Wed, Feb 24, 2021

آزادیٔ نسواں اور اسلام
محمد ابراہیم خلیل سبیلیؔ، حیدرآباد۔
9908922786

اسلام صرف چند مجموعے کا نام نہیں ہے، بلکہ وہ حیات انسانی کے تمام پہلؤں پر حاوی اور جا معیت کے لحاظ سے منشاء الہی کے مطا بق پا کیزہ زندگی گزارنے کا مکمل نظام ہے۔ یہی وجہ ہیکہ اسلام نے عورت کی فطری نزاکت اور لطافت پر نظر کر تے ہوئے اس کے ہر معا ملہ میں نہا یت متوازن پہلو اختیار کیا ہے۔ اور اس کیلئے وہ فرا ئض متعین کر دئے گئے ہیں جو اس کے وجود کے عین مطا بق ہیں۔دراصل جاہل قوموں نے مرد اور عورت کے درمیان فرق کیا ہے۔ بلکہ ان لوگوں نے تو خود مرد مرد کے درمیان فرق وامتیاز کی دیوار کھڑی کردی ہے۔ دنیا کے سردعلاقہ کے باشندوں کو سفیدفام اور مشرقی ومغربی ممالک کے باشندوں کوسیاہ فام قرار دے کر کالوں کو گوروں کا غلام اور کم درجہ کی مخلوق بنا دیا۔ حالانکہ اسلام نے عورت کو مرد کی طرح عزت دی، اس کے کارنا موں کوسرا ہا اور زندگی کی نعمتوں اور ضرورتوں کے سلسلہ میں عورت کو مرد کے برابر رکھا۔باپ کو حکم دیا کہ وہ اپنے لڑکے اور لڑکی کا برابر خیال رکھے، بلکہ لڑکیوں کے ساتھ توجہ اور محبت کا ثواب لڑکوں کے مقابلہ میں زیادہ رکھا۔ آپ ﷺ نے فرمایا ’’جو دو لڑکیوں کی اچھی طرح کفا لت کرے میں اور وہ جنت میں قریب قریب ہو ں گے۔‘‘
اسلام نے عورت کو جو مقام ومرتبہ دیا ہے اور عورتوں کی زندگی میں جو انقلاب عظیم برپا کیا ہے، اس سے تمام دنیوی مذاہب اور اہل علم بخوبی واقف ہیں۔ دنیا کے مختلف مذاہب اور قوانین کا مقابلہ اگر اسلام کے اس منفرد کردارسے کیا جا ئے جو اسلام نے عورت کو عطا کیا ہے تو اس سے تمام مذاہب کی آنکھیں کھل جا ئیں گی اور ایک حقیقت پسند انسان کو اس کے اعتراف و احترام میںسر جھکانا پڑے گا۔ قرآن مجید پر ایک سر سری نظر ڈالنا بھی جا ہلی نقطہ نظراور اسلامی زاویہ کو سمجھ نے کیلئے کا فی ہے۔
اسلام نے عورتوں کو انسان ہو نے کی حیثیت سے وہ تمام حقوق دئے ہیں جو ایک مرد کو حا صل ہیں۔ قرآن اس بات کو تسلیم نہیں کرتاکہ عورت کا وجو د کسی اور روح کے سہا ر ے موجودہے جو مردوں سے کمترہے : اے لوگو! ڈرو اپنے اس رب سے جس نے تم سب (مرد اور عورت) کو ایک ہی نفس سے پیدا کیا۔ (سورہ نساء۔ ۱) ایمان والے مرد اور عورتوں کو شرف انسانی کی اعلی ترین منزل پر پہنچنے کا ذریعہ ،جنس ونسل اور خون ورنگ سے قطع نظر ہو کر صرف اعمال صالحہ کو قرار دیتے ہو ئے فرما یا: ایمان والے مرد اورایمان والی عورتیں ایک دوسرے کی دوست ہیں ،وہ نیکی کا حکم کر تے ہیں اوبرا ئی سے رو کتے ہیں۔ نماز قا ئم کر تے ہیں اور زکات ادا کر تے ہیں۔اور اللہ اور اس کے رسول کا حکم مانتے ہیں۔(سورہ توبہ۔