Sun, Feb 28, 2021

جی ہاں میں امام ہوں

محمد ابراہیم خلیل سبیلیؔ،حیدرآباد۔

9908922786

 

جی ہاں میں امام ہوں۔ وہی امام جسے لوگ مسجد کاایک ادنی ساخادم سمجھتے ہیں۔ سماج میں میرا کوئی مقام و مرتبہ نہیں ہے۔میرے وجود کو مسجد کی چہار دیواری تک محدود کردیاگیا ہے۔ مسجد سے باہر نکلنااور بازاروںمیں جانا میرے لئے گوارہ نہیں کیا جاتا۔ دوکانداری اور کاروبارمیرے لئے بہر صورت نا پسند کیا جاتا ہے۔ مذہبی مسائل میںکبھی مجھ سے مشورہ نہیں لیا جاتا، البتہ مسلکی اختلافات کو لے کرجب چاہے مجھے عتاب کا شکاربنایا جاتا ہے۔ مصلیوں سے لیکرمتولی تک اور کمیٹی کے ارکان سے لیکر صدور تک مجھے پریشان کرتے ہیں۔ چھوٹے سے چھوٹے مسئلہ کو لیکرمجھ پر آنکھیں نکالتے ہیں۔ جماعت کے وقت سے کچھ تاخیرہوجائے تو مجھے ترچھی نگاہوں سے دیکھا جاتاہے۔ نماز کچھ لمبی ہو جائے یا کبھی مختصر ہوجائے تومیرے خلاف چہ میگوئیاں شروع ہوجاتی ہیں ۔ بیان میں اوامر کے بجائے نواہی پر بولنا خود اپنے پیروں پر کلہاڑی چلانے کے مترادف ہے۔وضع قطع کو موضوع سخن بناؤںتوجوان نسل دشمن ہوجاتی ہے۔رہن اور سود کے خلاف لب کشائی کروں تو متعلقہ اصحاب ناک بھنؤں چڑھاتے ہیں۔ نکاح اور ولیمہ سادگی سے کرنے کی دعوت دوں توقوم کے مالدار میرے خلاف کھڑے ہوجا تے ہیں۔ زیارت و چہلم کے کھانے پر مجھے یاد رکھا جاتا ہے لیکن نکاح کے چھوارے اور ولیمہ کے کھانے پر مجھے یکسر فراموش کردیا جاتا ہے۔بچہ کی پیدائش پر اذان اور قبرپر فاتحہ کیلئے مجھ کوبلایاجاتاہے، لیکن میرے اوقات کی کسی کوپرواہ نہیںہوتی۔ جماعت پنجگانہ اورخطبہ میں بر وقت میری حاضری لازمی ہے لیکن مصلیوںاور مقتدیوں کیلئے کوئی وقت متعین نہیں ہے۔ بیان قبل از وقت ختم ہوجائے تو کہا جاتا ہے امام صاحب آج جلدی میں ہیں اور کبھی تاخیر ہوجائے تو کہا جاتا ہے بیان کے علاوہ ہمیں اور بھی کام ہیں۔ خود کی نمازوں کی کوئی پرواہ نہیں ہوتی لیکن فکر اس بات کی ہے کہ امام صاحب نے سنتیں ادا کی یا نہیں…؟
یہ سب کچھ صحیح اور درست ہے۔لیکن میں کہتا ہوں یہ آدھی بلکہ بعید از حقیقت باتیں ہیں۔سچ تو یہ ہے کہ اسلام نے میرے مرتبہ کو بہت بلند کیا ہے۔ میرے عہدے کو محترم ومکرم بنایا ہے۔ مجھے خلیفہ رسول ہونا کا شرف حاصل ہے۔ میں امام المسلمین ہوں، فخر آدمیت ہوں، زیب محراب و منبر ہوں، رونق مساجد و محافل ہوں۔ بزرگوں سے لیکر انبیاء تک سب نے میرے عہدے کو قبول و پسند کیا ہے۔ شریعت نے مجھے لوگوں کی نماز کا ضامن بنایا ہے۔ایسا ضامن کہ میرے بغیر کسی کی نمازمکمل نہیں ہوتی۔ میں جماعت کے وقت سے کچھ تاخیر ہوجاؤں تو شریعت نے میرا انتظار کرنے کا حکم دیا ہے۔ میرا درجہ اس قدر بلند ہے کہ میں نمازکیلئے کھڑا ہوتا ہوں تولوگ میری متابعت میں صف آرا ہوتے ہیں۔ میں تکبیر تحریمہ کہتا ہوں تو لوگ نماز میں شامل ہونے کی جلدی کرتے ہیں۔ میں قرآت کرتاہوں تو وہ خاموشی سے سنتے ہیں۔میں سجدہ کرتا ہوں تو وہ بھی سجدہ کرتے ہیں۔ میںسلام پھیرتا ہوں تو وہ بھی سلام پھیرتے ہیں۔ اور جب میں دعا کیلئے ہاتھ اٹھاتا ہوں توسب کے سب دست بدعا ہوجاتے ہیں۔اور میری دعا پر آمین کہتے ہیں۔
اسلام نے میرا مرتبہ اتنا بلند کیا ہے کہ میرے جھکنے سے پہلے جھکنے کی اور میرے اٹھنے سے پہلے اٹھنے کی کسی کو اجازت نہیں ہے۔ اس کے باوجود کوئی ایسا کرتا ہے تو احادیث میں اس کیلئے سخت وعیدیں وارد ہوئی ہیں۔ جب میں منبر سے آواز دیتا ہوں تو لوگ گوش بر آواز ہوکر سنتے ہیں۔ جب میںتوحید کو موضوع بناتا ہوںتو شرک کے ایوانوں میں کپکپی طاری ہوجاتی ہے۔جب میںرسالت پرتقریر کرتاہوں توقادیانیت کے محلوں میں زلزلے آجاتے ہیں۔ اورجب میں سیرت صحابہ اور اہل بیت اطہار پر زبان کھولتا ہوں تو کوفیوں اور یزیدیوں کو پسینہ آجاتا ہے۔ اور جب میںفضائل ومسائل پر بحث کرتاہوں تو زمانے کے رسم و رواج ہوا میں اڑنے لگتے ہیں۔پھر لوگ شرک سے توحید، قادیانیت سے رسالت،اور جہالت کی تاریکیوں سے علم کی روشنی کی طرف آجاتے ہیں۔
اللہ تعالی نے مجھے لوگوں کا ذمہ دار بنایاہے۔یہی وجہ ہے کہ میں لوگوں کو اپنے قریب رکھتا ہوں۔ ان میں آسانیاں پیدا کرنے کی کوشش کرتا ہوں۔ ان کو مشقتوں اور نفرتوں سے دور کھتا ہوں۔ اور ان کی کمی اور بیشیوں کو نظر انداز کرتا ہوں۔ جس کی وجہ سے لوگ مجھ پر بھروسہ کر تے ہیں۔ میرے عقیدے کو اپنا عقیدہ سمجھتے ہیں۔ میرے ایمان کو اپنا ایمان تصور کرتے ہیں۔اور پھر مجھ سے پوچھ پوچھ کر اپنی دنیاو آخرت سنوارتے ہیں۔ فرائض وواجبات اور فضائل و مسائل کا علم حاصل کرتے ہیں۔ وہ جانتے ہیں کہ میری باتوں میں سچائی کی طاقت ہے۔ واشگاف الفاظ میں اعلان صداقت میری عادت ہے۔ اس کے باوجود مجھ میں کمی ہوسکتی ہے میں کو ئی فرشتہ نہیںہوں کہ مجھ سے کبھی غلطی سرزد نہ ہوتی ہو ۔میں بھی ایک انسان ہوں اور انسان کی فطرت خطاؤں سے مرکب ہے۔ اگر کو ئی یہ کہے کہ میں نے کبھی غلطی نہیں کی تو وہ جھوٹا ہے۔ اور اگر کو ئی یہ کہے کہ میں غلطیوں کے سمندر میں ڈوبا ہوا ہوں تو کوئی تعجب کی بات نہیں ہے۔ امر تعجب یہ ہے کہ غلطی کے بعد انسان حیلے بازی سے کام لے اور یہ مجھے نہیں آتا۔ مجھے کہنے دیجئے کہ میں دنیا میں اوروں کے غلطیاں قبولوانے اور خود اپنی خطائیں قبولنے کیلئے بھیجا گیا ہوں۔ مجھ میں ایک چیز اور بھی ہے کہ جو بات دوسرے کہنے سے خوف کھا تے ہیں وہ میں بے جھجک بو ل دیتاہوں۔میں یہ نہیں دیکھتا کہ بات کڑوی ہے یا میٹھی ؟اور مخاطب امیر ہے یا غریب…؟
معاشرہ میں میرا مقام اتنا بلند ہے کہ جب میں باہر کی طرف جاتا ہوں تو لوگ مجھے عقیدت سے سلام کرتے ہیں۔بازار جانے والے کنارے ہوکر مجھے راستہ دیتے ہیں۔ راہ چلنی والی عورتیںمجھے دیکھ کر پردہ کرنے لگتی ہیں۔ گلی کوچوں میں کھیلنے والے بچے ایک کنارے ہوکر ادب سے’ مولوی صاحب‘ کہتے ہیں۔ سواری پر جانے والے مجھے پیدل جاتا دیکھ کر اپنی سواری پر بٹھالیتے ہیں۔ دوکاندار میرے دوکان میں بیٹھنے کوبرکت سمجھتے ہیں۔ اوراپنی دوکان کا افتتاح میرے ہاتھوں کرانے میں خوشی محسوس کرتے ہیں۔ میں کسی محفل میں جاتا ہوں تو اہل محفل میرے احترام میں کھڑے ہوجاتے ہیں۔ کسی کے یہاں بچہ کی

