Fri, Feb 26, 2021

آپ کے شرعی مسائل
مولانا خالد سیف اللہ رحمانی
2020.08.14

مشرکانہ خیالات سے بچنے کی تدبیر
سوال:- اکثر مجھے مشرکانہ خیالات آتے رہتے ہیں اس کا کیا سبب ہے؟ اور اس کے علاج کا کیا طریقہ ہے؟(محمد تبریز، سعیدآباد )
جواب:- بعض دفعہ شیطان انسان کو مشرکانہ خیالات میں مبتلا کرتا ہے، چنانچہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا کہ شیطان کہتا ہے اس کو کس نے پیداکیا؟ پھراس کو کس نے پیدا کیا؟ یہاں تک کہ کہتا ہے کہ تمہارے رب کو کس نے پیدا کیا؟ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کا علاج بھی بتایا کہ جب ایسی کیفیت ہو، تو ’’ أعوذ باللّٰہ من الشیطان الرجیم‘‘ کہا کرے اور اپنے آپ کو اس خیال سے باز رکھنے کی سعی کرے ’’فلیتعوذ باللّٰہ ولینتہ‘‘ (بخاری، حدیث نمبر: ۳۲۷۶) آپ کے لئے بھی یہی تدبیر ہے، جب ذہن میں کوئی کفریہ بات آئے ، تو’’ أعوذ باللّٰہ ‘‘ پڑھ لیں، اپنے آپ کو اس خیال سے دور رکھنے کی کوشش کریںاور وسوسہ کی طرف توجہ نہ دیں ، اس کے علاوہ زیادہ سے زیادہ پاکی کی حالت میں رہا کریں اور نماز کا اہتمام کریں، جو لوگ نماز کا اہتمام نہیں کرتے وہ پاکی کا بھی اہتمام نہیں کرتے اور ناپاکی کی حالت میں شیطان انسان کو اپنا آلۂ کار بناتا رہتا ہے۔
شک کی وجہ سے امام مقتدی کا عمل دیکھے
سوال:- ایک صاحب نماز پڑھاتے ہیں، لیکن اکثر رکعت کے بارے میں بھول جاتے ہیں اور دوسرے سجدے سے اٹھتے ہوئے کنکھیوں سے مقتدیوں کی طرف دیکھتے رہتے ہیں کہ وہ قعدہ میں جارہے ہیں یا قیام میں ؟ تاکہ اس کے مطابق نماز پوری کریں ،کیا اس طرح دیکھنا جائز ہے اور اس سے نماز فاسد نہیں ہوگی ؟ ( مجیب الرحمن، یاقوت پورہ)
جواب:- نمازکی حالت میں گوشۂ چشم سے دائیں بائیں یا آگے پیچھے دیکھنا مکروہ نہیں ، خاص کر ایسی صورت میں جب کہ نماز ہی کو درست رکھنا مقصود ہو ،رسول اللہ ا بھی بعض اوقات نمازیوں کو گوشۂ چشم سے دیکھا کرتے تھے،(ترمذی، حدیث نمبر: ۵۸۷)تاکہ اگر ان سے کچھ کوتاہی ہوتو اس کی اصلاح فرمائیں، اس لئے شک پیدا ہوجانے کی صورت میں مقتدی کی کیفیت کو دیکھ کر اپنی نماز پوری کی جاسکتی ہے ،فقہ حنفی کی معروف کتاب فتاوی تاتار خانیہ میں ہے : رجل صلی بقوم فلما صلی رکعتین وسجد الثانیۃ شک أنہ صلی رکعۃ أو رکعتین فلحظ إلی من خلفہ لیعلم بھم إن أقاموا قام ھو معھم وإن قعدوا یعتمد بذلک فلابأس بہ ولا سھو (تاتارخانیہ: ۱؍۷۵۲) ایک شخص لوگوں کو نماز پڑھائے جب دو رکعت پڑھ کر دوسرا سجدہ کرے ، تو شک ہوجائے کہ اس نے ایک رکعت پڑھی ہے یا دو رکعت ، لہذا وہ پیچھے کی طرف دیکھے تا کہ مقتدیوں کے ذریعہ جان سکے کہ اگر وہ کھڑے ہوں تو یہ بھی کھڑا ہوجائے اور اگر وہ بیٹھیں ہوںتو یہ بھی بیٹھ جائے، اس میں کچھ حرج نہیں ،اور ایسی صورت میں سجدۂ سہو بھی واجب نہیںہوگا، امام صاحب کو چاہئے کہ نماز کے وقت اپنے ذہن کو یکسو اور مرتکز رکھنے کی کوشش کریں ، تاکہ بار بار ایسا سہو نہ ہو۔
