Wed, Feb 24, 2021

آپ کے شرعی مسائل
مولانا خالد سیف اللہ رحمانی
2020.08.21

نماز میں تکبیراتِ انتقال کو کھینچ کر پڑھنا
سوال:- ہمارے یہاں ایک قاری صاحب امامت فرماتے ہیں ، ان کی قراء ت بہت اچھی ہوتی ہے ، وہ نماز میں بھی اللہ اکبر کو کافی کھینچ کر ادا کرتے ہیں ، بعض نمازیوں کو اس پر اعتراض ہے ، صحیح حکم کی رہنمائی فرمائیے ۔ ( اقبال احمد، سنتوش نگر)
جواب :- ’ اللہ ‘ میں جس قدر’ مد‘ علمائِ تجوید کے نزدیک بہتر ہے ،اتنا ہی کھینچنا چاہیے ، اس سے زیادہ کھینچنے میں ایک خرابی تو یہ ہے کہ قواعدِ تجوید کی خلاف ورزی ہوتی ہے ، دوسری اس سے بڑی خرابی یہ ہے کہ اگر امام صاحب کے ساتھ مقتدیوں نے تکبیر تحریمہ شروع کی اور امام سے پہلے مقتدیوں کی تکبیر پوری ہوگئی ، تو امام ابو حنیفہؒ کے ایک شاگرد ابن سماعہؒ نے ان سے نقل کیا ہے کہ اقتداء درست نہیں ہوگی ؛ لہٰذا مقتدیوں کی نماز بھی درست نہ ہوگی ، بلکہ علامہ قہستانیؒ نے نقل کیا ہے کہ اس مسئلہ پر امام ابو حنیفہؒ اور ان کے دونوں شاگرد امام ابو یوسفؒ اور امام محمدؒ تینوں متفق ہیں : و لو کبر المقتدی مع الإمام إلا أن الإمام طول قولہ حتی فرغ المقتدي من قولہ : اللّٰہ أکبر قبل أن یفرغ الإمام من قولہ : اللّٰہ لم یصر شارعاً في صلاۃ الإمام ، کذا روی ابن سماعۃ في ’’ نوادرہ ‘‘ و یجب أن تکون ہذہ المسألۃ بالإتفاق (بدائع الصنائع: ۳۵۰)اس لیے آپ حضرات حکمت کے ساتھ اور امام صاحب کے احترام کو باقی رکھتے ہوئے تنہائی میں انہیں بتائیں اور ترغیب دیں کہ وہ اللہ اکبر کو کھینچ کر ادا کرنے سے گریز کریں ۔
استعمال شدہ ڈھیلے سے دوبارہ استنجاء
سوال:- کیا مٹی کے ڈھیلے یا اینٹ کے ٹکڑے کو ایک سے زیادہ مرتبہ طہارت کے لئے استعمال کرسکتے ہیں ؟ (محمد فرقان، شاہین نگر)
جواب:- مٹی کے اندر اللہ تعالیٰ نے آلودگی کو جذب کرنے اور پھر اسے تحلیل کرنے کی غیر معمولی صلاحیت رکھی ہے ؛ اس لئے طہارت کے احکام میں بوقت ضرورت مٹی کو پانی کا قائم مقام بنایا گیا ہے ، اگر کوئی شخص استنجاء کرے اور مٹی میں نجاست پوری طرح تحلیل ہوچکی ہو ، مٹی پر اس نجاست کے اثرات محسوس نہ ہوتے ہوں تو اس سے دوبارہ استنجاء کرنے کی گنجائش ہے ؛ لیکن چوںکہ اس کا اندیشہ موجود ہے کہ شاید آلودگی کے تحلیل ہونے کا عمل مکمل نہ ہو پایاہو اور وہ بجائے جسم کو پاک کرنے کے مزید آلودہ کرنے کا سبب بن جائے ؛ اس لئے فقہاء نے استعمال شدہ ڈھیلے کو دوبارہ استعمال کرنے سے منع کیا ہے اور مکروہ تحریمی قرار دیا ہے ، جو قریب بہ ناجائز ہوتا ہے ؛ البتہ اگر نسبتًا بڑا ڈھیلا ہو، استنجاء کے لئے ایک بار اس کے ایک کنارہ کا استعمال کیا گیا ہو اور دوسری بار دوسرے کنارے کا ، تو اس میں کوئی حرج نہیں ہے : وکرہ تحریما بعظم وحجر استنجی بہ إلا بحرف آخر أي لم تصبہ النجاسۃ (رد المحتار: ۱؍۵۵۲)