ولادت ہوتی ہے تو مجھے اذان کیلئے بلا یا جاتا ہے۔ اور میری اذان کو باعث سعادت سمجھاجاتاہے۔ کسی کا انتقال ہوجائے تو تجہیز و تکفین کی باگ میرے ہی ہاتھوں میں ہوتی ہے ۔اورمیرے نمازجنازہ پڑھانے اور قبر پر فاتحہ خوانی کو باعث مغفرت تصور کیاجاتاہے۔ یہی نہیں بلکہ سبزی والے سے لیکر ٹیلر تک اور کرانہ سے لے کر دوائی کی دوکان تک سماج میں سب لوگ میری عزت کرتے ہیں۔ یہاں چیزیں مجھے دوسروں سے پہلے اور سب کے بالمقابل سستی ملتی ہیں۔
یہ سب اس لئے کہ میرے سینے میں قرآن ہے۔ میرے چہرے پر شرعی داڑھی ہے۔میرا وضع قطع درست اور میری زندگی سنت کے مطابق ہے۔ میں حلال وحرام میں فرق اور جائز و ناجائز میں تمیز کرتا ہوں۔ اور میرا ہر کام اللہ اور اس کے رسول کی رضاکیلئے ہوتا ہے۔اگر مختصر کہوں تو یہ سب اس لئے کہ میں مسجد کا امام ہوں…..
٭٭٭٭٭