۷۱) قبول اعمال اور نجات و کا میابی کے بیان میں مردوں کے ساتھ عورتوں کا ذکر بھی کیا ہے: جو کو ئی اچھا کام کرے، چاہے مرد ہو یا عورت اس حال میں کہ وہ مومن ہو تو وہ جنت میں داخل ہونگے اور ان پر ذرہ برا بر ظلم نہیں ہو گا۔(سورہ نساء۔۱۲۴) اسلام سے پہلے لوگ بیواؤںکی جا ئیداد پر قبضہ جما لیتے اور حق تصرف سے ان کو محروم کر دیتے تھے اسلام نے اس کی سخت مذمت کی : اے ایمان والو تمہارے لئے حلال نہیں کہ عورتوں کو زبر دستی میراث بنالو۔(سورہ نساء۔۱۹) مہر جو شوہر پر عورت کا ایک حق ہے ،اس پراس کومکمل مختار بنا یا: تم بہت سا مال (اپنی بیوی کو بطور مہر یا تحفہ کے) دے چکے ہو تو اس میں سے کچھ بھی واپس نہ لو۔(سورہ نساء۔۲۰) ہاں عورت اگر اس مہر میں سے کچھ یا پورا دیدے تب مرد اس کو استعمال کر سکتاہے:اگر وہ (عورتیں)اس (مہر) میں سے تمہیں بخوشی کچھ دیدیں تو اسے شوق سے کھاؤ۔ (سورہ نساء۔۴) شادی کے بعد شوہر کی جانب سے ہو نے والی زیا دتیوں سے عورت کچھ مال دے کر چھٹکا را (خلع) حا صل کر سکتی ہے : دونوں پر کچھ گناہ نہیں کہ عورت کچھ مال دے کراپنے (شوہر) سے چھٹکارا حا صل کر لے۔(سورہ بقرہ۔۲۲۹) مرد وں کی طرح عورتوں کو بھی ورا ثت میں حق دیا: ایک مرد کا حصہ دو عورتوں کے حصہ کے برابر ہے۔(سورہ نساء۔۱۱) عورت کو جان کا تحفظ بھی دیا: لہذا فقہائے کرام کا اس بات پر اتفاق ہے کہ ایک عورت کے بدلے ایک مردقتل کیا جا ئے گا اور ایک مرد کے بدلے ایک ہی عورت قتل کی جا ئے گی۔ اسی طرح بہت سارے حقوق مثلا خرید وفروخت کی اجا زت، نان ونفقہ اور رہا ئش کا انتظام،اقرباء سے ملنے کا حکم اور ان کے علاوہ دیگر حقوق کی تفصیلات فقہی کتا بوں میں مذکور ہے۔
حقیقت یہ ہے کہ آزادیٔ نسواںکا پر فریب نعرہ سب سے پہلے مغربی ممالک نے لگایا۔ پھر آزادی کے نام پر سب سے زیادہ عورتوں کااستحصال انہیں ممالک نے کیا ۔ آزادی کے نام پر عورت کے سرسے ڈوپٹہ اتاراگیا۔ عورت کو گھسیٹ کر سڑکوں پر لا یا گیا۔ اس کے چہرے سے نقاب اور جسم سے کپڑے ہٹائے گئے ۔ دفتروںمیں کلرک کی نو کری دی گئی۔ اجنبی مردوں کا پرائیویٹ سکریٹری کا منصب عطا کیا گیا۔ سینکڑوں آدمیوں کی حکم برداری کیلئے ایر ہو سٹس کا عہدہ سپرد کیا گیا۔ تجارت چمکا نے کیلئے سیلز گرل کا شرف بخشا گیا۔ فائیواسٹار ہو ٹلوں اور بڑے بڑے ریستوراں میں مسا فروں کے کمرے صاف کر نے اور چادریں بدلنے کا موقع دیا گیا۔ یہاں تک کہ وہ عورت جس کے سر پردین فطرت نے عزت و آبرو کا تا ج رکھا تھا، اس کی برہنہ اورنیم برہنہ تصاویر حاصل کر کے اسے آرٹ کا نام دیاگیا۔ اور اس کے ذریعہ جرائد ورسائل اور اپنے کاروبارکے فروغ کا سامان کیا گیا۔یہ بڑاعجیب فلسفہ ہے کہ عورت اگر اپنے گھر میں، اپنے شوہر، اپنے ماں باپ اور اولاد کیلئے امور خانہ داری کر ے ، ان کیلئے کھانا بنا ئے، کپڑے دھو ئے اور ان کی خاطر داری کرے تو یہ قیدو ذلت اور حقوق کی پامالی ہے۔ لیکن وہی عورت اجنبی کیلئے کھانابنا ئے، ان کے کمروں کی صفا ئی کرے ، ہوٹلوں اور جہا زوں میں ان کی میزبانی کرے اور شورومس پر اپنی مسکرا ہٹوں سے گا ہکوں کو متوجہ کرے تو یہ آزادی اور اعزاز ہے۔