رمی جمار میں جوتے پھینکنا
سوال:- حج میں شیطان پر کنکری پھینکتے ہوئے لوگ چپل جوتے بھی پھینک دیتے ہیں ، کیا اس سے رمی ہوجائے گی ؟ نیز شیطان پر کنکری پھینکنے کے سلسلہ میں صحیح احکام کی رہنمائی فرمائیں۔(ذوالکفل، بہادرپورہ )
جواب:- جمرات پر جو کنکریاں پھینکی جائیں ، ضروری ہے کہ وہ مٹی یا پتھر وغیرہ کی ہوں ، فقہاء کی اصطلاح میں زمین کی جنس سے ہوں ، (عنایہ مع الفتح:۲؍۴۸۶) اس لئے جوتے چپل اور اس جیسی چیزوں کا پھینکنا رمی کے لئے کافی نہیں ، جوتا ، چپل پھینکنے سے دوسرے کو اذیت پہنچتی ہے ؛ اس لئے مکروہ ہے ، رمی کا صحیح طریقہ یہ ہے کہ کنکری چنے کے دانے یا کھجور کی گٹھلی کے برابر ہو ، (بحرالرائق:۲؍۳۴۳) کنکری اس حصار کے اندر گرے جو ستون کے چاروں طرف بنی ہوئی ہے ، کنکری کا محض حصار کے اندر ڈال دینا کافی نہیں ؛ بلکہ ضروری ہے کہ پھینکنے کی کیفیت پائی جائے ، (بحرالرائق:۲؍۳۴۳) کنکری مارنے والے اور کنکری مارنے کی جگہ کے درمیان بہتر ہے کہ پانچ ہاتھ کا فاصلہ ہو، (حوالۂ سابق) سیدھے ہاتھ سے کنکری پھینکنا سنت ہے ، (فتح القدیر: ۲؍۴۸۷) ہر کنکری پھینکتے ہوئے اللہ اکبر کہنا چاہئے ؛ کیوںکہ صحابہ ث سے اسی طرح رمی کرنا منقول ہے ۔ (ہدایہ مع الفتح: ۲؍۴۸۶)
اگر مرحوم شوہر نے خلع قبول نہ کیا ہو ؟
سوال:- ایک لڑکی نے اپنے شرابی شوہر سے تنگ آکر تحریرا خلع پیش کیا ، جب کہ خلع پیش کرنے سے پہلے بہت مرتبہ بے شمار لوگوں نے بہت سمجھانے کی کوششیں کی ، مگر شوہر نے نہ کسی کی بات مانی اور نہ اپنی حرکتوں سے باز آیا ، بلکہ خلع قبول کرنے سے بھی بھری مجلس میں انکار کردیا ، نہ لفظا قبول کیا ، نہ تحریرا دستخط کئے ، کچھ ہی دن بعد شوہر کا انتقال ہوگیا ، لڑکی تجہیز و تکفین میں شریک رہی ، لڑکی کا سارا سامان شوہر ہی کے گھر میں ہے اور تین اولاد نرینہ بھی ہے ، اب شوہر کا رشتہ دار کہتا ہے کہ شوہر مرحوم نے اپنی زندگی میں خلع کو لفظا قبول کیا تھا ، اگرچہ کہ دستخط نہیں کئے تھے ، جب کہ مجلس میں حاضر تمام لوگ گواہ ہیں کہ وہ آخر وقت تک خلع کے قبول کرنے کا منکر تھا ۔
کیا ایسی صورت میں خلع معتبر ہے ؟ اور کیا لڑکی شوہر کی وارث بنے گی ، یا نہیں ؟ اور اولاد نرینہ کو جائداد سے کتنا حصہ ملے گا ؟ ( سید شجاع الدین، گنٹور )
