Fri, Feb 26, 2021

راحت ا ندوری کی وفات ادبی دنیا کے لئے بڑا سانحہ، وہ غم دوراں کے شاعر تھے
مولانا خالد سیف اللہ رحمانی کا تعزیتی بیان

مولانا خالد سیف اللہ رحمانی ناظم المعہد العالی الاسلامی حیدرآباد نے اپنے صحافتی بیان میں کہا کہ جناب راحت اندوری کی وفات ادبی دنیا کے لئے بہت بڑا نقصان ہے، عام طور پر شعراء محبوب کے لب و عارض کی تعریف میں اپنی صلاحیت صرف کرتے ہیں؛ لیکن وہ ان چند شعراء میں سے ہیں، جنہوں نے غم جاناں کے بجائے غم دوراں کو اپنی شاعری کا موضوع بنایا، ان کے اشعار ان کے عہد کی عکاسی کرتے ہیں، اسی لئے ان کے اشعار لوگوں کو بہت متاثر کرتے تھے اور ہر پڑھنے اور سننے والا ان کی آواز کو اپنے دل کی آواز سمجھتا تھا، انہوں نے زیادہ تر سماجی اور سیاسی حالات کو اپنے اشعار کا موضوع بنایا ، وہ بہت سی سچائیوں کو ایسے لطیف طنز کے ساتھ پیش کرتے تھے کہ مظلوموں کی ترجمانی تو ہوتی ہی تھی، جن افراد یا گروہوں پر طنز ہوتا تھا ، وہ بھی اس سے لطف لئے بغیر نہیں رہتے تھے، یوں تو ہمیشہ انہوں نے اشعار کی زبان میں اصلاح کی باتیں کہیں؛ لیکن غالبا اخیر عمر میں نعتیہ کلام کی طرف ان کی توجہ ہوئی اور چند ولولہ انگیز نعتیں ان کی زبان سے منظر عام پر آئیں، جو پیغمبر اسلام ﷺ سے ان کے گہرے عشق کا مظہر ہیں، اورامید ہے کہ یہی ان کے لئے ذریعہ مغفرت اور وسیلہ شفاعت بن جائیگا، موجودہ دور میں زیادہ تر شعراء ترنم کے ذریعہ مشاعرہ جیتتے ہیں اور بعض نو آمو تو اوزان کی نا ہمواری کو بھی اپنی خوش آوازی کے ذریعہ پوری کرلیتے ہیں؛ لیکن وہ ہمیشہ تحت اللفظ اپنا کلام پڑھتے تھے؛پھر بھی ان کے اشعار کی معنویت اور ماحول پر تیکھے طنز کی وجہ سے وہ مشاعروں کے مقبول ترین شاعر قرار پاتے تھے، اب جب کہ اردو زبان کو ہندوستان سے ملک بدر کرنے کی کوشش کی جارہی ہے اور شعروسخن کی دنیا سونی ہوتی جارہی ہے، یقینا ان کی وفات عشاق اردو کے لئے بڑا حادثہ اور ادبی دنیا کے لئے ایک سانحہ ہے، دعاء ہے کہ اللہ تعالیٰ ان کی مغفرت فرمائے اور اردو زبان کی دنیا کو ان کا بدل عطا فرمائے۔

منجانب:۔
محمد ارشد قاسمی
استاذ: المعہد العالی الاسلامی حیدرآباد

۔۲۳ ذولحجہ ۱۴۴۱ھ  
۔۱۴/اگست ۲۰۲۰ء