اسلام نے عورت اور مرد کیلئے جو ضابطہ حیات اور قانون زندگی متعین کیا ہے وہ پوری معاشرت اور نظام زندگی میں ایک اساس کی حیثیت رکھتا ہے۔ اسلام کی اس حکیمانہ ہدایات میں ادنی درجہ کی کمی یازیا دتی کرنا افراط وتفریط کا شکار ہونا ہے۔لیکن ہماری ترقی یا فتہ تہذیب آج آزادی نسوان، مساوات مرد وزن کا ڈھنڈورا پیٹ رہی ہے اور اس کو اس خوبصورت انداز میں پیش کیا جا رہا ہے کہ گویا یہ صنف نازک کے ساتھ بہت بڑا احسان ہے۔ حالانکہ اس فیصلہ کا اختیار خود خالق کے سوا کسی اور کو نہیں ہونا چا ہئے۔ اس معاملہ میں افراط تفریط سے خالی اگر کو ئی راہ مل سکتی ہے تو وہ اسلام کی رہنمائی سے ہی مل سکتی ہے۔اور اسلام سے قطع نظر کر کے اس باب میںجب بھی کو ئی فیصلہ کیا جا ئے گا وہ فطرت کے ساتھ بغاوت پر مبنی ہو گا۔ یہی وجہ ہیکہ قرآن و حدیث میں اس مسئلہ کو خوب کھول کھول کر بیان کیا گیا ہے۔ اور بعض جگہیں ایسی بھی ہیں جہاں مسئلہ کی جزئیات تک متعین کر دی گئی ہیں۔تا کہ یہ مسئلہ صرف انسانی قیا سات اور اجتہادات کے رحم وکرم پر نہ رہے،بلکہ انسان کے پاس وحی الہی کی مکمل روشنی موجود ہو۔
دنیا کے بہت سارے گوشوں سے یہ سوال اٹھا یاجا تا ہیکہ اسلام تو مساوات اور برا بری کا مذہب ہے۔ تو پھر مرد اور عورت کے ما بین اس طر ح کی غیر منصفانہ تقسیم کیوں کر تا ہے؟ در اصل یہ ایک مغالطہ ہے یہ سچ ہیکہ اسلام فطرت سے ہم آہنگ اور مساوات وبرا بری کا مذہب ہے۔ لیکن اسلام اور دیگر مذا ہب کے درمیان معیار ہی کچھ اور ہے۔ دیگر مذاہب مساوات کا مطلب یہ سمجھ تے ہیں کہ سا رے انسانو ںکے حقوق برا بر اور یکساں ہوں۔ اور اسلام میں مساوات یہ ہیکہ جن کے جو حقوق ہوں وہ ان کو ملجا ئے۔جیسے اسلامی قانون کے مطا بق شادی شدہ کیلئے زنا کی سزاسنگسار ہے اور غیر شادی شدہ کیلئے صرف سو کو ڑے ہیں۔ ظاہر ہیکہ ایک ہی جرم میں دو طرح کی سزا ئیں یکساں نہیں ہیں، اور کسی طرح بھی اسے مساوات نہیں کہا جا سکتا۔ لیکن در اصل سزا جرم کے سنگین و غیر سنگین ہو نے کے اعتبار سے کم و بیش ہے ۔ اس اعتبارسے دونوں کو ایک ہی سزا دینا عدل وانصاف کے مغائر ہے۔ شادی شدہ کو اپنے سنگین جرم کے اعتبارسے سزا ضروری ہے اور غیر شادی شدہ کو اپنے اقل جرم کے اعتبار سے ضروری ہے۔اسی طرح اسلام نے مرد اور عورت کے درمیان حقوق میں فرق و مراتب رکھا ہے۔