جواب:- اگر واقعۃً ایسا ہی ہوا ہے ، جیساکہ آپ نے لکھا ہے تو جب شوہر نے مجلس میں خلع کو قبول کرنے سے انکار کردیا ، بیوی کا سامان اس نے تادم آخر واپس نہیں کیا اور بیوی تجہیز و تکفین میں بھی شریک رہی اور اس وقت لوگوں نے اس کے مطلقہ ہونے کی بات نہیں کہی ، تو بظاہر یہی بات درست معلوم ہوتی ہے کہ اس نے بیوی کو اپنے نکاح سے باہر نہیں کیا تھا اور اس طرح وہ اپنے مرحوم شوہر کی وارث ہوگی ۔
تاہم نزاع کی صورت میں دار القضاء سے رجوع کرلینا چاہئے ، اگر بیوی اور بچوں کے سوا مرحوم کے والدین اس کی وفات کے وقت زندہ نہیں رہے ہوں ، تو یہی بیوہ اور اس کی تینوں اولاد نرینہ میں میراث تقسیم ہوگی ، بیوی کو ترکہ کا آٹھواں حصہ ملے گا اور باقی تینوں کو برابر برابر ۔
بینک انٹرسٹ سے قبرستان کی حصار بندی
سوال:- بینک سے جو سود (انٹرسٹ) کی رقم ملتی ہے ، کیا اس سے قبرستان کی صفائی اور حصار بندی کی جاسکتی ہے ؟ (عبدالسمیع، کڑپہ)
جواب:- بینک انٹرسٹ کی رقم کا اصل حکم تو یہ ہے کہ اسے غرباء پر بلا نیت ثواب خرچ کردیا جائے : لأن سبیل الکسب الخبیث التصدق إذا تعذر الرد علی صاحبہ(درمختار مع الرد: ۹؍۴۷۰)لیکن اس کے علاوہ ہمارے عہد کے ارباب افتاء نے رفاہی کاموں میں بھی اس کے استعمال کی اجازت دی ہے ؛ لہذا اگر قبرستان کی صفائی اور حصار بندی کے لئے کسی اور رقم کا نظم نہ ہوسکے تو اس رقم سے بھی حصار بندی اور صفائی ستھرائی کا کام کرایا جاسکتا ہے ۔
امۃ الخیر وغیرہ نام رکھنا
سوال:- امۃ الخیر ، امۃ المنیر ، امۃ الطہور نام رکھنا کیا صحیح ہے ؟ (حماد علی، دہلی)
جواب:- ایسے نام رکھنا افضل ہے ، جس میں اللہ تعالیٰ سے بندگی اور عبدیت کا تعلق ظاہر ہوتا ہو ؛چنانچہ آپ ا نے ارشاد فرمایا کہ عبد اللہ اور عبد الرحمن ایسے نام ہیں ، جو اللہ کو بہت محبوب ہیں : ’’ أحب الأسماء إلی اللہ عبد اللہ و عبد الرحمن ‘‘ (ابو داؤد، حدیث نمبر : ۴۹۴۹)اسی حکم میں لڑکیوں کے لئے امۃ اللہ ، امۃ الرحمن یعنی اللہ کی بندی ، رحمن کی بندی وغیرہ ہیں ؛ لیکن اللہ تعالیٰ کے نام اور صفت کے طور پر کسی لفظ کے استعمال میں بہت احتیاط کی ضرورت ہے ، کہ مبادا وہ تعبیر اللہ تعالیٰ کی شانِ عظمت کے تقاضہ کو پورا نہ کرتی ہو ؛ اسی لئے علماء نے لکھا ہے کہ اللہ تعالیٰ کے جو نام قرآن اور احادیث میں آئے ہیں ، ان ہی ناموں سے اللہ تعالیٰ کا ذکر کرنا چاہئے ، ان اسماء کو اسماء حسنی کہا جاتا ہے ، خیر ، منیر ، اور طہور ، کے معنی تو اچھے ہیں ، لیکن یہ اللہ تعالیٰ کے اسماء حسنی میں شامل نہیں ہیں ، اس لئے امۃ الخیر ، امۃ المنیر اور امۃ الطہور نام رکھنا مناسب نہیں ، ان صفات کی طرف منسوب کرکے نام رکھیں ، جن کا شمار اسماء حسنی میں ہے ۔
بھائی کو کوئی چیز دے کر واپس لینا
سوال:- ایک شخص نے کوئی چیز اپنے بھائی کو دے دی ، اب وہ اس سے واپس لینا چاہتا ہے تو کیا وہ اس سے واپس لے سکتا ہے ؟ (شمشیر علی ، مؤمن پورہ)
جواب:- کوئی چیز اپنے بھائی کو دینے میں دوگنا ثواب ہے ، یہ صدقہ نافلہ بھی ہے اور صلہ رحمی بھی ، (ترمذی، حدیث نمبر:۶۶۰) اس سے انفاق کا بھی ثواب ملتا ہے اور قرابت داروں کے ساتھ حسن سلوک کا بھی ؛ اس لئے جو چیز بھائی کو دے دی جائے اس کا واپس لینا جائز نہیں : لا رجوع فیہا للواہب کالہبۃ من أحد الزوجین أو لأخیہ أو لأختہ (ہندیہ:۶؍۳۴۴)چنانچہ فقہاء نے صراحت کی ہے کہ جو چیز اپنے محرم رشتہ دار یا شوہر و بیوی میں سے کسی کو دے دی گئی ہو اسے واپس نہیں لیا جاسکتا ، محرم رشتہ دار سے مراد وہ ہیں جن سے نکاح جائز نہیں ہوتا ،جیساکہ ذکر کیا گیا ، اس صورت میں تو واپس لینا ہی جائز نہیں ہے ، اگر کسی اور شخص کو کوئی چیز ہبہ کی جائے اور وہ ہبہ کی ہوئی چیز میں تصرف کردے ، جیسے زمین ہبہ کی گئی ، وہ اس میں مکان بنالے ، کپڑا ہبہ کیا گیا ، اس نے سلالیا ، تب بھی اس کا واپس لینا جائز نہیں ،اور اگر اس نے ابھی اس میں کوئی تصرف نہیں کیا ہے توا س کو واپس لینا بہتر نہیں ہے ، رسول اللہ ا نے ارشاد فرمایا کہ دے کرواپس لے لینے والے کی مثال ایسے کتے کی ہے جو قئے کرکے اسے چاٹ لے : فإن العائد في صدقتہ کالکلب یعود فی قیئہ(مسلم، حدیث نمبر:۴۱۶۳)
بچوں کو دیئے جانے والے تحائف
سوال:- بچہ کے عقیقہ وغیرہ کے موقع سے لوگ تحائف لاکر دیتے ہیں ، یہ تحائف کن کی ملکیت سمجھے جائیں گے ؟ ایسے ہی عیدی وغیرہ کے پیسے دیئے جاتے ہیں ، ان کا کیا حکم ہے ؟ ( محمد مختار، گلبرگہ)
جواب: – اس سلسلہ میں فقہاء نے لکھا ہے کہ جو چیزیں بچوں کے استعمال کی ہوں، جیسے بچوں کے کپڑے یا ان کا زیور ، یا کھلونا وہ تو ان ہی بچوں کی ملکیت ہوں گی ، جو اشیاء والدین میں سے کسی کے استعمال کے لئے مخصوص ہوں ، تو وہ ان کی ملکیت سمجھی جائیں گی ، جیسے کرتا پائجامہ باپ کی ، ساڑی وغیرہ ماں کی اور اگر روپئے پیسے ہوں اور اس نے متعین کرکے نہ دیا ہو کہ میں خاص اسی بچہ ہی کے لئے دے رہاہوں ، تو وہ بھی عرف کی بناء پر والدین ہی کی سمجھی جائیں گی ، اگر والد کے اعزہ اور اس کے اہل تعلق نے دیا ہو تو ماں کی ملکیت سمجھی جائے گی ، غرض کہ اگر دینے والے نے صراحت نہیں کی ہو تو عرف و رواج کی بنیاد پر اس کا فیصلہ ہوگا : اتخذ ولیمۃ الختان ، وأہدی الناس ، ووضعوا بین یدی الصبی کثیاب أو ما یستعملہ الصبیان ، فالہدیۃ للصبی ، و إن دراہم أو دنانیر أو متاع ینظر إلی المہدي ، إن من أقارب الأب فللأب ، وإن من أقارب الأم فلہا ، سواء قال المہدي ہذا للصبي أم لا (فتاویٰ بزازیہ: ۶؍۲۳۷)
. . .