‘ قائم کیے جائیں، اس سے بہت سے فائدے حاصل کیے جاسکتے ہیں، جیسے: سرکاری اسکیموں سے فائدہ اٹھانا، پرائیویٹ کمپنیوں میں اور سرکاری محکموں میں ملازمت کے مواقع سے واقفیت، ہنر کی تعلیم کے مراکز وغیرہ، یہ ہمہ مقصدی سینٹر ہو سکتا ہے، اور اگر مسجدوں کو اس کامرکز بنایا جائے مثلا ہفتہ یا مہینے میں ایک دن مسجد میں کوئی واقف کار شخص چند گھنٹوں کے لئے اپنا وقت دے دے تو مسجد سے مسلمانوں کا رشتہ مضبوط ہوگا اورکتنے ہی مسلمانوں کو باعزت روزگار مل سکے گا ہے۔
(جاری)