مغربی دانشوران اور ماہرین کو مرد وعورت کے درمیان مساوات کیلئے اس کے سوا اور کو ئی دلیل نہیں ملی کہ یہ دونوں ہی انسان ہیں اور انسان ہو نے کے ناتے ان کے حقوق وفرائض اور ان کے دا ئرہ عمل کو بھی یکساں ہو نا چا ہئے۔ لیکن یہ عقل کے بھی خلاف ہے اور اسلام کے بھی۔ کیو نکہ انسان وہ بچہ بھی ہے جس کا شعور ابھی با لغ نہیں ہوا،اور جسکا جسم مردانہ توانا ئی سے یکسر محروم ہے۔ انسان وہ بوڑھا بھی ہے، جس کی ہڈیوں کا مغز خشک ہو چکا ہے اور بوڑھا پے کی وجہ سے اس کا ایک ایک عضو ڈھیلا ہو گیا ہے۔ اور انسان وہ جوان بھی ہے جس کا فہم وشعور بالغ ہو چکا ہے اور جس کی قوت کا ر اپنے شباب پر ہے۔ تو کیا انسان ہو نے کے ناتے اشترا کیت اس بات کی متقا ضی ہیکہ ان تینوں کے حقوق و فرائض یکساں ہوں؟ اور ان کی ذمہ داریوں میں کو ئی فرق اور ادنی تفاوت بھی روا نہ رکھا جا ئے؟ ایک کمسن لڑکے ،بوڑھے اور ایک جوان کی صلا حیتوں میں جو فرق ہے اس سے کہیں زیادہ تفاوت اور فرق قدرت نے مرد اور عورت کے درمیان تخلیقی اعتبار سے رکھا ہے۔
اسلام کا اصول در اصل انسانی فطرت کا عین تقاضا ہے۔ لیکن ترقی یافتہ تہذیب کی کو تا ہ ذہنی اور نا اندیشی ایک بار پھر اس چیز کا تجربہ کرنا چا ہتی ہے جسے اسلام نے رد کر دیا ہے۔ اگر با لفرض یہ با ت تسلیم بھی کرلی جا ئے کہ آزادی نسواں سے خوا تین اونچے منا صب پر فائز ہو جا ئیں گی تو جن مغربی ممالک میں صبح وشام آزادیٔ نسواں کا ڈھنڈورا پیٹا جاتاہے وہاں کتنی عورتیں صدر کیلئے منتخب ہو ئیں اور کتنی عورتیں اقوام متحدہ کی سکریٹری کا عہدہ سنبھالی ہیں؟ اور کتنی عورتیں فرانس وبرطا نیہ کی چیف کما نڈوبنی ہیں؟ ہم تو دیکھ رہے ہیں کہ ہزار مساعی کے باوجود خود مغربی ممالک میںعورتیں وہ مقام حاصل نہ کر سکیں جو مرد وں کو حا صل ہے۔
بہر کیف حقوق نسواںکے نام پر سماج کے سامنے تصویر کا صرف ایک ہی رخ لا یا گیا ، اور دوسرے پہلوؤں پر عورتوں کو سو چنے کا موقع ہی نہیں دیاگیا۔ حقوق نسواںکانعرہ لگانے والوں اور اس کا ساتھ دینے والوں کو چاہئے کہ وہ آزادی نسواںکے ہر پہلو پر غور کریں۔ اوردیکھیں کہ مغربی ممالک میں آزادی کے بعد عورتوں کاکیاحال ہوا ہے؟ ان کی عزتیں اور عفتیں کس حد تک محفوظ ہیں؟ انہیں اپنے ہی سماج میں کتنی پریشانیوں کا سامنا کرنا پڑرہا ہے؟ جب وہ جنسی استحصال کا شکار ہوتی ہیں تو ان کی حفاطت کیلئے کون آگے آتا ہے؟ اگر آزادی ٔ نسواں فطرت کے خلاف نہ ہوتا توآج مغرب کی فریب خوردہ عورتیں اس جنجال سے کیوں نکلنا چاہتی ہیں؟ باہر کی دنیا سے انہیں کیوںخوف محسوس ہونے لگا ہے؟ مختلف اخبار و جرائد کے مطالعہ سے توپتہ چلتا ہے کہ اب وہاں کی خواتین کو آزادی کے بجائے مشرقی زندگی اچھی لگ رہی ہے ۔ اور وہ آزادی اور باہر کی دنیا کو الوداع کہ کر ایک بار پھر سے گھریلو زندگی اور اندر کی دنیا آباد کرنا چاہتی ہیں۔
٭٭٭٭٭