کیا خواتین اپنے مصلّی میں داخل ہونے
اور باہرآنے کی دعائیں پڑھیں گی ؟
سوال:- حدیث میں مسجد میں داخل ہونے اور نکلنے کی دعاء منقول ہے ،خواتین ظاہر ہے کہ گھر میں نماز پڑھتی ہیں، وہ یہ دعائیں کس وقت پڑھیں گی ؟ کیا وہ جائے نماز پر چڑھتے وقت اور اتر تے وقت یہ دعائیں پڑھیں گی ؟( یاسمین، مغل پورہ)
جواب:- جن حدیثوں میں مسجد میں داخل ہوتے ہوئے اور نکلتے ہوئے دعا کا ذکر ہے ، ان میں مسجد کا لفظ صراحت کے ساتھ مذکور ہے : إذا دخل المسجد إذا خرج(ترمذی، حدیث نمبر: ۳۱۴) ظاہر ہے کہ ’’مسجد‘‘ ایک خاص اصطلاح ہے اور اس سے وہ تمام جگہیں مراد نہیں ہیں، جہاں نماز پڑھی جاتی ہے ، بلکہ ایک خاص جگہ جو نماز ہی کے لیے وقف کردی گئی ہو ، مراد ہے ، اس لیے یہ دعاء مسجد میں داخل ہوتے ہوئے پڑھی جائے گی ، جائے نماز پر چڑھتے اور اتر تے ہوئے خاص طور پر اس دعاء کا پڑھنا مسنون نہیں ہوگا ، ویسے یہ دعاء اپنے مضمون کے اعتبار سے ایک عام دعاء کی حیثیت سے بھی پڑھی جا سکتی ہے ۔ واللہ اعلم ۔
پسینہ کی بد بو کی وجہ سے اسپرے کا استعمال
سوال:- میری عمر اکیس سال ہے ، مجھے بہت پسینہ آتا ہے ، خاص طور سے ہاتھ کے نیچے اور اس میں بد بو بھی ہوتی ہے ، میں روزانہ غسل کرکے کپڑا بھی بدلتی ہوں اور پاک صاف رہتی ہوں ، لیکن پھر بھی بد بو آتی ہے ، چنانچہ میں اسپرے کا استعمال کرتی ہوں اور اس کے بعد نماز بھی پڑھتی ہوں ، کیا ایسی صورت میں میری نماز ہوجائے گی ؟ ( شاداب احمد، بنجارہ ہلز)
جواب:- غالبًا آج کل بعضے ایسے کریم ہیں جو بغل و غیرہ کی بد بو کو دور کرتے ہیں، اس لیے مناسب ہوگا کہ آپ کسی میڈیکل اسٹور سے تحقیق کریں کہ آپ کو الکحل سے خالی کوئی متبادل مل جائے یا جب آپ اپنے محرم رشتہ داروں کے درمیان ہوں تو عطریات استعمال کرلیں ، آج کل ’’ الکحل فری اسپرے ‘‘ بھی ملتے ہیں ان کا استعمال کرنے کی بھی گنجائش ہے ، الکحل کو چوں کہ بعض علماء ناپاک قرار دیتے ہیں، اس لیے ایسا اسپرے استعمال کرنا مناسب نہیں ، اللہ تعالیٰ آپ کے لیے شریعت کے دائرہ میں رہتے ہوئے کوئی حل نکال دے ۔
منہ میں مونچھ لینا
سوال:- ایک صاحب اکثر منہ میں مونچھ لیا کرتے ہیں ، اس کے بارے میں کیا حکم ہے ؟ ( محمد شاہد، کریم نگر)
جواب:- مونچھ میں ناک اور منہ سے قربت کی وجہ سے ناک اور منہ کی آلائش لگ جانے کا اندیشہ رہتا ہے ، اور یوں بھی بال پر بعض اوقات گرد و غبار ، میل کچیل جم جاتا ہے ، غالبا اسی لئے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مونچھ کو پست کرنے کا حکم فرمایا ہے ، حافظ ابن حجر نے لکھا ہے کہ مونچھ اتنی پست کی جانی چاہئے کہ بالائی ہونٹ کی سرخی نظر آنے لگے ، ’’ فیسن احناؤہ حتی تبدو حمرۃ الشفۃ العلیا ‘‘ (مرقات المفاتیح:۲؍۴) اور فقہاء نے لکھا ہے کہ چالیس دنوں سے زیادہ مونچھ کا نہ تراشنا مکروہ تحریمی ہے ، (الفقہ علی مذاہب الاربعہ:۲؍۴۴) مسنون طریقہ یہ ہے کہ ہر ہفتہ مونچھ تراشی جائے ، ظاہر ہیکہ جب مونچھ اس طرح تراشنے کا اہتمام ہو تو مونچھ اتنی بڑی نہیں ہو سکتی کہ اسے منہ میں لیا جائے ؛ اس لئے منہ میں مونچھ لینا کراہت سے خالی نہیں ، اور تقاضۂ نظافت کے خلاف ہے۔
عدت میں ماں کے انتقال پر گھر سے نکلنا
سوال:-زینب عدت میں ہے ، ابھی ایک مہینہ بھی نہیںگزرا کہ اس کی ماں کا انتقال ہوگیا، ایسی صورت میں زینب کو وہاں جانا چاہئے یا نہیں ؟( مظفر حسین، ہمایوں نگر)
جواب:- اگر زینب طلاق کی عدت گزار رہی ہو ، تو اس کے لئے ماں کے انتقال کی وجہ سے گھر سے نکلنا درست نہیں، نہ دن میں اور نہ رات میں:إن کانت معتدۃ بنکاح صحیح وھي حرۃ مطلقۃ لا تخرج لیلا و لا نھارا (ہدایہ:۲؍۴۰۸) اور اگر شوہر کے انتقال کی عدت گزار رہی ہو تو یہ جائز نہیں کہ رات باہر گزارے ؛ لیکن دن میں جاسکتی ہے ،ا گر رات کاکچھ حصہ بھی ہوجائے تو حرج نہیں : المتوفی عنھا زوجھا تخرج نھارا و بعض اللیل (ہندیہ: ۱؍۵۳۴)
قرآن مجید کی بعض سورتوں سے ایصال ثواب
سوال:- خصوصا ہر روز میرا معمول ہے کہ فجر سے قبل سورۂ یٰسین، سورۂ ملک ، سورہ مزمل اور منزل پڑھ کر ان کا ثواب پیارے نبی صلی اللہ علیہ وسلم اور اہل بیت کو پہلے بخش کر اپنے والدین ، مرحوم رشتہ داروں اور دوستوں کو بخشتا ہوں اور شروع میں درود شریف بھی پڑھتاہوں ، کیا شرعا میرا یہ عمل درست ہے ؟( آصف الدین، شاہین نگر)
جواب:- اکثر ائمہ اہل سنت کے نزدیک قرآن مجید سے ایصالِ ثواب کیا جاسکتا ہے ،اس لیے جو صورت آپ نے لکھی ہے وہ درست ہے ، علامہ شامی ؒ فرماتے ہیں :جب قبرستان میں داخل ہو تو سورۂ یٰسین پڑھے ، کیوں کہ حدیث میں ہے کہ جو قبرستان میں داخل ہو اور سورۂ یٰسین پڑھے ، اللہ تعالیٰ ان سے اس دن عذاب کو ہلکا کردیتے ہیں اور جتنے لوگ قبر ستان میں مدفون ہیں، پڑھنے والے کے لیے ان کے برابر نیکیاں ہوتی ہیں، نیز شرح لباب میں ہے کہ قرآن میں سے جو پڑھنا آسان ہو وہ پڑھ لے ، سورۂ فاتحہ ، مفلحون تک سورۂ بقرہ کا ابتدائی حصہ ، آیت الکرسی ، سورۂ بقرہ کا آخری رکوع ، سورۂ یٰسین اور سورۂ ملک پھر کہے : اے اللہ ! ہم نے جو کچھ پڑھا ، اس کا ثواب فلان شخص یا فلاں فلاں اشخاص کو پہنچا دیجئے (رد المحتار: ۳؍۱۵۱)لہذا آپ کا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اور دوسرے بزرگوں اور اہل تعلق کو ایصالِ ثواب کرنا درست ہے ، اور یہ خود آپ کے لیے بھی باعثِ ثواب ہے ؛البتہ اسے ضروری اور لازم نہ سمجھ لیںکہ جس چیز کو اللہ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے واجب نہ قرار دیا ہو ، اسے واجب کا درجہ دینا درست نہیں ۔

. . .